• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

حضرت بابو محمد عمر حیات سیالکوٹی ؓ آف کسومو (کینیا)

حضرت محمد عمر حیاتؓ ولد مکرم چوہدری پیر بخش قوم شیخ 1884ء میں پیدا ہوئے۔ وصیت کے ریکارڈ کے مطابق آپ صدر بازار سیالکوٹ کے رہنے والے تھےاور 1898ء میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔

حصول تعلیم کے بعد پہلے فوج میں ملازمت کی بعد ازاں تجارت کی غرض سے کینیا (مشرقی افریقہ) چلے گئے۔

آپ ایک مخلص اور سلسلہ کے لئے غیرت رکھنے والے وجود تھے۔ ایک مرتبہ آپ نے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بدگو سے حسن سلوک کے متعلق ایک واقعہ ارسال کیا جو آپ نے خود مشاہدہ کیا تھا، اخبار الفضل نے’’عفو کی ایک نہایت اعلیٰ مثال‘‘ کے تحت آپ کا بیان فرمودہ واقعہ درج کیا:

’’حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا ایک کارڈ میرے پاس 1904ء کا تھا جو کہ ایک شخص صوبیدار مردان علی صاحب کے متعلق تھا، جو ہماری پلٹن نمبر 123 میں تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی شان میں اخبار البدر پڑھتے ہوئے گستاخانہ الفاظ مونہہ سے نکالنے کی وجہ سے ماخوذ عذاب ہوئے تھے یعنی اس درشت کلامی کے چند ہفتہ بعد ہی ان کی کمپنی کی ایک سنگین (ایک نوکدار چھری سے مشابہ ہتھیار جو بندوق کی نالی کے آگے چڑھایا جاتا ہے۔ناقل) گم گئی۔ صوبیدار صاحب نے ایک دوسرے شخص کی دوسری کمپنی سے سنگین منگا کر اس پر نمبر تبدیل کرنے کے لئے ایک مستری کو رات کے 10 بجے دی۔ چونکہ اس مستری کو صوبیدار صاحب مذکور سے کوئی دلی کدورت تھی اس لئے وہ رات کے گیارہ بجے کرنل Scallon کے پاس معہ سنگین مسروقہ گیا اور اس کی رپورٹ کر دی۔ دوسرے دن کرنل صاحب نے میجر Delamain کو جو کہ اس کمپنی کا کمانڈنگ تھا، بلا کر حکم دیا کہ جاکر Arm Inspection کرو۔ اس وقت یہ کمپنی Camp Jalila میں تھی اور پلٹن کا ہیڈ کوارٹر کیمپ Dhalla میں تھا۔ میں اس ڈبل کمپنی کا کلارک تھا۔ میں اور میجر Delamain صاحب وہاں سے وہ گھوڑے پر سوار اور میں خچر پر سوار ہوکر جلیلہ کیمپ میں گئے اور جاتے ہی انسپکشن آرمز کا حکم دیا۔ اس پر صوبیدار صاحب نے رپورٹ کی کہ ایک سنگین گم ہے۔ میجر صاحب نے صوبیدار صاحب کو نظر بند کر لیا اور کمپنی کے حوالدار کو بھی نظر بند کر لیا اور جس سپاہی کی سنگین تھی، اس کو قید کیا گیا۔ آخر ان کے کاغذات پونہ ڈویژن کے جنرل آفیسر کمانڈنگ کے پاس آتے جاتے رہے۔ آٹھ ماہ گزر گئے، آخر ایک روز صوبیدار صاحب نے مجھے بلاکر کہا کہ یہ آفت معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے حق میں ناشائستہ کلام کرنے کا نتیجہ ہے، تم حضرت صاحب کی خدمت میں خط لکھو اور معافی اور دعا کے لئے عرض کرو۔ میں نے اسی وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی خدمت اقدس میں خط لکھا جس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا آیا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی مخلوق بچوں کی طرح ہے، وہ کسی کو ضائع کرنا نہیں چاہتا۔ صوبیدار صاحب سے کہیں کہ کثرت سے استغفار کریں، میں بھی دعا کروں گا۔ اللہ تعالیٰ رحم کرے گا۔ آخر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جب صوبیدار صاحب کا کورٹ مارشل ہوا تو ان کی صرف اس میعاد تک کہ وہ نظر بند رہے، تنخواہ ضبط کی گئی اور انہیں پنشن پر بھیج دیا گیا۔ اس طرح وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی دعا سے سخت سزا جو کہ اس قسم کے حالات میں لازمی ہوتی ہے، محفوظ رہے۔‘‘

(الفضل 23 اگست 1934ء)

اسی طرح ایک دفعہ آپ نے ایک مضمون بعنوان ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک نظم کا سرقہ’’ اخبار الفضل کو بھجوایا، آپ لکھتے ہی:

