• منگل 25 فروری 2020   (1 رجب 1441)

روحانی ہجرت

ہجرت یہ ہے کہ تو تمام ظاہری و باطنی برائیوں سے دور رہے (الحدیث)

ہجرت نام ہے ایک جگہ سے دوسری جگہ چلے جانے کا ، ایک شہر سے دوسرے شہر منتقل ہو جانے کا ، ایک ملک اور وطن کو چھوڑ کر دوسرے ملک اور وطن میں آباد ہونے کا ۔
اس کے بالمقابل ایک روحانی ہجرت بھی ہے۔ جو شر سے خیر کی طرف۔ بدی سے نیکی کی طرف۔ برائی سے اچھائی کی طرف۔ نفرت سے محبت کی طرف اور نفاق سے اتفاق کی طرف مسلسل سفر کرنے، لگاتار بغیر کسی انقطاع کے روحانی پرواز کا نام ہے۔ بلکہ ایک مومن کی نیکی ، تقویٰ ، اخلاص اور اللہ تعالیٰ کی طرف قدم ، حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت ، خلافت سے وابستگی میں ترقی بھی روحانی ہجرت ہے۔
اس روحانی ہجرت اور پرواز کا ذکر ہمیں قرآن و احادیث کے علاوہ بزرگوں کی کتب میں بھی ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ
1. فَفِرُّوْا اِلَی اللّٰہِ ( الذاریات: 51) پس تیزی سے اللہ کی طرف دوڑو۔
2. ایک اور موقع پر اللہ تعالیٰ نے ہجرت کی فضیلت اور برکت ان الفاظ میں بیان فرمائی ہے
وَ مَنۡ یُّہَاجِرۡ فِیۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ یَجِدۡ فِی الۡاَرۡضِ مُرٰغَمًا کَثِیۡرًا وَّ سَعَۃً ؕ وَ مَنۡ یَّخۡرُجۡ مِنۡۢ بَیۡتِہٖ مُہَاجِرًا اِلَی اللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ثُمَّ یُدۡرِکۡہُ الۡمَوۡتُ فَقَدۡ وَقَعَ اَجۡرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ؕ وَ کَانَ اللّٰہُ غَفُوۡرًا رَّحِیۡمًا ﴿۱۰۱﴾٪
’’اور جو اللہ کی راہ میں ہجرت کرے تو وہ زمین میں(دشمن کو ) نامراد کرنے کے بہت سے مواقع اور فراخی پائے گا اور جو اپنے گھر سے اللہ اور ا س کے رسول کی طرف ہجرت کرتے ہوئے نکلتا ہے پھر اس حالت میں موت آ جاتی ہے۔ تو اس کا اجر اللہ پر فرض ہے۔‘‘ ( النساء: 101)
اس آیت کے مطابق ہر مومن ہر وقت مہاجر ہے جو اللہ کی طرف روحانی ہجرت کر رہا ہے اور لقائے باری تعالیٰ کے حصول اور اس کی خاطر سعی کرتے ہوئے نیکیاں بجالاتے ہوئے اس کو قضا و قدر آ لیتی ہے اور وہ فوت ہو جاتا ہے ۔ اس ناطے اس کا اجر اللہ پر ہے۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کئی بار مومنوں کی ایک صفت بیان کر کے اس کے اجر کا ذکر فرمایا ہے۔ جیسے سورہ البقرہ آیت 219اور سورہ التوبہ آیت 203میں اور ایک اور موقع پر فرمایا ۔
’’ کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کیا ۔ وہ اللہ کے نزدیک درجے کے اعتبار سے بہت بڑے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔‘‘
اب اس آیت میں اور دیگر اس جیسی آیات کریمہ میں ہجرت اور جہاد کا ذکر ہےاور اگر صرف مادی ہجرت اور جہاد کا مطلب لے لیا جائے تو وہ ہر مومن کو میسر نہیں آتی اور یوں وہ اس اجر اور ثواب سے محروم رہ گیا جن کا ان آیات میں ذکر ہے۔ یہاں روحانی معنی بھی لینے ہوں گے کہ ایسے مومن جو ہر وقت لقائے باری تعالیٰ کا سفر جاری رکھتے ہیں ۔ بدیوں کا ڈیرہ چھوڑکر نیکیوں کے علاقے میں آنے کے لئے ہجرت کر رہے ہیں اور احکامات الٰہیہ پر اموال و نفوس کی قربانی کر کے ان پر قدم مارنے کے لئے ہر وقت مجاہدہ کرتے رہتے ہیں ۔ ان کا خدا کے نزدیک بلند درجہ ہے اور وہ کامیاب ہونے والے ہیں ۔
احادیث مبارکہ میں بھی اس روحانی ہجرت کا ذکر کثرت سے ملتا ہے۔
آنحضرت ﷺ سے ایک دفعہ پوچھا گیا کہ کون سی ہجرت افضل ہے تو آپؐ نے فرمایا مَنْ ہَجَرَ مَاحَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ کہ جن باتوں کو اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہے ان کو چھوڑ دینا۔

