• 12 اگست, 2020

وہ مسکن ہے خلافت کا جو جاری ہے نبوت سے

سہارا بے سہاروں کو ملے جیون سنور جائے
محبت کی کھلیں کلیاں گل و گلزار مہکائے
وہ مسکن ہےخلافت کاجہاں راحت یہ دل پائے
جہاں پر در بدر ٹھوکر زدہ آ کر سنبھلتے ہیں
جہاں اخلاص کی لو پر وفا کے دیپ جلتےہیں
محبت امن کا پیغام لے کر سب نکلتے ہیں
وہ مسکن ہےخلافت کا جہاں پر دل بدلتے ہیں
جہاں پر تشنہ لب روحانیت کے جام پیتے ہیں
جہاں افسردہ خاطر اپنے سارے زخم سیتےہیں
وہی لمحات بہترہیں جو اس کے پاس بیتےہیں
وہ مسکن ہےخلافت کاہم اس نسبت سے جیتے ہیں
جہاں پر ذوق بڑھتا ہے عبادت اور ریاضت کا
سرورِ جاوداں ملتا جہاں پر ہے اِطاعت کا
جومرکزعاشق ومعشوق کےہے میل وسنگت کا
وہ مسکن ہےخلافت کاجو محور ہے محبت کا
جہاں ہو ختم نفرت اور محبت بیج بو جائے
دلوں کی میل دھل کرنورمن میں بھی سمو جائے
وفا ایثار و قربانی کی دھن میں کوئی کھو جائے
وہ مسکن ہے خلافت کا جہاں پر عشق ہو جائے
جہاں پرصبح نوروں میں نہائی کرنیں داخل ہوں
جہاں کی شام میں دلبر کے جلوےکی محافل ہوں
جہاں کےرات اوردن میں ملائک بھی تو نازل ہوں
وہ مسکن ہےخلافت کا جہاں ایمان کامل ہوں
حقائق اور معارف کے جہاں پر چشمے بہتے ہیں
فقط ہم ہی نہیں کہتےمخالف بھی یہ کہتےہیں
دعا ہی اپنا شیوہ ہے اگرچہ ظلم سہتے ہیں
وہ مسکن ہےخلافت کاجہاں سب مل کے رہتے ہیں
جہاں پر بے کسوں کی جھولیاں بھرتی ہیں رغبت سے
کس وناکس بھی پاتےبرکتیں ہیں فیضِ صحبت سے
جہاں اپنی انا کو مار کر جھکتے عقیدت سے
وہ مسکن ہے خلافت کا جو جاری ہے نبوت سے

(حافظ محمد مبرور)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 25 جولائی 2020ء