• 26 جنوری, 2022

This week with Huzur (2021ء اکتوبر 22)

This week with Huzur
22 اکتوبر 2021ء

اس ہفتے اىک ہزار سے زائد واقفىنِ نو کىنڈا کو حضرت امىر المومنىن خلىفۃ المسىح الخامس  اىدہ اللہ تعالىٰ کے ساتھ دو مختلف آن لائن   ملاقاتوں کا شرف حاصل ہوا جس مىں سے پہلى ملاقات واقفىنِ نو خدام  جبکہ دوسرى ملاقات واقفىنِ نو اطفال کىنىڈاکے ساتھ تھى جس مىں انہوں نے مختلف سوالات کے ذرىعے  پىارے امام اىدہ اللہ سے رہنمائى حاصل کى ۔

واقفىنِ نو خدام کىنڈا سے ورچوئل ملاقات

اس  ہفتے پہلى آن لائن ملاقات واقفىن ِ نو خدام کے ساتھ تھى جس کے لىے 500 سے زائد واقفىن نو انٹرنىشنل سنٹر Mississauga مىں جمع ہوئے تھے۔جہاں انہوں نے مختلف اىشوز کے متعلق حضور انور اىدہ اللہ سے رہنمائى حاصل کى۔

*اىک خادم نے حضور اىدہ اللہ سے سوال کىا کہ ہم کس طرح خدا  تعالىٰ کے ساتھ تعلق مىں ترقى کر سکتے ہىں؟

جس پر حضور انور نے فرماىا: آپ کچھ عرصے سے خطوط کے ذرىعہ سوالات پوچھ رہے ہىں اور مجھے باقاعدہ لکھ رہے ہىں ۔آپ کے ہر خط مىں کوئى نہ کوئى سوال ہوتا ہےجس کا مىں  جواب دے رہا ہوں۔کىا آپ وہى ہىں؟ جس پر موصوف نے جواب دىا جى حضور۔ اس  کے بعد پىارے امام  نے فرماىا کہ مجھے خوشى ہوئى ہے کہ آپ کو روحانى باتوں مىں، اىمان مىں اور مذہبى نالج مىں بہت دلچسپى  ہے۔پہلى بات تو ىہ ہے کہ ہمىں خدا تعالىٰ کے ساتھ communication مىں ترقى کرنى چاہىےلىکن ىہ ضرورى نہىں کہ ہر دفعہ آپ کو الہام ىاخواب آئے ۔اگر نماز ادا کرنے اور خدا تعالىٰ سے مدد طلب کرنے کے بعد آپ  کا دل مطمئن ہے  تو اس کا مطلب ہے کہ آپ  کا خدا تعالىٰ کے   ساتھ تعلق بہتر ہے پس  اس تعلق  کو جتنا آپ Develop کر سکتے ہىں کرىں ۔تو ىہ اىک process  سے گزر کر ہى ممکن ہےآپ ان چىزوں کو مختصر وقت مىں حاصل نہىں کر سکتے۔اگر آپ پرائمرى سکول مىں  ہوں   تو آپ اُس  شخص  کے ساتھ  جس کى قابلىت پوسٹ گرىجوىشن ہو  مقابلہ نہىں کر سکتے ۔ آپ کو  اس مقصد کے حصول کے لىے سخت محنت کرنا ہو گى پس اس کے  لىے کوشش کرتے رہىں  ان شاء اللہ اىک دن ضرور آپ اچھے نتائج پا لىں گے۔لىکن ہمىشہ ىاد رکھىں کہ آپ کے پاس خدا تعالىٰ سے دعا کرنے ، اس کے آگے جھکنے ،اس سے مغفرت طلب کرنے اور  ہر معاملہ مىں  ا سکى مدد حاصل کرنے کے علاوہ  اور کوئى راستہ نہىں ہےاور ىہى سچے مومن کى نشانى  بھى ہے۔اس طرح سے  آہستہ آہستہ آپ   خدا تعالىٰ کے ساتھ  تعلق مىں بڑھتے جائىں گے۔

*اىک خادم نے سوال کىا کہ آج کل کے دور مىں اىلوپىتھک  نے ہومىو پىتھک پر غلبہ کىا ہوا  ہے۔ اىک وقف ِنو کى حىثىت سے کس طرح ہم دنىا کو ہومىو پىتھى کى حقىقت اور اس کے جسم پر مثبت اثرات کے بارے مىں بتا سکتے ہىں؟