’’آج ایک کتاب بنام خطبات الحنفیہ مرتبہ سلطان الواعظین مولانا مولوی ابو البشیر محمد صالح حنفی نقشبندی مصنف التوحید، الرسالت وغیرہ ’’جس کو میر امیر بخش اینڈ سنز تاجران کتب کشمیری بازار لاہور نے مطبع مفید عام پریس لاہور میں چھپوایا ہے، دیکھنے کا موقع ملا۔ اس کتاب کے صفحہ 245 پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی ایک مشہور نظم ’’آؤ عیسائیو! ادھر آؤ‘‘

کے دس اشعار ’’سلطان الواعظین‘‘ نے اپنی طرف منسوب کر کے اسے تیسواں وعظ در بیان فضائل ماہِ رمضان قرار دیا ہے اور ستم یہ کیا ہے کہ اشعار کے بعض الفاظ بدل دیے ہیں۔ ذیل میں ایک طرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کی نظم اور دوسری طرف حنفی نقشبندی صاحب کی مسروقہ نظم درج کی جاتی ہے:

حضرت مسیح موعودؑ کے اشعارسلطان الواعظین کا سرقہ
1 ۔اے عزیزو سنو کہ بے قرآں
حق کو ملتا نہیں کبھی انساں
2۔جن کو اس نور کی خبر ہی نہیں
اُن پہ اس یار کی نظر ہی نہیں
3۔ہے یہ فرقاں میں اک عجیب اثر
کہ بناتا ہے عاشقِ دلبر
4۔کوئے دلبر میں کھینچ لاتا ہے
پھر تو کیا کیا نشاں دکھاتا ہے
5۔دل میں ہر وقت نور بھرتا ہے
سینہ کو خوب صاف کرتا ہے
6۔سینہ میں نقشِ حق جماتی ہے
دل سے غیرِ خدا اٹھاتی ہے
7۔بحر حکمت ہے وہ کلام تمام
عشقِ حق کا پلا رہا ہے جام
8۔دردمندوں کی ہے دوا وہی ایک
ہے خدا سے خدا نما وہی ایک
9۔اس کے منکر جو بات کہتے ہیں
یونہی اک واہیات کہتے ہیں
10۔تم نے حق کو بھلا دیا ہیہات
دل کو پتھر بنا دیا ہیہات
1۔اے عزیزو سنو کہ بے قرآں
حق کو پاتا نہیں کبھی انساں
2۔جن کو اس نور کی خبر ہی نہیں
ان پہ نیکی کا کچھ اثر ہی نہیں
3۔ہے یہ فرقاں میں اک عجیب اثر
اس سے ملتا ہے خالقِ اکبر
4۔کوئے حق میں یہ کھینچ لاتا ہے
پھر تو کیا کیا نشاں دکھاتا ہے
5۔دل میں ہر وقت نور بھرتا ہے
سینے کو خوب صاف کرتا ہے
6۔سینے میں نقشِ حق جماتا ہے
دل سے غیرِ خدا اٹھاتا ہے
7۔بحرِ حکمت ہے یہ کلام تمام
عشقِ حق کا پلاتا ہے یہ جام
8۔دل کے اندھوں کی ہے دوا یہ ہی
سرمہ ہے بس خدا نما یہ ہی
9۔اس کے منکر جو بات کہتے ہیں
سر بسر واہیات کہتے ہیں
10۔دل سے حق کو بھلا دیا ہیہات
دل کو پتھر بنا لیا ہیہات

(الفضل 7فروری 1936ء)

آپ اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے، وصیت نمبر 4633 تھا۔

(الحکم 28نومبر 1936ء)

آپ نے 1968ء میں کسومو (کینیا) میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے۔ محترم شیخ مبارک احمد سابق رئیس التبلیغ مشرقی افریقہ نے اخبار الفضل میں ’’مکرم عمر حیات خاں آف کسوموں (مشرقی افریقہ) کا ذکرِ خیر‘‘ کے تحت لکھا:

’’خان صاحب مرحوم کئی خوبیوں کے مالک تھے، سب سے بڑی اور خاص خوبی اُن میں یہ تھی کہ بڑے سے بڑے مخالف اور بڑے سے بڑے معاند اور بڑے سے بڑے پادری و پنڈت کے پاس بلا دھڑک تبلیغ حق کے لئے جا پہنچتے اور خوب گفتگو کرتے، کسی مخالفت و عداوت سے انہیں گھبراہٹ نہ ہوتی۔ ان کا حلقہ احباب بہت وسیع تھا، بڑے بڑے مخالفوں کے ہاں بھی آنا جانا تھا اور ظرافت و محبت اور جذبہ سے حق و صداقت کا پیغام ان کو پہنچا دیتے۔ خوب دلائل دیتے۔ متعدد مرتبہ مجھے یا سلسلہ کے دوسرے مبلغین کو اپنے ساتھ ایسے دوستوں کے پاس لے جاتے۔ مشرقی افریقہ میں متعدد ایسے دوست ہیں جن کو خدا تعالیٰ نے احمدیت قبول کرنے کی توفیق دی، ان کے قبول احمدیت میں ان کی تبلیغ کا بھی بفضلِ خدا یقینًا حصہ ہے۔ جلسوں اور مناظروں میں اہتمام سے شامل ہوتے، کہیں بھی ہوتے ایسے اجتماعوں میں شرکت کے لئے پہنچ جاتے۔

