• 5 دسمبر, 2021

خطبہ جمعہ بیان فرمودہ یکم اکتوبر 2021ء

خطبہ جمعہ

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ یکم اکتوبر 2021ء بمقام مسجد مبارک، اسلام آبادٹلفورڈ یو کے

حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت میں اسلامی سلطنت کا دائرہ دُور دراز علاقوں کی سرحدوں کو چھونے لگا۔ اسلامی سلطنت مشرق میں دریائے جیحون اور دریائے سندھ سے لے کر مغرب میں افریقہ کے صحراؤں تک اور شمال میں ایشیائے کوچک کے پہاڑوں اور آرمینیا سے لے کر جنوب میں بحرالکاہل اور نوبہ تک ایک عالمی ملک کی شکل میں دنیاکے نقشہ پر نمودار ہوئی

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت خلیفہ ٔراشد فاروقِ اعظم حضرت عمربن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ

جنگِ فَرَمَا، فتحِ بِلْبِىْس، فتحِ اُمْ دُنَىْن، معرکۂ فُسْطَاطْ، تسخىرِ اسکندرىہ، فتح ِبَرْقَہ و طرابلس وغىرہ کا تفصىلى بىان نىز مستشرقىن کى جانب سے حضرت عمرؓ کے حکم پر اسکندرىہ کى لائبرىرى جلانے کے واقعہ کا تفصىلى تجزىہ

أَشْھَدُ أَنْ لَّٓا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِيۡنَۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِيۡمِۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ يَوۡمِ الدِّيۡنِؕ﴿۴﴾ إِيَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِيَّاکَ نَسۡتَعِيۡنُؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِيۡمَۙ﴿۶﴾  صِرَاطَ الَّذِيۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَيۡہِمۡ ۬ۙ غَيۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَيۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّيۡنَ﴿۷﴾

حضرت مصلح موعود رضي اللہ تعاليٰ عنہ ايک موقع پر ايک تقرير ميں تبليغ کے بارے ميں جب بيان فرما رہے تھے تو اس وقت حضرت عمر رضي اللہ تعاليٰ عنہ کے زمانے کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہيں کہ ’’رسول کريم صلي اللہ عليہ واٰلہٖ وسلم کي وفات کے بعد جو لڑائياں ہوئي ہيں ان ميں اکثر اوقات مسلمانوں کي قلت ہوتي تھي۔

شام کي لڑائي

ميں سپاہيوں کي بہت کمي تھي۔ حضرت ابوعبيدہؓ نے حضرت عمرؓ کو لکھا کہ دشمن بہت زيادہ تعداد ميں ہے۔ اس لئے اَور فوج بھيجنے کا بندوبست فرما ديں۔ حضرت عمرؓ نے جائزہ ليا تو آپؓ کو نئي فوج کابھرتي کرنا ناممکن معلوم ہوا کيونکہ عرب کے اِردگرد کے قبائل کے نوجوان يا تو مارے گئے تھے يا سب کے سب پہلے ہي فوج ميں شامل تھے۔ آپؓ نے مشورہ کے لئے ايک جلسہ کيا اور اس ميں مختلف قبائل کے لوگوں کو بلايا اور ان کے سامنے يہ معاملہ رکھا۔ انہوں نے بتايا کہ ايک قبيلہ ايسا ہے جس ميں کچھ آدمي مل سکتے ہيں۔ حضرت عمرؓ نے ايک افسر کو حکم ديا کہ وہ فوراً اس قبيلہ ميں سے نوجوان جمع کريں اور حضرت ابوعبيدہؓ  کو لکھا کہ چھ ہزار سپاہي تمہاري مدد کے لئے بھيج رہا ہوں جو چند دنوں تک تمہارے پاس پہنچ جائيں گے۔ تين ہزار آدمي تو فلاں فلاں قبائل ميں سے تمہارے پاس پہنچ جائيں گے اور باقي تين ہزار کے برابر عَمرِو بنِ مَعْدِي کَرِب کو بھيج رہا ہوں۔‘‘ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہيں کہ ’’ہمارے ايک نوجوان کو اگر تين ہزار آدمي کے مقابلہ ميں بھيجا جائے تو وہ کہے گا کہ کيسي خلافِ عقل بات ہے۔ کيا خليفہ کي عقل ماري گئي ہے۔ ايک آدمي کبھي تين ہزار کا مقابلہ کر سکتا ہے! ليکن ان لوگوں کے ايمان کتنے مضبوط تھے۔ حضرت ابوعبيدہؓ  کو حضرت عمرؓ کا خط ملا تو انہوں نے خط پڑھ کر اپنے سپاہيوں سے کہا خوش ہو جاؤ کل عَمرِوبنِ مَعْدِي کَرِب تمہارے پاس پہنچ جائے گا۔ سپاہيوں نے اگلے دن بڑے جوش کے ساتھ عَمرِو بنِ مَعْدِي کَرِب کا استقبال کيا اور نعرے لگائے۔ دشمن سمجھا کہ شايد مسلمانوں کي مدد کے لئے لاکھ دو لاکھ فوج آرہي ہے اس لئے وہ اِس قدر خوش ہيں حالانکہ وہ اکيلے عَمرِو بنِ مَعْدِي کَرِب تھے۔ اس کے بعد وہ تين ہزار فوج بھي پہنچ گئي اور مسلمانوں نے دشمن کو شکست دي حالانکہ تلوار کي لڑائي ميں ايک آدمي تين ہزار کا کيا مقابلہ کر سکتا ہے۔‘‘ فرماتے ہيں کہ ’’زبان کي لڑائي ميں تو ايک آدمي بھي کئي ہزار لوگوں کو اپني بات پہنچا سکتا ہے مگر وہ لوگ خليفۂ وقت کي بات کو اتني اہميت ديتے تھے کہ حضرت عمرؓ نے عَمرِو بنِ مَعْدِي کَرِب کو تين ہزار سپاہيوں کا قائم مقام بنا کر بھيجا تو سپاہيوں نے يہ اعتراض نہيں کيا کہ اکيلا آدمي کس طرح تين ہزار کا مقابلہ کر سکتا ہے بلکہ اسے تين ہزار کے برابر ہي سمجھا اور بڑي شان و شوکت سے اس کا استقبال کيا۔ مسلمانوں کے اِس استقبال کي وجہ سے دشمن کے دل ڈر گئے اور وہ يہ سمجھے کہ شايد لاکھ دو لاکھ فوج مسلمانوں کي مدد کو آگئي ہے اس لئے ميدانِ جنگ سے ان کے پاؤں اکھڑ گئے اور وہ شکست کھا کر بھاگ نکلے۔‘‘ آپؓ فرماتے ہيں کہ ’سرِدست ہميں بھي اس طرح اپنے دل کو اطمينان دينا ہوگا۔‘‘

(سپين اور سسلي ميں تبليغِ اسلام اور جماعت احمديہ ۔ انوار العلوم جلد18 صفحہ359-360)

يہ آپؓ بتا رہے تھے کہ يورپ ميں سپين ميں اور سسلي وغيرہ ميں تبليغ کس طرح کرني ہے۔ اس ضمن ميں يہ واقعہ بيان کيا۔ اب

فتوحاتِ مصر

کا ذکر کرتا ہوں۔ اس ميں ايک جنگِ فَرَمَا تھي۔ ’فَرَمَا‘ مصر کا ايک مشہور شہر تھا۔ يہ بحيرہ روم اور پَلُوْزِي کے دہانے کے قريب جو دريائے نيل کي سات شاخوں ميں سے ايک شاخ تھي ايک پہاڑي پر آباد تھا۔

(سيدنا حضرت فاروق اعظمؓ از محمد حسين ہيکل مترجم حبيب اشعر صفحہ556-557 اسلامي کتب خانہ اردو بازار کراچي)

علامہ شبلي نعماني کے مطابق بيت المقدس کي فتح کے بعد حضرت عَمرِو بِن عاصؓ کے اصرار پر حضرت عمرؓ نے حضرت عمرو بن عاصؓ کو چار ہزار کا لشکر دے کر مصر کي طرف روانہ کيا ليکن ساتھ يہ بھي حکم ديا کہ اگر مصر پہنچنے سے پہلے ميرا خط ملے تو واپس لوٹ آنا۔ عَرِيْش پہنچے تھے کہ حضرت عمرؓ کا خط پہنچا۔ اگرچہ اس ميں آگے بڑھنے سے روکا تھا ليکن چونکہ شرطيہ حکم تھا اس ليے حضرت عمروؓ نے کہا کہ اب تو ہم مصر کي حد ميں آچکے ہيں اور عَرِيْش سے چل کر فَرَماَ پہنچے۔

(ماخوز ازالفاروق از شبلى نعمانى صفحہ160 دار الاشاعت کراچي 1991ء)

