• 5 دسمبر, 2021

فرینکفرٹ میں کتب میلہ 2021ء

جرمنى کے شہر فرانکفورٹ مىں ہر سال کتب مىلہ لگتا ہے جس مىں جماعت احمدىہ کو5روزہ سٹال لگانےکى توفىق ملى۔ امسال ىہ کتب مىلہ 20 تا 24 اکتوبر کو منعقد ہوا۔

فرنىکفرٹ کتب ميلے کا شمار اپنى 500 سالہ تارىخ کى وجہ سے دنيا کے قديم ترىن کتب ميلوں ميں ہوتا ہے۔ اس کا آغاز فرنىکفرٹ ميں لگنے والے ايک بازار سے ہوا تھا جس ميں کتب کى فروخت شروع کى گئى تھى۔ اسى زمانہ مىں فرنىکفرٹ کے نزديکى شہر Mainz کے اىک جرمن شہرى جناب Johannes Gutenberg نے پرنٹنگ پريس ايجاد کرکے کتب کى اشاعت اور طباعت کے طرىق مىں انقلا ب پىدا کرديا، جس سے عوام کو سستے داموں اور بڑى تعداد مىں کتب مہىا ہونے لگىں۔ پرنٹنگ پرىس کى اىجاد سے قبل کاتب اپنے ہاتھوں سےکتب کى نقول تىارکىا کرتے تھے۔

 17ويں صدى کے آخر تک فرنىکفرٹ کاىہ کتابى مىلہ پورے يورپ ميں کتب کى تجارت کا مرکز رہا۔ بعد ميں سياسى تغيرات کى بناء پرجرمنى کے مشرقى شہر Leipzigميں بھى اىک کتب مىلہ کا انعقاد ہونےلگا، جو وقت کے ساتھ ساتھ وسعت مىں فرانکفورٹ پر سبقت لے گيا۔ لىکن جنگ عظيم دوم کے بعد فرنىکفرٹ کتب ميلہ کى اہمىت اس وقت دوبارہ بڑھى جب تقسىم ملک کى وجہ سے Leipzig کا شہر مشرقى جرمن رىاست مىں شامل ہو گىا۔

فرنىکفرٹ کتب مىلہ اِس وقت پبلشرز کى شمولىت کے لحاظ سے دنيا کاسب سے بڑاکتب ميلہ ہے جہاں ہر سال دنيا بھر سے ہزاروں کى تعداد ميں پبلشرز اور اشاعت و تصنيف سے تعلق رکھنے والوں کے علاوہ ديگر علمى شعبہ جات کے نمائندگان و افراد شامل ہوتے ہيں۔ کورونا وبا کے بڑھتے ہوئےپھىلاؤ اوراجتماعات پر حکومتى پابندىوں کى وجہ سے 2020 مىں ىہ مىلہ ڈىجىٹل آن لائن منعقد ہوا تھا۔ 2021ءمىں تقرىباً دو سال کے بعد، کتب مىلہ کو اپنى سابقہ رواىات کے مطابق لىکن بعض پابندىوں اور شرائط کے ساتھ منعقد کرنے کى اجازت ملى کىونکہ کرونا وباء کا زور اب بھى اسى طرح قائم ہے اس لئے حفظان صحت کے پىش نظر روزانہ زائرىن کى تعداد کو 25000 تک محدود کىا گىا تھا جس کے ساتھ ساتھ سماجى فاصلہ، ماسک پہننے کى پابندى اور صرف اُن زائرىن کو شامل ہونے کى جازت دى گئى جنہىں حفاظتى ٹىکے لگ چکے تھے اور جن کا کرونا ٹىسٹ منفى تھا ىا جن احباب وخواتىن کے پاس کرونا کے بعد صحت ىابى کا سرٹىفىکىٹ تھا۔ اسى طرح حالات کے پىش نظر صرف محدود تعداد مىں پبلشرز بھى مىلہ مىں شامل ہو سکے۔ ہر سال کسى اىک ملک کو بطور مہمان خصوصى اس مىلے مىں شامل کىا جاتا ہے۔ امسال ىہ اعزار کىنىڈا کو دىا گىا تھا۔ مىلہ سے پہلے اور اس کے دوران اىک خاص موضوع دائىں بازو کے نظرىہ رکھنے والے پبلشرز کى شمولىت رہى، جس پر مختلف دانشوروں، مصنفوں اور سىاستدانوں نے مىلہ کى انتظامىہ پر اىسے پبلشرز کو مىلہ سے بے دخل کرنے کا کہا۔

