• 25 اکتوبر, 2020

سیدنا حضرت مسیح موعودعلیہ الصلاۃ والسلام کی دعوی سے پہلی پاکیزہ زندگی کی چندجھلکیاں

دوستو، عزیزو، دانشورو، ادیبو اور مفکرو۔ جب ہمارے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دعوی نبوت کیا تو وہ سب لوگ جوپہلے آپ کو صادق وامین کہتے تھے آپ کو مختلف ناموں سے پکارنے لگے۔ اس پر اللہ تعالی نے اپنے محبوب سے فرمایا کہ انہیں کہہ دے۔

فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِنْ قَبْلِهِ أَفَلَا تَعْقِلُونَ

(يونس 17)

میں نے تمہا رے اندرعمر کا ایک حصہ گذاراہے۔ کیا پھر بھی تم عقل نہیں کرتے۔

مولانا محمود الحسن صاحب کے ترجمۃ القرآن کے حاشیہ میں لکھا ہے۔

آخر میری عمر کے چالیس سال تمہاری آنکھوں کے سامنے گذرے۔ اس قدر طویل مدت میں تم کو میرے حالات کے متعلق ہر قسم کا تجربہ ہو چکا۔ میرا صدق وعفاف ،امانت ودیانت وغیرہ اخلاق حسنہ تم میں ضرب المثل ہے۔تم کو سوچنا چاہئے کہ جس پاک سرشت انسان نے چالیس برس تک کسی انسان پر جھوٹ نہ لگایا ہو کیا وہ ایک دم ایسی جسارت کر سکتاہے کہ معاذاللہ خداوندقدوس پر جھوٹ باندہنے اور افتراء کرنے لگے۔

فروری ۱۸۳۵ کا دن وہ تاریخی اور یادگار دن ہے جس دن سورہ جمعہ میں واقعہ پیش گوئی ۔۔۔ وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ۔۔۔ جس کی شرح سرورکائنات حضرت محمد مصطفی ٰصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ پراپنا ہاتھ رکھ کر یوں فرمائی کہ جب ایمان ثریا ستارے پر پہنچ جائے گا تو اس کی نسل میں سے ایک یا ایک سے زائد افراداسے واپس لائیں گے۔اسی فردکوبزرگان امت نے۔۔۔۔ نسخۃ منسخۃ منہ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل عکس قراردیا ہے۔ [الخیرالکثیر ص۷۲] نیزان باطنہ باطن محمد کہ اس کا باطن محمد کا باطن ہے [فصوص الحکم ص ۵۱،۵۳] کے مطابق وہ عظیم الشان انسان پیداہوا۔جس کےہاتھوں میں انقلاب کے تارالجھے ہوئے تھے اور جس کے ذریعے لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ کے مطابق تمام دوسرے ادیان پر غلبہء اسلام مقدر تھا۔ میری مراد سیدنا و امامنا و مرشدنا حضرت مرزاغلام احمد قادیانی علیہ الصلاۃ والسلام کے وجود باجود سے ہے۔جنہیں اللہ تعالی نےاپنے ہاتھوں پروان چڑھایا، خود تربیت کی اور محض اپنے فضل وکرم سے صراط مستقیم پرگامزن کیا۔

پاکیزہ بچپن

سیدنا حضرت مسیح معودعلیہ السلام کے بچپن کےحالات کا جب ہم مطالعہ کرتے ہیں توہمیں معلوم ہوتاہے کہ آپ کا بچپن انتہای مقدس، معصوم، پاکیزہ، اور مطہر تھا۔ ایام طفولیت سے ہی آپ کی طبیعت دینی امور کی طرف راغب تھی۔بچپن میں ہی ساتھیوں سے کہا کرتے کہ دعا کریں خدا نماز نصیب کرے ۔آپ کے ایک استاد مولوی گل علی شاہ صاحب سکنہ بٹالہ آپ کے بچپن کے بارہ میں بتاتے ہیں

مرزا صاحب مطالعہ میں ہی مصروف رہتے اور بچوں کے ساتھ کھلنے کودنےکا آپ کو کوئی شوق نہ تھا۔ ان ایام میں عام طورپرکشتی، کبڈی اور مگدراورموگری اٹھانے کے کھیل مروج تھے۔ اور اس کے ساتھ ساتھ بٹیربازی،مرغ بازی بھی کثرت سے تھی مگر مرزا صاحب بالطبع ان کھیلوں سے متنفر۔ اور کوئی شخص بیان نہیں کرتاکہ اس نے کبھی ان لڑکوں میں کھیلتے ہوئےیا کسی کے ساتھ لڑتے جھگڑتے کبھی دیکھا ہو۔ مرزا صاحب کی مرغوب خاطراگرکوئی چیزتھی تو وہ مسجد اور قرآن شریف۔

