• 12 اگست, 2020

حج اور عیدین کا فلسفہ اور مسائل

اسلامی مہینہ ذوالحجہ تمام مسلمانوں کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے لئے بھی جو مکہ معظمہ پہنچ کر حج کی توفیق پاتے ہیں اور ان مسلمانوں کے لئےبھی جو مالی استطاعت نہ رکھتے ہوئے یا بعض ذاتی مجبوریوں اور روکوں کی وجہ سے شرائط حج کو پورا نہیں کر پاتے اور اپنی اپنی جگہوں پر وہ نماز عید (عید الاضحی)اداکرتے ہیں اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اقتداء میں دنبے،بکرے،چھترے، گائے یا اونٹ کی قربانی کرتے ہیں۔گویا اس اسلامی مبارک مہینے ذوالحجہ کو دو اعتبار سے اہمیت حاصل ہے:

اول:حاجیوں کے لئے حج کے فریضہ کی ادائیگی۔
دوم:غیر حاجیوں کے لئے عید الاضحی کی ادائیگی۔

جہاں تک اول الذکر فریضہ کا تعلق ہے یہ مکہ پہنچ کر ادا ہوتا ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے پلوٹھے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ مل کر اللہ تعالیٰ کے اس پہلے گھر کی ازسرنو تعمیر کی جو خانہ کعبہ یا بیت اللہ کہلاتا ہے اور یہی مسلمانوں کا قبلہ ہے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے حضرت ہاجرہؑ کے بطن سے ایک بیٹے سے نوازا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بڑی بیوی سارہ حسد کی وجہ سے انہیں تکلیف دیا کرتی تھیں جس کی بناء پر اللہ تعالیٰ سے اذن پا کر حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنی بیوی ہاجرہؑ اور بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو ایک بے آب و گیاہ وادی میں چھوڑ آئے جو مرورزمانہ کی وجہ سے بعد میں عالمی شہرت یافتہ شہر بنا۔آج ساری دنیا سے لاکھوں مسلمان اس یاد کو تازہ کرنے ذوالحجہ کے اوائل میں مکہ میں پہنچتے ہیں اور اسلامی شعائر کے مطابق حج کا فریضہ ادا کرتے ہیں۔

حج کے فلسفہ اور سبق کو صرف ایک حاجی کے لئے سامنے رکھنا ضروری نہیں ہے بلکہ ہر مسلمان کو اس کے اسباق مدنظر رکھنے چاہیں کیونکہ ہر مسلمان کی یہی تمناہوتی ہےکہ وہ حج پر جائے مگر بعض مجبوریاں اور روکیں راستہ میں حائل ہوجاتی ہیں۔

قرآن کریم کے کئی ایک مقامات پر حج کا ذکر موجود ہے مثلاًسورہ البقرہ کی آیات 190تا205میں حج کے فلسفہ پر تفصیل سے روشنی ڈالی گئی ہے جہاں یہ بات وضاحت کے ساتھ سامنے آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حج کے ذکر کو اپنے خوف کے مضمون کے ساتھ باندھ دیا ہے اور بار بار ’’فَاتَّقُواللّٰہَ‘‘ کہہ کر مسلمانوں کو توجہ دلائی ہے کہ تم ماسویٰ اللہ سے نظر ہٹا کر صرف اللہ تعالیٰ کو ہی اپنی ڈھال بناؤ ۔جتنے بھی مخفی خدا انسان کے اندر موجود ہیں انہیں بھسم کر دو۔رسومات کے چنگل سے باہر نکلو۔درباروں، خانقاہوں پر شرم سے جھک جانیوالے جو مناظر دیکھنے میں آتے ہیں ان کے خلاف جہاد کرو۔

مگرحاجی اپنے وطن واپسی پر مختلف درباروں اور خانقاہوں کے چکر لگاتا ہے ان میں مدفون معصوم لوگوں کے آگے جھکتا ان سے منتیں مانگتا اور سجدے کرتاہے۔