اس پر حضور انور نے فرماىا کہ ہومىوپىتھى دوائى کى اور علاج کى اىک قسم ہےجو مرىضوں کے علاج کے لىے استعمال ہو رہى ہے۔ ىہ کوئى شرعى معاملہ نہىں ہے لہذا آ پ کو اس بارے مىں پرىشان ہونے کى ضرورت نہىں کہ اىلو پىتھک  نے ہومىو پىتھک پر غلبہ کىا ہوا ہے۔کوئى فرق نہىں پڑتا۔اصل بات ىہ ہے کہ کس طرح ہم اپنے مرىضوں کا اچھے  طرىق سے علاج کر سکتے ہىں۔ہومىو پىتھى اىک دوائى ىا علم  ہے جسے ہم علاج کے لىے استعما ل کر سکتے ہىں۔اگر آپ کا  اس پر ىقىن ہے تو بہت اچھےلىکن وہ لوگ  جنہىں ہومىوپىتھى پر ىقىن نہىں ہے اگر آپ ان کو  دے بھى دىں تو اس کا ان پر کوئى خاص اثر نہىں ہو گا۔ اىک شخص جس کو  حضرت مسىح موعودؑ پر پختہ اىمان تھا اور اسى وجہ سےوہ ىہ ىقىن رکھتا تھا کہ حضرت مسىح موعود ؑ کى اولاد  کابھى خدا تعالىٰ سے اچھا تعلق ہے۔اىک دفعہ اس کے پىٹ مىں بہت درد تھااور کوئى دوا کام  نہىں کر رہى تھى۔ حضرت مرزا شرىف احمد صاحب  بھى چونکہ اسے جانتے تھے  اس لىے آپ اس کو دىکھنے اور اسکى خىرىت  پوچھنےکے لىے وہاں گئےتو دىکھا کہ  وہ شخص تکلىف سے کَراہ رہا تھااور  کوئى دوائى بھى اس پر اثر نہىں کر رہى تھى۔حضرت مرزا شرىف احمد صاحب نے اپنا ہاتھ جىب مىں ڈالااور 3،4 منٹ بعد آپ نے اپنا ہاتھ جىب مىں سے نکالااور اسے کہا کہ اپنا منہ کھولواور کچھ چھوٹى چھوٹى گولىاں   اس کے منہ مىں ڈالىں اور اسے کہا کہ پانى کے ساتھ نِگل لو۔اس کے 10 منٹ بعد وہ بالکل ٹھىک تھا۔کسى شخص نے حضرت مرزا شرىف احمد صاحب سے پوچھا  کہ آپ نے کىا کِىا ہے؟آپ نے فرماىا کہ کچھ بھى نہىں اصل بات ىہ کہ  مىں جانتا  تھا کہ اس مسئلے کو psychologically حل کر سکتے ہىں۔مىرى جىب مىں  کاغذ کا اىک چھوٹا سا ٹکڑا تھا مىں نے اس پر دعا کى اور اس کى چھوٹى چھوٹى  گولىاں بنا ئى اوراس کے منہ مىں ڈال دىں اور ىہ کاغذ کام   کر گىا۔ معجزات اسى طرح ہوتے ہىں۔ہومىو پىتھى مىں کچھ اىسى دوائىاں ہىں جو معجزانہ رنگ مىں کام کرتى ہىں لىکن ىہ ضرورى نہىں کہ ہر مرىض اورہر بىمارى  مىں ہومىو پىتھى کام کرےاورىہ  بھى غلط ہے کہ ہومىو پىتھى پر ابھى تک تحقىق نہىں ہوئى۔فرانس اور جرمنى مىں کافى ڈاکٹرز ہىں جو ہومىوپىتھى پر تحقىق کر رہے ہىں اور انہوں نے  مختلف بىمارىوں کے لىے کچھ نئى دوائىاں بھى بنائى ہىں ۔اس لىے ہمىں زىادہ پرىشان ہونے کى ضرورت نہىں  کىونکہ ىہ  کوئى شرعى معاملہ نہىں  ہے۔اگر آپ ىقىن رکھتے ہىں کہ ہومىو پىتھى اچھى ہے تو بہت اچھا ہے  ان کے لىے جو اس پر ىقىن رکھتے ہىں ۔لىکن وہ جو  اس پر ىقىن نہىں رکھتے ان پر اپنے خىالات کو مسلط نہىں کرنا چاہىے کہ وہ ضرور ہومىو پىتھى استعمال کرىں۔

