• بدھ 1 اپریل 2020   (8 شعبان 1441)

لہجہ بالکل گلاب لگتا ہے

فیض میں آفتاب لگتا ہے
حسن میں ماہتاب لگتا ہے

خُلق میں وہ کتاب لگتا ہے
آپ اپنا جواب لگتا ہے

دیکھئے جس بھی زاویے سے اُسے
پور پور انتخاب لگتا ہے

بات میں رنگ اور خوشبو ہے
لہجہ بالکل گلاب لگتا ہے

روز دیکھے ہیں خواب ملنے کے
جب سے دیکھا ہے خواب لگتا ہے

ہر قدم پُل صراط ہے گویا
روز روزِحساب لگتا ہے

اس قدر تلخ تو نہیں دنیا
ذائقہ ہی خراب لگتا ہے

اتنے دیکھے ہیں جھوٹ کے چہرے
اب سمندر سراب لگتا ہے

پڑھتی رہتی ہوں ہر جگہ ہر وقت
چہرہ چہرہ کتاب لگتا ہے

طاقِ نسیاں پہ رکھ دیا ماضی
اب پرانا نصاب لگتا ہے

مجھ سے آخر خفا وہ کیوں ہوگا
بے وجہ اضطراب لگتا ہے

(امۃ الباری ناصر۔امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 مارچ 2020

مقبول ترین