(سنن ابوداؤد جلد اول کتاب الصلوٰۃ)

مسند احمد بن حنبل میں ہجرت کے بارے یہی سوال جب آنحضور ﷺ سے کیا گیا کہ کون سی ہجرت افضل ہے تو فرمایا : اَنْ تَھْجُرَ مَا کَرِہَ رَبُّکَ کہ ان چیزوں کو ترک کرنا جو تیرے رب کو ناپسند ہیں ۔ نیز فرمایا ہجرت دو قسم کی ہے ایک حاضر کی اور دوسری مسافر کی یعنی دور رہنے والے کی۔ اور دور رہنے والے کی ہجرت یہ ہے کہ جب اُسے بلایا جائے تو لبیک کہے اور جب کوئی حکم دیا جائے تو فوراً اطاعت کرے اور حاضر کی ہجرت بہت بڑی آزمائش ہے اور اجر کے لحاظ سے بھی افضل ہے۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 2صفحہ 160)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ سے ہی روایت ہے کہ آنحضور ﷺ نے مہاجر کی تعریف کرتے ہوئے فرمایا :۔
اَلْمُھَاجِرُمَنْ ھَجَرَ السُّوْئَ فَاجْتَنِبَہٗ
کہ جس نے بُرائیوں سے ہجرت کی اور ان سے مجتنب رہا۔

(مسند احمد بن حنبل جلد2صفحہ 215)

پھر روایت ہے کہ ایک اعرابی نے ہجرت کے بارے آنحضرت ﷺ سے استفسار کیا کہ جب میں کسی جگہ یا قوم یا جہاں کہیں بھی ہوں یا موت کے بعد آپ کی طرف ہجرت کس طرح ہو تو فرمایا ۔
’’ہجرت یہ ہے کہ تُو تمام ظاہری و باطنی فواحش یعنی برائیوں سے دُور رہے یا کنارہ کشی اختیار کرے ( اَنْ تَھْجُرَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَھَرَ وَ مَا بَطَنَ ) اور نماز قائم کرے ، زکوٰۃ دے۔ پھر تم مہاجر ہو خواہ تم اس حالت میں مر بھی جاؤ ۔‘‘

( مسند احمدبن حنبل جلد 2صفحہ 226)

حضرت ابو سعید خدریؓ سے یہ روایت یوں بیان ہوئی ہے کہ ایک اعرابی کے ہجرت کےبارے میں پوچھنے پر فرمایا کہ
’’ہجرت کا مقام تو بہت عظیم ہے۔ کیا تیرے پاس اونٹ ہے؟ اس نے کہا ہاں جی ۔ آنحضرت ﷺ نے پوچھا کیا ان کی زکوٰۃ دیتے ہو ؟ جواب دیا ہاں جی ۔ اس پر آپؐ نے فرمایا کہ سمندروں سے ورے تو کوئی بھی نیک کام کرے تو اللہ تعالیٰ اس کے اجر میں سے کوئی بھی کمی نہیں کرے گا۔ یعنی ہجرت صرف ملک چھوڑنے کا نام نہیں بلکہ نیکیوں کو اختیار کرنا اور برائیوں سے بچنا اصل ہجرت ہے۔‘‘

