• 21 مئی, 2022

عشق رسولؐ، محبت الہٰی کا ذریعہ

یا عشق محمدؐ عربی ہے یا احمد ہندی کی ہے وفا
باقی تو پرانے قصے ہیں زندہ ہیں یہی افسانے دو

اللہ تعالیٰ نے محبت الٰہی کا حصول رسول کریم ؐ کی اطاعت سے مشروط فرمایا۔ (آل عمران: 32) دراصل رسول یا اس کے خلیفہ کی کامل اطاعت سچی محبت کے بغیر نہیں ہو سکتی اس لئے رسول کریم ؐ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی حقیقی مومن نہیں ہوسکتا، یہاں تک کہ اللہ کا رسول اسے اس کے والدین، اولاد اور تمام لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجائے۔ (بخاری کتاب الایمان باب حب االرسول من الایمان) صحابہ رسول ؐ نے یہ اصول خوب سمجھا اور خدا کے پاک نبی حضرت محمد مصطفی ؐ سے محبت و عشق کے شاندار نمونے دکھائے۔ان عشاق کی فہرست طویل ہے جس میں سر فہرست حضرت ابو بکر صدیق ؓ ہیں:

حضرت ابوبکر صدیق ؓ کا عشق رسول

ہجرت مدینہ کے مبارک سفر میں حضرت ابو بکر صدیق ؓنے جس وفاداری اور جاں نثاری کا نمونہ دکھایا اس کی مثال نہیں ملتی۔ اپنی دو اونٹنیاں جو پہلے سے سفر ہجرت کیلئے تیار کررکھی تھیں۔ ان میں سے ایک اونٹنی آنحضرتؐ کی خدمت میں بلامعاوضہ پیش کردی مگرنبی کریمؐ نے وہ قیمتاً قبول فرمائی۔ حضرت ابوبکر ؓ نے پانچ ہزار درہم بھی بطور زادِ راہ ساتھ لئے۔ پھر غار ثور میں رسول خدا ؐکی مصاحبت کی توفیق پائی جس کا ذکر قرآن شریف میں ہمیشہ کیلئے محفوظ ہوگیا۔ فرمایا: ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْھُمَافِی الْغَارِاِذْیَقُوْلُ لِصَاحِبِہٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰہَ مَعَنَا (التوبہ: 40) یعنی دومیں سے دوسرا جب وہ دونوں غار میں تھے۔جب وہ اپنے ساتھی سے کہتا تھا کہ غم نہ کرو۔ اللہ ہمارے ساتھ ہے۔

سفر ہجرت میں تاجدار عرب کا یہ بے کس سپاہی آپؐ کی حفاظت کی خاطر کبھی آگے آتا تو کبھی پیچھے کبھی دائیں تو کبھی بائیں اور اس طرح اپنے آقا کو بحفاظت یثرب پہنچایا۔

(السیرۃ الحلبیۃ جلد2 ص45 بیروت)

اسی سفر ہجرت کا واقعہ ہے جب حضرت ابوبکرؓ نے ایک مشرک سراقہ کو تعاقب میں آتے دیکھا تو رو پڑے۔ رسول اللہ ؐ نے وجہ پوچھی تو عرض کیا۔ ’’اپنی جان کے خوف سے نہیں آپؐ کی وجہ سے روتا ہوں کہ میرے آقا ؐ کو کوئی گزند نہ پہنچے۔‘‘

(مسند احمد جلد1 ص2 مصر)

حضرت عمرؓ کی محبت رسولؐ

حضرت عمرؓ بھی رسول اللہؐ کے سچے عاشق تھے۔ زُہرہ بن معبدؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہؐ کے ساتھ تھے۔ حضورؐ نے حضرت عمر ؓ کا ہاتھ پکڑ ا ہوا تھا۔ وہ فرطِ محبت میں کہنے لگے۔ ’’اے اللہ کے رسول ؐ! آپؐ مجھے ہر چیز سے زیادہ پیارے ہیں سوائے میری جان کے۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا۔ ’’اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا جب تک میں اسے اس کی جان سے بھی زیادہ پیارا نہ ہوں۔‘‘ حضرت عمرؓ نے عرض کیا۔ ’’اچھا تو خدا کی قسم آج سے آپؐ مجھے میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔‘‘ رسول کریمؐ نے فرمایا ’’اے عمرؓ کیا آج سے؟‘‘ گویا حضور سمجھتے تھے کہ حضرت عمرؓ فی الواقعہ دلی طور پر اس اظہار سے پہلے ہی رسول کریم ؐ کو اپنی جان و مال سے عزیز ترجانتے تھے۔