اسی طرح اسلامی حکومتوں کے سربراہان مکہ پہنچ کر حج کر رہے ہوتے ہیں مگر وہاں اور پھر واپس آکر بھی ان کا مکمل انحصار خدا کی بجائے ان حکومتوں اور طاقتوں پر ہوتا ہے جن کو یہ اپنے مجازی خدا سمجھتے ہیں۔جو درست نہیں اس سے بڑھ کر توہین خداوندی کیا کوئی اور ہوسکتی ہے اس لئے ان آیات میں مسلمانوں کو توجہ دلائی گئی ہے کہ اپنے دل کو تمام دوسرے مجازی خداؤں سے خالی کرواور ایک ہی خدا جو تمام کا خدا ہے اسی کا گھر اپنے دل میں بساؤ۔استغفار سے کام لیتے رہو۔

ایک اور اہم سبق اور نصیحت جسے حج کے مضمون کے ساتھ بیان کر کے ایک حاجی اور غیر حاجی ہر دو کے لئے یہ ہے :
’’وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا‘‘ کہ اپنے گھروں میں اس کے دروازوں سے داخل ہو ا کرو۔

اس میں دراصل یہ عظیم سبق ہے کہ کامیابی ہمیشہ ابواب یعنی دروازوں سے آنے سے ہوا کرتی ہے اور اگر تم ایسا نہیں کرتے تو یاد رکھو کہ تم کبھی کامیابی حاصل نہیں کرسکتے۔ اللہ جانتا تھاکہ آخری زمانہ میں مسلمان مختلف بُرائیوں میں مبتلا ہوجائیں گے اور ہر ناجائز کام کو جائز سمجھ کر کریں گے ۔اپنے کام کو جائز کرنے کے لئے مختلف نکات سوچتے رہتے ہیں خواہ اس پر عمل کرنے کی اسلام اجازت دے یا نہ دے۔ کامیابی کا راز اسوۂ رسولﷺ کی تقلید میں ہے۔

ایک صوفی منش کے درج ذیل واقعہ سے حج کا فلسفہ سمجھنے میں آسانی ہوگی:۔
حضرت جنید بغدادیؒ بہت بڑے صوفی گزرے ہیں۔ان کی ایک دفعہ ایک ایسے شخص سے ملاقات ہوئی جو حج کا مقدس فریضہ ادا کر کے آئے۔حضرت جنیدؒ نے اس سے چند سوالات پوچھے جو یہ ہیں۔

1۔جب تو نے احرام باندھا تو کیا یہ نیت بھی کی تھی کہ آئندہ سے اپنی نفسانی خواہشات اور جوش طبع کا لباس بھی اُتار پھینکوں گا۔ اس شخص نے کہا یہ تو میرے وہم وگمان میں بھی نہ تھا تو آپؒ نے فرمایا پھر تو نے کوئی احرام نہیں باندھا۔
2۔جب تو نے بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے اس کے گرد چکر لگائے تو تُو نے یہ نیت کی تھی کہ آئندہ میں تیری توحید و محبت کے گرد ہی گھومتا رہوں گا۔ اس نے کہامیری تو عقل نے ایسا نہیں سوچا تو پھر آپؒ نے فرمایا تو نے بیت اللہ کا طواف ہی نہیں کیا۔
3۔جب تو نے صفا اور مرویٰ کے درمیان سعی کی تو کیا تو نے سوچا کہ یہ وہ علاقہ ہے جہاں ایک خدا کی بندی نے پانی کی تلاش میں چکر لگائے تھے اوراس کے پیارے بچے کے لئے پانی کا چشمہ جاری فرما دیا گیا تھا۔آج میں بھی بھاگ رہا ہوں ۔میرےدل میں بھی اپنی محبت کا چشمہ جاری کر دے۔اس شخص سے پہلے جیسا جواب پا کر حضرت جنیدؒ نے کہا تو نے یہ سعی بھی نہ کی۔
4۔جب عرفات سے گزرا تو کیا خیال کیا کہ جس طرح آج یہاں کھڑے ہیں اسی طرح ایک روز خدا کے روبرو کھڑے ہونا ہے اور اپنے اعمال کا حساب چکانا ہے۔اس شخص نے پہلے کی طرح جواب دیا۔ حضرت جنیدؒ نے فرمایا تیرا میدان عرفات میں جانا اور نہ جانا برابر ہے۔
5۔پھر فرمایا جب تونے منیٰ میں آکر قربانی کی تو یہ نیت تھی کہ جس طرح بکرے کی گردن پر چھری پھیررہا ہوں اسی طرح آئندہ تمام منایا یعنی خواہشات نفسانیہ کے گلے میں چھری پھیرتا رہوں گا۔اس شخص نے کہا کہ میں نے تو ایسی کوئی نیت نہیں باندھی۔ آپؒ نے فرمایا یہ تیرا عمل بھی نہ ہوا۔
6۔جب تورمی الجمار کر رہا تھا تو کیا تو نے دل کے شیطان کو بھی کنکریاں ماریں تا کہ خدا کی محبت دل میں پیدا ہو۔اس نے کہا ایسا تو میں نے نہیں کیا۔حضرت جنیؒد نے کہا پھر تو نے رمی الجمارنہیں کیا اور تو نے مناسک حج میں سے کچھ بھی پورا نہیں کیا تو اگلے سال دوبارہ جا اور ابراہیمی روح کے ساتھ حج کر تا کہ ابراہیمی مقام حاصل کر سکے۔