(سنن ابو داؤد کتاب الجہاد )

آنحضرت ﷺ نے اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَاتِ کے ساتھ مزید فرمایا کہ
’’جس شخص نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی خاطر ہجرت کی اس کی خوشنودی کے لئے اپنے وطن اور خواہشات کو ترک کر دیا تو اس کی ہجرت اللہ اور اس کے رسولؐ کے لئے ہو گی۔‘‘

(بخاری کتاب الایمان باب النیۃ فی الایمان )

اس حدیث میں بھی خواہشات اور جذبات کی قربانی کر کے اللہ اور اس کے رسولؐ کو اعمال میں نمونہ بنانے اور مقدم رکھنے کی ہدایت ہے۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ
’’ہجرت کبھی ختم نہ ہو گی جب تک کہ توبہ ختم نہ ہو اور یہ نہ ختم ہو گی جب تک کہ سورج مغرب سے طلوع نہ ہو۔‘‘

( سنن ابوداؤد کتاب الجہاد باب الھجرۃ)

اس ارشاد نبوی ؐ میں دراصل امام مہدی کے زمانہ کی طرف اشارہ ہے کہ مسیح موعودؑ کے وقت تک توبہ کا دروازہ کھلا ہے دوسرے لفظوں میں اللہ اور اس کے رسول ؐ اور قرآن میں بیان فرمودہ احکامات پر تعمیل کا روحانی سفر اور ہجرت جاری ہے ۔ توبہ کے ذریعہ روحانی ہجرت کی وجہ سے ایک مومن کا جو نیا جنم ہوتا ہے اور نئی پیدائش ہوتی ہے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے سیدنا حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں ۔
’’جب تم بیعت کرتے ہوتو یاد رکھو ایک وطن کو چھوڑتے ہو اور اسی کا حقیقی نام توبہ ہے اور رجوع اس وطن کو چھوڑ کر دوسرے وطن کی طرف ہجرت کا نام ہے۔‘‘
بیعت توبہ اور ہجرت کے تعلق کو ایک موقع پر آپ نے یوں بیان فرمایا ۔
’’اسی طرح بیعت میں عظیم الشان بات توبہ ہے جس کے معنی رجوع کے ہیں ۔توبہ اس حالت کا نام ہے کہ انسان اپنے معاصی سے جن سے اس کے تعلقات بڑھے ہوئے ہیں اور اس نے اپنا وطن انہیں مقرر کر لیا ہوا ہے گویا کہ گناہ میں اس نے بودو باش مقرر کر لی ہوئی ہے۔ اُس وطن کو چھوڑنا اور رجوع کے معنی پاکیزگی اختیار کرنا ۔ اب وطن کو چھوڑنا بڑا گراں گزرتا ہے اور ہزاروں تکلیفیں ہوتی ہیں ۔ ایک گھر جب انسان چھوڑتا ہے تو کس قدر اسے تکلیف ہوتی ہے اور وطن کو چھوڑنے میں تو اس کو سب یار دوستوں سے قطع تعلق کرنا پڑتا ہے اور سب چیزوں کو مثل چار پائی ، فرش وہمسائے ، وہ گلیاں کوچے ، بازار سب چھوڑ کر ایک نئے ملک میں جانا پڑتا ہے یعنی اس ( سابقہ ) وطن میں کبھی نہیں آتا۔ اس کا نام توبہ ہے۔ معصیت کے دوست اور ہوتے ہیں اور تقویٰ کے دوست اور، اس تبدیلی کو صوفیاء نے موت کہا ہے۔‘‘
ایک موقع پر رَبِّ أَدْ خِلْنِیْ مُدْخَلَ صِدْقٍ کے ترجمہ میں حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں:۔
’’خدایا پاک زمین میں مجھے جگہ دے۔ یہ ایک روحانی طور کی ہجرت ہے۔‘‘