اسلامي جنگوں پر مشتمل ايک کتاب ہے اَلْاِکْتِفَاء۔ اس ميں لکھا ہے کہ جب حضرت عمرو بن عاصؓ رَفَحْ مقام تک پہنچے تو آپؓ کو حضرت عمرؓ کا خط ملا تھا ليکن آپؓ نے اس ڈر سے کہ اس خط ميں واپس لوٹنے کا حکم نہ ہو جيسا کہ حضرت عمرؓ نے فرمايا تھا قاصد سے خط نہ ليا اور چلتے رہے يہاں تک کہ آپ رَفَحْ اور عَرِيْش کے درميان ايک چھوٹي بستي ميں پہنچے اور اس کے متعلق پوچھا۔ بتايا گيا کہ يہ مصر کي حدود ميں ہے۔ پس آپؓ نے خط منگوايا اور اسے پڑھا اور اس ميں لکھا تھا کہ آپ کے ساتھ جو مسلمان ہيں انہيں لے کر واپس لوٹ آئيں تو آپ نے اپنے ہمراہ لوگوں سے کہا کہ کيا تم نہيں جانتے کہ يہ مصر ميں ہے۔ انہوں نے کہا جي ہاں۔ تو آپؓ نے کہا کہ امير المومنينؓ نے حکم ديا ہے کہ اگر مجھے ان کا خط مصر کي سرزمين تک پہنچنے سے پہلے مل جائے تو ميں واپس لوٹ آؤں اور مجھے يہ خط مصر کي سرزمين ميں داخل ہونے کے بعد ملا ہے۔ پس اللہ کا نام لے کر چلو۔ اور ايک اَور روايت ميں يہ بھي کہا جاتا ہے کہ حضرت عمرو بن عاصؓ  فلسطين ميں تھے اور وہ بلا اجازت اپنے ساتھيوں کو لے کر مصر چلے گئے۔ يہ بات حضرت عمرؓ کو ناگوار گزري۔ پس حضرت عمرؓنے انہيں خط لکھا۔ حضرت عمرؓ کا خط حضرت عَمروؓ  کو اس وقت ملا جب وہ عَرِيْشکے قريب تھے۔ پس آپ نے وہ خط نہ پڑھا يہاں تک کہ آپ عَرِيْش پہنچ گئے۔ پھر آپ نے خط پڑھا۔ اس ميں لکھا تھا کہ عمر بن خطاب ؓکي طرف سے عمرو بن عاصؓ کے نام۔ اَماَّ بَعْدُ، يقينا ًتم مصر اپنے ساتھيوں کے ساتھ گئے ہو اور وہاں روميوں کي بڑي تعداد ہے اور تمہارے ساتھ تھوڑے لوگ ہيں۔ ميري عمر کي قسم! اللہ تمہارا بھلا کرے۔ بہتر ہوتا اگر تم انہيں ساتھ نہ لے جاتے۔ پس اگر تم مصر نہيں پہنچے تو واپس لوٹ آؤ۔

(الاکتفاء بما تضمنہ من مغازي رسول اللّٰہؐ…  جلد2 صفحہ324-325 استخلاف عمر بن الخطاب۔ دار الکتب العلمية بيروت 1420ھ)

اس سفر ميں فَرَمَا سے پہلے اسلامي لشکر کي کسي بھي رومي سپاہي سے ملاقات نہ ہوئي تھي بلکہ جگہ جگہ مصريوں نے ان کا استقبال کيا تھا اور سب سے پہلے فرما ميں محاذ آرائي ہوئي تھي۔ يہ تو مختلف روايتيں ہيں ليکن وہي روايت صحيح لگتي ہے کہ عَرِيْش مصر کي حدود ميں پہنچنے کے بعد ان کو خط ملا۔ نہيں تو يہ نہيں ہو سکتا کہ بہانے بنائے جائيں کہ ہم مصر پہنچيں گے تو خط کھولوں گا۔ بہرحال جب وہ مصر پہنچ گئے تھے تو پھر آگے بڑھنا تھا کيونکہ پھر مومن کا قدم پيچھے نہيں اٹھتا۔ روميوں نے يہ خبر پاکر کہ حضرت عمروؓ کے ساتھ آنے والي فوج معمولي تعداد اور ناقابلِ ذکر جنگي تياريوں ميں ہے زيادہ دنوں تک محاصرہ نہيں کر سکتے جبکہ ہم ان سے زيادہ تعداد رکھتے ہيں اور اس کي تياري کر رہے ہيں اور انہيں پست کر کے لے جائيں گے۔ تو روميوں نے يہ خيال کيا اور وہ شہر ميں قلعہ بند ہو گئے۔ ادھر حضرت عمرو بن عاصؓ کو روميوں کي عسکري قوت کا علم ہو چکا تھا کہ اسلحہ اور تعداد ميں کئي گنا ہم پر بھاري ہيں۔ چنانچہ آپؓ نے فَرَمَا پر قابض ہونے کے ليے منصوبہ بنايا کہ اچانک حملہ کر کے فصيل کے دروازوں کو کھول ديا جائے يا پھر اس وقت تک صبر کے ساتھ محاصرہ جاري رکھا جائے جب تک کہ شہريوں کي خوراک ختم نہ ہو جائے اور بھوک سے بےتاب ہو کر باہر نہ نکل آئيں۔ چنانچہ محاصرہ کر ليا۔ ادھر مسلمانوں کا محاصرہ سخت سے سخت تر ہوتا جا رہا تھا اور ادھر رومي بھي اپني ضد سے پيچھے نہ ہٹ رہے تھے۔ اس طرح محاصرہ کئي مہينے جاري رہا۔ کبھي کبھي رومي فوج باہر آتي اور دو چار جھڑپيں کر کے پيچھے ہٹ جاتي۔ ان جھڑپوں ميں مسلمان ہي غالب رہتے۔ ايک دن رومي افواج کي ايک جماعت بستي سے باہر نکل کر مسلمانوں سے لڑنے نکلي۔ مقابلہ ميں مسلمان غالب رہے اور رومي ہزيمت کھا کر بستي کي طرف بھاگے۔ مسلمانوں نے ان کا پيچھا کيا اور دوڑنے ميں کافي تيزروي کا ثبوت ديا اور کچھ لوگوں نے دروازوں تک روميوں کے پہنچنے سے پہلے ہي وہاں پہنچ کر فصيل کا دروازہ کھول ديا اور فتحِ مبين کا رستہ صاف کر ديا۔

(ماخوذ از سيدنا عمر بن خطاب از الصلابي، مترجم اردو صفحہ755,756 الفرقان ٹرسٹ خان گڑھ پاکستان)

فتح بِلْبِيْس،

يہ کس طرح ہوئي۔ فَرَمَا کے بعد حضرت عمرو بن عاصؓ نے بِلْبِيْس کا رخ کيا تو رومي فوج نے آپؓ کا راستہ روک ليا۔ بِلْبِيْس فُسْطَاطْ سے تقريباً تيس ميل دور شام کے رستے پر ايک شہر ہے۔ بہرحال رستہ روک ليا تا کہ مسلمان بَابِلْيُون کے قلعہ تک نہ پہنچ سکيں۔ بَابِلْيُون نام قديم لغت ميں ديارِ مصر کے ليے استعمال ہوتا ہے بالخصوص جہاں فُسْطَاطْ آباد ہوا اسے پہلے بَابِلْيُون کہا جاتا تھا۔ رومي فوج يہيں لڑنا چاہتي تھي ليکن حضرت عمرو بن عاصؓ نے ان سے کہا تم اس وقت تک جلدي نہ کرو جب تک ہم اپني بات تمہارے سامنے رکھ نہ ديں تا کہ کل عذر و معذرت کي کوئي بات نہ رہ جائے۔ پھر کہا کہ تم اپنے پاس سے ابو مريم اور اَبُومَرْيَام کو ميرے پاس سفير بنا کر بھيجو۔ چنانچہ وہ لوگ لڑنے سے رک گئے اور ان دونوں سفيروں کو بھيج ديا۔ يہ دونوں سفير اہل بِلْبِيْس کے راہب تھے۔ حضرت عمروؓ نے ان کے سامنے اسلام لانے يا جزيہ دينے کي تجويز رکھي اور ساتھ اہلِ مصر کے بارہ ميں رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم کا يہ فرمان بھي پيش کيا کہ تم مصر کو فتح کرو گے۔ وہ ايسا ملک ہے جہاںقِيراط کا نام چلتا ہے۔ پس جب تم اسے فتح کر چکو تو اس کے رہنے والوں سے احسان کا سلوک کرنا کيونکہ ان کے ليے ذمہ داري اور صلہ رحمي ہے يا فرمايا کہ ذمہ داري اور مُصَاہْرَت ہے۔ ان دونوں سفيروں نے يہ بات سن کر کہا يہ بہت دور کا رشتہ ہے، اسے انبياء ہي پورا کر سکتے ہيں۔ ہميں جانے دو۔ ہم واپس آ کے بتائيں گے۔ حضرت عمرو بن عاصؓ نے کہا مجھ جيسے شخص کو دھوکا نہيں ديا جا سکتا ہے۔ ميں تمہيں تين دن کي مہلت ديتا ہوں آپ لوگ اچھي طرح معاملے پہ غور کر ليں۔ دونوں سفيروں نے کہا کہ ايک دن کي اَور مہلت دے ديں۔ آپ نے انہيں مزيد ايک دن کي مہلت دے دي۔ دونوں سفير لوٹ کر قِبْطِيو کے سردار مَقُوقَس اور شاہ روم کي طرف سے مصرکے حاکم اَرْطَبُون کے پاس آئے اور مسلمانوں کي بات ان کے سامنے رکھي۔ اَرْطَبُون نے ماننے سے انکار کر ديا اور جنگ کا پختہ ارادہ کر کے راتوں رات اس نے مسلمانوں پر حملہ کر ديا۔ اَرْطَبُون کے اس لشکر کي تعداد بارہ ہزار بيان کي جاتي ہے۔ مسلمانوں کي اچھي خاصي تعداد اس معرکے ميں شہيد ہوئي اور روميوں کے ايک ہزار سپاہي قتل اور تين ہزار سپاہي گرفتار ہوئے اور اَرْطَبُون ميدان چھوڑ کر بھاگ گيا اور بعض نے کہا کہ وہ اسي جنگ ميں مارا گيا۔ مسلمانوں نے اسے اس کے لشکر سميت اسکندريہ تک شکست دي۔ مؤرخين اس بات پر متفق ہيں کہ مسلمان بِلْبِيْس ميں ايک مہينہ تک رہے۔ اس دوران لڑائي ہوتي رہي اور آخر ميں فتح مسلمانوں کو ہوئي ليکن اس امر ميں ان کا اختلاف ہے کہ يہ جنگ شديد تھي يا کم۔