یہ ہے حج کی روح اور فلسفہ۔مگر آج حج کے متعلق اکثر سننے میں آیا ہے کہ حج کرنے والا اپنا حق سمجھتا ہے کہ اپنے لئے فخر کے طور پر ’’حاجی‘‘ کا لقب استعمال کرے۔ ایک ایسا حج تو محض ظاہری رسم و رواج کے طور پر کیا گیا ہو اس ’’اعزازی نشان‘‘ کے ذریعہ لوگوں سے احترام کی پونجی حاصل کرنے کے لئے مفید ہوسکتا ہے لیکن جہاں تک اسلامی روح کے ساتھ اس فریضہ کی ادائیگی کا تعلق ہے اس لقب کی کوئی قیمت نہیں اتنی بھی نہیں جتنی ایک کھوٹے سکے کی ہوتی ہے۔

عیدالاضحی کی اہمیت

ذوالحجہ کے پہلے دس دن غیر حاجیوں کے لئے بھی اسی طرح اہمیت کے حامل ہیں جیسے حاجیوں کے لئے۔ غیر حاجی اپنی اپنی جگہوں پر رہ کر حضرت محمد مصطفیٰﷺکی اقتداء میں قربانی کر کے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یاد تازہ کرتے ہیں اور ایک جگہ اکٹھے ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت بجالاتے ہیں اور شکرانے کے طور پر دو نفل بھی ادا کرتے ہیں۔اس ماہ کے پہلے دس دنوں کو احادیث کی روشنی میں خصوصی شرف حاصل ہے چنانچہ صحیح بخاری کی ایک روایت کے مطابق عشرہ ذوالحجہ میں بجا لائے گئے اعمال صالحہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک دوسرے دنوں میں بجا لائے گئے اعمال سے زیادہ محبوب پسندیدہ ہیں۔مسند احمد بن حنبل میں سیدنا حضرت ابن عمر ؓکے حوالے سے آنحضورﷺکا یہ قول درج ہے کہ ان دنوں کے اعمال اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت باعظمت اور محبوب ہیں اس لئے کثرت سے ان دنوں تہلیل ،تکبیر اور تحمید کہو۔

صحیح ترمذی میں لکھا ہے کہ9ذوالحجہ (یوم عرفہ)کے دن کا روزہ گزشتہ اور آئندہ دو سالوں کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔

