• 25 اکتوبر, 2020

جو شخص سننے کے بعد وصیت کو بدل ڈالے …

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

فَمَنۡۢ بَدَّلَہٗ بَعۡدَ مَا سَمِعَہٗ فَاِنَّمَاۤ اِثۡمُہٗ عَلَی الَّذِیۡنَ یُبَدِّلُوۡنَہٗ ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌ عَلِیۡمٌ

(سورۃ البقرہ :۱۸۲)

پس جو اُسے اُس کے سُن لینے کے بعد تبدیل کرے تو اس کا گناہ ان ہی پر ہو گا جو اسے تبدیل کرتے ہیں ۔ یقینا اللہ بہت سننے والا (اور) دائمی علم رکھنے والا ہے۔

اس آیت میں وصیت کا مضمون بیان کیا گیاہے۔ اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :-
’’اگر کوئی شخص وصیت کرے اور بعد میں کوئی دوسرا شخص اس میں تغیر و تبدل کر دے تو اس صورت میں تمام تر گناہ اس شخص کی گردن پر ہے جس نے وصیت میں ترمیم و تنسیخ کی۔ یہ تغیر دو صور توں میں ہو سکتا ہے۔ ایک تو یہ کہ لکھانے والا تو کچھ اورلکھائے مگر لکھنے والا شرارت سے کچھ اور لکھ دے۔ یعنی لکھوانے والے کی موجودگی میں ہی اُس کے سامنے تغیر و تبدل کردے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ وصیت کرنے والے کی وفات کے بعد اُس میں تغیر وتبدل کر دے۔ یعنی وصیت میں جو کچھ کہا گیا ہو اس کے مطابق عمل نہ کرے بلکہ اُس کے خلاف چلے۔ اِن دونوں صورتوں میں اس گناہ کا وبال صرف اُسی پر ہوگا جو اُسے بدل دے۔ (اِثْمُہٗ میں سبب مُسبّب کی جگہ استعمال کیا گیا ہے اور مراد گناہ نہیں بلکہ گناہ کا وبال ہے)۔ یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ اس میں کسی قرآنی حکم کی طرف اشارہ ہے اور وہ حکم وراثت کا ہی ہے۔ ورنہ اس کا کیا مطلب کہ بدلنے کا گناہ بدلنے والوں پر ہوگا، وصیت کرنے والے پر نہیں ہوگا۔ کیونکہ اگر اس وصیت کی تفصیلات شرعی نہیں تو بدلنے والے کو گناہ کیوں ہو۔ اُس کے گناہ گار ہونے کا سوال تبھی ہو سکتا ہے جبکہ کسی شرعی حکم کی خلاف ورزی ہورہی ہو، اور وہ اسی طرح ہوسکتی ہے کہ مرنے والا تو یہ وصیت کرجائے کہ میری جائیداد احکام اسلام کے مطابق تقسیم کی جائے لیکن وارث اس کی وصیت پر عمل نہ کریں ۔ ایسی صورت میں وصیت کرنے والا تو گناہ سے بچ جائے گا لیکن وصیت تبدیل کرنے والے وارث گناہ گار قرار پائیں گے۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد دوم۔ صفحہ ۳۶۸)

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ اس ضمن میں فرماتے ہیں :
’’اِنَّ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْم: فرماتا ہے کہ ہم علیم خدا ہیں ۔ سمجھ بوجھ کر حصص مقرر کئے ہیں اور وصیتوں کے بدلانے کو بھی سنتے ہیں ۔ چنانچہ فرماتا ہے وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا (النساء: ۱۵)۔ فَمَنْ بَدَّلَہٗ: اب سن لو کہ کیا کچھ تبدیل کیا گیا ہے۔ سب سے اوّل تو یہ کہ لڑکیوں کو ورثہ نہیں دیا جاتا۔ خدا تعالیٰ نے عورت کو بھی حرث فرمایا ہے اور زمین کو بھی۔ ایسا ہی زمین کو بھی ارضؔ فرماتا ہے اور عورتوں کو بھی۔ فَاِنَّمَا اِثْمُہٗ: چنانچہ اس کا نتیجہ دیکھ لو کہ جب سے ان لوگوں نے لڑکیوں کا ورثہ دینا چھوڑا ہے، ان کی زمینیں ہندوؤں کی ہوگئی ہیں۔ جو ایک وقت سو گھماؤں زمین کے مالک تھے اب دو بیگھہ کے بھی نہیں رہے۔ یہ اس لئے کہ صریحاً النساء آیت ۱۵ میں فرمایا ولہ عذابٌ مھینٌ اس سے زیادہ اور کیا ذلت ہوگی۔ عورتوں پر جو ظلم ہو رہا ہے، وہ بہت بڑھ گیا ہے۔ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: وَلَا تُمْسِکُوْھُنَّ ضِرَارًا (البقرۃ:۲۳۲)۔ دوسرا وَعَاشِرُوْا ھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (النساء:۲۰)۔ تیسرا وَلَا تُضَارُّوْھُنَّ (الطلاق:۷) چوتھا فَاِنْ کَرِھْتُمُوْھُنَّ (النساء:۲۰)۔ پنجم وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ (البقرۃ:۲۲۹)۔ باوجود اس کے وراثت (یعنی ورثہ نہ دینے کا) کا ظلم بہت بڑھ رہا ہے۔ پھر دوسرا یہ کہ بعض ظالم عورت کو نہ رکھتے ہیں نہ طلاق دیتے ہیں۔‘‘