(حیات احمد جلد 1 از حضرت یعقوب علی عرفانی)

مکرم منشی عبدالواحد صاحب جوبٹالہ میں تحصیلدار تھےقادیان دارالایمان میں سیدنا حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے والد محترم حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب سے ملنے جایا کرتے تھے اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عمرمبارک چودہ۔ پندرہ سال تھی۔ وہ بیان کرتے ہیں۔ حضرت صاحب اس عمر میں سارا دن قرآن شریف پڑھتے تھے اور حاشیہ پر نوٹ لکھتے رہتے تھے اور مرزا غلام مرتضی صاحب فرماتےکہ یہ کسی سے غرض نہیں رکھتا۔ سارا دن مسجد میں رہتا ہے اورقرآن شریف پڑہتا رہتا ہے۔

مکرم منشی عبدالواحد صاحب قادیان بہت دفعہ جاتے اور ان کا بیان تھاکہ حضرت صاحب کو ہمیشہ قرآن شریف پڑہتے دیکھا ہے۔

(اصحاب احمد۔جلد4ص133)

حضرت پیرسراج الحق صاحب نعمانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
قادیان سے دوکوس دورواقع گاؤں کے ایک ضعیف العمر نمبردار ہندو جاٹ اور میاں جان محمد اور گلاب نجاریہ اور دوسرے بہت سے لوگوں کا متفقہ بیان ہے کہ
مرزا غلام احمداپنے بچپن کے زمانہ سے اب تک جوچالیس سال سے زیادہ ہوں گے نیک بخت اورصالح تھے اکثرگوشہ نشین رہتے تھے۔سوائے یاد الہی اورکتب بینی کے آپ کو کسی سے کوئی کام نہ تھا۔۔۔اپنے والدین کے دنیاوی معاملات وامورمیں فرمانبردار اوران کے ادب اور احترام میں فرو گذاشت نہیں کرتے تھے۔بچپن میں جو کبھی بچوں میں کھیلتے تو کوئی شرارت یا جھوٹ یافریب نہ کرتے نہ مار پیٹ اور شور کرتے۔ہاں کئی بار ایسا ہوا کہ کسی لڑکے کی بھوک محسوس کرتے تو والدہ سے روٹی لا کر دے دیتے۔۔۔جب سے اس نے ہوش سنبھالا ہےبڑا ہی نیک رہا۔ دنیا کے کسی کام میں نہیں لگا بچوں کی طرح کھیل کود میں مشغول نہیں ہوا ۔ شرارت، فساد، جھوٹ، گالی اس میں نہیں۔ ۔۔۔۔نمبردارصاحب مزیدکہتے ہیں کہ
میں نے بچپن سے مرزا غلام احمد (علیہ السلام) کودیکھا ہے میں اور وہ ہم عمر ہیں اور قادیان میرا آنا جانا ہمیشہ رہتا ہے اور اب بھی دیکھتا ہوں جیسی عمدہ عادات اب ہیں ایسی نیک خصلتیں اور عادات پہلے تھیں۔اب بھی وہی ہیں۔سچا،امانتداراورنیک۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ پرمیشور مرزاصاحب کی شکل اختیار کرکے زمین پر اتر آیاہے۔اور پرمیشراپنے جلوے آپ دکھارہاہے اگر ایسے ہی لوگوں میں پر میشوراوتار نہ لے تو پھر کس میں اپنا روپ دھارکراپنے آپ کو ظاہر کرے۔

(تذکرۃالمہدی۔ص۔298 تا 303)

ملک غلام محمد صاحب نے بیان کیا کہ میں نے سید محمد علی شاہ صاحب(جوکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہم جولی اوربچپن کے ساتھی تھے) سے اس میعار کے پیش نظر کہ انبیاء علیہ السلام کی پہلی زندگی ہر قسم کے عیبوں سے پاک اور معصومانہ ہوتی ہے۔ عام طور پرحضورؑکی نسبت دریافت کرتا تھا۔ان کی زبانی جو باتیں مجھے معلوم ہیں وہ حسب ذیل ہیں ۔سید محمد علی کہا کرتے تھے کہ مرزا صاحب بچپن سے پاک صاف اورنیک ہیں۔ ان کی زندگی کی نسبت کوئی کسی قسم کا شبہ نہیں کر سکتا اور ان کے والد صاحب ان کواکثر مسیتڑ کہا کرتے تھے۔

