• 22 مئی, 2022

’’ہماری کتابوں کو پڑھنے والا کبھی مغلوب نہیں ہو گا‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
حضرت میاں محمد دین صاحبؓ ولد میاں نورالدین صاحب ہی فرماتے ہیں۔ میرے دل میں گزرا کہ مَیں علمِ دین سے ناواقف ہوں اور مولوی لوگ مجھے تنگ کریں گے۔ مَیں کیا کروں گا اور پوچھنے سے بھی شرم کر رہا تھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے یا کسی اور سے بھی پوچھنے سے شرم تھی۔ جو آپ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بغیر میرے پوچھے اُس کا جواب دیا۔ کہتے ہیں کہ میرے سوال کہ جب آپ کے بائیں پہلو پر لیٹے ہوئے تھے، مسجد مبارک کے چھت پر محراب میں تھے اور آپ کا سر جانبِ شمال تھا اور مَیں پیٹھ کے پیچھے بیٹھ کر مشرق کی طرف منہ کر کے آپ کو مٹھیاں بھر رہا تھا، دبا رہا تھا۔ پوچھنے سے مجھے شرم تھی لیکن بہر حال مَیں بیٹھا تھا دل میں خیال آیا دباتے ہوئے تو کہتے ہیں لیٹے لیٹے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے میری طرف منہ فرمایا اور ایسے بلند لہجہ اور رعب ناک آواز سے فرمایا کہ مَیں کانپ گیا۔ فرمایا ’’ہماری کتابوں کو پڑھنے والا کبھی مغلوب نہیں ہو گا‘‘

(ماخوذازرجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد7 صفحہ49 روایت حضرت میاں محمد الدین صاحبؓ)

(پس یہ خزانہ تو آج بھی ہمارے پاس ہے، اسے حاصل کرنے کی، پڑھنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔ اب تو یہ بہت سی کتابیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف زبانوں میں ترجمہ بھی ہو چکی ہیں۔)

ایک روایت میں حضرت چوہدری فتح محمد صاحبؓ بیان فرماتے ہیں کہ ایک میرے بھائی نواب دین کو خواب آیا کہ حضور نے میرے سے آٹھ آنے کے پیسے مانگے ہیں۔ پھر مَیں اور نواب دین دونوں پیسے دینے گئے اور خواب سنائی تو حضور نے فرمایا کہ اس خواب کے نتیجے میں تم علم پڑھو گے۔ سو جب مولوی سکندر علی ہمارے گاؤں میں آگئے تو اُن سے میں نے اور نواب دین نے بلکہ اور بہت سارے لوگوں نے قرآن مجید پڑھا اور کچھ اُردو کی کتابیں بھی پڑھیں۔ جو حضور کا فرمانا تھا پورا ہو گیا۔ پھر آگے کہتے ہیں کہ ہمارے گاؤں میں ایک پیپل کا درخت تھا جو ہم نے مرزا نظام الدین صاحب کے پاس فروخت کیا تھا اور اُس وقت ہمارے گاؤں میں بیماری طاعون تھی اور ہم نے وہ روپے جو پیپل کی قیمت کے تھے وہ سیر پر آتے وقت حضرت صاحب کے آگے نذر کر دئیے اور حضور راستے سے ہٹ کر ہمارے گاؤں میں مسجد کے پاس آ کر دعا کرنے لگ گئے اور بیماری دور ہو گئی۔ گاؤں میں جو بیماری تھی۔

(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد1 صفحہ56-57روایت حضرت چوہدری فتح محمد صاحبؓ)