(سيدنا عمر بن خطاب از صلابي مترجم صفحہ757-758 مطبوعہ الفرقان ٹرسٹ خان گڑھ پاکستان)
(ماخوذ از حضرت عمرفاروق اعظمؓ از محمد حسين ہيکل مترجم حبيب اشعرصفحہ 564-565 اسلامي کتب خانہ اردو بازار لاہور)
(الاکتفاء بما تضمنہ من مغازي رسو ل اللّٰہؐ… جزء2 صفحہ346 دار الکتب العلمية بيروت 1420ھ)
(معجم البلدان جلد1 صفحہ567 بِلْبِيْس۔ دار الکتب العلمية بيروت)
(اٹلس فتوحات اسلاميہ جلد2 صفحہ225 دار السلام الرياض 1428ھ)

اس جنگي کشمکش کے دوران ايک ايسا واقعہ پيش آيا جو

مسلمانوں کي دانش مندي اور اخلاقي برتري کي دليل

ہے۔ واقعہ يوں ہے کہ جب بِلْبِيْس ميں اللہ تعاليٰ نے مسلمانوں کو فتح نصيب فرمائي تو اس ميں مَقُوقَس کي لڑکي گرفتار ہوئي جس کا نام اَرْمَانُوسہ تھا۔ وہ اپنے باپ کي چہيتي بيٹي تھي۔ اس کا باپ قُسْطَنْطِيْن بِن ہِرَقْل سے اس کي شادي کرنا چاہتا تھا۔ وہ اس شادي پر راضي نہيں تھي۔ اس ليے وہ اپني خادمہ کے ساتھ سير و تفريح کے ليے بِلْبِيْس آئي ہوئي تھي۔ بہرحال جب مسلمانوں نے اسے گرفتار کيا تو حضرت عمرو بن عاصؓ نے تمام صحابہ کرامؓ کي ايک مجلس بلائي اور انہيں اللہ تعاليٰ کا يہ فرمان سنايا کہ هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ (الرحمٰن: 61) کيا احسان کي جزا احسان کے سوا کچھ اَور بھي ہو سکتي ہے؟ پھر اس آيت يعني هَلْ جَزَاءُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ کے حوالے سے کہا کہ مَقُوقَس نے ہمارے نبي صلي اللہ عليہ وسلم کے پاس ہديہ بھيجا تھا۔ ميري رائے ہے کہ اس لڑکي اور اس کے ساتھ جو ديگر خواتين ہيں اور اس کے خدمت گزار ہيں اور جو مال ہميں ملا ہے وہ سب کچھ مَقُوقَس کے پاس بھيج دو۔ سب نے عَمرو بن عاصؓ کي رائے کو درست قرار ديا۔ پھر عَمرو بن عاصؓ نے مَقُوقَس کي بيٹي اَرْمَانُوسہ کو اس کے تمام جواہرات، ديگر خواتين اور خدمت گزاروں کے ساتھ نہايت عزت و احترام سے اس کے باپ کے پاس بھيج ديا۔ واپس ہوتے ہوئے اس کي خادمہ نے اَرْمَانُوسہ سے کہا ہم ہر طرف سے عربوں کے گھيرے ميں ہيں۔ اَرْمَانُوسہ نے کہا ميں عربي خيمے ميں جان اور عزت کو محفوظ سمجھتي ہوں ليکن اپنے باپ کے قلعہ ميں اپني جان کو محفوظ نہيں سمجھتي۔ پھر جب وہ اپنے باپ کے پاس پہنچي تو اس کے ساتھ مسلمانوں کا برتاؤ ديکھ کر وہ بہت خوش ہوا۔

(سيدنا عمر بن خطاب از علي محمد صلابي، اردو مترجم صفحہ758-759 مطبوعہ الفرقان ٹرسٹ خان گڑھ پاکستان)

پھر

اُمْ دُنَيْن

ايک جگہ ہے، وہاں کي فتح کا ذکر ہے۔ بِلْبِيْس کي فتح کے بعد حضرت عمرو بن عاصؓ صحرا کي سرحد پر پيش قدمي کرتے ہوئے اُمْ دُنَيْن کي بستي کے قريب جا پہنچے جو دريائے نيل پر خليج تراجان کے منبع کے پاس واقع تھي۔ يہ خليج سويز کے قريب شہر مصر کو بحيرہ روم سے ملاتي تھي جہاں آج کل قاہرہ کا محلہ ازبکيہ ہے وہيں اس زمانے ميں اُمْ دُنَيْن کي بستي تھي جسے روميوں نے قلعہ بند کر رکھا تھا۔ اس کے قريب دريائے نيل کا گھاٹ تھا اور اس گھاٹ پر بہت سي کشتياں کھڑي رہتي تھيں۔ يہ بستي بَابِلْيُون کے شمال ميں تھي جو شہر مصر کا سب سے بڑا قلعہ تھا۔ اس لحاظ سے اُمْ دُنَين کو مصريوں کے اس محبوب علاقے کي، جو گذشتہ زمانوں کے فرعونوں کا دارالحکومت بھي رہ چکا تھا، سب سے پہلي دفاعي چوکي کہا جا سکتا ہے۔ اُمْ دُنَين کے قريب جا کر مسلمانوں نے پڑاؤ ڈالا۔ روميوں نے قلعہ بَابِلْيُون ميں اپني بہترين فوج پہنچا دي تھي اور اُمْ دُنَين کے قلعہ کو خوب اچھي طرح مضبوط کر کے جنگ کے ليے تيار ہو گئے تھے۔ جاسوسوں کي خبروں سے حضرت عمرو بن عاصؓ کو اندازہ ہو گيا کہ ان کي فوج قلعہ بَابِلْيُون کي فتح يا اس کے محاصرے کے ليے ناکافي ہے۔ انہوں نے ايک قاصد کے ہاتھ ايک خط مدينہ بھيجا اور اس ميں اپنے سفر مصر کے حالات، قلعوں کي تفصيلات اور ان پر حملہ کرنے کے ليے کمک کي ضرورت کا اظہار کيا۔ ادھر فوج ميں يہ اعلان کرا ديا کہ امدادي فوجيں بہت جلد پہنچنے والي ہيں۔ اس کے بعد اُمْ دُنَين کي طرف بڑھے اور اس کا محاصرہ کر کے قلعہ ميں غذائي اور فوجي ضروريات کے سامان کي رسد روک دي۔ قلعہ بَابِلْيُون ميں جو رومي تھے انہوں نے ادھر آنے کي کوشش نہ کي کيونکہ بِلْبِیْس میں اَرْطَبُون کا حشر ديکھ چکے تھے اور وہ جانتے تھے کہ عربوں سے کھلے ميدان ميں لڑنا ان کے بس کي بات نہيں ہے۔ اُمْ دُنَين کي فوجيں البتہ کبھي کبھار نکلتيں اور ناکام جھڑپوں کے بعد واپس ہو جاتيں۔ کئي ہفتے اسي طرح گزر گئے۔ اسي اثنا ميں خبر ملي کہ بارگاہِ خلافت سے پہلي امدادي فوج روانہ کر دي گئي اور وہ آج کل ميں پہنچا چاہتي ہے۔ اس خبر سے مسلمانوں کي ہمت اور طاقت ميں اضافہ ہو گيا۔

(حضرت عمرفاروق اعظمؓ از محمد حسين ہيکل مترجم حبيب اشعر صفحہ567-570 اسلامي کتب خانہ اردو بازار لاہور)

حضرت عمرؓ نے اسلامي لشکر کي مدد کے ليے چار ہزار سپاہي بھيجے۔ حضرت عمرؓنے ہر ہزار آدمي پر ايک امير مقرر کيا۔ان امراء کے نام حضرت زبير بن عوامؓ، حضرت مقداد بن اسودؓ، حضرت عُبادہ بن صامتؓ اور حضرت مَسْلَمَہ بن مُخَلَّدؓ تھے۔ ايک قول کے مطابق حضرت  مَسْلَمَہ بن مُخَلَّدؓ کي جگہ خَارِجَہ بن حُذَافَہ امير تھے۔ حضرت عمرؓنے يہ کمک بھيجنے کے ساتھ حضرت عمرو بن عاصؓ کو خط لکھا کہ اب تمہارے ساتھ بارہ ہزار مجاہدين ہيں۔ يہ تعداد کمي کي وجہ سے کبھي مغلوب نہيں ہو گي۔ رومي جنگجو قبطيوں کو ساتھ لے کر مسلمانوں کا مقابلہ کرنے کے ليے نکلے۔ دونوں فوجوں ميں شديد لڑائي ہوئي۔ حضرت عمرو بن عاصؓ نے حکمت عملي سے اپني فوج کو تين حصوں ميں تقسيم کيا۔ ايک حصہ کو جَبَلِ اَحْمَر کے قريب ايک جگہ پر ٹھہرا ديا۔ دوسرے حصے کو اُمْ دُنَين کے قريب دريائے نيل کے کنارے ايک جگہ پر ٹھہرا ديا اور فوج کا بقيہ حصہ لے کر دشمن کے مقابلے پر نکلے۔ جس وقت دونوں فوجوں ميں سخت لڑائي ہو رہي تھي جَبَلِ اَحْمَر ميں چھپي فوج نے نکل کر پيچھے سے حملہ کر ديا جس سے دشمن کا فوجي نظام درہم برہم ہو گيا اور وہ اُمْ دُنَين کي طرف بھاگے۔ وہاں اسلامي فوج کا دوسرا حصہ تيار تھا۔ اس نے ان کا راستہ روک ديا۔ اس طرح رومي فوج مسلمانوں کي تينوں فوجوں کے درميان پھنس گئي اور دشمن کو شکست ہوئي۔

(سيدنا عمر بن خطابؓ از علي محمد الصلابي مترجم صفحہ759 مطبوعہ الفرقان ٹرسٹ خان گڑھ پاکستان)

متفرق فتوحات کے بارے ميں ذکر ہے کہ اُمْ دُنَين کي فتح کے بعد سب سے پہلے فَيُّوْم کے علاقے پر حضرت عمرو بن عاصؓ نے فتح حاصل کي اور اس علاقے کا سردار اس لڑائي ميں قتل ہو گيا۔