(سیرۃ المہدی ج۔۱ ص۔۱65)

اسی طرح ملک غلام محمد صاحب ہی بیان کرتے ہیں کہ ایک بابا جو سید محمد علی صاحب کا نائی تھا اور بوڑھا آدمی تھا اس سے بھی میں حضرت صاحب کی نسبت دریافت کیا کرتا تھا۔اس نے ہمیشہ یہی ظاہر کیا کہ آپ بچپن سے نیک اور شریف تھے۔

(سیرۃ المہدی جز۔۱ ص۔169)

پاکیزہ اور مطہر جوانی کی چند جھلکیاں

ام المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا،رسول اللہ ﷺ کے اعلی وافضل اورپاکیزہ صفات حسنہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتَحْمِلُ الكَلَّ، وَتَكْسِبُ المَعْدُومَ ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الحَقِّ

(بخاری۔باب بدء الوحی)

یعنی آپ رشتہ داروں کے ساتھ نیک سلوک کرتے ہیں اوربیکس اور بےمددگارلوگوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اوروہ اخلاق جو ملک سے مٹ چکے تھے وہ آپ کی ذات کے ذریعہ سےدوبارہ قائم ہو رہے ہیں۔ آپ مہمان نواز ہیں اورسچی مصیبتوں پرلوگوں کی مددکرتے ہیں، گویا یہ وہ اعلی درجہ کی خوبیاں تھیں جو ہمارے آقاومولی صلی اللہ علیہ وسلم میں دعوئی نبوت سے پہلے پائی جاتی تھیں۔سیدنا حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے جو واقعات میں بیان کرنے لگا ہوں ان واقعا ت آپ کو ہو بہ ہو وہی تصویر نظرآئے گی ۔کیونکہ ظل اپنےاصل سے کبھی جدا نہیں ہوتا۔

شاگرد نے جو پایا استاد کی دولت ہے
احمد کو محمد سے تم کیسے جدا سمجھے

لوگوں کوبچانے کی فکر

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک مکان کی دوسری منزل پرچوبارہ میں ٹہرے ہوئے تھے اسی کمرے میں سات،آٹھ اور آدمی بھی ٹھہرے ہوئے تھے ۔جب رات کا ایک حصہ گذرگیا تو حضورؑکوکچھ ٹک ٹک کی آواز آئی اور آپ کے دل میں خدشہ پیدا ہواکہ اس کمرے کی چھت گرنے والی ہے آپ نے اپنےایک ساتھی مسیتابیگ کو آواز دی کہ مجھے خدشہ ہے کہ چھت گرنے والی ہے اس نے کہا۔میاں یہ تمہارا وہم ہے نیا مکان بنا ہوا ہے اوربلکل نئی چھت ہے۔آرام سے سو جاو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے تھے۔میں پھرلیٹ گیا لیکن تھوڑی دیر بعد پھر وہی ڈرمیرے دل پرغالب ہوا ۔میں نے پھراپنے ساتھی کوجگایا مگراس نےپھر اسی قسم کا جواب دیا۔پھر ناچارلیٹ گیا ۔مگرپھرمیرے دل پرشدت کے ساتھ یہ خیال غالب ہوا اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا شہتیر ٹوٹنے والا ہے۔میں پھر گھبرا کراٹھا اوراس دفعہ سختی کے ساتھ اپنےساتھی کو کہا کہ میں جو کہتا ہوں کہ چھت گرنے والی ہے اٹھو۔تو تم اٹھتے کیوں نہیں۔اس پر ناچاروہ اٹھااورباقی لوگوں کوبھی ہم نے جگا دیا۔پھرمیں نے سب کو کہا کہ جلدی باہر نکل کرنیچےاترچلو۔دروازے کے ساتھ ہی سیڑھی تھی میں دروازے کھڑا ہو گیا۔وہ سب ایک ایک کر کےنکل کراترتے گئے۔جب سب نکل گئے تو حضرت صاحب فرماتے تھے کہ پھرمیں نے قدم اٹھایا۔ابھی میرا قدم شاید آدھاباہر اور آدھا دہلیزپرتھا کہ یک لخت چھت گر ی اور اس زور سے گری کہ نیچے کی چھت بھی ساتھ ہی گر گئ۔۔۔ہم نے دیکھا کہ جن چار پائیوں پرہم لیٹے ہوئے تھےوہ ریزہ ریزہ ہوگئیں۔