صحابہ کرام ؓ کی سیرت کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ صحابہؓ عشرہ ذوالحجہ میں احادیث کے مطابق عمل کرتے ہوئے زیادہ ذوق و شوق سے عبادت و نوافل کا اہتمام کرتے تھے۔چنانچہ صحیح بخاری میں حضرت ابن عمرؓاور حضرت ابو ہریرہؓ کا یہ عمل درج ہے کہ آپ دونوں ان ایام میں بازار میں نکل جاتے ۔بلند آواز سے تکبیریں پڑھتے اور حضرت سعید بن جبیر ؓکے متعلق بھی احادیث میں اعمال صالحہ بجا لانے میں سعی و کوشش کرنے کے متعلق آتا ہے۔

اس عشرہ کے آغاز سے تعلق رکھنے والی ایک بات یہ ہے کہ قربانی کرنے والا ذوالحجہ کے چاند کے بعد نہ حجامت بنوائے نہ بال کٹوائے نہ ناخن ترشوائے ۔ابو داؤد کی ایک روایت کے مطابق قربانی کی طاقت نہ رکھنے والے کو بھی ایسا کرنے یعنی بال وغیرہ نہ کٹوانے کی ہدایت ہے اس طرح اسے بھی قربانی کے برابر ثواب ملے گا۔

قربانی کے مسائل

اس عشرہ کی اہمیت بیان کرنے کے بعد عید کا فلسفہ اور قربانی کے مسائل بیان کئے جاتے ہیں۔ اس عید کے لئے ’’اضحی‘‘ کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔جس کے معنی قربانی کے جانورکے ہیں۔ ’’اضحی‘‘ کا لفظ غیر حاجی لوگوں کی قربانیوں کے لئے استعمال ہوتا ہے جبکہ حاجی لوگوں کی قربانیوں کے لئے قرآن و حدیث میں ’’ھَدْیٌ‘‘ کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ عید الاضحی کی نماز صرف غیرحاجیوں کے لئے مقرر ہے۔حج کے موقعہ پر یہ نماز ادا نہیں کی جاتی بلکہ حج خود اپنی ذات میں بھاری عید ہے اور عید کے تمام پہلو اور عناصر بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں ۔شریعت نے عید الاضحی کی نماز غیر حاجی لوگوں کے واسطے اس لئے رکھی ہے کہ جہاں ایک طرف حج کے ایام میں حاجی لوگ حج کی عید منا رہے ہوں وہاں غیر حاجی جنہیں کسی مجبوری کی وجہ سے حج کی توفیق نہیں مل سکی وہ اکناف عالم میں اپنی اپنی جگہ پر عید کر کے اور قربانیاں دے کر اس عظیم الشان قربانی کی یاد تازہ رکھیں جس کا آغاز حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ہاتھوں سے حضرت اسماعیل علیہ السلام کے وجود میں ہوا اور پھر وہ آنحضرت ﷺ کے وجودِ باجود میں اپنے معراج کو پہنچی۔

آج کل مسلمان دکھاوے کی خاطر اورواہ واہ کروانے کے لئے بڑے سے بڑا جانور توذبح کرتے ہیںمگر اس کے فلسفہ اور حقیقت سے ناآشناہیں حتیٰ کہ لوگ اس کا نام ہی بھول گئے ہیں اور جسے دیکھو ’’عید الاضُحیٰ یعنی صبح کے وقت کی عید کہتا دکھائی دیتا ہے جو سراسر غلط ہے۔قربانی سنت موکدہ ہے جو ہر صاحب استطاعت اور ذی ثروت پر واجب ہے۔ آنحضرتﷺنے ہر سال خود بھی قربانی کی اور صحابہ کو بھی اس کی تاکید فرمائی۔ آنحضرت ﷺ کو عید الاضحی کی قربانی کا اس قدر خیال تھا کہ آپ نے وفات سے قبل حضرت علیؓ کو وصیت فرمائی کہ میرے بعد میری طرف سے اس موقعہ پر ہمیشہ قربانی کرتے رہنا۔ آپؐ نے عیدالاضحی کے روز خطبہ دیتے ہوئے صحابہ کو تحریک کرتے ہوئے فرمایا کہ اس دن پہلاکام انسان کو یہ کرنا چاہئے کہ وہ نماز عید ادا کرے اور پھر اس کے بعد قربانی دے سو جس نے ایسا کیا اس نے سنت کو پالیا۔