(روحانی خزائن جلد18ص26)

اعمال صالحہ سے ہجرت کر کے اپنے گرد جمع ہونے والوں کو ’’اصحاب الصفہ‘‘ قرار دیتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ نے فرمایا ۔
’’یاد رکھ کہ وہ زمانہ آتا ہے کہ لوگ کثرت سے تیری طرف رجوع کریں گے۔سو تیرے پر واجب ہے کہ تو اُن سے بد خلقی نہ کرے اور تجھے لازم ہے کہ تو اُن کی کثرت کو دیکھ کر تھک نہ جائے۔ اور ایسے لوگ بھی ہوں گے جو اپنے وطنوں سے ہجرت کر کے تیرے حجروں میں آ کر آباد ہوں گے ۔ وہی ہیں جو خدا کے نزدیک اصحاب الصفہ کہلاتے ہیں ۔ اور تو جانتا ہے کہ وہ کس شان اورکس ایمان کے لوگ ہوں گے جو اصحاب الصفہ کے نام سے موسوم ہیں وہ بہت قوی الایمان ہوں گے۔ تو دیکھے گا کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوں گے وہ تیرے پر درود بھیجیں گے اور کہیں گے کہ اے ہمارے خدا ! ہم نے ایک آواز دینے والے کی آواز سنی جو ایمان کی طرف بلاتا ہے۔ سو ہم ایمان لائے‘‘

(21/72)

آنحضرت ﷺ کی ہر آنے والی گھڑی کو گزشتہ گزری ہوئی گھڑی سے بہتر قرار دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔

ولَلْاٰ خِرَۃُ خَیْرٌ لَّکَ مِنَ الْاُ وْلٰی

( الضحیٰ: 5)

اس آیت میں اسی روحانی سفر کا ذکر ہے جو ہمارے آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺنے اپنی زندگی میں بڑی تیزی سے فرمایا :۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ نے احباب جماعت کو کئی دفعہ اس روحانی ہجرت کی طرف بلایا ۔ ایک موقع پر مادی اور روحانی ہجرت میں اس فرق کو واضح فرمایا کہ مادی ہجرت میں بسااوقات انسان اپنے وطن یا شہر میں واپس لوٹ آتا ہے لیکن روحانی ہجرت تو مسلسل نیکی کے میدان میں آگے بڑھنے کا نام ہے۔یہ موت چاہتی ہے اور موت کے بعد انسان واپس نہیں آیا کرتا۔ حضورؒ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ میں پہاڑ پر چڑھ رہا ہوں اور جب پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو بہت گہرائی نظر آتی ہے۔ مادی اور روحانی ہجرت میں فرق کے حوالہ سے حضورؒ فرماتے ہیں ۔
’’ پس اے پاکستان سے ہجرت کرنے والو ! تم جہاں کہیں بھی ہو خواہ جرمنی میں ہو یا فرانس میں یا ہالینڈ یا پولینڈ یا امریکہ یا افریقہ یا دوسرے ممالک میں ہو ۔ یاد رکھو ایک ہجرت تو ہو گئی اور اس ہجرت سے جو خدا نے وعدے فرمائے تھے پورے کر دئیے۔ تم نے اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھ لیا کہ اس ہجرت کے نتیجے میں تمہیں تنگیاں نہیں بلکہ وسعتیں عطا کی گئی ہیں اور خدا نے ایک بھی وعدہ نہیں جو ٹال دیا ہو ہر وعدہ ہجرت کی برکتوں کا تمہارے ساتھ پورا کر دیا ۔ پس اب پوری مستعدی کے ساتھ کامل مستعدی کے ساتھ وہ ہجرت کرو جو بدیوں کے ملک سے نیکیوں کے ملک کی طرف ہوا کرتی ہے ۔ لیکن یہ وہ ہجرت ہے جس کے بعد لوٹ کر جانا نہیں ہے جس کے بعد مڑ کر دیکھنا نہیں ہے کہ کن لوگوں ، کن بد لوگوں سے ہم نے نجات پائی ہے ، کن دوستوں کو چھوڑا ہے ، کن تعلقات سے روگردانی کی ہے ، کن عزیز آرام گاہوں کو ترک کر کے آئے ہیں ۔‘‘
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کی مثال میں نے اس لئے پیش کی ہے کہ حضرت مسیح موعودؑ کی اس تحریر کے عین مطابق یہ مثال ہے کہ جب چھوڑتے ہو تو بالکل چھوڑ جاؤ ، بھول جاؤ ، کہ تم کہاں رہا کرتے تھے ، کس دنیا میں بستے تھے ۔ وہ سب آرام تج کر دو اور ایک نئی زندگی میں داخل ہو جاؤاور یاد رکھو کہ جس خد انے دنیوی ہجرت کے نتیجے میں اپنے کئے گئے وعدے تمہاری توقعات سے بھی بڑھ کر پورے فرمائے وہ تمہاری روحانی ہجرت کو کبھی ضائع نہیں کرے گا۔ تم پر موت نہیں آئے گی جب تک تمہارا دل تسکین سے نہ بھر جائے جب تک وہ سب لذتیں سینکڑوں گُنا زیادہ عطا نہ کی جائیں جن لذتوں کو خدا کی خاطر تم نے چھوڑاہے۔ اللہ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے ۔ یہ ہجرت آپ کریں تو سب دنیا آپ کے ساتھ ہجرت پر تیار ہو گی ۔ یہی وہ ہجرت ہے جو انسانی زندگی کا آخری مقصد ہے۔‘‘