دیگر عُشّاقِ وفا

حضرت عثمانؓ اور علیؓ نے بھی ہمیشہ رسول اللہ ؐکی خاطر فدائیت کے نمونے دکھائے۔ حضرت عثمانؓ نے ایک طرف اپنے اموال راہ خدا میں بے دریغ خرچ کرکے ’’غنی‘‘ کا خطاب پایا۔ تو دوسری طرف حدیبیہ میں رسول کریم ؐ نے اپنے اس نمائندہ صلح حضرت عثمان ؓ کی خاطر صحابہؓ سے موت پر بیعت لی اور اپنا ایک ہاتھ دوسرے پر رکھ کر فرمایا یہ عثمان ؓ کا ہاتھ ہے۔

حضرت علیؓ نے توکمال وفا سے روز اوّل سے ہی رسول اللہؐ کی تائید و نصرت کی حامی بھری تھی، جب رسول اللہؐ نے اپنے خاندان کے لوگوں سے دعوت و تبلیغ کا آغاز کیا تھا،اُس وقت سب نے انکار کیاسوائے اُس کمسن بچے علیؓ کے جس نے کمزوری کے باوجود مددکا وعدہ کیا اور پھر زندگی بھر اُسے خوب نبھایا۔ یہ حضرت علی ہی تھے جنہوں نے ہجرتِ مدینہ کے وقت اپنی جان خطرے میں ڈال کر رسول اللہؐ کی جگہ آپؐ کے گھر میں ٹھہرنا صدق دل سے قبول کیا۔

(الوفاء جلد1صفحہ181، کنز العمال جلد13صفحہ128)

صحابہ کا اظہار فدائیت

بعض صحابہ رسول سے تو عشق و محبت کے ایسے نظارے ظاہر ہوئے کہ دیگر صحابہ کو ان پر رشک آتا تھا۔حضرت عبداللہ بن مسعودؓ فرماتے تھے کہ میں نے بدر کے موقع پر مقداد بن الا سودؓ سے ایک ایسا نظارہ دیکھا کہ (میرا دل کرتا ہے کہ) کاش ان کی جگہ میں ہوتا اور یہ سعادت مجھے حاصل ہوتی تو دنیا کی ہر چیز سے زیادہ محبوب لگتی اور وہ یہ کہ رسول کریم ؐ بدر کے موقع پرمشرکوں کے خلاف مسلمانوں کو تحریک جنگ فرمارہے تھے تو مقداد ؓنے کہا یارسولؐ اللہ! ہم قوم موسیٰ کی طرح یہ نہیں کہیں گے کہ تم اور تمہارا رب جاکر لڑو بلکہ ہم آپؐ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی، آپؐ کے آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں آپؐ کی جان ہے اگر آپؐ سواریوں کو برک الغماد (کے انتہائی) مقام تک بھی لے جائیں تو ہم آپؐ کی پیروی کریں گے۔

(بخاری کتاب المغازی باب4)

عبداللہ بن مسعودؓ کہتے ہیں میں نے دیکھا کہ مقدادؓ کی تقریر سن کر رسول اللہؐ کا چہرہ کھِل کر چمک اٹھا تھا اور ان کی بات نے حضورؐ کو بہت خوش کیا۔ غزوۂ اُحد میں جب کفار نے دوبارہ حملہ کیا توجن صحابہ نے رسول اللہﷺ کو اپنے حصار میں لے کر جان کی بازی لگا کر آپؐ کی حفاظت کی ہے، ان میں ابو طلحہؓ کا نمایاں مقام ہے۔ وہ رسول اللہ ؐ کے سامنے سینہ سپر ہوگئے۔ رسول اللہ ؐ آپ کو تیر پکڑاتے اور سر اٹھا کر دیکھنا چاہتے کہ کہاں پڑا ہے۔ ابو طلحہؓ عرض کرتے۔ ’’یا رسول اللہؐ !آپؐ سر اٹھا کرنہ جھانکئے۔ کہیں آپؐ کو کوئی تیر نہ لگ جائے میرا سینہ آپؐ کے سینہ کے آگے سپر ہے۔‘‘

