• 24 اکتوبر, 2020

آج مسلمان بہت سے احکامات کی طرح اس حکم کو بھی بھلا بیٹھے ہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
لیکن افسوس ہے کہ آج مسلمان بہت سے احکامات کی طرح اس حکم کو بھی بھلا بیٹھے ہیں اور یہی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں یا کر رہے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ باخبر نہیں ۔ ایسے لوگو ں کے نزدیک صرف ان کی مرضی کی تفسیر اور ان کی مرضی کے احکامات ہی احکامات کا درجہ رکھتے ہیں ۔ حضور رحمہ اللہ کی وفات پر پاکستان میں بعض اخبارات نے جس گندہ دہنی اورضلالت کی مثال قائم کی ہے اس پر سوائے اِنَّا لِلّٰہ پڑھنے کے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بہرحال پیشگوئیوں کے مطابق یہ ہونا تھا اورہمارے ایمانوں کو مزید تقویت ملتی ہے کہ خبیر خدا نے ان حالات کے بارے میں پہلے ہی آنحضرت ﷺکو اس کی خبر دے دی تھی۔اور آج ہم اپنی آنکھوں کے سامنے انہیں پورا ہوتے دیکھتے ہیں ۔آنحضرت ﷺ نے اس زمانہ میں مسلمانوں کے تغیر کے بارہ میں جو پیش خبریاں فرمائی تھیں اس میں سے ایک کا مختصر ذکر حضرت مصلح موعودؓ کے الفاظ میں یہاں بیان کرتا ہوں ۔آپ فرماتے ہیں کہ ایک تغیر مسلمانوں میں آپ ﷺنے یہ بیان فرمایاکہ لوگ زکوٰۃ کو تاوان سمجھیں گے۔ یہ بھی حضرت علی ؓ سے البزار نے نقل کیا ہے۔ چنانچہ اس وقت جب کہ مسلمانوں پر چاروں طرف سے آفات نازل ہو رہی ہیں اور زکوٰۃ کے علاوہ بھی جس قدر صدقات و خیرات وہ دیں،کم ہیں۔ اکثر مسلمان زکوٰۃ کی ادائیگی سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے جی چراتے ہیں اور جہاں اسلامی احکام کے ماتحت زکوٰۃ لی جاتی ہے وہاں تو بادل نا خواستہ کچھ ادا بھی کر دیتے ہیں مگرجہاں یہ انتظام نہیں وہاں سوائے شاذونادر کے بہت لوگ زکوٰۃ نہیں دیتے اور جو اقوام زکوٰۃ دیتی بھی ہیں وہ اسے نمود کا ذریعہ بنا لیتی ہیں اور اس رنگ میں دیتی ہیں کہ دوسرا اسے زکوٰۃ نہیں خیال کرتا بلکہ قومی کاموں کے لئے چندہ سمجھتا ہے۔

پاکستان میں جب سے اسلامی قوانین کا زیادہ نفاذ شروع ہواہے زکوٰۃ کو بھی لازمی قرار دیا گیا تو یہ حالت ہے کہ احمدی غیر مسلم، لیکن بعض لوگ اپنی زکوٰۃ بچانے کے لئے بنکوں میں اپنے آپ کو احمدی ظاہر کر دیتے ہیں۔ یا رقمیں جمع ہیں سال ختم ہونے سے دو دن پہلے رقم نکلوا لی تاکہ اس پرزکوٰۃ نہ ادا کرنی پڑے اور جو کرتے ہیں وہ بھی حضرت مصلح موعودؑنے جس طرح فرمایا، نام و نمود کی خاطر۔ پھر کیونکہ برکت نہیں ہے، نظام نہیں ہے اخباروں میں زکوٰۃ کی تقسیم کی خبریں آتی ہیں تو یوں لگتاہے جیسے پتہ نہیں کیا شور پڑ گیاہے اور بعض دفعہ یہ زکوٰۃ کمیٹیاں جو قائم ہیں اخباروں کی خبروں کی مطابق ہی آپس میں دست و گریبان ہو رہی ہوتی ہیں ۔ضمنا ًایک واقعہ یاد آگیا۔جب میں گھانا میں تھا تووہاں بعض غیر احمد ی شرفاء اپنی زکوٰۃ ہمارے پاس لے آتے تھے کہ ہم جماعت احمدیہ کو یہ دیتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہے کہ جماعت جہاں خرچ کرے گی توصحیح مقصد کے لئے خرچ کرے گی۔اور یہی ہماری زکوٰۃ کا مقصد ہوگا جو پورا ہو جائے گا ۔اگر ہم نے اپنے علماء کو دی توکوئی پتہ نہیں کیا ہو۔کیونکہ جب ان کود ی جاتی ہے تو وہاں ان کے اپنے مسائل اور بندر بانٹ شروع ہو جاتی ہے۔

(خطبہ جمعہ 9؍ مئی 2003ء)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 ستمبر 2020