• 25 اکتوبر, 2020

أَلَيْسَ اللّٰهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ

’’جب مجھے یہ خبر دی گئی کہ میرے والد صاحب آفتاب غروب ہونے کے بعد فوت ہوجائیں گے تو بموجب مقتضائے بشریت کہ مجھے اس خبر کے سننے سے درد پہنچا اور چونکہ ہماری معاش کے اکثر وجوہ انہیں کی زندگی سے وابستہ تھے …… اس لئے یہ خیال گزرا کہ ان کی وفات کے بعد کیا ہوگا۔ اورد ل میں خوف پیدا ہوا کہ شاید تنگی اور تکلیف کے دن ہم پر آئیں گے اور یہ سارا خیال بجلی کی چمک کی طرح ایک سیکنڈ سے بھی کم عرصہ میں دل میں گزر گیا تب اسی وقت غنودگی ہو کریہ دوسرا الہام ہوا ’’اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ‘‘ یعنی کیا خدا اپنے بندہ کے لئے کافی نہیں ہے۔ اس الہام الٰہی کے ساتھ دل ایسا قوی ہوگیا کہ جیسے ایک سخت دردناک زخم کسی مرہم سے ایک دم میں اچھا ہو جاتاہے …… مَیں نے اسی وقت سمجھ لیا کہ خدا مجھے ضائع نہیں کرے گا۔ تب مَیں نے ایک ہندو کھتری ملاوامل نام کوجو ساکن قادیان ہے اور ابھی تک زندہ ہے وہ الہام لکھ کردیا اور سارا قصہ اس کو سنایا اور اس کو امرتسر بھیجا کہ تا حکیم مولوی محمد شریف کلانوری کی معرفت اس کو کسی نگینہ میں کھدوا کر اور مُہر بنواکر لے آوے اور مَیں نے اس ہندو کو اس کام کے لئے اس غرض سے اختیار کیا کہ تا وہ اس عظیم الشان پیشگوئی کا گواہ ہو جائے اور تا مولوی محمد شریف بھی گواہ ہو جاوے۔ چنانچہ مولوی صاحب موصوف کے ذریعہ سے وہ انگشتری بصرف… مبلغ پانچ روپیہ تیار ہو کر میرے پاس پہنچ گئی جو اب تک میرے پا س موجود ہے جس کا نشان یہ ہے اُس زمانہ میں الہام ہوا تھا جبکہ ہماری معاش اور آرام کا تمام مدار ہمارے والد صاحب کی محض ایک مختصر آمدنی پر منحصر تھا۔ اور بیرونی لوگوں میں سے ایک شخص بھی مجھے نہیں جانتا تھا۔ اور مَیں ایک گمنام انسان تھا جو قادیان جیسے ویران گاؤں میں زاویہ گمنامی میں پڑا ہوا تھا اور پھر بعد اس کے خدا نے اپنی پیشگوئی کے موافق ایک دنیا کو میری طرف رجوع دے دیا اور ایسی متواتر فتوحات سے مالی مدد کی کہ جس کا شکریہ بیان کرنے کے لئے میرے پا س الفاظ نہیں ۔ مجھے اپنی حالت پر خیال کر کے اس قدر بھی امید نہ تھی کہ دس روپیہ ماہوار بھی آئیں گے مگر خدا تعالیٰ جو غریبوں کو خاک میں سے اٹھاتا اور متکبروں کو خاک میں ملاتا ہے اسی نے ایسی میری دستگیری کی کہ مَیں یقینا کہہ سکتاہوں کہ اب تک تین لاکھ کے قریب روپیہ آ چکاہے اور شاید اس سے زیادہ ہو….اور اس آمدنی کو اس سے خیال کر لینا چاہئے کہ سالہال سال سے صرف لنگر خانہ کا ڈیڑھ ہزار روپیہ ماہوار تک خرچ ہو جاتاہے۔’’ .. ‘‘صرف لنگر خانہ کا ڈیڑھ ہزار روپیہ ماہوار تک خرچ ہو جاتاہے۔ یعنی اوسط کے حساب سے اور دوسری شاخیں مصارف کی یعنی مدرسہ وغیرہ اور کتابوں کی چھپوائی اس سے الگ ہے۔ پس دیکھنا چاہئے کہ یہ پیشگوئی یعنی ’’اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ‘‘ کس صفائی اور کس قوت اور شان سے پوری ہوئی۔ کیایہ کسی مفتری کا کام ہے یا شیطانی وساوس ہیں ۔ہرگز نہیں ۔ بلکہ یہ اس خدا کا کام ہے جس کے ہاتھ میں عزت اور ذلت اور ادبار اور اقبال ہے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی۔ روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ۲۱۹ تا ۲۲۱)

پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے مولا کے حضور عرض کرتے ہیں کہ :
’’اے میرے رب !مَیں نے تجھے اختیار کیاہے پس توُ بھی مجھے اختیار کر اور میرے دل کی طرف نظر کر اور میرے قریب آ جا کہ توُ بھیدوں کا جاننے والا ہے اور ہر اُس چیز سے خوب باخبر ہے جو غیروں سے چھپائی جاتی ہے۔ اے میرے رب! اگر توُ جانتاہے کہ میرے دشمن سچے اور مخلص ہیں تو مجھے اس طرح ہلاک کر ڈال جیسے سخت جھوٹے ہلا ک کئے جاتے ہیں ۔ اور اگر توُ جانتا ہے کہ مَیں تجھ سے ہوں اور تیری طرف سے بھیجا گیا ہوں تو توُمیری مددکر،توُمیری مدد کے لئے کھڑا ہوکہ مَیں تیری مدد کا محتاج ہوں’’۔

(اعجاز المسیح،روحانی خزائن جلد ۱۸۔ صفحہ ر۲۰۳۔۲۰۴)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 ستمبر 2020