1993ءسےاس کتب مىلےمىں الىکٹرانک مىڈىا کو بھى جگہ دى گئى تاکہ کتب کى صنعت کے فروغ کے ساتھ ساتھ جدىد طرىقہ تعلىم کو بھى اپنا کر اُن سے فائدہ اٹھاىا جائے۔ شروع شروع مىں انجمن اور بعض پبلشرز کى طرف سے مزاحمت بھى ہوئى لىکن 2003ءسے اس مىلے کى مقبولىت مىں تىزى سے اضافہ ہوااور متعدد اداروں کے کاروبار مىں اضافہ دىکھنے مىں آىا۔اس مقصد کو مزىد بہتر کرنےکے لىے مختلف ہالز مىں 7 پرىزنٹىشن فورمز کھولے گئے ہىں جنہوں نے گاہکوں اور زائرىن پر مثبت اثرات مرتب کئے ہىں نىز 2011ءسے ہالوں مىں ہاٹ سپاٹس کا قىام عمل مىں لاىا گىا اسى طرح آڈىو کتابوں اور جدىد وقدىم کتب کى دکانوں کے علاوہ اور لائبرىرى سىکشن مىں لىکچر زکا اہتمام کىا جاتا ہے۔

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔ امسال بھى شعبہ اشاعت جماعت احمدىہ جرمنى کے تحت مىلہ مىں بھر پور شرکت کى گئى، جس کى تىارى کئى مہىنوں سے جارى تھى۔ جماعت احمديہ جرمنى کو 1967ء سے اس مىلے ميں اُس وقت سے شمولىت کى توفىق مل رہى ہے جب مکرم فضل الٰہى انورى صاحب مرحوم مبلغ انچارج جرمنى تھے۔مولانا موصوف کى ہى کاوشوں سے مرکز ربوہ ميں قائم Oriental Publications نامى پبلشنگ ہاؤس کى طرف سے اس نمائش ميں شرکت کى گئى تھى۔ بعد ميں جماعت جرمنى کے شعبہ اشاعت کے تحت چلنے والے پبلشنگ ہاؤس Verlag Der Islam کے نام پر شموليت کى جانے لگى، جو اَب تک اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ جارى ہے۔

 اس مىلے کى ترتىب کچھ اس طرح ہوتى ہے کہ پہلے تين دن تصنيف و اشاعت سے وابستہ افراد کے لئےمخصوص ہوتے ہيں۔ جبکہ آخرى دو دنوںميں نمائش کے دروازے عوام النا س کےلئے کھول ديئے جاتے ہيں۔ بک فيئر عموماً اکتوبر کے مہينے ميں لگتا ہے۔ اس مرتبہ يہ بک فيئر 20 تا 24 اکتوبر 2021ء کو منعقد ہوا۔ جماعتى سٹال کى تيارى اور اس پر ڈيوٹى کے لئے 20 افراد پر مشتمل ٹيم مختلف کام سر انجام ديتى رہى۔ پہلے تين دن مختلف اشاعتى اداروں، کتب فروشوں، دانشوروں اور صحافيوں سے تبادلہ خيال کے لئے ميٹنگز کى جاتى رہيں۔ آخرى دو دن عام پبلک کو جماعتى لٹريچر و کتب کے ذريعےجماعتى عقائد سے متعارف کروايا گيا۔ اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ۔ امسال تقرىباً 1500 افراد جماعتى سٹال پر آئے اور بڑى تعداد ميں مختلف لٹريچر ساتھ لے کر گئے ىا مختلف امور پر تبادلہ خىال کرتے رہے۔ اس سال قرآن کرىم جرمن ترجمہ کا نىا اىڈىشن خاص توجہ کا مرکز بنا رہا۔ اسى ضمن مىں شعبہ تبلىغ کى سوشل مىڈىا ٹىم نے ساتھ ساتھ سٹال سے متعلق تصاوىر اور خبرىں جماعت جرمنى کے سوشل مىڈىا اکاونٹ سے مسلسل نشر کىں۔ امسال جماعتى سٹال سے جرمن قرآن کرىم کے نئے اىڈىشن کے حوالے سےىوٹىوب پر اىک خصوصى لائىو پروگرام نشر کىا گىا۔ اس پروگرام کے لئے مکرم کامران خان صاحب، ىونىورسٹى آف فرائىبرگ کو بطور خاص مدعو کىا گىا تھا۔ کامران خان صاحب جماعت احمدىہ کے تراجم قرآن کے متعلق پى اىچ ڈى کر رہے ہىں اور گلوبل قرآن پروجىکٹ مىں رىسرچر ہىں۔

کرونا کى وجہ سے عمومى طور پر مشکل حالات ہونے کے باوجود بک فئىر پر جماعتى شمولىت کامىاب رہى۔ اللہ تعالىٰ سے دعا ہے کہ وہ تبليغ اسلام کے لئے کى جانےوالى ان مساعى کوبا ثمر بنائے، آمين۔

(رپورٹ: صفوان احمد ملک۔ نمائندہ روزنامہ الفضل جرمنی)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 نومبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