• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

صحت مند دانت کے لئے 7 باتوں پر عمل کریں

کچھ لوگ کہتے ہیں کہ آنکھیں روح کی کھڑکی ہوتی ہیں تاہم اگر آپ کسی کی شخصیت کے بارے میں صحیح معنوںمیں جاننا چاہتے ہیں تو آپ کوان کی مسکراہٹ دیکھنی چاہئے ۔اگر کوئی انسان کھل کر ہنستا ہے اور اپنے موتیوں جیسے دانتوں کی نمائش کرتا ہے تو اس کا پہلا تاثر اچھا پڑتا ہے لیکن اگر کوئی منہ بھینچ کر ہنستا ہے یا اس کے منہ سے بُو آتی ہے تو پہلا تاثر خراب ہو جاتا ہے ۔ آنکھیں اگر روح کی کھڑکی ہیں تو دانت شخصیت کی کھڑکیاں ہیں ۔ آئیے آپ کو دانتوں کو صحت مند رکھنے کے لئے سات چیزوں کے بارے میں بتاتے ہیں:

1 امریکن ڈینٹل ایسوسی ایشن کے مطابق دن میں دو مرتبہ دانت برش کریںاور ہر مرتبہ دو منٹ تک برش کریں اس سے آپ کے دانت بہت اچھی حالت میں رہیں گے۔ نرم بالوں والے برش کے ساتھ دانت اور زبان کو برش کرنے اور فلو رائیڈ ٹوتھ پیسٹ استعمال کرنے سے آپ کے منہ میں موجود خوراک کے ذرات نکل جاتے ہیں اور جراثیم کا بھی صفایا ہو جاتاہے۔ دانت سے خوراک کے ذرات کا صاف ہونا بہت ضروری ہے کیونکہ یہ دانتوں کو نہ صرف خراب کرتے ہیں بلکہ کیڑا (Cavity) بھی پید ا کرتے ہیں۔

2 ۔صبح کے وقت دانت برش کرنا ضروری ہے
منہ کا درجہ حرارت 98.6oFہوتا ہے۔ یہ گرم اور نم ہوتاہے اور خوراک کے اجزاء اور جراثیم سے بھر ا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں دانتوں پر میل کی تہہ جم جاتی ہے جو پلیک(Plaque) کہلاتی ہے۔ یہ میل جمع ہوتارہتا ہے اور آخر کار سخت ہو جاتا ہے اور پھر یہ ٹارٹر کی شکل اختیار کر لیتا ہے جس کو صاف کرنا مشکل ہوتا ہے۔ ٹارٹر کی وجہ سے نہ صرف مسوڑھوں میں درد ہوتی ہے بلکہ اس سے مسوڑھوں کی کئی بیماریاں بھی پید اہوتی ہیں اور منہ سے بدبوآتی ہے۔ چنانچہ ضروری ہے کہ صبح اٹھ کر برش کیا جائے تاکہ رات بھر میں جمع ہونے والا میل صاف ہو سکے ۔

3۔ضرورت سے زیادہ برش نہ کریں
اگر آپ دن میں دو سے زیادہ مرتبہ برش کرتے ہیں اور چار منٹ سے زیادہ وقت صرف کرتے ہیںتو اس سے آپ کے دانتوں پر موجود اس قدرتی تہہ کو نقصان پہنچتا ہے جو دانتوں کی حفاظت کرتی ہے۔ جن دانتوں پر موجود یہ حفاظتی تہہ قائم نہیں رہتی تو اس کے نتیجے میں ڈینٹن کی تہہ بے نقاب ہو جاتی ہے ۔ ڈینٹن کی تہہ میں چھوٹے چھوٹے سوراخ ہوتے ہیں جو نروز یعنی عصبوں تک جاتے ہیں۔جب ان عصبوں کو زک پہنچتی ہے تو دانتوں میںسخت دردہونے لگتا ہے امریکہ کے سنٹر فارڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونشن کے مطابق امریکہ میں بیس فیصد افراد کو دانتوں میں درد اور حساسیت کا مسئلہ ہے۔