(بخاری کتاب المغازی باب15)

ماں سے بڑھ کر آقا ؐسے پیار

اسلام کے پہلے مبلغ حضرت مصعبؓ ہجرت مدینہ کے بعد رسول اللہؐ سے ملنے مکہ آئے تو ان کی محبت رسول ؐ کا ایک عجب نمونہ دیکھنے میں آیا۔ آپؐ مکہ پہنچتے ہی اپنی والدہ (جو اَب اسلام کی مخالفت چھوڑ چکی تھیں) کے گھرجانے کی بجائے سیدھے نبی کریم ؐ کے پاس پہنچے۔ حضور ؐ کی خدمت میں مدینہ کے حالات عرض کئے اور وہاں سرعت کے ساتھ اسلام پھیلنے کی تفصیل بیان کی۔ حضور ؐ ان کی خوشکن مساعی سن کر بہت خوش ہوئے۔ادھر مصعب ؓ کی والدہ کو پتہ چلا کہ مصعب ؓ مکہ آئے ہیں اور پہلے ان کے پاس آکر ملنے کے بجائے رسول اللہ کے پاس حاضر ہیں۔ انہوں نے والہانہ انداز میں لخت جگر کویہ پیغام بھیجا کہ او بے وفا! تو میرے شہر میں آکر پہلے مجھے نہیں ملا۔عاشق رسول ؐمصعب ؓ کا جواب بھی کیسا خوبصورت تھا کہ اے میری ماں! میں مکہ میں اپنے محبوب نبی کریمؐ سے پہلے کسی کو ملنا گوارا نہیں کرسکتا۔

(الطبقات الکبریٰ ابن سعد جلد3 صفحہ119مطبوعہ بیروت)

حضرت سعد بن ربیع انصاری کا والہانہ عشق

رسول اللہ ؐکے ایک اور عاشق صادق انصاری سردار سعد بن ربیعؓ تھے۔ میدان اُحد میں ستر مسلمان شہداء کی لاشوں کے پُشتے لگے پڑے تھے۔ اور رسول اللہؐ کو اپنے وفاشعار غلام یاد آرہے تھے۔ اچانک آپؐ نے فرمایا:۔ ’’کوئی ہے جو جاکر دیکھے کہ انصاری سردار سعدبن ربیعًؓ پر کیاگزری۔ میں نے اُسے لڑائی کے دوران بے شمار نیزوں کی زد میں گھرے ہوئے دیکھا تھا۔‘‘ ابی بن کعبؓ، محمد بن مسلمہ ؓ اور زید بن حارثہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہؐ! ہم حاضر ہیں۔ رسول اللہؐ نے محمد بن مسلمہؓ کو بھجوایا اور فرمایا کہ سعد بن ربیع ؓسے ملاقات ہوتو انہیں میرا سلام پہنچانا اور کہنا کہ رسول اللہؐ تمہارا حال پوچھتے تھے۔ انہوں نے جاکر میدان اُحد میں بکھری لاشوں کے درمیان انہیں تلاش کیا۔ انہیں آوازیں دیں مگر کوئی جواب نہ آیا۔ تب انہوں نے بآواز بلند کہا کہ اے سعد بن ربیع ؓ! رسول اللہؐ نے مجھے تمہاری خبر لینے بھیجا ہے۔ اچانک لاشوں میں جنبش ہوئی اور ایک نحیف سی آواز آئی۔ وہاں پہنچے تو سعدؓ کو سخت زخمی حالت میں پایا۔ ان سے کہا کہ رسول اللہؐ نے مجھے بھیجا ہے کہ میں پتہ کروں کہ کس حال میں ہو؟ اور حضورؐ کا سلام آپ کو پہنچاؤں۔ انہوں نے کہا میں تو موت کے کنارے پر ہوں، مجھے بارہ تلواروں کے زخم آئے ہیں اور ایسے کاری زخم ہیں کہ ان سے جان بر ہونا مشکل ہے۔ اس لئے میری طرف سے بھی رسول اللہؐ کو سلام پہنچا دینا اور کہنا کہ سعد بن ربیع ؓ آپؐ کی خدمت میں عرض کرتے تھے کہ پہلے نبیوں کو اپنی امت کی طرف سے جو جزا ملی ہے،اللہ تعالیٰ آپؐ کو اُن سب سے بہترین جزا عطا کرے اور میری قوم کو بھی میری طرف سے سلام پہنچانا اور یہ پیغام دینا کہ سعد بن ربیع ؓکہتے تھے کہ تم نے عقبہ کی گھاٹی میں جو عہد رسول اللہؐ سے کیا تھا اُسے ہمیشہ یاد رکھنا۔ ہم نے آخری سانس تک یہ عہد نبھایا۔ اب یہ امانت تمہارے سپرد ہے۔جب تک تمہارے اندر ایک بھی جھپکنے والی آنکھ ہے اگر نبی کریمؐ پر کوئی آنچ آگئی تو تمہارا کوئی عذر خدا کے حضور قبول نہ ہوگا۔ محمد بن مسلمہ ؓنے رسول اللہؐ کی خدمت میں حاضر ہوکر یہ سارا واقعہ عرض کردیا۔ جس سے یقینا آپؐ کا دل ٹھنڈا ہوا۔