حضرت فضل دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیعت کا ذکر فرماتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ مَیں پہلے پہل ایک آزادانہ خیال کا آدمی تھا۔ چند سال آزاد خیالی میں گزر گئے۔ بعدہٗ رفتہ رفتہ چند دوستوں کی صحبت سے بہرہ ور ہو کر میں نقشبندی خاندان کا مرید ہو گیا کیونکہ میرے دوست بھی نقشبندی خاندان کے مرید تھے اور وہ ہمارا مرشد ہمارے ہی گاؤں میں رہتا تھا۔ چونکہ یہ خاندان اپنے آپ کو شریعت کا پابند کہلاتا تھا اور اپنا سلسلہ حضرت ابوبکر صدیقؓ سے ملاتا تھا اس واسطے شروع بیعت میں مجھ کو نماز اور روزہ کی سخت تاکید فرمائی اور نماز تہجد کی بھی تاکیداً تاکید فرمائی اور حکم دیا کہ نماز تہجد کبھی بھی نہ چھوڑی جاوے اور ساتھ ہی یہ حکم بھی دیا کہ جو خواب آوے وہ کسی سے بیان نہ کی جائے۔ اس عرصے میں مجھ کو کئی خوابیں آئیں اور مَیں نے وہ کسی سے بیان نہ کیں۔ چونکہ مَیں کام معماری کا کرتا تھا بسبب نہ ملنے کام کے مَیں باجازت اپنے مرشد کے بمع بیوی امرتسر چلا گیا اور وہاں ایک مکان کرایہ پر رہنے لگا۔ وہاں ہی کام کرتا تھا۔ عرصہ دو سال کے بعد ایک دن میں نماز تہجد کی پڑھ کر وظائف میں مصروف تھا کہ وظائف کی حالت میں مجھے نیند سی آ گئی اور مَیں جائے نماز پر لیٹ گیا۔ چنانچہ مَیں خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ آسمان سے ایک فوج فرشتوں کی بشکل انسانی میرے ارد گرد کچھ فاصلے پر حلقہ کر کے بیٹھ گئے اور ایک افسر جو عہدہ جرنیلی کا رکھتا تھا، میرے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ اُس کے بیٹھنے کے بعد ایک تخت زرّیں آسمان سے اترا اور اُس حلقے کے اندر تخت رکھ دیا گیا اور سب فوج تعظیماً کھڑی ہو گئی اور جب میں نے دیکھاتو اس تخت زرّیں پر دو بزرگ ہمشکل اور نورانی شکل اور ہر طرف اُن کے نور ہی نور تھا بیٹھے تھے۔ تب مَیں نے اس افسر سے جو میرے نزدیک تھا پوچھا کہ یہ بزرگ کون ہیں؟ تب اُس نے کہا کہ جو بزرگ دائیں طرف تخت پر ہیں وہ خدا کا پیارا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور جو بائیں طرف ہیں وہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا پیارا ابنِ مریم ہیں۔ میں نے کہا ابنِ مریم تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نام ہے جو اسرائیل کا نبی تھا۔ اُس نے کہا یہ وہ نہیں، وہ تو فوت ہو چکا۔ یہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا سب سے پیارا ابنِ مریم ہے۔ اس کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبانِ مبارک سے یہ آوازہ فرمایا اور اس افسر کو فرمایا کہ بلند آواز سے لوگوں کو کہہ دے کہ جب یہ ہمارا ابنِ مریم آوے، اُس کی تابعداری کرنی ضروری ہے اور جس نے تابعداری نہ کی وہ مجھ سے نہیں۔ اس عرصے میں میری بیوی نے مجھے جگا دیا اور کہا کہ صبح کی اذان ہو گئی ہے آپ تہجد کے بعد کبھی سوئے نہیں تھے، اٹھو اور نماز کے لئے مسجد میں جاؤ۔ اُس وقت اپنی بیوی پر میں بہت خفا ہواکہ تو نے مجھ کو کیوں جگایا۔ خیر اگلے روز میں گاؤں کو چلا گیا اور تمام ماجرامَیں نے اپنے خواب کا اپنے مرشد کو کہہ سنایا۔ اُس نے کہا کہ مبارک ہو تم کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ اور پھر کہا کہ اب ہم غیر کے علاقے میں ہوں گے اور عنقریب ابن مریم نازل ہوں گے۔ یعنی خواب کی تعبیر یہ کی، غیر کے علاقے میں ہوں گے عنقریب ابنِ مریم نازل ہوں گے۔ بلکہ یہ زمانہ مسیح موعود کا ہی زمانہ ہے۔ خوش نصیب ہیں وہ جو اُس کو پاویں گے۔ یہ مرشدنے جواب دیا۔ کہتے ہیں اس کے بعد مَیں نے محکمہ نہر میں مستری کی ملازمت کی۔ ایک بابو کے ذریعے سے اور اس ملازمت میں کسی کلرک کے ذریعے سے ملازمت کی اور ملازمت میں مجھ کو بہت سی خوابیں آئیں اور بسبب منع کرنے کے (یعنی اُس پیر اور مرشد جو تھا اُس نے منع کیا تھا کہ خوابیں نہیں بتانی) تو منع کرنے کی وجہ سے مَیں نے کسی سے ظاہر نہ کیں۔ پندرہ بیس سال تک مَیں نے ملازمت کی۔ بعد میں ملازمت چھوڑ کر اپنے گاؤں کو چلا گیا اور اپنے گھر پر رہنے لگا۔ لہٰذا ہماری برادری میں سے مولوی محمد چراغ صاحب جو ہمارے استاد بھی تھے اور وہ پکّے اہلحدیث تھے۔ جب مَیں ملازمت چھوڑ کر واپس چلا آیا تو اُن کو مَیں نے احمدی طریقے پر پایا۔ وہ احمدی ہو گئے تھے اور میرے ساتھ حضرت صاحب کے سلسلے کی گفتگو شروع کر دی لیکن مَیں نے کوئی دلچسپی ظاہر نہ کی کیونکہ مَیں فقیروں کا معتقد تھا اور جانتا تھا کہ فقیر ہی اصل شریعت کے مالک ہیں۔ اس واسطے مَیں نے مولوی صاحب کو کوئی جواب نہ دیا اور یہ کہہ کر ٹال دیا کہ ہاں آجکل ایسے لوگوں نے دوکانداریاں بنا رکھی ہیں اور خلقِ خدا کو دھوکہ دیتے ہیں۔ لہٰذا مَیں نے ارادہ کیا کہ اپنے مرشد سے تحقیقات کراؤں کہ کیا یہ دعویٰ حضرت صاحب منجانب اللہ ہے یا دھوکہ ہے۔ جب مَیں اُن کے مکان پر گیا اور پیر صاحب کے لڑکے سے دریافت کیا کہ حضرت کہاں ہیں؟ تو اُس نے رو کر جواب دیا کہ وہ مرشد جو تھے ان کے وہ دو ماہ سے فوت ہو گئے ہیں اور ہم آپ کو اُن کی فوتیدگی کی اطلاع دینی بھول گئے، معاف فرمائیں۔ کہتے ہیں مجھے بڑا رنج ہوا اور صدمہ ہوا۔ مَیں روتا دھوتا گھر کو چلا آیا۔ ایک دن پھر مولوی صاحب نے مجھ سے کہا کہ تم خواندہ آدمی ہو، پڑھے لکھے آدمی ہو۔ حضرت صاحب کی تصنیفات دیکھنی چاہئیں۔ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جو تحریرات ہیں، کتابیں ہیں، وہ دیکھنی چاہئیں۔ انہوں نے اُسی وقت مجھے ایک کتاب جس کا اسم شریف جلسہ مذاہب مہوتسو ہے، پڑھنے کو دیا۔ وہ مَیں نے سارا ختم کیا اور پھر انہوں نے مجھ کو براہینِ احمدیہ ہر چہار جلد دیں۔ جب مَیں نے ساری ختم کر لیں تو معاً میرے دل میں بات ڈالی گئی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعدنہ کوئی ایسا لائق شخص ہوا ہے اور نہ کسی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ایسی کتاب شائع کی ہے جو تمام غیر مذاہب کو اسلام کی حقانیت پر دعوت دے۔

(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد7 صفحہ16تا22 روایت حضرت فضل دین صاحبؓ)

(طبہ جمعہ 30؍نومبر 2012ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 جنوری 2022