• 21 مئی, 2022

کمال خشیت کا مفہوم اسلام کے مفہوم کو مستلزم ہے

’’اَللہ جَلَّ شَانُہٗ سے وہ لوگ ڈرتے ہیں جو اس کی عظمت اور قدرت اور احسان اور حسن اور جمال پر علم کامل رکھتے ہیں خشیت اور اسلام درحقیقت اپنے مفہوم کے رُو سے ایک ہی چیز ہے کیونکہ کمال خشیت کا مفہوم اسلام کے مفہوم کو مستلزم ہے۔ پس اس آیتِ کریمہ کے معنوں کا مآل اور ماحصل یہی ہوا کہ اسلام کے حصول کا وسیلہ کاملہ یہی علم عظمت ذات و صفات باری ہے‘‘

(آئینہ کمالات اسلام، روحانی خزائن جلد5 صفحہ185)

’’انسان کی خاصیت اکثر اور اغلب طور پر یہی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی نسبت علم کامل حاصل کرنے سے ہدایت پا لیتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُا (فاطر: 29)۔ ہاں جو لوگ شیطانی سرشت رکھتے ہیں وہ اس قاعدہ سے باہر ہیں‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد22 صفحہ122)

’’علم سے مراد منطق یا فلسفہ نہیں ہے بلکہ حقیقی علم وہ ہے جو اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل سے عطا کرتا ہے۔ یہ علم اللہ تعالیٰ کی معرفت کا ذریعہ ہوتا ہے اور خشیت الٰہی پیدا ہوتی ہے۔ جیسا کہ قرآنِ شریف میں ہی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُا (فاطر: 29) اگر علم سے اللہ تعالیٰ کی خشیت میں ترقی نہیں ہوتی تو یاد رکھو کہ وہ علم ترقی معرفت کا ذریعہ نہیں ہے۔‘‘

(ملفوظات جلد1 صفحہ195 ایڈیشن 2003ء)

’’یاد رکھو لغزش ہمیشہ نادان کو آتی ہے۔ شیطان کو جو لغزش آئی وہ علم کی وجہ سے نہیں بلکہ نادانی سے آئی۔ اگر وہ علم میں کمال رکھتا تو لغزش نہ آتی۔ قرآنِ شریف میں علم کی مذمّت نہیں بلکہ اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُا (فاطر: 29) ہے۔‘‘ پھر فرمایا: ’’اور نیم مُلّاں خطرۂ ایمان مشہور مثل ہے۔ پس میرے مخالفوں کو علم نے ہلاک نہیں کیا بلکہ جہالت نے۔‘‘

(ملفوظات جلد2 صفحہ223 ایڈیشن 2003ء)

’’علماء کے لفظ سے دھوکہ نہیں کھانا چاہئے۔ عالِم وہ ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔ اِنَّمَا یَخۡشَی اللّٰہَ مِنۡ عِبَادِہِ الۡعُلَمٰٓؤُا (فاطر: 29) یعنی بیشک جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، اُس کے بندوں میں سے وہی عالم ہیں۔ ان میں عبودیت تامہ اور خَشْیَۃ اللّٰہ اس حد تک پیدا ہوتی ہے کہ وہ خود اللہ تعالیٰ سے ایک علم اور معرفت سیکھتے ہیں اور اُسی سے فیض پاتے ہیں اور یہ مقام اور درجہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اتباع اور آپ سے پوری محبت سے ملتا ہے یہاں تک کہ انسان بالکل آپؐ کے رنگ میں رنگین ہو جاوے۔‘‘

(ملفوظات جلد4 صفحہ433-434 ایڈیشن 2003ء)

پچھلا پڑھیں

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 جنوری 2022