(سیرۃ المہدی ۔جز۔1 ص۔6،7)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام جن دنوں سیالکوٹ میں ملازم تھے تو جب آپ کوتنخواہ ملتی تو محض کھانے کا خرچ رکھ کرباقی سب محلہ کی بیوگان اور محتاجوں میں تقسیم کر دیتے ۔کپڑے بنوا دیتے یانقد دے دیتے تھے۔

(سیرۃ المہدی ج۔1 ص۔595)

محبت الہی

جیسا کہ اوپر ذکر ہوچکاہے کہ بچپن سے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ سے لو لگائے ہوئے تھے اور مسجد اور تلاوت قرآن مجید کے علاوہ آپ کا کوئی اور شغل نہ تھا جب آپ نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھا تو جس طرح والدین کو فکر ہوتا ہے کہ اب بچہ جوان ہوگیا ہے اسے کوئی کام کاج۔کوئی نوکری وغیرہ کرنی چاہیے آپ کے والد صاحب کوبھی فکر ہوئی ۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد فرماتے ہیں۔ایسے وقت میں حضرت مسیح موعود کے والد صاحب نےعلاقہ کے ایک سکھ زمیندارکے ذریعہ جوہمارے دادا صاحب سے ملنے آیاتھاحضرت مسیح موعود کو کہلا بھیجا کہ اس ساتھ میرے خاص تعلقات ہیں اس لیئے اگر تمہیں نوکری کی خواہش ہو تومیں اس افسر کو کہہ کرتمہیں اچھی ملازمت دلا سکتا ہوں۔یہ سکھ زمیندارحضرت مسیح موعود کی خدمت میں حاضرہوا اور ہمارے داداصاحب کاپیغام پہنچاکرتحریک کی کہ یہ ایک بہت عمدہ موقعہ ہے اسے ہاتھ سےجانے نہیں دینا چاہیے۔حضرت مسیح موعود نےاس کے جواب میں بلا توقف فرمایا۔حضرت والد صاحب سے عرض کر دوکہ میں ان کی محبت اور شفقت کا ممنون ہوں مگر،میری نوکری کی فکرنہ کریں میں نے جہاں نوکر ہوناتھاہوچکاہوں۔

(سیرت طیبہ ازحضرت مرزا بشیر احمدصاحب ایم اے)

اس سلسلہ میں حضرت سید سرور شاہ صاحب بیان کرتے ہیں کہ جب ابتداء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت منشی احمد جان مرحوم سے ملے تو چونکہ حضرت منشی صاحب علم توجہ کے بڑے ماہر سمجھے جاتے تھےاوراس علم کے ذریعہ مریضوں کا علاج بھی کیا کرتے تھے۔حضرت مسیح موعود نے ان سے دریافت کیا کہ آپ علم توجہ کے ماہر ہیں اس علم میں آپ کا سب سے بڑا کمال کیا ہے ؟ منشی صاحب مرحوم بڑے منکسرالمزاج صوفی فطرت کےنیک بزرگ تھے انہوں نے ادب کے ساتھ عرض کیا کہ حضرت میں یہ کر سکتا ہوں کہ اگرمیں کسی شخص پر توجہ ڈالوں تووہ تڑپ کر زمین پرگر جاتاہے۔حضرت مسیح موعود نے فرمایا۔

منشی صاحب۔ اس سےاس کی روحانیت کوکیافائدہ پہنچا؟ اور اس کے نفس کی پاکیزگی اور خداکے تعلق میں کیا ترقی ہوئی؟

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد فرماتے ہیں کہ حضرت منشی صاحب بڑی نکتہ رس طبیعت کے بزرگ تھے۔ بے ساختہ عرض کیا ۔حضرت۔میں سمجھ گیا ہوں۔یہ ایک ایسا علم ہےجسے حقیقی روحانیت سے کوئی تعلق نہیں۔

یہ حضرت منشی صاحب وہی بزرگ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اعلی روحانی مقام کوشناخت کرکے اور دنیاکی موجودہ ابترحالت کو دیکھتے ہوئے حضور کے دعوی اور سلسلہ بیعت سے بھی پہلےحضورکومخاطب کرکے یہ شعر کہا تھا۔