(ماخوذ از سيدنا حضرت عمر فاروق اعظمؓ از محمد حسين ہيکل مترجم حبيب اشعر صفحہ571-572 اسلامي کتب خانہ اردو بازار لاہور)

 پھر عَيْنُ الشَّمْسِ ميں مسلمانوں کا روميوں سے مقابلہ ہوا۔ اس سے قبل آٹھ ہزار مجاہدين کا لشکر بطور کمک حضرت عمرو بن عاصؓ سے آ ملا جس کي کمان حضرت زبير بن عوامؓ کے ہاتھ ميں تھي اور اس ميں حضرت عُبادہ بن صامتؓ، حضرت مِقداد بن اسوؓد اور مَسْلَمَہ بن مُخَلَّد وغيرہ بھي تھے۔ اس جنگ ميں بھي مسلمانوں نے فتح حاصل کي۔ اس کے بعد فَيُّوم کے پورے صوبہ پر مسلمانوں نے فتح حاصل کي۔ مسلمانوں کي فوج کے ايک حصہ نے صوبہ مَنُوْفِيَہ کے دو شہروں اِثْرِيْب اور مَنُوفْ پر فتح پائي۔

(سيدنا حضرت عمر فاروق اعظمؓ از محمد حسين ہيکل مترجم حبيب اشعرصفحہ573 و579 اسلامي کتب خانہ اردو بازار لاہور)
(اٹلس فتوحات اسلاميہ جلد2 صفحہ229 دار السلام الرياض 1428ھ)

معرکہ قلعہ بَابِلْيُون يا فُسْطَاطْ کي فتح

کے بارے ميں لکھا ہے کہ حضرت عمرو بن عاصؓ اُمْ دُنَين کي فتح کے بعد قلعہ بَابِلْيُون کي طرف بڑھے اور اس کا زبردست محاصرہ کيا۔ اب اس علاقے کا نام فُسْطَاطْ ہے۔ اس کي وجہ تسميہ يہ ہے کہ عربي ميں خيمے کو فُسْطَاطْ کہتے ہيں۔ حضرت عمرو بن عاصؓ نے قلعہ کو فتح کرنے کے بعد جب يہاں سے کوچ کرنے کا حکم ديا تو اتفاق سے ايک کبوتر نے حضرت عمروؓ کے خيمے ميں گھونسلا بنا ليا تھا۔ جب ان کي نظر اس پر پڑي تو انہوں نے حکم ديا کہ اس خيمے کو يہيں رہنے دو اور حضرت عمروؓ نے اسکندريہ سے واپس آ کر اسي خيمے کے قريب شہر بسايا اس ليے يہ شہر فُسْطَاطْ کے نام سے مشہور ہو گيا۔

(ماخوذ ازالفاروق از شبلي نعماني صفحہ150-151 دار الاشاعت کراچي2004ء)

قلعہ ميں محافظ دستے کي تعداد کا اندازہ پانچ سے چھ ہزار تک لگايا جاتا تھا اور وہ ہر طرح سے مسلح تھے۔ حضرت عمروؓ نے قلعہ بَابِلْيُون کا محاصرہ شروع کيا۔ اسکندريہ کے بعد يہ بہت مضبوط قلعہ تھا اور پکي اينٹوں سے بنايا ہوا تھا اور چاروں طرف سے دريائے نيل کے پانيوں سے گھرا ہوا تھا چونکہ دريائے نيل پر واقع تھا اور جہاز اور کشتياں قلعہ کے دروازے پر آ کر لگتي تھيں اس ليے سرکاري ضرورتوں کے ليے نہايت مناسب مقام تھا۔ عرب اس مضبوط قلعہ پر حملہ کرنے کے ليے ضروري آلات سے ليس نہ تھے نہ وہ اس کے ليے تيار تھے۔

(سيرت عمر فاروقؓ از محمد رضا صفحہ264-265 مکتبہ اسلاميہ 2010ء)

حضرت عمروؓ نے اول اس کا محاصرہ کرنے کي تيارياں کر ليں۔ مَقُوقَس جو مصر کا فرمانروا تھا وہ حضرت عمرو بن عاصؓ سے پہلے قلعہ ميں پہنچ چکا تھا اور لڑائي کا بندوبست کر رہا تھا۔ حضرت زبيرؓنے گھوڑے پر سوار ہو کر خندق کے چاروں طرف چکر لگايا اور جہاں جہاں ضرورتيں تھيں مناسب تعداد کے ساتھ سوار اور سپاہي متعين کيے۔ يہ محاصرہ مسلسل سات ماہ تک جاري رہا اور فتح و شکست کا فيصلہ نہ ہوا۔

(ماخوذ ازالفاروق از شبلي نعماني صفحہ150دارالاشاعت کراچي2004ء)

اس دوران رومي فوج کبھي کبھي قلعہ سے باہر آ کر جنگ بھي کرتي ليکن پھر واپس چلي جاتي۔ اس دوران مَقُوقَس اپنے سفيروں کو مصالحت اور دھمکانے کي غرض سے حضرت عمرو بن عاصؓ کے پاس بھيجتا رہا۔ حضرت عمرو بن عاصؓ نے حضرت عُبادہ بن صامتؓ کو بھيجا اور مصالحت کرنے کے ليے صرف تين شرائط لگا ديں کہ اسلام لاؤ، جزيہ دو يا پھر جنگ ہو گي اور کہا کہ اس کے علاوہ کسي بات پر صلح نہيں ہو سکتي۔ نہ صلح کرنا۔ مَقُوقَس نے جزيہ دينا منظور کر ليا اور اس سلسلہ ميں ہرقل سے اجازت مانگنے کے ليے خود ہرقل کے پاس گيا ليکن ہرقل نے اسے ماننے سے انکار کر ديا بلکہ مَقُوقَس سے سخت ناراض ہوا اور اس کو سزا ديتے ہوئے جلا وطن کروا ديا۔

(سيدنا عمر بن خطابؓ شخصيت اور کارنامے از علي محمد صلابي اردو ترجمہ صفحہ760الفرقان ٹرسٹ خان گڑھ پاکستان)
(ماخوذ از سيدنا حضرت عمر فاروق اعظمؓ از محمد حسين ہيکل مترجم حبيب اشعر صفحہ582 و584 و 590 اسلامي کتب خانہ اردو بازار لاہور)

جب قلعہ بَابِلْيُون کي فتح ميں زيادہ تاخير نظر آئي تو حضرت زبير بن عوامؓ کہنے لگے کہ اب ميں اپني جان اللہ کے رستہ ميں ہبہ کرنے جا رہا ہوں۔ مجھے اميد ہے کہ اللہ تعاليٰ اسي سے مسلمانوں کو فتح عطا فرمائے گا۔ يہ کہہ کر ننگي تلوار لي اور سيڑھي لگا کر قلعہ کي فصيل پر چڑھ گئے۔ چند اَور صحابہ نے بھي آپ کا ساتھ ديا۔ فصيل پر چڑھ کر سب نے ايک نعرہ لگايا اور ساتھ ہي تمام فوج نے بھي نعرہ لگايا جس سے قلعہ کي زمين دہل گئي۔ عيسائي سمجھ گئے کہ مسلمان قلعہ کے اندر گھس آ ئےہيں وہ بدحواس ہو کر بھاگے اور حضرت زبيرؓ نے فصيل سے اتر کر قلعہ کا دروازہ کھول ديا اور تمام فوج اندر آ گئي اور لڑتے لڑتے قلعہ کو فتح کر ليا۔

(سيدنا عمر بن خطابؓ شخصيت اور کارنامے از علي محمد صلابي اردو ترجمہ صفحہ760 الفرقان ٹرسٹ خان گڑھ پاکستان)
(ماخوذ ازالفاروق از شبلي نعماني صفحہ150دار الاشاعت کراچي2004ء)

حضرت عمرو بن عاصؓ نے انہيں اس شرط پر امان دے دي کہ رومي فوج اپنے ساتھ چند دنوں کي خوراک لے کر يہاں سے نکل جائے اور قلعہ بَابِلْيُون ميں جو ذخيرہ اور جنگي اسلحہ ہے انہيں ہاتھ نہ لگائيں کيونکہ وہ مسلمانوں کے اموالِ غنيمت ہيں۔ اس کے بعد حضرت عمرو بن عاصؓ نے قلعہ بَابِلْيُون کے گنبدوں اور بلند اور مستحکم ديواروں کو توڑ ديا۔

(سيدنا عمر بن خطابؓ شخصيت اور کارنامے از علي محمد صلابي اردو ترجمہ صفحہ760 الفرقان ٹرسٹ خان گڑھ پاکستان)

قلعہ بَابِلْيُون

کي فتح کے بعد اسلامي فوج نے مصر ميں مختلف علاقوں اور قلعوں پر فتوحات حاصل کيں جن ميں سب سے نماياں طَرْنُوْط، نَقْيُوسْ ، سُلْطَيْس، کِرْيُون وغيرہ ہيں۔

(سيدنا حضرت عمر فاروق اعظمؓ از محمد حسين ہيکل مترجم حبيب اشعرصفحہ608،605،603،602 اسلامي کتب خانہ اردو بازار لاہور)