(حقائق الفرقان جلد ۱ صفحہ ۳۰۰)

اس آیت کی تفسیر میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :
’’جو شخص سننے کے بعد وصیت کو بدل ڈالے تو یہ گناہ اُن لوگوں پر ہے جو جرم تبدیل وصیت کے عمداً مرتکب ہوں۔ تحقیق اللہ سنتا اور جانتا ہے یعنی ایسے مشورے اُس پر مخفی نہیں رہ سکتے اور یہ نہیں کہ اُس کا علم ان باتوں کے جاننے سے قاصر ہے۔‘‘

(چشمہ معرفت۔روحانی خزائن جلد ۲۳ ص ۲۱۰)

جیسا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے فرمایاکہ لوگ عورتوں کے حقوق ادا نہیں کرتے، وارثت کے حقوق۔ اور ان کا شرعی حصہ نہیں دیتے اب بھی یہ بات سامنے آتی ہے برصغیر میں اور جگہوں پر بھی ہوگی کہ عورتوں کو ان کا شرعی حصہ نہیں دیا جاتا۔ وراثث میں ان کو جو ان کا حق بنتاہے نہیں ملتا۔ اور یہ بات نظام کے سامنے تب آتی ہے جب بعض عورتیں وصیت کرتی ہیں تو لکھ دیتی ہیں مجھے وراثت میں اتنی جائیداد تو ملی تھی لیکن مَیں نے اپنے بھائی کو یا بھائیوں کو دے دی اور ا س وقت میرے پاس کچھ نہیں ہے۔ اب اگر آپ گہرائی میں جا کر دیکھیں ،جب بھی جائزہ لیا گیا تو پتہ یہی لگتاہے کہ بھائی نے یا بھائیوں نے حصہ نہیں دیا اور اپنی عزت کی خاطر یہ بیان دے د یا کہ ہم نے دے دی ہے۔یا کبھی ایسا بھی ہو جاتاہے کہ بھائی یادوسرے ورثاء بالکل معمولی سی رقم اس کے بدلہ میں دے دیتے ہیں حالانکہ اصل جائیداد کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ تو ایک تو یہ ہے کہ وصیت کرنے والے، نظام وصیت میں شامل ہونے والے، ان سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تقویٰ کے اعلیٰ معیار کی امید رکھی ہے اس لئے ان کو ہمیشہ قول سدید سے کام لینا چاہئے اور حقیقت بیان کرنی چاہئے کیونکہ جو نظام وصیت میں شامل ہیں تقویٰ کے اعلیٰ معیار اور شریعت کے احکام کوقائم کرنے کی ذمہ داری ان پر دوسروں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ اس لئے جو بھی حقیقت ہے، قطع نظر اس کے کہ آپ کے بھائی پر کوئی حرف آتاہے یا ناراضگی ہو یا نہ ہو، حقیقت حال جو ہے وہ بہرحال واضح کرنی چاہئے۔تا کہ ایک تو یہ کہ کسی کا حق مارا گیا ہے تو نظام حرکت میں آئے اور ان کو حق دلوایا جائے۔ دوسرے ایک چیز جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دی ہے شریعت کی رو سے اس سے وہ اپنے آپ کو کیوں محروم کررہی ہیں ۔اور صرف یہی نہیں کہ اپنے آپ کو محروم کررہی ہیں بلکہ وصیت کے نظام میں شامل ہو کے جو ان کا ایک حصہ ہے اس سے خداتعالیٰ کے لئے جو دینا چاہتی ہیں اس سے بھی غلط بیانی سے کام لے کے وہاں بھی صحیح طرح ادائیگی نہیں کر رہیں ۔تو اس لئے یہ بہت احتیاط سے چلنے والی بات ہے۔وصیت کرتے وقت سوچ سمجھ کر یہ ساری باتیں واضح طورپر لکھ کے دینی چاہئیں ۔

(خطبہ جمعہ 13؍ جون 2003ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 ستمبر 2020