• 19 اپریل, 2021

تعارف سورۃ الرحمٰن(55 ویں سورۃ)

(تعارف سورۃ الرحمٰن(55 ویں سورۃ))
(مکی سورۃ، تسمیہ سمیت اس سورۃ کی79 آیات ہیں)
(ترجمہ از انگریزی ترجمہ قرآن (حضرت ملک غلام فرید صاحب) ایڈیشن 2003)

وقت نزول اور سیاق و سباق

سورتوں کےاس خاص گروپ کی چھٹی سورت ہونے کے حوالہ سے جو سورۃق سے شروع ہو کر سورۃ الواقعہ پر ختم ہوتا ہے اور جو سورتیں کم و بیش مکہ میں، ایک ہی وقت میں نازل ہوئیں یعنی نبوت کے ابتدائی سالوں میں۔ اس سورۃ کی اس گروپ کی باقی سورتوں کے مضامین سے بہت زیادہ مشابہت ہے اور انہی کی طرح اسلام کے بنیادی عقائد پر روشنی ڈالتی ہے جن میں صفات باری تعالیٰ، توحید باری تعالیٰ، قیامت اور وحی و الہام وغیرہ شامل ہیں۔

سورۃ القمر میں گزشتہ انبیاء کی قوموں کی چند مثالیں دی گئی تھیں جن سے عرب لوگ خوب واقف تھے اور جنہیں الہٰی پیغام کو جھٹلانے کی وجہ سے سزا دی گئی تھی اور پھر قریش کے بدوؤں سے استفسار کیا گیا ہے کہ کیا وہ ان قوموں کے بد انجام سے سبق حاصل نہیں کریں گے اور قرآنی پیغام کو قبول نہیں کریں گے؟ جو (قرآنی تعلیم) سمجھنے اور عمل کرنے کے اعتبار سے بہت آسان ہے۔ اسی طرح یہ سورۃموجودہ قرآنی وحی کے نزول کی وجوہات بھی بیان کرتی ہے۔

مضامین کا خلاصہ

اس سورۃ کا آغاز الرحمٰن کی صفت الہٰی سے ہوا ہے ۔یہ بتانے کے لیے کہ کائنات کی تخلیق کے بعد خدا تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیاجو جملہ مخلوق سے اعلیٰ اور ارفع تھا اور انسان کی تخلیق خدائی صفت رحمانیت کے نتیجہ میں ہوئی۔ انسان کی تخلیق کے بعد خدا نے اپنے نبیوں اور رسولوں کے ذریعہ اپنا آپ اس پر ظاہر کیا کیونکہ وہ اپنی تخلیق کے اعلیٰ مقصد کاحصول خدائی وحی اور راہنمائی کے بغیر نہیں کر سکتا تھا۔ نبوت کے تمام کمالات آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں مجتمع ہو گئے جن کو اللہ تعالیٰ نے قرآن عطا کیا جو آخری الہٰی صحیفہ تھا جو جملہ انسانیت کے لیے اور قیامت تک کے لیے ہے۔ مگر خدا نے انسان پر انعامات اس کی تخلیق کے ساتھ ہی ختم نہیں کر دئے بلکہ خدا نے جملہ کائنات کو اس کا تابع کردیا۔ جملہ ستاروں اور سیاروں کے ساتھ، ایسا ہی زمین اپنے جملہ خزائن کے ساتھ ،گہرے سمندر اور بلند و بالا پہاڑ، یہ سب انسان کی خاطر تخلیق کیے گئے ہیں۔ سب سے بڑھ کر خدا نے انسان کو غیر معمولی عقل اور اچھے اور برے کی تمیز کا ایسا ہنر دیا ہے کہ اچھے راستے پر چل کر وہ خدا کی ہدایت پر عمل پیرا ہوسکتا ہے اور یوں ا پنی تخلیق کے مقصد کو حاصل کر سکتا ہے۔ لیکن انسان ایسا کمزور واقع ہوا ہے کہ بجائے اس کے کہ روحانی ترقی کی شاہراہوں سے فائدہ اٹھائے جو اس کے لئے رحمٰن اور رحیم خدا کے فضلوں نے کھولے ہیں اپنے تکبر اور دھوکہ میں وہ خدائی قوانین کو پامال کرتا اور نتیجۃً خدا کی ناراضگی مول لے لیتا ہے۔ الہٰی قوانین کی نافرمانی جیسا کہ اس سورت میں اشارہ دیا گیا ہے کسی وقت خدا کی سخت ناراضگی کا روپ دھار لے گی( جو عنقریب ظاہر ہونے والی ہے) اور پھر انسان کو ایسی سخت تباہی کا سامنا ہوگا کہ اس سے پہلے اس کا نمونہ کسی نے نہیں دیکھا۔ تاہم مجرموں اور خطا کاروں کو ملنے والا عذاب بہت سخت اور ہولناک ہوگا اورظلمت اور بت پرستی کے زمانے میں تقویٰ اختیار کرنے والوں کو جو خدائی انعامات ملیں گے وہ بھی اس دنیاوی لذت سے بہت بڑھ کر اور بے حساب ہوں گے۔ یوں خدائی عذاب اور افضال دونوں یہ بات ثابت کر دیں گے کہ خدا عذاب دینے میں بہت سخت ہے اور عزت اور مرتبہ عطا کرنا بھی اسی کے ہاتھ میں ہے۔ اس سورت کے مضامین کا تعلق خاص طور پر ایسے زمانہ سے ہے جب طاقت اور جاہ و جلال میں مغربی اقوام اپنے عروج پر ہوں گی۔

٭…٭…٭

(ابو سلطان)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 مارچ 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 مارچ 2021