اسکندريہ کي فتح

کس طرح ہوئي؟ اس بارے ميں لکھا ہے کہ فُسطاط کي فتح کے بعد حضرت عمرؓ نے اسکندريہ کي فتح کي بھي اجازت دے دي۔ اسکندريہ اور فُسْطَاطْ کے درميان مقام کِرْيُون ميں روميوں کے ساتھ شديد جنگ ہوئي جس ميں مسلمانوں کو فتح ہوئي۔ اس کے بعد اسکندريہ تک رومي سامنے نہ آئے۔ مَقُوقَس جزيہ دے کر صلح کرنا چاہتا تھا ليکن روميوں نے اس پر دباؤ ڈالا جس کے نتيجہ ميں مَقُوقَس نے حضرت عمرو بن عاصؓ کو پيغام بھيجا کہ وہ اور قِبطي قوم اس جنگ ميں شامل نہيں ہيں۔ اس ليے ہميں اس ميں کوئي ضرر نہ پہنچے۔ قِبطي اس معرکے سے الگ رہے جبکہ انہوں نے اسلامي فوج کا ساتھ ديا اور مسلمانوں کے ليے راستہ ہموار کرنے لگے اور پل مرمت کرنے لگے۔ اسکندريہ کے محاصرہ ميں بھي قبطي لوگ مسلمانوں کو رسد مہيا کرتے رہے۔ اسکندريہ کي اہميت کا اندازہ اس بات سے لگايا جا سکتا ہے کہ جس وقت مسلمانوں نے اسکندريہ کو فتح کيا اس وقت اس شہر کو دارالحکومت کي حيثيت حاصل تھي۔ قسطنطنيہ کے بعد بازنطيني رومي بادشاہت کا دوسرا بڑا شہر مانا جاتا تھا۔ مزيد برآں دنيا کا سب سے پہلا تجارتي شہر تھا۔ بازنطيني يہ بات اچھي طرح جانتے تھے کہ اگر اس شہر پر مسلمانوں کا غلبہ ہو گيا تو اس کے بہت بھيانک نتائج سامنے آئيں گے۔ اسي پريشاني کي حالت ميں ہرقل نے يہاں تک کہہ ديا تھا کہ اگر عرب اسکندريہ پر غالب آ گئے تو رومي ہلاک ہو جائيں گے۔ اسکندريہ ميں ہرقل نے مسلمانوں سے لڑنے کے ليے بنفس نفيس تياري کي تھي ليکن تياري کے دوران مر گيا اور اس کا بيٹا قسطنطين بادشاہ بنا۔ اسکندريہ اپني فصيلوں کي استواري، ضخامت، محل وقوع اور محافظوں کي کثرت کي وجہ سے دفاعي اعتبار سے اپنا ايک منفرد مقام رکھتا تھا۔ اسکندريہ کا محاصرہ نو ماہ تک جاري رہا۔ حضرت عمرؓ کو تشويش ہوئي اور حضرت عمرؓنے خط لکھا کہ شايد تم لوگ وہاں رہ کر عيش پرست ہو گئے ہو ورنہ فتح ميں اس قدر دير نہ ہوتي۔ اس پيغام کے ساتھ مسلمانوں ميں جہاد کي تقرير کرو اور حملہ کرو۔ حضرت عمرؓ کا يہ خط سنانے کے بعد حضرت عمرو بن عاصؓ نے حضرت عُبادہ بن صامِت ؓکو بلايا اور عَلَم ان کے سپرد کيا۔ مسلمانوں نے نہايت شديد حملہ کيا اور شہر فتح کر ليا۔ اسي وقت حضرت عمروؓ نے مدينہ قاصد روانہ کيا اور اس کو کہا کہ جس قدر تيز جا سکو جاؤ اور اميرالمومنين کو خوشخبري سناؤ۔ قاصد اونٹني پر سوار ہوا اور منزليں طے کرتے ہوئے مدينہ پہنچا۔ چونکہ دوپہر کا وقت تھا تو اس خيال سے کہ يہ آرام کا وقت ہے، بارگاہ خلافت ميں جانے سے پہلے سيدھا مسجد نبويؐ کا رخ کيا۔ اتفاق سے حضرت عمرؓ کي لونڈي ادھر آ نکلي اور پوچھا کہ کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟ قاصد نے کہا اسکندريہ سے آيا ہوں۔ اس لونڈي نے اسي وقت جا کر خبر دي اور ساتھ ہي واپس آئي اور کہا کہ چلو تم کو اميرالمومنينؓ بلاتے ہيں۔ حضرت عمرؓ بغير انتظار کے خود چلنے کے ليے تيار ہوئے اور چادر سنبھال رہے تھے کہ قاصد پہنچ گيا۔ فتح کا حال سن کر زمين پر گرے اور سجدہ شکر ادا کيا۔ آپؓ اٹھ کر مسجدميں آئے اور منادي کرا دي کہ الصلوٰة جَامِعَہ۔ يہ سنتے ہي سارا مدينہ امڈ آيا۔ قاصد نے سب کے سامنے فتح کے حالات بيان کيے۔ بعدازاں قاصدحضرت عمرؓکے ساتھ ان کے گھر گيا۔ اس کے سامنے کھانا پيش کيا گيا۔ پھر حضرت عمرؓ نے قاصد سے پوچھا کہ سيدھے ميرے پاس کيوں نہيں آئے؟ اس نے کہا کہ ميں نے سوچا کہ آپؓ آرام کر رہے ہوں گے۔ فرمانے لگے تم نے ميرے متعلق يہ کيوں گمان کيا؟ ميں دن کو سوؤں گا تو خلافت کا بار کون اٹھائے گا؟

اسکندريہ کي فتح کے ساتھ سارا مصر فتح ہو گيا۔

ان معرکوں ميں کثرت سے قيدي بنائے گئے۔ حضرت عمرؓنے تمام قيديوں کے متعلق حضرت عمروؓ کو بذريعہ خط ارشاد فرمايا کہ سب کو بلا کر کہہ دو کہ ان کو اختيار ہے کہ مسلمان ہو جائيں يا اپنے مذہب پر قائم رہيں۔ اسلام قبول کريں گے تو ان کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو مسلمانوں کو حاصل ہيں ورنہ جزيہ دينا ہو گا جو تمام ذميوں سے ليا جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ کا يہ فرمان جب قيديوں کے سامنے پڑھا گيا تو بہت سے قيديوں نے اسلام قبول کيا اور بہت سے اپنے مذہب پر قائم رہے۔ جب کوئي شخص اسلام کا اظہار کرتا تو مسلمان اللہ اکبر کا نعرہ بلند کرتے تھے اور جب کوئي شخص عيسائيت کا اقرار کرتا تھا تو تمام عيسائيوں ميں مبارکباد کا شور اٹھتا تھا اور مسلمان غمگين ہوتے تھے۔

(ماخوذ ازالفاروق از شبلي نعماني صفحہ162تا165 دار الاشاعت کراچي 1991ء)
(ماخوذ از سيدنا عمر بن خطابؓ از الصلابي اردو ترجمہ صفحہ760تا764 الفرقان ٹرسٹ خان گڑھ پاکستان)

اسکندريہ کي لائبريري

جلائے جانے کا واقعہ بھي بعض مستشرقين بڑے زورشور سے بيان کرتے ہيں۔ اس کي حقيقت کيا ہے؟ اسکندريہ کي اس فتح کے ضمن ميں مخالفين بالخصوص عيسائي مصنفين کي طرف سے ايک اعتراض کيا جاتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اسکندريہ ميں موجود ايک بہت بڑے کتب خانے کو جلانے کا حکم ديا تھا اور اس اعتراض کے ساتھ گويا يہ تاثر پيدا کرنے کي کوشش کي جاتي ہے کہ مسلمان نعوذ باللہ کس قدر علم و عقل کے مخالف تھے اور اسکندريہ ميں موجود اتنے بڑے کتب خانے کو جلا ديا کہ چھ ماہ تک آگ جلتي رہي حالانکہ عقل و نقل دونوں اعتبار سے يہ اعتراض سراسر بناوٹي اور جعلي معلوم ہوتا ہے کيونکہ جس قوم کو اس کے رب اور راہنما رسول اللہ صلي اللہ عليہ وسلم نے يہ فرمايا ہو کہ طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِيْضَةٌ عَلٰى كُلِّ مُسْلِمٍ کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے

(سنن ابن ماجہ افتتاح الکتاب في الايمان وفضائل الصحابة والعلم باب فضل العلماء والحث علي طلب العلم حديث نمبر224)

اور جس نے يہ حکم ديا ہو کہ اُطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّيْنِ کہ علم حاصل کرو خواہ چين جانا پڑے

(کنزالعمال جزء10 صفحہ138 کتاب الباب الاول في الترغيب فيہ حديث28697 مؤسسة الرسالة بيروت 1985ء)

اور جن کے ليے قرآن کريم ميں علم و عقل اور تدبر و تفکر کے ليے درجنوں احکام و آيات موجود ہوں ايسے لوگوں پر کتب خانے کوجلانے کا الزام لگانا عقل اور درايت کے اصولوں کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے محققين جن ميں خود عيسائي اور يورپين محقق شامل ہيں انہوں نے اس بات کي ترديد کي ہے اور ثابت کيا ہے کہ اسکندريہ کے کتب خانے کو جلائے جانے کا واقعہ سراسر بناوٹي اور جعلي قصہ ہے۔ چنانچہ مصر کے ايک عالم محمد رضا اپني تصنيف ’سيرت عمر فاروقؓ‘ ميں اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہيں کہ اسکندريہ ميں آگ لگنے کا جو اعتراض کيا جاتا ہے اس کا ذکر اَبُوالْفَرْج مَلَطِيّ نے کيا ہے۔ اس نے يہ واقعہ تاريخ کي ايک کتاب ’مُخْتَصِرُ الدُّوَل ميں کيا ہے۔ يہ مؤرخ 1226ء ميں پيدا ہوا اور 1286ء ميں فوت ہوا۔ اس نے لکھا ہے کہ فتح کے وقت يُوْحَنَّا اَلنَّحْوِي نامي ايک شخص جو قِبطي پادري تھا اور مسلمانوں ميںيحييٰ کے نام سے مشہور ہوا، اعتقاد کے لحاظ سے عيسائيوں کے فرقہ يعقوبيہ سے اس کا تعلق تھا اور بعد ميں عيسائيوں کے عقيدہ تثليث سے رجوع کر ليا۔ اس نے عمرو بن عاصؓ سے خزائنِ ملوکيت ميں سے حکمت کي کتب مانگيں تو حضرت عمرو بن عاصؓ نے جواب ديا کہ حضرت عمرؓسے اجازت کے بعد ہي کچھ بتانے کے قابل ہوں گا۔ ويسے تو يہ بالکل جھوٹي کہاني ہے ليکن پھر بھي اعتراض کو ردّ کرنے کے ليے بيان کر ديتا ہوں۔ حضرت عمرؓنے لکھا کہ آپؓ نے جن کتابوں کا ذکر کيا ہے اگر تو ان کا مواد اللہ تعاليٰ کي کتاب کے موافق ہے تو پھر جو کچھ اللہ تعاليٰ کي کتاب ميں ہے وہ ہمارے ليے کافي ہے اور ان کتابوں کي ہميں کوئي ضرورت نہيں اور اگر ان کا مواد اللہ تعاليٰ کي کتاب کے خلاف ہے تو پھر ان کتابوں کي ہميں کوئي ضرورت نہيں۔ لہٰذا آپ ايسي کتابيں ضائع کرا ديں۔ حضرت عمرو بن عاصؓ نے اسکندريہ کے حماموں پر ان کتابوں کي چھانٹي شروع کر دي اور انہيں ان بھٹيوں ميں جلا ديا۔ اس طرح وہ کتابيں چھ ماہ ميں ختم ہو گئيں۔