*اىک خادم نے سوال کىا کہ کس طرح ہم خدا تعالىٰ پر اىمان اور توکل کو بڑھا سکتے ہىں؟

حضور انور اىدہ اللہ نے فرماىا: آپ کو نماز فجرادا کرنے مىں  کتنا وقت لگتا ہے؟ 5 منٹ؟ جس پر خادم نے جواب دىا کہ تقرىباَ 5 سے دس منٹ۔اس پر حضور انور اىدہ اللہ نے فرماىا کہ پانچ سے دس منٹ مىں آپ سورہ فاتحہ کے معانى کىسے سمجھ سکتے ہىں؟ اگر آپ مسجد مىں نماز فجر ىا کوئى دوسرى نماز با جماعت ادا نہىں کر رہے ىا سنتىں اد کر رہے ہىں تو اپنى نماز مىں بار بار سورہ فاتحہ کو دوہرائىں اور ’’اِھدناالصّراط  المستقىم‘‘ کثرت سے پڑھىں تو خدا تعالىٰ ضرورسىدھے راستے کى طرف رہنمائى کرے گا۔ اپنى  نماز وں مىں کثرت سے اس کا وِرد کرىں ۔ کثرت سے سجدہ مىں ىہ دعا کرىں کہ اللہ تعالىٰ آپ کو اىمان مىں مضبوطى عطا کرے اور آپ اچھے مومن بن جائىں۔ تو اس کے لىے آپ کو کچھ وقت لگے گا۔آپ کىا کرتے ہو؟آپ سکول ىا کالج ىا ىونىورسٹى جاتے ہو؟اس پر موصوف نے جواب دىا کہ مىں ہائى سکول جاتاہوں۔اس پر حضور انور نے استفسار فرماىا کہ گرىڈ 12؟جس کا انہوں نے جواب دىا کہ جى حضور۔حضور انور نے فرماىا ۔ىہ آپ کا سىکنڈرى سکول مىں آخرى سال ہے۔جب تک آپ سخت محنت نہىں کرتے، ان  تمام مضامىن کا گہرائى مىں جا کر علم حاصل نہىں کر لىتے ، سلىبس ىا کتب جو آپ کو پڑھائى گئى ہىں  اچھى طرح نہىں پڑھ لىتے ۔ تب تک آپ کامىابى حاصل نہىں کر سکتےتو پھر آپ تقوى ٰ اور پرہىزگارى مىں کس طرح  سےبغىر محنت شاقہ کے کامىاب ہو سکتے ہىں۔آپ امتحان سے پہلے  سکول سے آنے کے  بعد بھى  چھ ،سات  گھنٹے پڑھائى کرتے ہىں لىکن آپ ىہاں صرف پانچ ىا زىادہ سے زىادہ  دس منٹ  دے رہے ہىں  اور مزىدىہ کہ  قرآن کرىم  مىں سے جو آپ تلاوت کر رہے ہوتے ہىں آپ کو معلوم نہىں ہوتا کہ آپ کىا پڑھ رہے ہىں؟اگر آپ اپنے مضمون کے متعلق نہىں  جانتے تو پھر آپ کس طرح سے سوالات کے جوابات لکھ سکتے ہىں؟ اگر ا ٓپ نے سمجھے بغىر کتاب پڑھى ہوئى ہو توجب آپ سوالىہ پىپردىکھىں گے توآپ کو سوالات کى سمجھ نہىں آئے گى۔سوالات سمجھنے کے لىے ضرورى ہے کہ آپ کو معلوم ہو کہ ان کے جوابات کىا ہىں؟ اور ىہ سلىبس ىا کتاب مىں کہاں درج تھے؟اور ٹىچر نے  مجھےاس مضمون کے متعلق کىا پڑھاىا تھا؟ پھر آپ جواب دىنے کى کوشش کرىں گےلىکن ىہاں آپ کو کچھ بھى نہىں پتا کہ اللہ تعالىٰ کىا فرما رہا  ہے اور آپ ىہ پوچھ رہے ہىں کہ آپ خدا تعالىٰ پر کس طرح سے اىمان لا سکتے ہىں؟اگر آپ کو علم نہىں کہ اللہ تعالىٰ کىا فرما رہا ہے تو آپ کس طرح خدا تعالىٰ پر اىمان لا سکتے ہىں؟اس کے لىے ضرورى ہے کہ آپ ترجمہ کے ساتھ قرآن کرىم کى تلاوت کرىں تب آپ کومعلوم ہو گا اور ىہ آپ کا  اللہ تعالىٰ پر اىمان اور ىقىن مضبوط کرے گا ۔