(السیرۃ الحلبیۃ جلد2 صفحہ245 دارا حیاء التراث العربی بیروت)

آقائے دوجہاں اپنی جان اور والدین
سے بڑھ کر محبوب

ایک اور عاشق رسول زید بن دثنہؓ تھے، جوایک اسلامی مہم کے دوران قید ہوئے۔ مشرک سردار صفوان بن امیہ نے اُن کو خریدا تاکہ اپنے مقتولین بدرکے انتقام میں انہیں قتل کرے۔ جب صفوانؓ اپنے غلام کے ساتھ انہیں قتل کرنے کے لئے حرم سے باہر لے کر گیا تو کہنے لگا اے زید! میں تجھے خدا کی قسم دیکر پوچھتا ہوں کیا تو پسند کرتا ہے کہ محمدؐ اس وقت تمہاری جگہ مقتل میں ہو اور تم آرام سے اپنے گھر میں بیٹھے ہو۔ زیدؓ نے کہا خدا کی قسم مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ میرے قتل سے بچ جانے کے عوض رسول اللہؐ کو کوئی کانٹا بھی چبھ جائے۔ ابوسفیان نے یہ سنا تو کہنے لگا خدا کی قسم! میں نے دنیا میں کسی کوکسی سے اتنی محبت کرتے نہیں دیکھا جتنی محبت محمدؐ کے ساتھی اس سے کرتے ہیں۔

(السیرۃ الحلبیۃ جلد3صفحہ170مطبوعہ بیروت)

ایک اورعاشق صادق حضرت زید بن حارثہؒ رسول اللہ ؐ کے آزاد کردہ غلام تھے کہ جن کے والدین ان کی تلاش میں مکہ پہنچے اور انہیں وا پس لے جانے کی خواہش کی تو رسول اللہ ؐ نے زید کو آزاد کرکے یہ اختیار دیا کہ وہ چاہیں تو والدین کے ساتھ جا سکتے ہیں۔ حضرت زید ؓ نے رسول اللہ ؐ کو چھوڑنا گوارا نہ کیا اور کہا کہ اب تو میرا جینا مرنا آپ ؐ سے جدا نہیں ہو سکتا۔

(ابن سعد جلد3 صفحہ45، اصابہ جز3 صفحہ25)

