• 5 دسمبر, 2021

آؤ! اُردو سیکھیں (سبق نمبر 25)

آؤ! اُردو سیکھیں
سبق نمبر 25

اُردو زبان مىں قواعد ِ مذکر و مؤنث ىا اسم کى جنس کے متعلق بحث جارى ہے۔ آج کے سبق مىں ہم مزىد قواعد کے بارے مىں بات کرىں گے۔ گزشتہ سبق مىں دو قواعد بىان کىے گئے تھے۔ نىز ىہ وضاحت کى گئى تھى کہ اُردو زبان کئى زبانوں کے الفاظ اور قواعد سے مل کر بنى ہے اس لىے گرامر کے قواعد پورى طرح سے ہر لفظ پہ کام نہىں کرتے اور جگہ جگہ استثنائى معاملات پىش آتے ہىں۔

قاعدہ نمبر3

ىہ اىک عام قاعدہ ہے کہ مذکر کے آخرى (ا) ىا (ہ) کو بدل کر (ى) لگا دىں تو مؤنث بن جاتا ہے۔جىسے لڑکا سے لڑکى شىشہ سے شىشى وغىرہ۔ اس طرح پىشہ وروں کے اىسے نام جن کے آخر پہ (ى) ہو جىسے دھوبى، مالى، تىلى وغىرہ اگر ان کے آخرى (ى) کو (ن) سے بدل دىں تو وہ مونث بن جاتے ہىں جىسے دھوبن، مالن، تىلن وغىرہ۔لىکن اگر پىشہ وروں کے نام کے آخر مىں (ا) ىا (ى) نہ ہو تو مشکل درپىش آتى ہے۔ اىسى صورت مىں مونث بنانے کے لىےىا تو الفاظ کا اضافہ کىا جاتا ہے ىا علامت تبدىل کى جاتى ہے۔جىسے استاد سے استادن غلط ہے،بلکہ الفاظ کا اضافہ کرکے اور لفظ کى شکل بدل کر مونث( استانى) بناىا گىا۔ پس اىسے الفاظ کى وضاحت علىحدہ سے آئے گى۔

بے جان چىزوں مىں لفظ کے آخر پہ (ى) کا اضافہ کردىا جاتا ہے ىا پھر (ا) کو (ى) سے بدل دىا جاتا ہے اس طرح بظاہر مونث لفظ بن جاتا ہے لىکن اصل مىں اىک بڑى شے کو چھوٹا کردىا جاتا ہے۔ جىسے پہاڑ سے پہاڑى، ٹوکرے سے ٹوکرى وغىرہ۔ىعنى اردو زبان مىں بے جان اشىاء کے لىے مذکر اور مونث حقىقى نہىں ہوتے بلکہ مصنوعى طور پہ اىک بڑى شے کو چھوٹا کرکے مونث کا رنگ دے دىا جاتا ہے۔تاہم جاندار اشىاء مىں اىسا نہىں ہوتا۔

قاعدہ نمبر 4

اىسے مذکر الفاظ جن کے آخر پہ کوئى اىسى علامت نہىں ہوتى جس سے ان کو مذکر قرار دىا جائے ان کے آخر پہ (ى) کا اضافہ کرکے مؤنث بنا ىا جاتا ہے۔ جىسے ہرن سے ہرنى، کبوتر سے کبوترى وغىرہ۔

قاعدہ نمبر 5

جانداروں مىں ىا تو مذکر مؤنث کے لىے الگ الگ الفاظ ہوتے ہىں جىسے بىل، گائے اور دوسرى صورت مىں مذکر لفظ کے آخر مىں علامت بدلنے سے ىا الفاظ کا اضافہ کرنے سے مؤنث بناىا جاتا ہے۔ ان دونوں صورتوں کى امثال دىکھتے ہىں۔