اس روايت کا ذکر نہ تاريخ طبري ميں ہے نہ ابنِ اثير ميں ہے، نہ يعقوبي اور کِنْدِي ميں، نہ ابن عبدالحَکَمْ اور بَلَاذَرِي ميں اور نہ ہي ابنِ خلدون نے اس کا ذکر کيا ہے۔

صرف ابوالفَرَجْ نے تيرھويں صدي عيسوي کے نصف اور ساتويں صدي ہجري کے اوائل ميں کسي مصدر کا ذکر کيے بغير اسے لکھا ہے۔

پروفيسر بٹلر نے يوحنا نحوي کے بارے ميں تحقيق کي اور لکھا ہے کہ وہ سن 642ء ميں جس ميں لائبريري کو آگ لگنے کا ذکر ہے زندہ ہي نہيں تھا۔ دائرۂ معارف برطانيہ نے ذکر کيا ہے کہ يوحنا پانچويں صدي کے اواخر اور چھٹي صدي کے اوائل ميں زندہ تھا اور يہ بھي معلوم ہے کہ مصر ساتويں صدي کے اوائل ميں فتح ہوا تھا۔ اس بنا پر پروفيسر بٹلر نے درست کہا ہے کہ وہ اس وقت فوت ہو چکا تھا۔ يہ يعني جس کا حوالہ دے رہے ہيں وہ تو اس واقعہ سے جو غلط رنگ ميں ہي بےشک بيان کيا جاتا ہے اس سے بہت پہلے فوت ہو چکا تھا۔ پھر يہ کہ ڈاکٹر حسن ابراہيم حسن نے پروفيسر اسماعيل کي سند سے اپنے رسالے ’’تاريخ عمرو بن عاصؓ‘‘ ميں يہ تحرير کيا ہے کہ اس وقت دارِ کتب اسکندريہ يعني اسکندريہ کي جو لائبريري تھي وہ موجود ہي نہيں تھي کيونکہ اس کے دو حصوں ميں سے ايک بڑے حصے کو يُوْليوس قيصر (جوليس قيصر، جوليس سيزر (Julius Caesar) کے لشکروں نے بلا قصد، بغير کسي مقصد کے اور بلا وجہ سن 47 ق م ميں جلا ديا تھا اور اس کي دوسري قسم بھي اسي طرح مذکورہ زمانے ميں معدوم ہو گئي تھي اور يہ واقعہ تِيُوفِل (Teofill) پادري کے حکم پر چوتھي صدي ميں ہوا۔

پروفيسر بٹلر لکھتا ہے کہ

ابوالفرج کا قصہ تاريخي اساس سے محض بے سروپا ہے اور مضحکہ خيز ہے۔

اگر کتابيں جلاني ہوتيں تو وہ مختصر سي مدت ميں ايک دفعہ ہي جل سکتي تھيں اور اگروہ چھ ماہ ميں جلائي گئيں تو ان ميں سے بہت سي چوري بھي ہو سکتي تھيں۔ عربوں کے متعلق معروف نہيں کہ انہوں نے کسي چيز کو تلف کيا ہو۔ گِبَن (Gibbon) نے لکھا ہے کہ اسلامي تعليمات اس روايت کي مخالفت کرتي ہيں کيونکہ اس کي تعليمات تو يہ ہيں کہ جنگ ميں يہوديوں اور عيسائيوں کي ملنے والي کتب کو جلانا جائز نہيں اور جہاں تک علم، فلسفہ ،شعر اور دين کے ديگر علوم کي کتب کا تعلق ہے تو اسلام نے ان سے استفادہ کرنا جائز قرار ديا ہے۔ مسلمانوں نے مفتوحہ علاقوں ميں گرجوں اور ان کي متعلقہ چيزوں کو نقصان پہنچانے سے منع کيا بلکہ ذميوں کو بھي حريت دينيہ کي اجازت دي تھي تو کيا عقل تسليم کر سکتي ہے کہ امير المومنين، اسکندريہ کا کتب خانہ جلا دينے کا حکم ديں گے۔

(ماخوذ از سيرت عمر فاروقؓ از محمد رضا صفحات294 تا 297 مکتبہ اسلاميہ لاہور2010ء)

حضرت خليفة المسيح الاولؓ نے اپني کتاب ’’تصديق براہين احمديہ‘‘ ميں اس اعتراض کا ذکر کر کے جواب ديا ہے۔ آپؓ فرماتے ہيں کہ فَيْلُونَسْ حکيم اور فاضل اجل کي عرض پر عمرو سپہ سالار فوج نے اميرالمومنين عمر خليفہ ثانيؓ سے اس کتب خانے کے بارے ميں ارشاد پوچھا تو خليفہ نے لکھا في الفور جلا ديے جاويں۔ چھ مہينے تک وہ حمام گرم ہوتے رہے۔ آپ لکھتے ہيں يہ لوگ يہ کہتے ہيں ۔ يہ تو اعتراض صرف پادري صاحبان کي کاسہ ليسي کا نتيجہ ہے۔ اس ميں حقيقت کوئي نہيں۔ وَاِلَّا ناظرين غور کريں۔ حضرت خليفہ اولؓ فرماتے ہيں کہ اول يہ کہ اگر اسلام کي عادات ميں يہ ہوتا تو اسلام والے پھر خليفہ عمر رضي اللہ تعاليٰ عنہ اپنے عہد سعادت مہد ميں يہود اور عيسائيوں کي پاک کتب کو جلاتے کيونکہ وہي دونوں مذاہب، ہاں پاک کتابوں والے مذاہب مذہبِ اسلام کے پہلے مخاطب تھے۔ پھر مجوس پر اسلام کا پورا تسلط ہوا مگرکوئي تاريخ نہيں بتاتي کہ اسلام نے ان کي کتابيں جلائيں۔ اگر يہ فعل اسلام يا خلفائے اسلام کا داب ہوتا يعني ان کي عادت ہوتي تو اس کے ارتکاب کے اسباب ہميشہ اسلام ميں موجود ہوتے اور اسلام کو اس ميں کوئي چيز مانع نہيں تھي۔ حضرت خليفہ اولؓ فرماتے ہيں: دوسري بات يہ کہ اگر مذہبي کتابوں کا جلانا اسلامي بادشاہوں اور عوام اسلام کا کام ہوتا تو يوناني فلسفہ، يوناني طب، يوناني علوم کے ترجمے عربي زبان ميں محال ہوتے۔ سوئم يہ کہ اگر کتابوں کا جلانا اسلامي لوگ اختيار کرتے تو ضرور تھا کہ مکذب براہين احمديہ، جو براہين احمديہ کي تکذيب کر رہا ہے، اس کے جواب ميں حضرت خليفہ اول لکھ رہے ہيں ناں کہ اپنے ملک سے کوئي نظير ديتے اور انہيں اسکندريہ ميں سمندر پار نہ جانا پڑتا۔ يہاں لکھتے کہ ہندوستان ميں کون سي کتابيں جلي ہيں۔ چہارم يہ کہ سات سو برس سے زيادہ اسلام نے ہندوستان ميں سلطنت کي اور اس عرصہ ميں بھگوت، رامائن، گيتا، مہابھارت اور ان کے مثل لِنگ پُرَان (Ling Puran)، مَارْکُنْڈِي (Markundi) مشہور کتابيں ہيں جو آج تک مذہبي کتابيں اور مقدس پُسْتَک يقين کي جاتي ہيں۔ کسي کے جلانے کي خبر کان ميں نہيں پہنچي بلکہ ان کتابوں ميں سے بعض کے ترجمے ہوئے۔ پس تعجب آتا ہے کہ ان ہندوؤں نے کيونکر سمجھ ليا کہ مسلمان ان کي پُسْتَکَوْں کو جلاتے ہيں۔ انصاف سے سوچو۔

(ماخوذ ازتصديق براہين احمديہ جلد اوّل صفحہ203-204)

اس اعتراض کے جواب ميں ’تصديق براہين احمديہ‘ ميں حضرت مولانا عبدالکريم صاحبؓ نے بھي نوٹ لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہيں کہ اگرچہ اس وقت تک جبکہ اس واقعہ کي تحقيق نہ کي گئي تھي اور صحيح حالات روشني ميں نہ آئے تھے يہ الزام مسلمانوں کو ديا جاتا تھا مگر اب منصف مزاج اور حق پسند علماء ميں ايسے لوگ بہت کم رہ گئے ہيں جو يہ ناحق الزام مسلمانوں کو ديتے ہوں۔ اس الزام کي وجہ زيادہ تر تعصب يا ناواقفيت پر مبني تھي اور اس وقت بھي جب يہ الزام لگانے والے کے پاس کوئي صحيح سند موجود نہ تھي يعني اس قصہ کے بيان کرنے والے دو مؤرخ اس واقعہ سے پانچ سو اسّي برس بعد پيدا ہوئے اور کوئي پہلي سند ان کے پاس موجود نہ تھي۔ سينٹ کرائے (Saint Croix) جس نے اسکندريہ کے کتب خانے کي تحقيق ميں بہت سي کتابيں لکھي ہيں اس روايت کو بالکل جھوٹا ٹھہرايا ہے اور معلوم ہوا ہے کہ