ترمذی کی روایت ہے کہ آنحضورﷺنے فرمایا خدا کی نظر میں عیدالاضحی والے دن انسان کا کوئی عمل قربانی کے جانور ذبح کرنے اور اس کا خون بہانے سے زیادہ محبوب نہیں۔ ابن ماجہ میں آنحضورﷺکا یہ قول درج ہے کہ قربانی کے جانور کے جسم کا ہر بال قربانی کرنے والے کے لئے ایک نیکی ہے جو اسے خدا سے اجر پانے کا مستحق بنائے گی۔ایک موقعہ پر آپ نے مالی وسعت رکھنے والوں کو متنبہ کرتے ہوئے فرمایا کہ جس نے مالی طاقت رکھتے ہوئے قربانی نہیں کی اس کا کیا کام ہے کہ وہ ہماری عید گاہ میں آکر نماز میں شامل ہو۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک دفعہ آپؐ نے نہ صرف خود قربانی کی بلکہ مزید تاکید اور تحریک کی غرض سے اپنی امت کی طرف سے بھی ایک دنبہ منگوا کر ذبح کیا اور دعا کی اے میرے آسمانی آقا !اس قربانی کو محمد، اس کی آل اور امت کی طرف سے قبول فرما۔

ان اقوال مبارکہ سے ثابت ہوتا ہے کہ قربانی ہمارے پیارے رسول حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک سنت ہے جس کے متعلق آپ نے بہت تاکید فرمائی اوربھاری ثواب کا موجب قرار دیا اور قرآن حکیم ’’أَطِيْعُواْ الرَّسُولَ‘‘ کے تحت ہر اس شخص پر جو قربانی کی طاقت رکھتا ہے رسول خدا کی اطاعت کرتے ہوئے قربانی واجب ہوجاتی ہے۔ قرآنی حکم ’’فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرْ‘‘ میں بھی اسی قربانی کا ذکر ہے کیونکہ جب یہ سورۃ نازل ہوئی اس وقت حج فرض نہیں ہوا تھا۔ اگر سارے گھر کی طرف سے ایک صاحب استطاعت شخص قربانی کر دے تو یہ قربانی سب کی طرف سے سمجھی جائے گی۔ قربانی کا جانور خریدتے وقت یہ امر مدنظر رہے کہ جانور صحت مند ہو۔ مالک کو پسند ہو ،عیب دار اور کمزور نہ ہو۔ احادیث کے مطابق لنگڑے ،سینگ ٹوٹے، بیمار، دبلے (جس کی ہڈی میں گودا نہ ہو) جانور نیزایسا جانور جس کا کان آگے سے یا پیچھے سے کٹا ہو یا کان لپٹا ہوا یا کان میں سوراخ والا جانور جائز نہیں۔ اسی طرح دودھ والے اور حاملہ جانور سے بھی منع کیا گیا۔ یہ امر بھی مد نظر رہے کہ اونٹ کی عمر کم سے کم تین سال، گائے دو سال، بھیڑ،بکری ایک سال اور دنبہ چھ ماہ کا بھی جائز ہے اگر موٹا تازہ ہو۔ شریعت کی رو سے اونٹ میں دس حصے ،گائے میں سات حصے جبکہ بکری ،دنبہ وغیرہ ایک شخص یا گھر کی طرف سے ہوتا ہے۔

شریعت نے قربانی کے گوشت کے بہتر سے بہتر استعمال کے لئے حکم دیا ہے کہ خود بھی کھاؤ۔عزیزوں اور رشتہ داروں کو دو۔پڑوسیوں کو ہدیہ بھجواؤ۔ محلہ کے غریب اور مفلس لوگوں میں تقسیم کرو تا کہ ’’فَکُلُوْا مِنْھَا وَاَطعمِوْاالقَانِعَ وَالْمُعْتَر‘‘ پر عمل ہو۔ آنحضور ﷺ نے عید کے تین دنوں کو ’’ایام التشریق‘‘ قرار دیا ہے جن کے متعلق فرمایا یہ کھانے پینے اور اللہ کا ذکر کرنے کے دن ہیں۔

