• 5 دسمبر, 2021

امام کى اطاعت اور اتباع

حضرت مسىح موعود علىہ الصلوۃ والسلام اىک جگہ فرماتے ہىں:
’’مَىں خدا تعالىٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے اىک مخلص اور وفادار جماعت عطا کى ہے۔ مىں دىکھتا ہوں کہ جس کام اور مقصد کے لئے مَىں ان کو بلاتا ہوں نہاىت تىزى اور جوش کے ساتھ اىک دوسرے سے پہلے اپنى ہمت اور توفىق کے موافق آگے بڑھتے ہىں اور مىں دىکھتا ہوں کہ ان مىں اىک صدق اور اخلاص پاىا جاتا ہے۔ مىرى طرف سے کسى امر کا ارشاد ہوتا ہے اور وہ تعمىل کے لئے تىار۔‘‘

فرماىا: ’’حقىقت مىں کوئى قوم اور جماعت تىار نہىں ہو سکتى جب تک کہ اس مىں اپنے امام کى اطاعت اور اتباع کے لئے اس قسم کا جوش اور اخلاص اور وفا کا مادہ نہ ہو‘‘۔ فرماىا کہ ’’حضرت مسىحؑ کو جو مشکلات اور مصائب اٹھانے پڑے، ان کے عوارض اور اسباب مىں سے جماعت کى کمزورى اور بىدلى بھى تھى‘‘ (ىعنى حضرت عىسىٰ علىہ السلام کے بارے مىں فرماىا)۔ فرماتے ہىں کہ …… ’’اس کے برخلاف آنحضرت صلى اللہ علىہ وسلم کے صحابہ رضى اللہ تعالىٰ عنہم نے وہ صدق و وفا کا نمونہ دکھاىا جس کى نظىر دنىا کى تارىخ مىں نہىں مل سکتى۔ انہوں نے آپ کى خاطر ہر قسم کا دکھ اٹھانا سہل سمجھا۔ ىہاں تک کہ عزىز وطن چھوڑ دىا۔ اپنے املاک و اسباب اور احباب سے الگ ہو گئے اور بالآخر آپ کى خاطر جان تک دىنے سے تأمل اور افسوس نہىں کىا۔ ىہى صدق اور وفا تھى جس نے ان کو آخر کا ر بامرا د کىا۔ اسى طرح مَىں دىکھتا ہوں کہ اللہ تعالىٰ نے مىرى جماعت کوبھى اس کى قدر اور مرتبے کے موافق اىک جوش بخشا ہے اور وہ وفا دارى اور صدق کا نمونہ دکھاتے ہىں‘‘۔

(ملفوظات جلد اول صفحہ نمبر223-224 اىڈىشن 2003ء)

پھر آپ اپنى کتاب حقىقۃ الوحى مىں اپنے لئے خدا تعالىٰ کے نشانات کا ذکر فرماتے ہوئے چھہتروىں نشان مىں فرماتے ہىں کہ:
’’براہىن احمدىہ مىں مىرى نسبت خدا تعالىٰ کى ىہ پىشگوئى ہے اَلْقَىْتُ عَلَىْکَ مَحَبَّۃً مِنِّىْ وَلِتُصْنَعَ عَلٰى عَىْنِىْ۔ ىعنى خدا تعالىٰ فرماتا ہے کہ مَىں تىرى محبت لوگوں کے دلوں مىں ڈالوں گا۔ اور مىں اپنى آنکھوں کے سامنے تىرى پرورش کروں گا۔ ىہ اُس وقت کا الہام ہے جب اىک شخص بھى مىرے ساتھ تعلق نہىں رکھتا تھا۔ پھر اىک مدت کے بعد ىہ الہام پورا ہوا اور ہزار ہا انسان خدا نے اىسے پىدا کئے کہ جن کے دلوں مىں اُس نے مىرى محبت بھر دى۔ بعض نے مىرے لئے جان دى اور بعض نے اپنى مالى تباہى مىرے لئے منظور کى اور بعض مىرے لئے اپنے وطنوں سے نکالے گئے اور دُکھ دئىے گئے اور ستائے گئے اور ہزارہا اىسے ہىں کہ وہ اپنے نفس کى حاجات پر مجھے مقدم رکھ کر اپنے عزىز مال مىرے آگے رکھتے ہىں‘‘۔ (حقىقۃ الوحى روحانى خزائن جلد22 صفحہ239-240) (ىہاں حضرت مسىح موعود علىہ الصلوۃ والسلام نے اپنے اىک مخلص صحابى حضرت سىدناصر شاہ صاحب اوور سىئر کے اىک خط کا ذکر فرماىا۔ فرماتے ہىں کہ جنہوں نے لکھا ہے کہ) ’’مىرى بڑى تمنا ىہ ہے کہ قىامت مىں حضور والا کے زىر ساىہ جماعت بابرکت مىں شامل ہوں جىسا کہ اب ہوں۔ آمىن۔ حضور عالى! اللہ تعالىٰ بہتر جانتا ہے کہ خاکسار کو اس قدر محبت ذات والا صفات کى ہے کہ مىرا تمام مال وجان آپ پر قربان ہے اور مَىں ہزار جان سے آپ پر قربان ہوں۔ مىرے بھائى اور والدىن آپ پر نثار ہوں۔ خدا مىرا خاتمہ آپ کى محبت اور اطاعت مىں کرے۔ آمىن۔‘‘

(حقىقۃ الوحى روحانى خزائن جلد22 صفحہ240 حاشىہ)

حضرت مسىح موعود علىہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہىں کہ ’’جب مَىں اس درجہ کا صدق اور ارادت اکثر افراد اپنى جماعت مىں پاتا ہوں تو بے اختىار مجھے کہنا پڑتا ہے کہ اے مىرے قادر خدا! درحقىقت ذرّہ ذرّہ پر تىرا تصرف ہے۔ توُنے ان دلوں کو اىسے پُر آشوب زمانہ مىں مىرى طرف کھىنچا اور اُن کو استقامت بخشى، ىہ تىرى قدرت کا نشانِ عظىم الشان ہے‘‘۔

(حقىقۃ الوحى روحانى خزائن جلد22 صفحہ240)

(خطبہ جمعہ 25مئى 2012)

(خطبات مسرور جلد10 صفحہ318،319)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 نومبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