مرحوم خان صاحب اور ان کے بچے اور گھر کے دیگر افراد مہمان نواز تھے، اگرچہ متوسط الحال تھے اور کنبہ بھی بڑا تھا مگر یہ واقعہ ہے کہ ان کی مہمان نوازی میں اور احباب کی خدمت و تواضع میں کبھی فرق نہیں آیا۔ کسموں ریلوے سٹیشن ہے، بندرگاہ بھی ہے، ٹانگانیکا اور یوگنڈا آنے جانے کے لئے سڑکیں بھی یہاں سے گزرتی ہیں، پراونس کا ہیڈ کوارٹر بھی ہے اس لئے بالعموم جماعت اور غیر از جماعت کے دوست آتےجاتے ان کے ہاں مقیم ہوتے، ہر طرح ان کا خیال رکھتے اور تواضع کرتے۔

مرحوم خان صاحب کو اللہ تعالیٰ نے یہ وصف بھی عطا کیا تھا کہ وہ مختلف مذاہب کی کتب اور تصنیفات پڑھتے رہتے جو کام کا حوالہ دیکھتے اسے نوٹ کرتے، کبھی اس پر نشان لگاتے اور پھر اس کتاب یا رسالہ یا حوالہ کو لے کر گھومنا شروع کرتے، کبھی زیر تبلیغ احباب کے پاس جاتے اور دکھاتے اور کبھی مخالفوں کے پاس جاتے اور کہتے دیکھو تمھاری ہی کتابوں میں یہ لکھا ہے۔ سلسلہ کا لٹریچر اور اسلام کی تبلیغ کے لئے کتب کی اشاعت میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور خود اپنے حلقہ میں جاکر تقسیم کرتے۔ نیروبی ان کا آنا جانا اکثر رہنا، ان کے ساتھ کاروبار کرنے والے پرانے احباب رہتے ان سے ضرور ملنے جاتے اور حقِ دوستی ادا کرتے ہوئے احمدیت و اسلام کا پیغام پہنچاتے۔ اللہ تعالیٰ اُن کے درجات بلند کرے۔‘‘

(الفضل ربوہ 20اپریل 1969ء)

آپ کی اہلیہ کا نام محترمہ کرم بی بی تھا، وہ بھی موصیہ (وصیت نمبر 3638) تھیں، وصیت کے ریکارڈ کے مطابق ان کی بیعت 1916ء کی ہے۔ (فاروق 7مئی 1933ء صفحہ 12 ) محترمہ کرم بی بی نے 1948ء میں وفات پائی، اخبار الفضل نے خبر وفات دیتے ہوئے لکھا:

’’افسوس کرم بی بی اہلیہ بابو عمر حیات سیالکوٹی 29جولائی 1946ء سوموار کے دن فجر کے وقت اپنے مولا حقیقی سے جا ملیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔مرحومہ موصیہ تھیں۔ بہت دیندار اور عبادت گذار، تہجد کی نماز کی بہت تعہد سے پابندی کرتیں، خدمت دین کا بہت شوق رکھتی تھیں۔ ہر تحریک چندہ میں حصہ لیتی تھیں۔ 1916ء میں اپنے خاوند کے ساتھ تحقیق حق کے لئے قادیان گئیں، وہاں جاکر اس قدر متاثر ہوئیں کہ تیسرے دن بیعت کرلی اور اس کے بعد آخر دم تک اخلاص اور خدمت دین کا عمدہ نمونہ دکھایا۔ مرحومہ کو گردہ میں ورم کا عارضہ لاحق تھا اور دیر سے بیمار تھیں۔ یہاں ہماری جماعت تھوڑی ہےلہذا احباب کرام سے التجا ہے کہ مرحومہ کا جنازہ غائب پڑھا جائے اور ان کی بلندیٔ درجات کے لئے دعا فرمائی جائے، نیز یہ کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے پسماندگان کو صبر جمیل عطا کرے، آمین۔ خاکسار عبدالسلام بھٹی پریذیڈنٹ جماعت احمدیہ کسومو، کینیا کالونی افریقہ‘‘

(الفضل 21اگست 1946ء)

حضرت بابو محمد عمر حیات او رآپ کی اہلیہ حضرت کرم بی بی کا نام تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں ’’نیروبی (مشرقی افریقہ)‘‘ کے تحت درج ہے، ساتھ ہی آپ کے بیٹے مکرم بشیر احمد حیات کا نام بھی موجود ہے۔ مکرم بشیر احمد حیات نے 8مارچ 2003ء کو بعمر 83 سال لنڈن میں وفات پائی اور وہیں دفن ہوئے، موجودہ امیر جماعت یو کے محترم رفیق حیات انہی کے بیٹے ہیں۔

آپ کی ایک بیٹی فیروزہ بیگم کا نکاح حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے بابو محمد عالم کے ساتھ پڑھایا۔

(خطبات محمود جلد سوم)


(غلام مصباح بلوچ۔کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