4۔سختی سے برش نہ کریں
ممکن ہے کہ آپ بہت سختی سے برش کرتے ہوں۔ یہ ٹھیک نہیں ہے۔ دانتوں کو اس طرح برش کریں جیسے آپ انڈے پر پالش کررہے ہیں ۔ اگر برش کرتے ہوئے آپ کے مسوڑھوں میں درد ہو رہا ہے یا وہ چھل رہے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ بہت زیادہ دبا کر برش کر رہے ہیں اس کے علاوہ بہت زیادہ دباکر برش کرنے سے دانتوں پر موجود حفاظتی تہہ ہٹ جاتی ہے۔انیمل کی یہ تہہ اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ یہ آپ کے دانتوں کو ہر اس چیز سے محفوظ رکھتی ہے جو آپ کے منہ میں جاتی ہے چاہے آپ کچھ کھاتے یا پیتے ہیں یا آپ کے نظام ہضم کا عمل چل رہا ہوتا ہے۔ بچوں اور نو عمر افراد کے دانتوں پر انیمل کی تہہ بڑوں سے زیادہ نازک ہوتی ہے اوریوں کھانے پینے کے نتیجے میں ان میں کیویٹی(Cavity) اور کٹاؤ کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے لہٰذا بہت زیادہ سختی کے ساتھ برش نہ کریں۔

5۔روزانہ دانتوں کا خلال کریں
روزانہ دانتوں کا خلال کریں ۔ اس کے لئے آپ چاہے دھاگے کا ا ستعمال کریں یا نوک دار تیلی کا ،خلال سے آپ کے دانت سے میل نکل جاتا ہے اور یوں دانت ٹارٹر جمع ہونے سے محفوظ رہتے ہیں۔ خلال سے دانتوں میں پھنسے خوراک کے وہ ذرات نکل جاتے ہیں جو برش سے نہیں نکل پاتے۔ یاد رکھیں کہ دانتوں سے میل تو آپ خود نکال سکتے ہیں لیکن ٹارٹر صاف کرانے کے لئے ڈینٹسٹ کے پاس جانا پڑے گا۔

6۔ بہت زیادہ ٹھنڈی اور میٹھی چیزوں سے پر ہیز کریں
بہت زیادہ ٹھنڈی اور میٹھی چیزیں دانتوں کی دشمن ہیں ان سے دانتوں میں حساسیت اور درد ہوسکتا ہے ۔اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کے دانت وقت سے پہلے نہ گریں تو ٹھنڈی اور میٹھی چیزیں کم سے کم کھائیں۔گوشت بھی توازن کے ساتھ کھائیں کیونکہ بہت زیادہ گوشت کھانے سے بھی دانت خراب ہوتے ہیں۔

7۔ سافٹ ڈرنکس یا سوڈا ڈرنکس سے بچیں
امریکہ میں ایک مہم چلائی جا رہی ہے جس میں لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ وہ اپنے دانتوں کو صحت مند رکھنے کے لئے سافٹ ڈرنکس یا سوڈا ڈرنکس پینے کی عادت ترک کر دیں۔ نہ صرف میٹھا بلکہ ڈائٹ سوڈا بھی دانتوں کے لئے برابر کا نقصان دہ ہے۔ سوڈا میں موجود ایسڈ دانتوں پر حملہ کر تا ہے ۔ یہ دانتوں پر موجود حفاظتی تہہ کو ہٹا دیتا ہے اور کیویٹی پیدا کر تا ہے۔اس کے علاوہ اس سے دانتوں کی سطح پر داغ بھی لگ جاتے ہیں اور یوں آپ کی مسکراہٹ داغدار ہو جاتی ہے۔

(گلدستہ علم و ادب لندن7دسمبر2018ء)


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