km5

*اىک خادم نے سوال کىا کہ حضور !اىک اىسے  احمدى دوست  کو approach کرنے کا بہترىن طرىقہ کىا ہے؟جو گناہوں  مىں مبتلا ہو، جماعت سے دور ہو رہا ہو اور اىسى صورت حال مىں ہو جو اس کے لىے نقصان دہ ہے ۔

حضور انور اىدہ اللہ نے فرماىا: آپ کو سب سے پہلے اس کى وجہ  تلاش کرنى  ہوگى۔اگر آپ اس کے قرىبى دوست ہىں تو آپ کو معلوم ہونا چاہىے کہ اب اس کى کىا ترجىحات ہىں؟اس کے کون سے دوست ہىں جن کے ساتھ اس کا اٹھنا بىٹھنا ہے۔اس کى company کىا ہے؟کىا ىہ آپ کو avoid  کرتے ہوئے اىسے دوستوں کے ساتھ بىٹھتا  ہے جو  اچھے نہىں ہىں اور مختلف گناہوں مىں مبتلا ہے؟اگر اىسا  ہى ہے تو آپ اسے بتاؤ کہ جس راستہ کى طرف آپ چل رہے ہو ىہ  غلط راستہ ہےىہ آپ کى زندگى برباد کر دے گااور بالآخر  آپ اپنے آپ کو تباہ وبرباد کر لو گے۔پس اس کے ہمدرد بنىں۔جب اس کو ىہ احساس ہو گىا کہ آپ اس کےحقىقى دوست  اور  ہمدرد ہىں تو پھر وہ آپ کى بات سنے گا۔اس کے علاوہ بھى کچھ وجوہات ہوتى ہىں مثلاَبعض دفعہ کچھ  نو جوانوں کے  اپنے گھروں مىں  مسائل ہوتے ہىں جىسے کہ ماں باپ کے آپس مىں اچھے تعلقات نہىں ہىں تو ىہ بھى وجہ بن رہى ہوتى ہے۔اىک طرف تو والدىن کہہ رہے ہوتے ہىں کہ مذہب ہمىں اچھے کام کرنے کا کہتا ہےلىکن ماں باپ  کے اپنے عمل اس کے خلاف ہوتے ہىں ىا اس کے مطابق نہىں ہوتے تو ىہ بات بھى انہىں  پرىشان کر رہى ہوتى ہے۔بعض دفعہ کچھ عہدىداران اِن مسائل کى وجہ بن رہے ہوتے ہىں۔پس بہت سارى وجوہات ہو سکتى ہىں اس لىے سب سے  پہلے آپ کو اصل وجہ تلاش کرنى ہو گى اور پھر اس کے مطابق  ان کو Treat  کرىں۔سب سے زىادہ ضرورى اور اہم بات ىہ ہے کہ ان کو ىہ احساس  ہو کہ آپ ان کے خىر خواہ اور ہمدرد  ہىں  تب وہ آپ کى بات سنىں گے۔

*اىک خادم نے سوال کىا کہ حضور! مىں اىک شہىد کا بىٹا ہوں۔حضور کى شہداء کى فىملى کے لىے کىا نصائح ہىں؟

حضور نے فرماىا: آپ کے والد پاکستان مىں شہىد ہوئے اور انہوں نے جماعت کے لىے جان  کى قربانى  دى اور آپ اس ملک مىں جماعت کى وجہ سے ہو ۔پس کوشش کر کےاس ملک مىں اس سوسائٹى کى بُرى چىزوں  کى بجائے ىہاں کى اچھى چىزوں کوا پنائىں اور ان لوگوں کے سامنے اپنا اچھا نمونہ پىش کرىں۔اگر آپ طالب علم ہو  تو پڑھائى مىںExcel کرو۔اگر آپ worker ہو تو خوب محنت کرواور ہمىشہ ىہ بات ذہن مىں رکھو کہ  جو کچھ بھى آپ کر رہے ہو خدا تعالىٰ آپ کو دىکھ رہا ہے۔اگر لوگ آپ کونہىں بھى  دىکھ رہے  تو خدا تعالىٰ بہرحال  آپ کو دىکھ رہا ہے۔اب  جب کہ  آپ  جماعت کى وجہ سے ىہاں  ہىں کىونکہ  آپ کےوالدىا رشتہ دار نے خدا تعالىٰ کے لىے قربانى دى تھى اس لىے  آپ کو چاہىے  کہ محنت کرکے  خداکے احکامات  کو سنىں اور ان پر عمل بھى کرىں اوراپنى مثال اىک  اچھے مومن اور احمدى بن کر دکھائىں۔