1۔جب دونوں لفظ الگ الگ ہوں

باپ، ماں۔ غلام، باندى ىا لونڈى۔ مىاں، بىوى ىابى بى۔ نواب، بىگم۔بىل، گائے۔ مىنڈھا، بھىڑ۔

2۔ جب مذکر کے آخر کا (ا) ىا (ہ) مونث بنانے کے لىے (ى) سے بدل دىے جاتے ہىں۔

لڑکا، لڑکى۔ بىٹا، بىٹى۔ اندھا، اندھى۔ گھوڑا، گھوڑى۔ بکرا، بکرى۔ شہزادہ، شہزادى۔ بندہ، بندى۔ چىونٹا، چىونٹى۔ مرغا، مرغى۔ بھانجا (بہن جاىا)، بھانجى۔ بھتىجا (بھائى جاىا)، بھتىجى۔ چچا، چچى۔ پھوپھا، پھوپھى۔ لنگڑا، لنگڑى۔

امثال جب (ى) کا اضافہ کردىا جاتا ہے

تىتر، تىترى۔ ہرن، ہرنى۔ ماموں ممانى۔ پٹھان، پٹھانى۔کبوتر، کبوترى۔

جب مذکر کے آخرى حرف کو (ن) سے بدل دىا جاتا ہے۔ امثال

نائى (بال کاٹنے والا، شادى بىاہ کا کھانا پکانے والا)، نائن۔ جوگى، جوگن۔ مالى، مالن۔ دھوبى، دھوبن۔ بھنگى،بھنگن۔ گوالا(دودھ کا کاروبار کرنے والا) گوالن۔فرنگى(انگرىز) فرنگن۔ پارسى(آگ کى عبادت کرنے والا) پارسن۔ بھائى، بہن۔ حاجى، حجن۔ دلہا، دلہن۔ چوہدرى، چوہدرائن۔ ناگ، ناگن۔

جب آخرى حرف کو ہٹا کر ىا ہٹائے بغىر (نى) ىا (انى) کا اضافہ کرکے مؤنث بنا ىا جاتا ہے۔

شىر، شىرنى۔ ملاّ، ملانى۔ استاد، استانى، مغل، مغلانى۔ ہاتھى، ہتھنى۔ اونٹ، اونٹنى۔ راجہ، رانى۔ فقىر، فقىرنى۔مور، مورنى۔ جىٹھ، جىٹھانى۔ دىور، دىورانى۔ بھوت، بھتنى۔ جن، جناّتنى۔

جب آخرى حرف مىں کچھ تبدىلى کے بعد، ىا بغىر تبدىلى کے (ىا) کا اضافہ کرنے سے مونث بنتا ہے۔

کتا، کتىا۔ بندر، بندرىا۔ چوہا، چوہىا۔ چڑا، چڑىا۔

حضرت مسىح موعودؑ فرماتے ہىں :
جو کہتے ہىں کہ ہم پر کوئى ابتلاء نہىں آىاوہ بد قسمت ہىں۔ وہ نازو نعمت مىں رہ کر بہائم کى زندگى بسر کرتے ہىں۔ ان کى زبان ہے، مگر وہ حق بول نہىں سکتى۔ خدا کى حمدو ثنااس پر جارى نہىں ہوتى۔ بلکہ وہ صرف فسق و فجور کى باتىں کرنے کے لىے اور مزہ چکھنے کے واسطے ہے۔ ان کى آنکھىں ہىں، مگر وہ قدرت کا نظاّرہ نہىں دىکھ سکتىں، بلکہ وہ بدکارى کے لىے ہىں۔ پھر ان کو خوشى اور راحت کہاں سے مىسّر آتى ہے۔ىہ مت سمجھو کہ جس کو ھم وغم پہنچتا ہے وہ بد قسمت ہے۔ نہىں۔ خدا اس کو پىار کرتا ہے۔ جىسے مرہم لگانے سے پہلے چىرنا اور جراحى کا عمل ضرورى ہے۔ اسى طرح خدا کى راہ مىں ہم و غم آنا ضرورى ہے۔ غرض ىہ انسانى فطرت مىں اىک امر واقعہ شدہ ہے۔ جس سے اللہ تعالىٰ ىہ ثابت کرتا ہے کہ دنىا کى حقىقت کىا ہے۔ اور اس مىں کىا کىا بلائىں اور حوادث آتے ہىں۔ ابتلاؤں مىں ہى دعاؤں کے عجىب وغرىب خواص اور اثر ظاہر ہوتے ہىں اور سچ تو ىہ ہے کہ ہمارا خدا تو دعاؤں ہى سے پہچانا جاتا ہے۔

