• 25 اکتوبر, 2020

آدمی کا سکوں خود کی جستجو ٹھہرا

کبھی تو وصل کبھی ہجر رو برو ٹھہرا
پر عشق دونوں زمانوں میں سرخرو ٹھہرا

محبتوں کا شجر ایسا باثمر نکلا
بہار میں بھی خزاں میں بھی خوبرو ٹھہرا

نہ آب گینوں میں پایا نہ ناز نینوں میں
بس آدمی کا سکوں خود کی جستجو ٹھہرا

رہینِ لفظ نہیں ہے وہ شاعرِ کم گو
کہ جس کا مشغلہ جذبوں سے گفتگو ٹھہرا

ظفر نے جب بھی پڑھا اپنے دل کے نقشے کو
وہ ذرّہ ذرّہِ عالم سا ہو بہو ٹھہرا

(مربی مقبول احمد ظفر مرحوم)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 ستمبر 2020