( خطبہ جمعہ 23۔اگست 1996ء)

خاک کو مٹھی میں بھر کے دیکھیں گے
زندگی کیا ہے مر کے دیکھیں گے

مُوْ تُوْا قَبْلَ أَنْ تَمُوْ تُوا کہ مرنے سے پہلے فنا ہو جاؤ۔ میں اس روحانی ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔جو ایک قسم کی روحانی پرواز ہے۔ سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے ایک مومن بندے کی تشبیہ ایروپلین Aero Plane سے دی ہے۔ جو اپنی پرواز میں بلندیوں کی انتہاء کو چُھوتا ہوا منزل مقصود تک پہنچتا ہے۔ اس لئے ایک مومن بندے میں وہ تمام خاصیتیں ہونی چاہئیں ۔ جو ایک ایروپلین میں ہوتی ہیں ، جیسے۔
1۔ ایروپلین کبھی اکیلا نہیں اڑا کرتا اپنے پیٹ میں بے شمار لوگوں کو ساتھ لے جاتا ہے۔ بعینہٖ ایک مومن کو چاہئے کہ اصلاح نفس کے اس سفر میں اپنے عزیز واقارب ، خاندان اور افراد جماعت کو ساتھ لے کر چلے۔ خود بھی اللہ تعالیٰ سے محبت کے قرینے سیکھے اور اپنی اولاد کو بھی سکھائے۔ خود بھی نمازی بنے اور اولاد کو بھی بنائے اور اخلاق فاضلہ سے بھی متصف کرے۔
2۔ جہاز جب چلنے کے لئے تیار ہوتا ہے تو اس کا ویکیوم Tightکر دیتے ہیں یعنی جہاز Air Tight ہو جاتا ہے ۔ کوئی ہوا یا کوئی چیز یا کوئی بد اثرات باہر سے اندر نہیں جا سکتے۔ اگر کوئی چیز اندر جائے گی تو نقصان دہ ثابت ہو گی۔اسی طرح ایک مومن کو بیرونی بد اثرات سے محفوظ رہنا چاہئے۔ کوئی بُرائی یا گناہ یا بُری بات اس میں داخل نہ ہو ۔ مومن کی روحانی پرواز کے دوران اگر یہ جسم کے اندر داخل ہو گئیں تو نقصان دہ ہوں گی ۔
3۔ ویسے تو جہاز کی بہت سی خاصیتیں ہیں جو تمام کی تمام ایک مومن کو اپنی روحانی پرواز میں مدنظر رکھنی چاہئے۔ لیکن تمام کا ذکر یہاں مشکل ہو گا۔ صرف ایک اور کا ذکر کرتا ہوں کہ جہاز پرواز کے لئے تیاری کے بعد جب اپنی Baseچھوڑتا ہے تو آہستہ آہستہ رینگتا ہوا ایک خاص مقام پر جا کر چند لمحوں کے لئے رُکتا ہے خواہ وہ چند سیکنڈ ہی کیوں نہ ہو ،پھر Take Off کر جاتا ہے ۔ جو عام گاڑیوں کے طریق کار سے جدا طریق ہے۔ ایک گاڑی جب چلتی ہے تو انجن کے گرم ہونے کے ساتھ رفتار بھی تیز ہو تی جاتی ہے ۔ جبکہ جہاز ایک جگہ رک کر پھر پرواز بھرتا ہے ۔ وہ دراصل اپنی سمت متعین کرتا ہے اور پختہ عزم او رمضبوط ارادوں کے ساتھ پرواز کرتا ہے ۔ بعینہٖ ایک مومن کو اپنی مختلف روحانی پروازوں کے لئے چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو ایک جگہ پر ذہنی طور پر کھڑا کر کے اپنا جائزہ لے۔ اپنا محاسبہ کرے کہ میں جن امور کو اپنائے ہوئے ہوں وہ دینی ہیں یا جن امور کو میں اپنانے جا رہا ہوں ان کے بارہ میں دینی تعلیم کیا ہے ۔ گویا ہمیشہ اپنی سمت درست رکھے اور اپنا پلو جھاڑ کر اللہ اور اس کے رسولؐ کی طرف اپنا سفر جاری رکھے۔
چونکہ اس روحانی پرواز میں ایک انسان کو ، ایک مومن کو بار بار بطور مسافر کے پیش کیا جا رہا ہے۔ اور وہ ہے بھی حقیقت میں مسافر ۔ خود آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ’’ میں خود ایک مسافر کی طرح ہو ں۔ جہاں آرا م ملتا ہے تھوڑا سستا لیتا ہوں پھر تازہ دم ہو کر اپنے سفر کو جاری رکھتا ہوں۔‘‘
اس میں ایک بہت بڑا سبق ہے ۔ سفر کرتے وقت اور سفر پر جاتے وقت سفر کے تمام تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے سفر کی تیاری کی جاتی ہے۔ زاد راہ لیا جاتا ہے ۔ ہم نے مسافروں کو دیکھا ہے بالخصوص جہاز کا سفر کرنے والے کو کہ وہ اپنے ساتھ بہت ہی اہم اور ضروری مگر محدود سامان رکھ سکتے ہیں اور زائد سامان جس کو Excess Luggage کہتے ہیں اپنے سامان سے الگ کر دیتے ہیں اور ہلکا پھلکا ہو کر سفر کے لئے روانہ ہوتے ہیں ۔ بعینہٖ روحانی سفر کے لئے اخلاق سیئہ جیسے جھوٹ ، بخل ، بدگمانی ، حسد ، غیبت ، خیانت ، چوری اور عیب جوئی وغیرہ ایک مومن کے Excess Luggage’s ہیں ۔ جن کو اپنے اصل سامان یعنی اخلاق حسنہ سچائی امانت ، ایثار ، حسن ظنی ، شکر ، عفو ، عدل و احسان ، پاک دامنی وغیرہ سے الگ رکھنا ہے اور لغویات اور دنیا کی بے رویوں کے بوجھ ، تنازعات کے بوجھوں سے ہلکا ہو کر اپنا روحانی سفر جاری وساری رکھنا ہے۔اسی روحانی پرواز کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑفرماتے ہیں۔