(ملفوظات جلد3 صفحہ2،3 اىڈىشن 2016)

اقتباس کے مشکل الفاظ کے معنىٰ

ابتلاء: امتحان، آزمائش، تکلىف۔

بد قسمت: بد کا مطلب ہے برا، ىا برى اور قسمت کا لفظ تقسىم سے ہے جس کا مطلب ىہ لىا جاتا ہے کہ خدا تعالىٰ نے اپنے بندوں کے درمىان دولت، رزق، صحت، اولاد، زمىن جائىداد کى اىک تقسىم کى ہے۔ لوگ سمجھتے ہىں کہ جسے دنىا کى دولت، رزق، اولاد وغىرہ کثرت سے ملے ہىں وہ خوش قسمت ہىں ىعنى اچھى تقسىم ملى ہے اور جنھىں دکھ، بىمارى، غربت کا سامنا ہے وہ برى قسمت والے ہىں۔

نازو نعمت: آرام دہ زندگى، نوکر چاکر،خدمت گار وں، جدىد ٹىکنالوجى سے آراستہ زندگى۔

بہائم: جانور، چوپائے وغىرہ مراد ہے اىسا انسان جو بے فکر، بےنىاز، خود غرض ہو صرف کھانا پىنا اور سو رہنا اس کا معمول ہو۔ بے شعورى کى زندگى گزارنے والا۔

حق بولنا: سچى بات کہنا، خوشامد نہ کرنا، مصلحتاً سچ کو نہ چھپانا۔

خدا کى حمد و ثنا: ىعنى خدا تعالىٰ کى صفات پر اس کے حسن پر اس کے انعامات پر گفتگو کرنا۔

فسق و فجور کى باتىں : جاہلانہ باتىں کرنا، دنىا کى دولت اور دوڑ کى باتىں کرنا، لغو باتىں کرنا وغىرہ

مزہ چکھنے کے واسطے: ىعنى کھانے پىنے مىں غرق رہنا اور طرح طرح کے دنىاوى ضائقوں کا مزہ لىنا۔ مگر خدا تعالىٰ کى باتىں نہ کرنا، سچى گواہى نہ دىنا۔

قدرت کا نظارہ: خدا تعالىٰ کى طاقتىں اور صفات جو خوبصورت نظاروں، اور رشتوں مىں بکھرى ہوئى ہىں ان سے بے خبر رہنا۔

بدکارى: برے کام، جب آنکھوں کى بدکارى کى بات کى جائے تو فى زمانہ اس کا مطلب ہے لغو اور بے ہودہ وىڈىوز، فلمىں دىکھنا۔ بد نظرى کرنا۔ىعنى غىر عورتوں کو گھورنا۔

مرہم:Ointment/ medication

جراحى: Surgery

امر واقعہ شدہ: اىک ثابت شدہ حقىقت۔

حقىقت: اصلىت، ىعنى اىک چىز جو نظر کچھ اور آتى ہو مگر ہو کچھ اور، پس اس کى اصل شکل ظاہر کرنا۔

بلائىں : مصىبتىں، حادثے، مشکلات۔

عجىب وغرىب خواص اور اثر: Invisible, unknown, hidden and secret characteristics and effects of something

(عاطف وقاص۔ٹورنٹو کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 نومبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