شریعت نے اس بات کی بھی قربانی کرنے والے کو تحریک کی ہے کہ وہ حتی الوسع کوشش کرے کہ جانور کو خود تیز چھری سے ذبح کرے یا کم از کم قربانی کو اپنے سامنے ذبح کروائے تا کہ اس میں جانی قربانی کے نظارے دیکھنے کی جرأت پیدا ہو۔اس میں یہ سبق دینا مقصود ہے کہ جس طرح جانور انسان کے قبضہ قدرت میں ہوتے ہیں اور وہ انسان کے لئے قربان ہورہے ہوتے ہیں اسی طرح وہ انسان بھی کسی کے قبضہ قدرت میں ہے اسے بھی جانور کی طرح ہر وقت خدا کی خاطر جب بھی قربانی کی ضرورت پڑے تیار رہنا چاہئے۔

قربانی کے بارہ میں ایک اہم قرآنی حکم یہ ہے کہ قربانی میں تقویٰ بنیادی چیز ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اے مومنو! جانوروں کا گوشت اور خون خدا تک نہیں پہنچتا بلکہ دلوں کا تقویٰ ہے جو خدا تک پہنچتا ہے گویا کہ انسان اپنی نیت کے مطابق قربانی کا اجر پاتا ہے۔

حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے قربانی کا فلسفہ یوں بیان فرمایا ہے:
اِنَّ الضَّحَا یَا ھِیَ الْمَطَایَا تُوْصِلُ اِلَی رَبِّ الْبَرَایَا وَتُمْحُو الْخَطَایَا وَتَدْفَعُ الْبَلَایَا (خطبہ الہامیہ، روحانی خزائن جلد16صفحہ45)

ترجمہ:یقیناً قربانیاں وہی سواریاں ہیں کہ جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہیں اور خطاؤں کو محو کرتی ہیں اور بلاؤں کو دور کرتی ہیں۔

اگر محض دکھاوے کی قربانی ہے تو پھر وہ مقصد حاصل نہیں ہوسکتا جو قرآن اور احادیث میں بیان ہوا ہے۔

عید کے مسائل

آخر میں ایسے مسائل بیان کرنے ضروری معلوم ہوتے ہیں جن کا عید کے روز خیال رکھا جانا بہت ضروری ہے۔ یہ سنت نبوی ہے۔

1۔عید کے روز صبح سویرے اٹھنا، غسل کرنا، حسب توفیق عمدہ لباس پہننا، آرائش کرنا، خوشبو لگانا، مسواک کرنا،عید گاہ میں جانا، نماز شہر سے باہر ادا کرنا وغیرہ مسنون ہے۔
2۔حضرت ابوہریرہ ؓسے مروی ہے کہ آنحضرتﷺنماز عید کے لئے ایک راستہ سے جاتے اور دوسرے راستہ سے واپس تشریف لایا کرتے تھے۔ (مشکوٰۃ)
3۔نماز عید کے لئے جاتے اور واپس آتے ہوئے یہ تکبیر کہنا چاہئے۔

اَللّٰہُ اَکْبَرُ۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ۔لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَ اَللّٰہُ اَکْبَرُ ۔ اَللّٰہُ اَکْبَرُ وَللِّٰہِ الْحَمْد