میدان حدیبیہ میں عشق و وفا اور ادبِ رسولؐ کے نظارے

واقعہ یہ ہے کہ صحابہ رسول ؐ کو اپنے آقا و مولیٰ سب دوستوں اور عزیزوں سے بڑھ کر پیارے تھے۔میدان حدیبیہ میں ہی کفار کے سفیر عروہ نے صحابہ کے عشق کاایک اور نظارہ بھی دیکھا کہ وہ حضورؐ کے وضو کا مستعمل پانی حتّٰی کہ آپؐ کا تھوک بھی نیچے گرنے نہ دیتے بلکہ بطور تبّرک اپنے ہاتھوں میں لیتے تھے۔ وہ آپؐ کے حکم کی والہانہ تعمیل کرتے تھے۔ اس نے جاکر قریش کے سامنے اس کا یوں اظہار کیا کہ میں نے بڑے بڑے بادشاہوں کے دربار بھی دیکھے ہیں اور قیصروکسریٰ اور نجاشی کے محلّات بھی۔خدا کی قسم! میں نے کسی بادشاہ کے ساتھیوں کو اس کی وہ تعظیم کرتے نہیں دیکھا جو محمدؐ کے ساتھی اس کی کرتے ہیں۔ خدا کی قسم! رسولؐ اللہ کوئی تھوک بھی نہیں پھینکتے مگر ان کا کوئی ساتھی اُسے اپنے ہاتھ میں لے کر اپنے جسم پر مل لیتا ہے اور جب وہ انہیں کوئی بات کہتے ہیں تو وہ لبیک کہتے اور فوراً اس پر عمل کرتے ہیں۔ جب محمدؐ وضو کرتے ہیں تو اس کے پانی کاایک قطرہ بھی وہ نیچے گرنے نہیں دیتے ا ور لگتا ہے کہ اسے ہاتھوں ہاتھ لینے کیلئے جیسے وہ لڑ پڑیں گے۔ پھر جب وہ بات کرتا ہے تو وہ خاموشی سے سنتے ہیں۔ اس کی تعظیم کی خاطر اس کی طرف نظر اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتے اور اس کے سامنے نیچی آواز میں بات کرتے ہیں۔ الغرض صحابہ کے عشق و محبت کا یہ وہ نظارہ تھا جس نے مشرک سردار عروہ کو بھی حیران و ششدر کردیا۔

(بخاری کتاب الشروط باب15)

خوشنودیٔ رسولؐ کے جتن

حضرت جابرؓ اپنے والد عبداللہؓ بن حرام کے بارہ میں یہ واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ انہوں نے حلوا تیار کروایا پھر مجھے کہنے لگے کہ رسول اللہ ؐ کی خدمت میں تحفہ پہنچا کر آؤ۔ میں لے کر گیا، حضورؐ فرمانے لگے ’’جابرؓ ! گوشت لائے ہو؟‘‘ میں نے عرض کیا ’’نہیں اے اللہ کے رسولؐ! میرے والد نے یہ حلوا آپؐ کی خدمت میں پیش کرنے کے لئے بھجوایا ہے‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’ٹھیک ہے۔‘‘ اور اُسے قبول فرمایا۔ میں جب واپس گیا تو والد نے پوچھا کہ رسول اللہ ؐ نے تمہیں کیا فرمایا تھا۔ میں نے عرض کر دیا کہ حضورؐ نے پوچھا تھا کہ گوشت لائے ہو؟میرے والد کہنے لگے کہ معلوم ہوتا ہے کہ میرے آقا رسول اللہ ؐکو گوشت کی خواہش ہوگی۔ چنانچہ والد صاحب نے اسی وقت اپنی ایک دودھ دے نے والی بکری ذبح کردی۔ پھر گوشت بھو ننے کا حکم دیا اور مجھے حضورؐ کی خدمت میں بھنا ہوا گوشت دے کر بھجوایا ۔حضورؐ نے بہت محبت سے دلی شکریہ ادا کرتے ہوئے قبول کیا اورفرمایا ’’انصار کو اللہ تعالیٰ بہت جزا عطا فرمائے خاص طور پر عمر و ؓبن حرام کے قبیلے کو۔‘‘

(دلائل النبوۃ الابی نعیم جلد1 صفحہ48)