ہم غریبوں کی ہے تمہیں پہ نظر
تم مسیحا بنو خدا کے لئے

(سیرت طیبہ از صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ایم۔اے ص136)

تلاوت قرآن کریم۔ولی آدمی

جن دنوں حضرت میرناصرنواب صاحب دوران ملازمت ہنوواں میں مقیم تھے کہ آپ کی اہلیہ(حضرت نانی اماں صاحبہ) بیمار ہوگئیں تو وہ انہیں لے کرحضرت مرزا غلام مرتضی صاحب کے پاس قادیان دارالامان لے کر آئے۔۔۔حضرت نانی اماں نے بیان کیا کہ۔جس وقت میں گھرمیں آئی تھی میں نے حضرت صا حب(حضرت مرزا غلام احمد) کو پیٹھ کی طرف سے دیکھا تھا کہ ایک کمرے میں الگ بیٹھے ہوئے رحل پرقرآن شریف رکھ کر پڑھ رہے تھے ۔میں نے گھروالیوں سے پوچھا یہ کون ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ یہ مرزا صاحب کاچھوٹا لڑکا ہےاوربالکل ولی آدمی ہے۔قرآن ہی پڑہتا رہتا ہے۔

(سیرۃ المہدی۔ج۔1 ۔ص۔219)

سیالکوٹ ملازمت کے دوران سیدنا حضور علیہ السلام کچہری سے واپس آتے ہی دروازہ بند کرلیتے اوراندر صحن میں جا کرقرآن پڑہتے رہتے ۔ مائی حیات بی بی بیان کرتی ہیں کہ میرے والد صاحب بتلایا کرتے تھے کہ مرزا صاحب قرآن مجید پڑھتے پڑھتے بعض دفعہ سجدہ میں گر جاتے ہیں اورلمبے لمبے سجدے کرتے ہیں۔ اور یہاں تک روتے ہیں کہ زمین تر ہوجاتی ہے۔

(سیرۃ المہدی۔ج۔1 ۔ص۔594،595)

حضرت منشی ظفراحمد صاحبؓ کپورتھلوی بیان کرتے ہیں کہ منشی عبدالواحد صاحب بٹالہ میں تحصیلدار تھے۔وہ بٹالہ سے قادیان حضرت مرزا غلام مرتضی صاحب سے ملنے جایا کرتے تھے ۔ جب کہ حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی عمر 14،15 سال کی ہوگی۔۔۔عبدالواحدصاحب نے ذکرکیا کہ حضرت صاحب اس عمر میں سارادن قرآن شریف پڑہتے تھےاور حاشیہ پرنوٹ لکھتے رہتے تھے۔اورمرزا غلام مرتضی صاحب فرماتے کہ یہ کسی سے غرض نہیں رکھتا۔سارا دن مسجد میں رہتا ہے۔اور قرآن شریف پڑہتا رہتا ہے۔منشی عبد الواحد صاحب قادیان بہت دفعہ جاتے اور ان کا بیان تھاکہ حضرت صاحب کو ہمیشہ قرآن شریف پڑہتے دیکھا ہے۔

(اصحاب احمد۔ج۔4 ص 133)

امین ودیانتدار

مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے نے بیان کیا کہ میں نے مرزا سلطان احمد سے پوچھا کہ حضرت صاحب کے ابتدائی حالات اورعادات کے متعلق آپ کو جو علم ہووہ بتائیں۔تو انہوں نے جواب دیا کہ والد صاحب ہروقت دین کے کام میں لگے رہتے تھے۔گھر والے ان پر پورا اعتماد کرتے تھے۔گاوں والوں کو بھی ان پر پورااعتبارتھا۔شریک جو ویسے مخالف تھے۔ان کی نیکی کے اتنے قائل تھے کہ جھگڑوں میں کہہ دیتے تھے کہ جو کچھ یہ کہہ دیں گے ہم کومنظورہے۔ہر شخص ان کو امین جانتا تھا۔

(سیرۃ المہدی۔ج۔1 ۔ ص۔200)