جِسْمِیْ یَطِیْرُ اِلَیْکَ مِنْ شَوْقٍ عَلَا
یَا لَیْتَ کَانَتْ قُوَّۃُ الطَّیْرَانِ

کہ میرا جسم تو شوق کے غلبہ کی وجہ سے تیری طرف اڑنا چاہتا ہے۔ اے کاش مجھ میں اڑنے کی طاقت ہوتی۔
انسان کی زندگی میں اپنی سمت درست کرنے ، اپنا محاسبہ کرنے اور نئے عہد باندھنے کے کئی مواقع آتے ہیں ۔ جیسے رمضان ہے۔ شمسی اور ہجری ہر دو کیلنڈروں کے آغاز ہیں ۔ جمعہ کا دن ہے۔ شوریٰ بھی ہو سکتی ہے۔ طالب علم کے لئے نئی کلاس کا پہلا دن ہے۔ یہ اور اس طرح کے دیگر دن ۔ دراصل ایک انسان جو مسافر بھی ہے کے لئے پختہ عزم ، عہد باندھنے کے یہ دن ہیں۔جس طرح ہر بڑے شہر سے باہر ایک زیرو پوائنٹ Zero Point ہوتا ہے جہاں پہنچنے سے پہلے یا پہنچ کر درست ، چھوٹا راستہ اپنے منزل مقصودکے لئے اپنایا جاتا ہے۔ بعینہٖ انسان کی زندگی کی مختلف شاہراہوں کا ایک زیروپوائنٹ بھی ہے۔ ایک Road Map بھی ہے جہاں انسان کو ذرا رُک کر تھوڑا سا آرام کر کے نئے ایندھن کے ساتھ ۔ نئے جذبہ کے ساتھ بڑی تیزی سے آگے بڑھنے اور اپنی سمت درست کر نے کا موقع ملتا ہے۔ اور ایک مومن کو ہمیشہ مدنظر رکھنا چاہئے کہ کون سا چھوٹا ، مختصر Short Cut جس پر چل کر لقائے باری تعالیٰ حاصل ہو سکتا ہے ۔ اور اپنی روحانی منزل مقصود پر پہنچا جا سکتا ہے۔
حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد ؓنے اس ناطہ سے احباب جماعت کو ایک نسخہ بتلا کر بہت اچھے رنگ میں ان کی رہنمائی فرمائی ہے کہ
رمضان میں بھی انسان ایک نیکی اپنانے اور ایک بدی چھوڑنے کا مصمم ارادہ کرے تو اپنی زندگی میں جب وہ کئی ایک رمضان پائے گا تو بے شمار نیکیاں اپنا رہا ہو گا اور یوں وہ پاک و صاف ہو کر خدا کے حضور حاضر ہو گا۔
لوگ کہتے ہیں کہ زندگی ایک سہانا سفر ہے۔دینی نکتہ نگاہ سے کفار اور غیر مومنوں کے لئے تو سہانا سفر ہو سکتا ہے مگر مومنوں کے لئے تو قید خانہ ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ اَلدُّنْیَا سِجْنٌ لِلْمُؤمِنِ وَ جَنَّۃٌ لِلْکَافِرِ مومن کو اللہ کی رضا کے حصول کے لئے اپنے اوپر موت وارد کرنی پڑتی ہے ۔