صحابیات اور محبت رسول ؐ کے پاکیزہ نمونے

صحابیات بھی عشق رسولؐ میں مردوں سے پیچھے نہ تھیں۔ ایک صحابیہ نے ایک دفعہ رسول اللہؐ کے لئے لباس کی ضرورت محسوس کی تو ایک خوبصورت چادر ہاتھ سے کڑھائی کر کے لے آئیں اور حضورؐ کی خدمت میں نذرکرتے ہوئے عرض کیا یا رسول اللہؐ! میری خواہش ہے کہ آپؐ یہ چادر خود زیب تن فرمائیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی طرف سے اپنی ضرورت کا یہ انتظام ہونے پر شکریہ کے ساتھ اسے قبول کیا اور وہ چادر پہن کر مسجد میں تشریف لائے۔ ایک شخص نے دیکھ کر کہا اے اللہ کے رسولؐ! یہ کتنی خوبصورت چادر ہے؟ آپؐ مجھے ہی عطا فرمادیں۔ آپؐ نے فرمایا ’’اچھا یہ آپ کی ہوئی‘‘ نبی کریمؐ جب مجلس سے اُٹھ کر تشریف لے گئے تو صحابہ نے اس شخص سے کہا کہ تم نے حضورؐ سے چادر مانگ کر اچھا نہیں کیا، خصوصاً جب کہ حضورؐ کو اس کی ضرورت بھی تھی اور تمہیں کو پتہ ہے کہ رسول اللہؐ سے کچھ مانگا جائے تو آپؐ کبھی انکار نہیں فرماتے۔وہ صحابی کہنے لگے سچ پوچھو تو میں نے بھی برکت کی خاطر یہ پہنی ہوئی چادر مانگی ہے۔ میری خواہش ہے کہ مرنے کے بعد میرا کفن اسی چادر سے ہو جو رسول اللہؐ کے بدن سے مَس ہوئی۔

(دلائل النبوۃ الابی نعیم جلد1صفحہ 48)

حضرت امّ سلیمؓ انصاریہ بسا اوقات کھانا بنوا کے رسول اللہؐ کے گھر بھجوا دیتی تھیں۔ حضرت زینب ؓ کی شادی کے موقع پر تو انہوں نے کافی سارا کھانا بنواکے بھجوا دیا جس سے رسول اللہؐ نے دعوت ولیمہ کا انتظام فرمایا۔

(بخاری کتاب انکاح باب 64)

ایک انصاری خاتون میناءؓ نامی تھیں۔ ان کا غلام بڑھئی تھا۔ انہیں یہ اچھوتا خیال آیا کہ رسول اللہؐ کے مجلس میں بیٹھنے کے لئے لکڑی کی کوئی اچھی سی چیز بنواکر دیں۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہؐ سے عرض کیا کہ میں آپؐ کے بیٹھنے کے لئے کوئی چیز بنوانا چاہتی ہوں۔حضور نے خوشی سے اجازت دیدی تو انہوں نے وہ تاریخی منبر بنوایا جس پر رسول اللہؐ خطبہ ارشاد فرماتے تھے۔

(بخاری کتاب المساجد باب31)

تمام رشتوں سے زیادہ پیارا رسول!

اُحد کے دن جب مدینہ میں یہ خبر پھیل گئی کہ رسول اللہؐ شہید ہوگئے ہیں۔ مدینہ میں عورتیں رونے اور چلانے لگیں۔ ایک عورت کہنے لگی تم رونے میں جلدی نہ کرو میں پہلے پتہ کرکے آتی ہوں، وہ گئی تو پتہ چلا کہ اس کے سارے عزیز شہید ہوچکے تھے۔ اس نے ایک جنازہ دیکھا، پوچھا یہ کس کا جنازہ ہے۔ بتایا گیا کہ یہ تمہارے باپ کا جنازہ ہے۔ اس کے پیچھے تمہارے بھائی ،خاوند اور بیٹے کا جنازہ بھی آرہا ہے۔ وہ کہنے لگی مجھے یہ بتاؤ رسول اللہؐ کا کیا حال ہے؟ لوگوں نے کہا نبی کریمؐ وہ سامنے تشریف لارہے ہیں۔ وہ رسول اللہؐ کی طرف لپکی اور آپؐ کے کرتے کا دامن پکڑ کر کہنے لگی میرے ماں باپ آپؐ پر قربان اے اللہ کے رسولؐ! جب آپؐ زندہ ہیں تو مجھے کوئی پرواہ نہیں۔