يہ کتابيں جوليس سيزر (Julius Caesar) کي لڑائي ميں جل گئي تھيں۔

چنانچہ پلوٹارک (Plutarch) بھي ’لائف آف سيزر‘ ميں لکھتا ہے کہ جوليس سيزرنے دشمنوں کے ہاتھوں ميں پڑ جانے کے خوف سے اپنے جہازوں کو آگ لگا دي اور وہي آگ بڑھتے بڑھتے اس حد تک پہنچ گئي کہ اس نے اسکندريہ کے مشہور کتب خانۂ عظيم کو بالکل جلا ديا۔

ہيڈن (Haydn) نے اپني کتاب ڈکشنري آف ڈيٹس ريليٹنگ ٹو آل ايجز (Dictionary of Dates Relating to all Ages) ميں جہاں اس غلط روايت کو درج کيا ہے وہاں اپني تحقيقات سے يہ نوٹ لکھا ہے کہ يہ قصہ بالکل مشکوک ہے۔ حضرت عمرؓ کا قول ’’اگر وہ کتابيں مخالفِ اسلام ہيں تو جلا ديني چاہئيں‘‘ مسلمانوں نے تسليم نہيں کيا۔ اس قول کو بعض نے تِھيُوْفِلَسْ (Theophilus) اسکندريہ کے بشپ سے منسوب کيا ہے جو 391ء ميں ہوا اور بعض نے اسے کارڈينل جيمينيز (Cardinal Jimenez) کے ماتھے لگايا ہے جو 1500ء ميں تھا۔ پھر لکھتے ہيں کہ ہمارے مشہور جوان مرد ڈاکٹر لَائِٹْنَر (Dr. Leitner) نے اپني کتاب ’سِنين الاسلام‘ ميں اس غلط روايت کي پيروي کي ہے اور افسوس سے معلوم ہوتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب موصوف کو اپني تحقيقات ميں دھوکا ہوا ہے۔

ڈريپر صاحب، جان وليم ڈريپر (John William Draper) نے مشہور کتاب ميں پہلے اس قول کو غلط راويوں سے نقل کيا ہے ليکن بعد ميں جا کر اس قول کي غلطي کو تسليم کيا ہے اور لکھا ہے کہ درحقيقت يہ کتابيںجوليس سيزرکي لڑائي ميں جل گئي تھيں اور اب کامل يقين کے ساتھ کہا جا سکتا ہے کہ يہ قول بالکل بے اصل اور محض فسانہ ہے۔ اگر رونے کے لائق ہے تو يہ سچا واقعہ ہے، اگر جس بات پہ افسوس کرنا چاہيے، رونا چاہيے تو يہ واقعہ سچا ہے کہ متعصّب کارڈينل جيمينيز (Cardinal Jimenez) نے اسّي ہزار عربي قلمي کتابيں گرناڈا (Granada) کے ميدانوں ميں برباد کرنے والي آگ کے شعلوں کے حوالے کر دي تھيں۔ جب سپين کو انہوں نے مسلمانوں سے چھينا اور عيسائيوں کا قبضہ ہوا تو وہاں غرناطہ کي لائبريري سے اسّي ہزار کتابيں انہوں نے جلائي تھيں۔ يہ ہے اصل رونے کا مقام بجائے اسلام پہ الزام لگانے کے۔ ديکھو۔ Conflict Between Religion and Science (ماخوذ از تصديق براہين احمديہ جلد اوّل صفحہ203 حاشيہ) اس ميں يہ حوالہ درج ہے۔ تو بہرحال يہ لائبريري کے جلانے کا حوالہ تھا جس کا الزام لگايا جاتا ہے۔

پھر فتح بَرْقَہ و طرابلس وغيرہ کا ذکر

ہے۔ مصر فتح کر لينے اور وہاں امن و امان قائم ہوجانے کے بعد عمرو بن عاصؓ مغرب کي سمت بڑھے تا کہ ادھر سے مفتوحہ علاقوں کے ليے کوئي خطرہ باقي نہ رہے۔ کيونکہ بَرْقَہ اور طرابلس ميں روم کي کچھ فوج قلعہ بند تھي اور موقع ملنے پر لوگوں کو ورغلانے سے وہ مصر ميں مسلمانوں پر دھاوا بول سکتے تھے۔ اسکندريہ اور مراکش کے درميان جو علاقہ ہے اس کوبَرْقَہ کہتے ہيں۔ اس علاقے ميں کئي شہر اور بستياں آباد ہيں۔ چنانچہ عمرو بن عاص بائيس ہجري ميں اپني فوج لے کر بَرْقَہ کي طرف چلے۔ اسکندريہ سے بَرْقَہ تک کا راستہ نہايت سرسبزو شاداب اور گھني آبادي والا تھا۔ اس ليے وہاں تک پہنچنے ميں آپ کو دشمن کي کسي سازش کا سامنا نہيں کرنا پڑا اور جب وہاں پہنچے تو لوگوں نے جزيہ کي ادائيگي پر مصالحت کر لي۔ اس کے بعدبَرْقَہ کے لوگ خود بخود والي مصر کے پاس جاتے اور اپنا خراج جمع کرا آ تے ۔ مسلمانوں کي طرف سے کسي کو ان کے پاس جانے کي ضرورت نہيں پڑتي تھي۔ يہ لوگ مغرب ميں سب سے زيادہ سادہ لوگ تھے۔ ان کے يہاں کوئي فتنہ و فساد نہيں تھا۔

عمرو بن عاص يہاں سے نکلے تو طرابلس کي طرف بڑھے جو محفوظ و مضبوط قلعوں والا شہر تھا۔ وہاں رومي فوج کي بہت بڑي تعداد مقيم تھي۔ اس نے مسلمانوں کي آمدکي خبر سن کر اپنے قلعوں کے دروازے بند کر ديے اور مجبوراً مسلمانوں کے محاصرے کو برداشت کرنے لگے۔ يہ محاصرہ ايک ماہ تک جاري رہا ليکن مسلمانوں کو کوئي خاطر خواہ کاميابي نہيں ملي۔ طرابلس کے عقب ميں شہر سے متصل سمندر بہتا تھا اور سمندر اور شہر کے درميان کوئي فصيل قائم نہيں تھي۔ مسلمانوں کي ايک جماعت کو يہ راز معلوم ہو گيا اور پيچھے سے سمندر کي طرف سے شہر ميں داخل ہو گئي۔ انہوں نے زور سے نعرۂ تکبير بلند کيا۔ اب فوج کے سامنے اپني اپني کشتيوں ميں بھاگ کر پناہ لينے کے علاوہ کوئي اَور راستہ نہيں تھا۔ وہ جونہي پيچھے بھاگے پيچھے سے عمرو بن عاصؓ نے ان پر حملہ کر ديا۔ ان ميں سے اکثر تہ تيغ کر ديے گئے سوائے يہ کہ جو کشتيوں سے بھاگ نکلے۔ شہر ميں موجود سامان اور جائيداد کو مسلمانوں نے مال غنيمت کے طور پر حاصل کيا۔

طرابلس سے نمٹنے کے بعد عمرو بن عاص نے اپني فوج کو قرب و جوار ميں پھيلا ديا۔ آپ کا ارادہ تھا کہ مغرب کي سمت فتوحات مکمل کرکے تيونس اور افريقہ کا رخ کريں۔ چنانچہ اس سلسلہ ميں سيدنا عمر بن خطابؓ کے پاس خط لکھا جبکہ حضرت عمرؓ اسلامي لشکر کو نئے محاذ پر بھيجنے سے ہچکچاتے تھے اور خاص طور پر ايسي حالت ميں جبکہ شام سے طرابلس تک تيزي سے فتوحات کے باعث مفتوحہ علاقوں کي طرف سے ابھي بالکل مطمئن نہ ہوئے تھے۔ اس ليے آپ نے اسلامي لشکر کو طرابلس ميں ٹھہر جانے کا حکم ديا۔

حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت ميں اسلامي سلطنت

کا دائرہ دور دراز علاقوں کي سرحدوں کو چھونے لگا۔ اسلامي سلطنت مشرق ميں دريائے جِيْحون اور دريائے سندھ سے لے کر مغرب ميں افريقہ کے صحراؤں تک اور شمال ميں ايشيائے کوچک کے پہاڑوں اور آرمينيا سے لے کر جنوب ميں بحرالکاہل اور نُوْبَہ تک ايک عالمي ملک کي شکل ميں دنيا کے نقشہ پر نمودار ہوئي۔ نُوْبَہ مصر کا جنوبي علاقہ ہے جو بہت وسيع و عريض ہے جس ميں مختلف اقوام اديان اور ملل اور تہذيب و تمدن نے زندگي پائي تھي۔ يعني اسلامي حکومت نے مصر کے علاقے ميں ہي نہيں بلکہ يہ جو پورا علاقہ مسلمانوں کے زير اثر تھا اور وہاں مختلف اقوام تھيں، مختلف تہذيب و تمدن تھے، ان سب نے اسلام کے سايہ عدل اور رحمت ميں امن اور سکون کي زندگي گزاري۔ وہ دين اسلام جس نے اپنے عقائد اور عبادات اور تہذيب و تمدن کے مخالفين کو ہزاروں مخالفتوں کے باوجود اس دنيا ميں مکمل حقوق عطا کيے اور ان کي زندگي کا پورا پورا احترام کيا۔

(سيدنا عمر بن خطابؓ شخصيت اور کارنامے از محمد صلابي صفحہ765-766)
(معجم البلدان جلد1 صفحہ462 برقہ۔ دار الکتب العلمية بيروت)
(معجم البلدان جلد5 صفحہ357 نوبہ۔ دار الکتب العلمية بيروت)