عبادات کی حقیقی لذت سے آشنا ہونے کے لئے اپنے اوپر سختی وارد کرنی پڑتی ہے ۔ راتوں کو نرم اور گرم بستر چھوڑ کر اللہ کے دربار میں حاضری دینی پڑتی ہے ۔ اور ’’ وَلَلْآَخِرَۃُ خَیْر ‘‘ کے لئے سختی کے دور میں سے گزرنا پڑتا ہے۔ عبادالرحمٰن بننے کے لئے اپنی نفسانی خواہشات کو خیر آباد کہہ کر اللہ اور اس کے رسولؐ کی خواہشات اور جذبات کو ملحوظ خاطر رکھنا پڑتا ہے۔ اور گناہوں ، بدیوں اور لغزشوں سے دوری حاصل کرنے کی سعی مسلسل بالآخر ایک مومن کو تمام آلائشوں سے پاک نومولود بچے کی طرح اپنے رب اعلیٰ کے حضور پیش کررہی ہوتی ہے۔ اس وقت اس مومن کی کیفیت ایک ایسے لٹھے کی چادر جیسی ہوتی ہے جو دھوبی سے دھل کر آئی ہو جس پر بدی یا گناہ کا کوئی داغ اور دھبہ نہ ہو جو اپنی آنکھوں کو بھی بھلی لگے اور دوسروں کی آنکھوں کو بھی بھائے۔
ہمارے موجودہ پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ جب سے خلافت کے مبارک منصب پر فائز ہوئے ہیں تب سے دنیا بھر میں پھیلے ہوئے احمدی احباب و خواتین کو بدیاں ترک کرنے اور نیکیاں اپنانے کی تلقین فرما رہے ہیں ۔ تاہم پاک صاف ہو کر نہا دھو کر اُجلے دُھلے لباس یعنی لباس تقویٰ کے روحانی سفر میں ایک منزل کے بعد دوسری منزل میں داخل ہوں۔ مضمون کے آخرمیں ان چند نیکیوں اور حسنات کا ذکر کیا جاتا ہے جن کی طرف ہمارے پیارے امام ہمیں بلا رہے ہیں ۔ ہم سب کا فرض ہے کہ ہجرت کا دینی مفہوم اور فلسفہ اپنے پر ، اپنے اہل خانہ پر ، اپنے عزیز واقارب پر اور احباب جماعت پر لاگو کر کے ہر فرد جماعت کو خلافت احمدیہ کا حقیقی وفادار ،جاں نثار اور مطیع و فرمانبردار پروانہ بنا دیں ۔ جس کو دیکھ کر ہمار ے پیارے خلیفہ بھی خوش ہو رہے ہوں ۔ ہمارا خدا بھی راضی ہو رہا ہو اورمعاشرہ کے حسن میں بھی اضافہ کا موجب بن رہا ہو۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ اور ہم سب کو اپنا منظور نظر بنائے اور اپنے آقا کا نور نظر اور سلطان نصیر بننے کی توفیق دے۔ اور ہر ایک نَحْنُ اَنْصَارُاللّٰہِ کی آواز بلند کر رہا ہو۔ آمین
اب یہاں روحانی ہجرت کے لئے موجودہ دور کی وقت کی آواز درج کی جاتی ہے۔

