• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کا فہم قرآن چند مثالیں از درس قرآن

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ جَآءَ مِنۡ اَقۡصَا الۡمَدِیۡنَۃِ رَجُلٌ یَّسۡعٰی قَالَ یٰقَوۡمِ اتَّبِعُوا الۡمُرۡسَلِیۡنَ

(یٰسین:21)

اور شہر کے بہت دور کے کنارے سے ایک مرد دوڑتا ہؤا آیا اور کہنے لگا اے قوم! رسولوں کی پیروی کرو۔

اَقۡصَا الۡمَدِیۡنَۃِ

موسیٰ کی طرف ایک شخص آیا

(القصص :21)

اور عیسٰی کی طرف آرمیتاہ سے اور ہمارے حضرت و آقاؐ کی طرف صحابہ میں سے ایک شخص یعنی ابوبکر وغیرہ اورمسیح موعود کی طرف اطراف خوست کابل سے صاحبزادہ عبد اللطیف شہید۔

(بحوالہ درس قرآن مجید)

زمانہ طالب علمی کا ایک واقعہ

یہ بھوپال میں باجی والی مسجد کا واقعہ ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ فرماتے ہیں

’’حضرت منشی (جمال الدین مدار المہام) صاحب مغرب کےبعد خود قرآن شریف کالفظی ترجمہ پڑھایا کرتے تھے۔ یک روز میں بھی اس درس میں چلا گیا وہاں یہ سبق تھا

وَ اِذَا لَقُوا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡۤا اٰمَنَّا ۚۖ وَ اِذَا خَلَا بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍَ

(البقرہ: 77)

محمد عمر ان کانواسہ قاری تھا میں نےکہا کیا اجازت ہےہم لوگ سوال بھی کریں؟

منشی صاحب نے فرمایا ’’بخوشی‘‘

میں نے کہا یہاں بھی منافقوں کا ذکر ہے اور نرم لفظ بولا گیا ہے یعنی بَعۡضُہُمۡ اِلٰی بَعۡضٍَ

(البقرہ:77)

اور اس سورۃ کے ابتداء میں جہاں انہی کا ذکر ہے وہاں بڑا تیز لفظ بولا ہے

وَ اِذَا خَلَوۡا اِلٰی شَیٰطِیۡنِہِمۡ

(البقرہ:15)

اس نرمی اور سختی کی کیا وجہ ہو گی؟
منشی صاحب نے فرمایا :کیا تم جانتے ہو؟

میں نے کہا میرے خیال میں ایک بات آتی ہے کہ مدینہ منورہ میں دو قسم کے منافق تھے، ایک اہل کتاب، ایک مشرک، اہل کتاب کے لئے نرم یعنی بعضھم کا نرم لفظ اور مشرکین کے لئے سخت الی شَیٰطِینِھِم بولا ہے
منشی صاحب سن کر اپنی مسند پر سیدھے کھڑے ہو گئے اور میرے پاس چلے آئے، مجھ سے کہا کہ آپ وہاں بیٹھیں اور میں بھی اب قرآن شریف پڑھوں گا.

قدرت الہی ہم ایک ہی لفظ پر قرآن کریم کے مدرس بن گئے.

(مرقاۃ الیقین فی حیاۃ نورالدین صفحہ 101)

اَحۡسَنَ الۡقَصَص

(یوسف: 4)

نَحۡنُ نَقُصُّ عَلَیۡکَ اَحۡسَنَ الۡقَصَصِ بِمَاۤ اَوۡحَیۡنَاۤ اِلَیۡکَ ہٰذَا الۡقُرۡاٰنَ الۡقَصَصِ… اس کے معنے ہیں بیان کرنا بعض لوگ غلطی سے اس کے معنے کرتے ہیں ’قصے‘

نبیوں میں سےحضرت رسول کریمؐ، حضرت نوح، حضرت موسی، حضرت ابراہیم علیھم السلام سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے

حضرت یوسف علیہ السلام کا معاملہ تو صرف بھائیوں یا ایک عورت کے ساتھ ہوا تھا اور وہاں تمام اقوام کی مخالفت کا بہت خوفناک مقابلہ پیش تھا

(حقائق الفرقان جلد دوم)

*

(انجینیئر محمود مجیب اصغر)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