• 5 اگست, 2021

نظم

جامِ اُلفت مجھے پلا کوئی
کہتا ہے تیرا مبتلا کوئی

تجھ سا ملتا تو چاہتے بھی اُسے
ہم کو تجھ سا نہیں ملا کوئی

دیکھ کر تجھ کو دیکھتا ہی رہا
محو حيرت ہے آئینہ کوئی

کتنا کنگال ہو گیا جس کی
آنکھ میں اشک نہ رہا کوئی

سنتا ہے اور بولتا ہی نہیں
ہے عجب شیخ کا خدا کوئی

تیری باتوں سے زخم بھرنے لگے
درد کو مل گئی دوا کوئی

لالہ زاروں سے بھر گئی ہے زمیں
اب کے ایسی چلی ہوا کوئی

ہر قدم پر ملی شعاعِ نور
ہر قدم پر ہے نقشِ پا كوئی

زندگی تیرے بن اذیت ہے
زندگی تیرے بن سزا کوئی

سایہء شفقتَش بہشت نظیر
ورنہ ہر سو ہے کربلا کوئی

سائباں بن کے ساتھ رہتی ہے
میرے محبوب کی دعا کوئی

عصرِ ظلمات ہے مگر اس میں
تیرا ہر لفظ ہے دِیا کوئی

(محمد طاہر ندیم۔لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 جون 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