اسلام کے لئے غیرت

سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک طرف جب دیکھتے کہ مسلمان اسلامی تعلیم سے کس قدر دور ہو چکے ہیں ۔اور دوسری طرف غیروں،خاص طورپر عیسائی پادریوں ،اورآریہ منادوں کوقرآن اور اسلام پر حملہ آوردیکھتے تو آپکا دل تڑپ اٹھتاتوآپ ان کا جواب دینے کے لئے مختلف سکیمیں سوچتے۔ان کے اعتراضات اور حملوں کا جواب دینے کے لئے آپ نے اخبارات میں مضامین لکھنے شروع کئے۔عیسائی پادریوں اوردوسرے معترضین سے مناظرے کرنے لگے اس طرح ہر میدان میں اسلام کی فوقیت اورقرآن کے غلبہ کومبرہن کرنے لگے۔جب حضورعلیہ السلام اپنےزمانہ جوانی میں سیالکوٹ میں تھے۔ ان دنوں کا ذکر کرتے ہوئے مولوی سیدمیر حسن صاحب سیالکوٹی تحریر کرتے ہیں۔

مرزا صاحب کو اس زمانہ میں بھی مباحثہ کا بہت شوق تھا۔چنانچہ پادری صاحبوں سے اکثر مباحثہ رہتا تھا۔ایک دفعہ پادری الائیشہ صاحب جودیسی عیسائی پادری تھے اور حاجی پورہ سے جانب جنوب کی کوٹھیوں میں سے ایک کوٹھی میں رہا کرتے تھے۔مباحثہ ہوا۔پادری صاحب نے کہا عیسائی مذہب قبول کرنے کے بغیر نجات نہیں ہوسکتی۔مرزا صاحب نے فرمایا۔نجات کی تعریف کیا ہے؟اورنجات سے آپ کیامراد رکھتے ہیں؟ مفصل بیان کیجئے۔پادری صاحب نے کچھ مفصل تقریرنہ کی اورمباحثہ ختم کر بیٹھے اورکہا۔میں اس قسم کی منطق نہیں پڑھا۔

پادری بٹلر صاحب ایم اے جو بڑے فاضل اور محقق تھےان سےحضرت مرزا صاحب کا مباحثہ بہت دفعہ ہوا۔یہ صاحوضع گوہد پور کے قریب رہتے تھے۔ ایک دفعہ پادری صاحب فرماتے تھے کہ مسیح کو بے باپ پیدا کرنے میں یہ سرتھاکہ وہ کنواری مریم کے بطن سے پیدا ہوئے۔اورآدم کی شرکت سے جو گنہگارتھا،بری رہے۔ مرزا صاحب نے فرمایا کہ مریم بھی توآدم کی نسل سے ہے۔پھر آدم کی شرکت سے بریت کیسے۔اورعلاوہ ازیں عورت ہی نے توآدم کو ترغیب دی جس سے آدم نے درخت ممنوع کا پھل کھایا اور گنہگار ہوا۔پس چاہیے تھا کہ مسیح عورت کی شرکت سے بھی بری رہتے۔اس پرپادری صاحب خاموش ہوگئے۔

(سیرۃ المہدی ۔ج۔1۔ص۔141)

پیرجماعت علی شاہ صاحب سیالکوٹی کا ایک مریدمحمدعظیم بیان کرتا تھاکہ میرا بھائی کہا کرتا تھا کہ ایام جوانی میں جب مرزاصاحب کبھی کبھی امرتسرآتے تھے تو میں ان کو دیکھتا تھا کہ وہ پادریوں کے خلاف بڑا جوش رکھتے تھے۔اس زمانہ میں عیسائی پادری بازاروں وغیرہ میں عیسائیت کا وعظ کیا کرتےتھے ۔مرزا صاحب ان کو دیکھ کر جوش سے بھر جاتے تھےاور ان کا مقا بلہ کرتے تھے۔

(سیرۃ المہدی۔ج۔1 ص۔232)