دوسرى ملاقات
واقفىنِ نو کىنىڈا مجلس اطفال الاحمدىہ سے ورچوئل ملاقات

اگلے دن مجلس اطفال لاحمدىہ  کىنىڈا   کے 550 سے زائدواقفىن ِنو کو حضرت خلىفۃ المسىح  الخامس اىدہ اللہ تعالىٰ سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا جس مىں اطفال نے مختلف موضوعات پر حضور اىدہ اللہ سے سوالات کے ذرىعہ رہنمائى حاصل کى۔

*اىک طفل نے سوال کىا کہ  ہائى اسکول مىں  نئے طالب علم ہونے کى حىثىت سےمىں نے اسکول  مىں جنم لىنےوالى بہت سى  برائىاں مشاہدہ  کى  ہىں ۔حضور!ہمىں نصىحت کرىں کہ کس طرح  ہم عمومى طور پر  ہائى اسکول مىں پائى جانے والى برائىوں سے بچ سکتے ہىں؟

حضور انور اىدہ اللہ نے فرماىا: تقرىباَ آپ 15 سال کے ہوں گےاور ىہ  Teenageعمر کا انتہائى  خطرناک حصہ ہوتا ہے۔جب آپ پندرہ ،سولہ ىا سترہ  سال  کے ہوتے ہىں تو آپ سمجھتے ہىں کہ اب آپ مىچور ہىں اور آپ  پر کوئى پابندى نہىں ہونى چاہىےلىکن ہمىشہ ىہ بات ىاد رکھىں کہ آپ احمدى ہىں اور  اىک خدا پر  اىمان رکھتے ہىں اور اسلام اىک سچا مذہب ہےاور قرآن آخرى شرعى کتاب ہے جو رسول کرىم ﷺ پر نازل ہوئى۔اس کے علاوہ بہت سارے احکامات ہىں ۔ خدا تعالىٰ نے ہمىں بتا دىا ہے کہ ىہ اچھى باتىں ہىں  اور  ىہ  بُرى باتىں ہىں ۔اب اگر آپ اىک sane person  اور عقلمند آدمى ہو تو آپ  بُرى باتوں سےبچو گے ورنہ  ىہ  آپ کى دنىاوى اوراُخروى  زندگى کو تباہ کر دىں گى ۔ اگر آپ کچھ بُرا کر رہے ہىں تو  ىہ مت خىال کرىں کہ آپ کو کوئى دىکھ نہىں رہا۔ہمىشہ ىاد رکھىں کہ اللہ تعالىٰ آپ کو دىکھ رہا ہےاور وہ ہر چىز  سے اچھى طرح با خبر ہے ۔پس ہم نے خدا تعالىٰ کى محبت کو پانے کے لىے  ، اسلامى تعلىم   کے ساتھ جُڑے رہنے   کے لىےاور خدائى احکامات کى خاطر اچھے کام کرنے ہىں جس کا خدا تعالىٰ ہمىں حکم دىتا ہے۔ اس طرح سے آپ سوسائٹى کى بُرى چىزوں سے بچ سکتے ہىں اور اس کےعلاوہ ىہ کہ اگر آپ اپنے ساتھى دوستوں مىں کوئى بُرائى دىکھىں تو    اپنى نا  پسندىدگى ظاہر کرىں اور  نا صرف نا پسندىدگى بلکہ اگر وہ کچھ بُرا کر رہے ہىں تو   اس سے نفرت ہونى چاہىے اور ان کو  پتا ہونا چاہىے کہ آپ ىہ پسند نہىں  کرتے۔اگر انہىں معلو م ہو جائے کہ آپ کو بُرى چىزىں پسند نہىں ہىں  تو پھر وہ آپ  کے سامنے ان کاموں کو  Avoid کرىں گے۔ىہ اىک ذرىعہ ہے کہ کس طرح آپ ان برائىوں سے بچ سکتے ہىں  مزىد ىہ کہ  اىسے دوست بنائىں جو پڑھائى مىں بھى  اچھے  ہوں اور نىک خُو اوراچھے  اخلاق والے ہوں۔