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ
’’رسول کریم ؐ سے ثابت ہے کہ آپ ان دنوں میں تیسرے دن تک تکبیر و تحمید کہا کرتے تھے اور اس کے مختصر کلمات ہیں اصل غرض تکبیر وتحمید ہے خواہ کسی طرح ہو اور اس کے متعلق دستور تھا کہ جب مسلمانوں کی جماعتیں ایک دوسرے سے ملتی تھیں تو تکبیریں کہتیں تھیں مسلمان جب ایک دوسرے کو دیکھتے تو تکبیر کہتے ۔ اٹھتے بیٹھتے تکبیر کہتے ۔ کام میں لگے تو تکبیر کہتے ۔ لیکن ہمارے ملک میں جو یہ رائج ہے کہ محض نماز کے بعد کہتے ہیں اس خاص صورت میں کوئی ثابت نہیں۔‘‘ (الفضل 17۔اگست 1922ء)
4۔تمام عورتوں کو عید گاہ میں جانا اور نماز میں شریک ہونا چاہئے البتہ جو حائضہ ہوں وہ نماز میں شریک نہ ہوں۔حضرت ام عطیہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ عیدین میں پردہ نشین عورتوں کو بھی عید گاہ میں لے جائیں۔مگر حائضہ عورتیں نماز پڑھنے والیوں سے الگ ایک طرف بیٹھ کر شریک دعا ہوں۔ایک عورت نے پوچھا کہ یارسول اللہ!اگر کسی کے پاس اوڑھنے کا کپڑا نہ ہو وہ کیا کرے۔آپؐ نے فرمایا کہ دوسری عورت اپنی چادر میں اس کو شریک کر لے۔ (مسند ابی حنیفہ)
5۔یہ امر بھی مسنون ہے کہ عید الفطر میں جانے سے قبل کچھ نہ کچھ کھا لیا جائے لیکن عیدالاضحی میں نماز عید سے قبل کچھ نہ کھایا جائے۔چنانچہ حضرت بریدہؓ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺعید الفطر میں کچھ کھائے بغیر نہ جاتے لیکن عیدالاضحی میں جب تک نماز نہ پڑھ لیتے کچھ تناول نہ فرماتے یعنی ناشتہ تک نہ فرماتے۔ (بلوغ المرام صلوٰۃ العیدین)
6۔عید الفطر کی نماز کا وقت وہ ہے جب سورج دو نیزہ کے برابر چڑھ آئے اورعیدا لاضحی کا وقت ایک نیزہ کے برابر سورج بلند ہونے پر ہے۔
7۔عید کی نماز شہر سے باہر ہونی چاہئے۔ہاں اگر بارش وغیرہ کا عذر ہو تو یومیہ نمازوں کے مرکز میں بھی عید ادا ہوسکتی ہے۔
8۔نماز عید کا طریق یہ ہے کہ دو رکعت نماز اس طرح باجماعت پڑھی جائے کہ جب امام تکبیر تحریمہ کہے تواس کے بعد ثناپڑھے پھر پہلی رکعت میں قرأت سے قبل سات تکبیریں کہے۔ہر ایک تکبیر کے ساتھ ہاتھ اُٹھائے جائیں جیسے نماز شروع کرتے وقت اٹھائے جاتے ہیں۔ مگر فرق یہ ہے کہ اول تکبیرمیں تو تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ لئے جاتے ہیں مگر ان تکبیروں میں ہاتھ اٹھانے کے بعد کھلے چھوڑے جاتے ہیں اور آخری تکبیر کے بعد ہاتھ باندھ کر قرآت یعنی الحمدشریف اور کوئی سورۃ بلند آواز سے پڑھی جاتی ہے۔دوسری رکعت میں قرأت شروع کرنے سے پہلے پانچ تکبیریں اسی طرح کہی جائیں اس طرح دو رکعت نماز پوری کرکے نماز کی طرح التحیات میں بیٹھ کر درود شریف وغیرہ پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے۔
9۔یہ امر بھی مسنون ہے کہ عیدین کی پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعدسورۃ اعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورۃ الغاشیہ یا سورۃ ق اورسورۃ القمر پڑھی جائے۔
10۔نماز عید پڑھنے کے بعد امام خطبہ پڑھے جس میں وعظ و نصیحت کی جائے۔یہ خطبہ عید بھی جمعہ کی طرح ہونا چاہئے۔یعنی اس میں بھی ایک دفعہ بیٹھ کر پھر دوسرا خطبہ پڑھا جائے۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 جولائی 2020

اگلا پڑھیں

Covid-19 عالمی اپڈیٹ 25 جولائی 2020ء