آریہ سماج بھی ان دنوں اسلام پر پوری قوت سے حملہ آورتھے۔سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کا بھی بھرپور مقابلہ کیا۔ان سے بھی مناظرے کئےاور کتابیں لکھیں۔چنانچہ 1884ءمیں آریہ سماج ہوشیار پورکے رکن اور مدارالہمام لالہ مرلی دھر ڈرائنگ ماسٹرسے آپ نے کامیاب مناظرہ کیا۔پھر آپ نے کتاب سرمہ چشم آریہ تحریر فرمائی ۔اس کتاب میں معجزہ شق القمر،نجات دائمی ہے یا محدود،روح ومادہ حادث ہیں یاانادی اورمقابلہ تعلیمات ویدوقرآن پر مفصل بحث کی گئی ہے۔ اس کتاب پر مولوی محمد حسین صاحب نے جو تبصرہ لکھا وہ پڑھنے کے قابل ہے۔وہ لکھتے ہیں:
یہ کتاب لاجواب مؤلف براہین احمدیہ مرزا غلام احمد صاحب ریئس قادیان کی تصنیف ہے۔اس میں جناب مصنف کا ایک ممبر آریہ سماج سے مباحثہ شائع ہوا ہے جو معجزہ شق القمر اور تعلیم وید پربمقام ہوشیارپورہواتھا ۔اس مباحثہ میں جناب مصنف نے تاریخی واقعات اور عقلی وجوہات سے معجزہ شق القمر ثابت کیا ہے۔اور اس کے مقابلہ میں آریہ سماج کی کتاب (وید) اور اس کی تعلیمات وعقائد (تناسخ وغیرہ) کا کافی دلائل سے ابطال کیا ہے۔ہم بجائے تحریرریویواس کتاب کے بعض مطالب بہ نقل اصل عبارت ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔ وہ مطالب بحکم،مشک آنست کہ خودببوئدنہ کہ عطاربگوئد، خود شہادت دیں گے کہ وہ کتب کیسی ہے۔اورہمارے ریویو کی حاجت باقی نہ رہنے دیں گے ۔۔۔ (مزید لکھتے ہیں) مسلمانوں کی حالت پر کمال افسوس ہے کہ ایک شخص اسلام کی حمایت میں تمام جہان کے اہل مذہب سے مقابلہ کے لئے وقف اورفدا ہورہا۔ پھر اہل اسلام کا اس کام کی مالی معاونت میں یہ حال ہے۔

(اشاعۃ السنۃ۔جلد۔9۔ نمبر5۔6 ۔ص۔145 تا 158 ۔بحوالہ روحانی خزائن۔جلد۔2۔ ص۔6،7)

مولوی محمد حسین بٹالوی کا ہا تھ دھلانا

دعویٰ سے قبل مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو حضرت اقدس علیہ السلام سے اس قدر عقیدت تھی کہ وہ آپ کے ہاتھ دھلانے کواپنے لئے قابل فخر گردانتے تھے۔چنانچہ حضرت میاں خیرالدین صاحب سیکھوانیؓ بیان کرتے ہیں کہ دعویٰ سے پہلے ایک مرتبہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ،مولوی محمدحسین صاحب بٹالوی کے مکان واقع بٹالہ پر تشریف فرما تھے۔ میں بھی خدمت اقدس میں حاضرتھا۔کھانے کا وقت ہواتو مولوی صاحب خودحضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ دھلانے کے لئے آگےبڑھے۔حضورؑنے ہرچندفرمایا کہ مولوی صاحب آپ نہ دھلائیںمگر مولوی صاحب نے باصرار حضورؑکے ہاتھ دھلائےاور اس خدمت کو اپنے لئےفخر سمجھا۔

(سیرۃ المہدی۔ج ۔1 ۔ص۔629)

غیروں کا اقرار

مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی حضورعلیہ السلام کی پاکیزہ زندگی کی گواہی دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
ہماری رآئے میں یہ کتاب (براہین احمدیہ) اس زمانہ میں موجودہ حالات کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیرآج تک اسلام میں شائع نہیں ہوئی اور آئندہ کی خبرنہیں۔۔۔اور اس کا مؤلف بھی اسلام کی مالی وجانی وقلمی ولسانی وحالی وقالی نصرت میں ایسا ثابت قدم نکلا ہے جس کی نظیر پہلے مسلمانوں میں بہت ہی کم پا ئی گئی ہے۔

(اشاعۃالسنۃ۔جلد۔6۔بحوالہ۔سیرۃالمہدی)

مولوی ظفر علی خاں صاحب، مولوی سراج الدین صاحب کی شہادت دیتے ہیں:
مرزا غلام احمد صاحب 1860ء۔1861ء قریب ضلع سیالکوٹ میں ملازم تھے اس وقت آپ کی عمر 22،23سال کی ہوگی۔ اور ہم چشم دید شہادت سے کہتے ہیں کہ جوانی میں نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے۔

(اخبارزمیندار۔8جون۔ 1908)

(عبدالقدیر قمر مربی سلسلہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 ستمبر 2020