*اىک طفل نے سوال کىا کہ کس طرح مىں حضور  اىدہ اللہ کے ساتھ  اچھا تعلق  بنا سکتا ہوں ىہاں تک کہ حضور ىہ جانتے ہوں کہ مىں کون ہوں؟

حضور انور نے فرماىا: آپ مجھے کثرت سے لکھا کرو  اور کبھى کبھار  اچھےلطائف  ىا کوئى  اچھا واقعہ بھى لکھ سکتے ہو۔اس طرح سے پھر مجھے ىاد رہے گا کہ ىہ وہ لڑکا ہے جو مجھے اىسى اىسى باتىں لکھتا ہےاوراگر آپ پسند کرو تو آپ اپنى تصوىر بھى خط پر لگا سکتے ہو۔

*اىک طفل نے سوال کِىا کہ کىا  ىہ ممکن ہے کہ بچوں کے لىے اىم ٹى اےکا چىنل ہو جس پر بچوں کے لىے پروگرام ہوں اور  آنحضرت ﷺ اور حضرت مسىح موعود ؑ کى سىرت کے پروگرام بچوں کے لىے ہوں؟

اس پر حضور انورنے فرماىا: ان دنوں کچھ slots ہىں  جہاں بچوں کے پروگرام ہىں  جىسے کہ سٹورى ٹائم اور اب انہوں نے بچوں کے لىے  مىرے خطبہ کا  اىک نىا پروگرام شروع کىا ہے  جس مىں بچوں کے لىے مىرے خطبہ کو آسان  فہم زبان  اور مختلف پىرائىوں   مىں   بىان کرتے ہىں تا کہ  بچوں کے لىے سمجھنے مىں آسانى ہو۔فى الحال بچوں کے لىے کچھ slots  ہىں۔

 ان شاء اللہ وقت آئے گا جب صرف بچوں کے لىے اىم ٹى اے چىنل ہو گا۔ فى الحال تو اىسا نہىں ہے ممکن  ہے بعد مىں اىسا  ہو جائے۔ کىا آپ چلڈرن پروگرام دىکھتے ہىں جىسے کہ سٹورى ٹائم، kids programme اور پھر بچوں کے لىے خلاصہ خطبہ جمعہ ۔ ىہ بھى  اچھے پروگرام ہىں ۔آپ کو ىہ پروگرام ضرور دىکھنے چاہىے۔

*اىک طفل نے سوال کىا کہ ہمىں اىک اچھا وقف نو بننے کے لىے کىا کرنا چاہىے؟

حضور انور نے فرماىا: اىک اچھےوقف ِنو کو  باقاعدگى کے ساتھ پنجگانہ نمازىں ادا کرنى چاہىے باقا عدگى کے ساتھ قرآن کرىم کے کسى اىک  حصے کى  تلاوت کرنى چاہىئےاور اگر ممکن ہو  توقرآن کرىم کے متن کو سمجھنے اور جو کچھ آپ تلاوت کر رہے ہو اس کا ترجمہ جاننے  کى کوشش کرنى چاہىے۔اىک وقفِ نو کو اچھے کردار والا ہونا چاہىے وہ بڑوں کا ادب کرنے والااور اپنے سے چھوٹوں کے ساتھ ہمدردى کرنے والا ہو۔ لڑائى جھگڑا کرنے والا نہ ہواور اچھے ٹى وى پروگرام دىکھنے والا ہو نہ کہ بُرے پروگرام دىکھنے والا ہو ۔پڑھائى مىں excel کرنے والا ہو۔ پڑھائى مىں محنت کرنے والا ہو تا کہ اچھے گرىڈ حاصل کر سکےپس ىہ کچھ خوبىاں ہىں  اور اس کے علاوہ آپ مىرا خطبہ سنو اور ان پوائنٹس  کوپڑھو جنہىں مىں نے خطبہ مىں بىان کىا ہے۔

(ترجمہ و کمپوزنگ :ابو اثمار اٹھوال)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 نومبر 2021

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