• 25 ستمبر, 2020

قرآن کریم کامل ترین کتاب ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ فرماتے ہیں :

’’حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر یہ کامل اور مکمل تعلیم اُتری اور جو خَاتَمُ النَّبِیِّیْن کہلائے، جن کے بعدکوئی نئی شریعت آ ہی نہیں سکتی …تو وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم خود اس تعلیم پر کس قدر عمل کرنے والے ہوں گے، اس کا تصور بھی انسانی سوچ سے باہر ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہیں جنہوں نے اس پاک کلام کو سمجھا، وہ آپؐ ہی ہیں جن کو اللہ تعالیٰ کے اس کلام کا مکمل فہم اور ادراک حاصل ہوا۔ یہ آپؐ ہی کی ذات ہے جس کو اپنے پر اترنے والی اس آخری کتاب، اس آخری شریعت، کلام کے مطالب اور معانی کے مختلف زاویوں اور اس کے مختلف بطون کو سمجھنے کا کامل علم حاصل ہوا۔ گویا یہ خَاتَمُ النَّبِیِّیْن کی ذات ہی تھی جس نے اس خَاتَمُ الْکُتُبْ کو سمجھااور نہ صرف اس گہرائی میں جا کر عمل کیا بلکہ صحابہ ؓ کو بھی وہ شعور عطا فرمایا جس سے وہ اس کو سمجھ کر پڑھتے تھے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اس آخری کتاب کو پڑھنے کے بعد یہ ممکن ہی نہیں کہ کسی اور شریعت یا کتاب سے رہنمائی لی جائے۔ کیونکہ پہلوں کی باتیں بھی اس میں آ چکی ہیں اور آئندہ کی باتیں اور خبریں بھی اس میں آ چکی ہیں… آپ ﷺ قرآن کریم کے حکموں پر کس حدتک عمل کرتے تھے۔ اس بارے میں حضرت عائشہ ؓ کا مشہور جواب ہر ایک کے علم میں ہے کہ جب آپؓ سے نبی کریم ﷺ کے خلق کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ؓ نے فرمایا کہ کیا تم قرآن نہیں پڑھتے۔ پوچھنے والے نے کہا: کیوں نہیں۔ تو انہوں نے فرمایا کہ فَإِنَّ خُلُقَ نَبِيِّ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ الْقُرْآنَ ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق قرآن ہی تھے۔

(مسلم ،کتاب صلاۃ المسافرین ،باب جامع صلاۃاللَّیل ومن نام)

یعنی قرآن کریم میں جس طرح لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو۔ آپ ﷺ نے عبادت کی۔ قرآن کریم میں جس طرح لکھا ہے کہ حقوق العباد ادا کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حقوق العباد ادا کئے۔قرآن کریم میں جن باتوں کو کرنے کا حکم دیا آپ ﷺ نے ان باتوں اور حکموں پر مکمل طور پر عمل کیا، ان کو بجا لائے،ان کی ادائیگی کی۔ قرآن نے جن باتوں سے رکنے کاحکم دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان باتوں کو ترک کیا۔ قرآن کریم نے روزوں کا حکم دیا، صدقات کا حکم دیا، زکوٰۃ کا حکم دیا۔ آپؐ نے روزوں، صدقات اور زکوٰۃ کے اعلیٰ ترین معیار قائم کر دئیے۔ قرآن کریم نے معاشرے میں لوگوں کے ساتھ نرمی کا حکم دیا تو آپؐ نے نرمی کی وہ انتہا کی جس کی مثال نہیں مل سکتی۔ اپنے جانی دشمنوں کو بھی معاف فرما دیا۔ اگر اللہ تعالیٰ نے اصلاحِ معاشرہ کے لئے سختی کا حکم دیا تو آپؐ نے اس کی بھی پوری اطاعت و فرمانبرداری کی۔ غرض کون سا حکم ہے قرآن کریم کا جس کی آپؐ نے نہ صرف پوری طرح بلکہ اعلیٰ ترین معیار قائم کرتے ہوئے تعمیل نہ کی ہو۔‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ04مارچ 2005ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23دسمبر2019

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25دسمبر2019