  1. تَخَلَّقُوْا بِاَ خْلَاقِ اللّٰہ کے تحت اپنے اندر اللہ کي صفات پيدا کرنے کي طرف سفر ميں تيزي ۔
  2. نماز خد اکا حق ہے اسے خوب ادا کرو۔ مساجد کي طرف بڑھنا روحاني ہجرت ہے۔
  3. نوافل بالخصوص نماز تہجد کي ادائيگي کے لئے جائے نماز تک جانا بھي روحاني ہجرت ہے۔
  4. دعاؤں کي طرف توجہ ديں۔ روحاني پروگرام پر عمل کريں۔
  5. قرآن کريم پڑھنے ، پڑھانے اور اس کي پياري تعليم پر عمل کرنے، کرانے کي سعي ۔
  6. مالي قرباني بالخصوص زکوٰة کي ادائيگي اور وصيت کے مبارک نظام سے منسلک کريں ۔
  7. خلافت سے وابستگي
  8. حضرت صاحب کاخطبہ جمعہ باقاعدگي سے سننا اور اپنے ٹي وي کے سامنے آ کر بيٹھنا بھي روحاني سفر ہے۔
  9. عزيز واقارب ۔ عزيز رشتہ داروں سے صلہ رحمي ۔
  10. اپنے اہل خانہ سے حسن معاشرت

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 23دسمبر2019

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25دسمبر2019

مقبول ترین