جنگوں کے دوران مسلمانوں کي عبادات کا رنگ

کيسا ہوتا تھا؟ اس کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضي اللہ تعاليٰ عنہ فرماتے ہيں کہ ’’دنيا ميں ہر چيز قدم بہ قدم ترقي کرتي ہے۔ بڑے بڑے کام بھي يکدم نہيں ہوجايا کرتے بلکہ آہستہ آہستہ ہوتے ہيں۔ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کے زمانہ ميں بھي سارے مسلمان تہجد نہيں پڑھتے تھے آہستہ آہستہ انہيں عادت ڈالي جا رہي تھي حتي کہ پھر وہ زمانہ آيا کہ حضرت عمر رضي اللہ عنہ کے زمانہ ميں جنگ کے دنوں ميں بھي جب کہ ثابت ہے کہ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم بھي ’’بعض دفعہ‘‘ چھوڑ ديتے تھے، مسلمان تہجد پڑھتے تھے۔ ممکن ہے کہ رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم بھي جنگ کے دنوں ميں تہجد کے لئے اٹھا کرتے ہوں مگر يہ ثابت ہے کہ ’’بعض دفعہ‘‘ نہيں بھي اٹھتے تھے ليکن حضرت عمر رضي اللہ عنہ کے زمانہ ميں مسلمان جنگ کے دنوں ميں بھي تہجد پڑھتے تھے حتيٰ کہ ايک دفعہ جب ہرقل نے ان پر شب خون مارنے کا ارادہ کيا تو اس پر خوب بحث ہوئي اور آخر يہي فيصلہ ہوا کہ نہ مارا جائے کيونکہ مسلمانوں پر شب خون مارنا بے سود ہے۔ اس لئے کہ وہ تو سوتے ہي نہيں بلکہ تہجد پڑھتے رہتے ہيں۔ يہ بھي ترقي کي علامت ہے جو ابتدا ميں نہ تھي۔ شروع شروع ميں رسول کريم صلي اللہ عليہ وسلم کو اس کے لئے بہت تحريک و تحريص کي ضرورت پيش آتي تھي مگر بعد ميں آہستہ آہستہ کمزور بھي اس کے عادي ہو گئے۔‘‘

(خطبات محمود جلد13 صفحہ189)

خلفائے راشدين کے دور ميں ہونے والي جنگوں کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعوؓد فرماتے ہيں کہ

’’اسلام نے صرف مقابلہ کا حکم ہي نہيں ديا
بلکہ بعض مصلحتوں کے ماتحت ظلم کو برداشت کرنے کي بھي ہدايت دي ہے۔

چنانچہ جہاں اللہ تعاليٰ کي طر ف سے يہ اجازت ہے کہ اگر تمہيں کوئي شخص تھپڑ مارے تو تم بھي اسے تھپڑ مارو۔ وہاں اس نے يہ بھي کہا ہے کہ اگر تم مقابلہ کرنا مصلحت کے خلاف سمجھو تو تم چپ رہو اور تھپڑ کا تھپڑ سے جواب مت دو۔ پس وہ دليل جو عام طور پر ان جنگوں کے متعلق پيش کي جاتي ہے اس سے حضرت ابوبکرؓ، حضرت عمرؓ  اور حضرت عثمانؓ پر دشمن کے الزام کا دفاع تو ہو جاتا ہے۔ يہ تو پتہ لگ جاتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے ظلم نہيں کيا بلکہ قيصر نے ظلم کيا۔ حضرت عمرؓ نے ظلم نہيں کيا بلکہ کسريٰ نے ظلم کيا۔ حضرت عثمانؓ نے ظلم نہيں کيا بلکہ افغانستان اور بخارا کي سرحد پر رہنے والے قبائل اور کردوں وغيرہ نے ظلم کيا ليکن اس امر کي دليل نہيں ملتي کہ حضرت ابوبکرؓ نے ان کو معاف کيوں نہ کر ديا؟ حضرت عمرؓ نے ان کو معاف کيوں نہ کر ديا؟ حضرت عثمانؓ نے ان کو معاف کيوں نہ کر ديا؟ جب وہ مقابلے کے لئے نکلے تھے تو وہ قيصر سے کہہ سکتے تھے کہ تمہاري سپاہ سے فلاں غلطي ہو گئي ہے اگر اس کے متعلق تمہاري حکومت ہم سے معافي طلب کرے تو ہم معاف کر ديں گے اور اگر معافي طلب نہ کرے تو ہم لڑائي کريں گے۔ انہوں نے قيصر کے سامنے يہ پيش نہيں کيا کہ تم سے يا تمہاري فوج کے ايک حصہ سے فلاں موقع پر ظلم ہوا ہے اور چونکہ ہماري تعليم يہ بھي ہے کہ دشمن کو معاف کر دو اس لئے اگر تم معافي مانگو تو ہم معاف کرنے کے لئے تيار ہيں بلکہ جب اس نے ظلم کيا وہ‘‘ (مسلمان) ’’فوراً اس کے مقابلے کے لئے‘‘ (جنگ کے لئے) ’’کھڑے ہو گئے اور پھر اس کے مقابلہ کو جاري رکھا‘‘ اس مقابلے کو جاري رکھا۔ ’’جب کسريٰ کے سپاہيوں نے عراقي سرحد پر حملہ کيا تو سياسي طور پر اس کے بعد صحابہؓ اور کسريٰ کے درميان جنگ بالکل جائز ہو گئي ليکن اخلاقي طور پر حضرت عمرؓ کسريٰ کو يہ بھي کہہ سکتے تھے کہ شايد تم نے اس حملے کا حکم نہ ديا ہو بلکہ سپاہيوں نے خود بخود حملہ کر ديا ہو اس لئے ہم اس حملہ کو نظر انداز کرنے کے لئے تيار ہيں بشرطيکہ تم ہم سے معافي مانگو اور اس فعل پر ندامت کا اظہار کرو مگر انہوں نے ايسانہيں کيا۔ اسي طرح حضرت عثمانؓ نے اپنے زمانہ ميں دشمنوں کو يہ نہيں کہا کہ تم نے ظلم تو کيا ہے ليکن چونکہ ہمارا مذہب ظلم کي معافي کي بھي تعليم ديتا ہے اس لئے ہم تمہيں معاف کرتے ہيں بلکہ وہ فوراً اس ظلم کا مقابلہ کرنے کے لئے کھڑے ہو گئے اور لشکر بھيجے، لڑائي کي اور پھر اس لڑائي کو جاري رکھا۔ آخر اس کي کيا وجہ تھي؟‘‘ حضرت مصلح موعوؓد فرماتے ہيں ’’اگر ہم غور کريں تو ہميں معلوم ہو سکتا ہے کہ اس کي وجہ سوائے اس کے اَور کوئي نہيں تھي کہ حضرت ابوبکرؓ جانتے تھے کہ جب بھي بيروني خطرہ کم ہوا اندروني فسادات شروع ہو جائيں گے۔ وہ سمجھتے تھے کہ قيصر نے حملہ نہيں کيا بلکہ خدا نے حملہ کيا ہے تا مسلمان اس مصيبت کے ذريعہ اپني اصلاح کي طرف توجہ کريں اور اپنے اندر نئي زندگي اور نيا تغير پيد اکريں۔ حضرت عمرؓ جانتے تھے کہ کسريٰ نے حملہ نہيں کيا بلکہ خدا نے حملہ کياہے تا کہ مسلمان غافل، سست ہو کر دنيا ميں منہمک نہ ہو جائيں بلکہ ہر وقت بيدار اور ہوشيار رہيں۔ حضرت عثمانؓ جانتے تھے کہ بعض قبائل نے مسلمانوں پر حملہ نہيں کيا بلکہ خدا نے حملہ کيا ہے تا کہ مسلمان بيدار ہوں اور ان کے اندر ايک نئي روح اور ايک نئي زندگي پيدا ہو۔‘‘

(خطبات محمود جلد30 صفحہ175-176)

حضرت مصلح موعودؓ نے اپنے ايک خطبہ ميں يہ بيان فرمايا تھا۔ اس بنياد پر حضرت مصلح موعودؓ نے اس ميں آگے پھر يہ بھي اعلان فرمايا ہے، جماعت کو نصيحت فرمائي ہے کہ مصائب آتے ہيں، مشکلات ميں سے گزرنا پڑتا ہے تا کہ روحاني ترقي ہو۔ اور اس اصول کو اگر ہم آج بھي ياد رکھنا چاہتے ہيں تو پھر ياد رکھيں کہ يہ مصائب اور مشکلات جو ہيں ہميں خدا تعاليٰ کے قريب کرنے والے ہونے چاہئيں اور يہي فتوحات کا پھر ذريعہ بنتے ہيں۔ اگر ان باتوں ميں ہم صرف ڈر کے پيچھے پيچھے رہتے رہيں اور اپني اصلاح کي طرف توجہ نہ کريں تو پھر ترقي نہيں ہو سکتي۔ ہاں جب ترقيات مل جائيں اور مصائب ختم ہو جائيں تب بھي ہمارا تعلق اللہ تعاليٰ سے رہنا چاہيے ليکن ان دنوں ميں خاص طور پر اللہ تعاليٰ کي طرف زيادہ توجہ ہوني چاہيے اور ہميں اپني روحاني ترقي اور روحاني بہتري کي طرف توجہ ديني چاہيے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے يہي لکھا ہے کہ اگر ہم نے اس بات کو نہيں سمجھا تو کچھ نہيں سمجھا اور يہي بات ہر ايک احمدي کے ليے آج کل بھي سمجھنے والي ہے۔

٭…٭…٭

(الفضل انٹرنیشنل 26؍اکتوبر 2021ء)

پچھلا پڑھیں

خلاصہ خطبہ جمعہ بیان فرمودہ 22؍ اکتوبر 2021ء

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 اکتوبر 2021