(مجمع الزوائدلھیثمی جلد6 صفحہ165 بیروت بحوالہ طبرانی)

الغرض کیا مرد اور کیا عورتیں اور کیا بچے، تمام اصحاب رسول ؐ اس پاک رسولؐ کے دیوانے اور اس کے منہ کے بھوکے تھے اور یہ کمال آنحضورؐ کے اخلاق فاضلہ کا تھا جن کے باعث ایک دنیا آپؐ کی گرویدہ تھی، آج تک ہے اوررہے گی۔ ان شاء اللّٰہ

خلفاء سے محبت کے واقعات

حضرت ابوبکرؓ کو اہل بیت رسولﷺ سے بہت محبت تھی۔ آپ فرماتے تھے کہ رسول اللہﷺ کا قرب مجھے اپنی تمام رشتہ داریوں سے کہیں زیادہ پیارا ہے۔

(مسند احمد جلد1 صفحہ9)

رسول کریمؐ کی وفات سے چند روز بعد کا واقعہ ہے حضرت علیؓ حضرت ابوبکرؓ کے ساتھ کہیں جارہے تھے۔راستہ میں حضرت حسنؓ کو بچوں کے ساتھ کھیلتے دیکھا تو خلیفة الرسول حضرت ابوبکرؓ نے آگے بڑھ کر انہیں اٹھالیا اور اپنے کندھوں پر بٹھایا اور فرمانے لگے: خدا کی قسم! اس کی شباہت حضرت علیؓ سے زیادہ نبی کریمﷺ پر ہے اور حضرت علیؓ مسکرارہے تھے۔

(مسند احمد جلد1 صفحہ8)

حضرت عمرؓ اپنے پیشرو خلیفہ حضرت ابوبکرؓ سے گہری محبت رکھتے تھے۔ وراثت رسولؐ کے مسئلہ پر حضرت عمرؓ یہ اظہار فرماتے تھے کہ میں نے اس بارہ میں وہی معاملہ کیا جو رسول کریمؐ اور ان کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے کیا تھا۔

(بخاری کتاب فرض الخمس)

اسی طرح کلالہ کے مسئلہ کے بارہ میں اپنی الگ رائے رکھنے کے باوجود اس میں کوئی تبدیلی کرنی اس لیے پسند نہ فرمائی کہ حضرت ابوبکرؓ کی رائے کا احترام مقصود تھا۔

(الدر المنثور فی التفسير بالمأثور للسیوطی جزء2 صفحہ756)

ہم خوش قسمت ہیں جنہوں نے چودہ سو سال کے بعد اس زمانہ میں رسول اللہ ؐ کے نائب اور عاشق صادق کو ماننے کی توفیق پائی اورہمارے آباء و اجداد نے امام الزماں مسیح ومہدی اور ان کے مقدس خلفاء کے ساتھ ایک بارپھر عشق و وفا کی داستانیں رقم کیں۔ ہر چندکہ ہمیشہ ہی عشق و وفا کے یہ کھیت سینچنے کی ضرورت رہتی ہے:

؂یہ عشق و وفا کے کھیت کبھی خوں سینچے بغیر نہ پنپیں گے
اِس راہ میں جان کی کیا پرواہ جاتی ہے اگر تو جانے دو

لیکن آج کل ایک بارپھر محبت و عشق کے یہ نمونے زندہ کرنے کی ضرورت ہے جو ہم خلیفۂ وقت کی کامل اطاعت کے عمدہ نمونہ اورآپ کے نیک مقاصد اور جماعت کےلیے متضرعانہ شبینہ دعاؤں سے کرسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اسکی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(علامہ ایچ ایم طارق)

پچھلا پڑھیں

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 جنوری 2022