• 18 جولائی, 2024

میاں عبدالرحیم دیانت مرحوم درویش قادیان کا تحریری انٹرویو

مکرم میاں عبدالرحیم (1980ء – 1903ء) کو چند سوالات دئے گئے جن کا تحریری جواب دفتر کے ریکارڈ سےعزیزم مکرم حبیب احمد طارق صاحب کے توسط سے حاصل ہوا۔ فجزاہ اللّٰہ تعالیٰ احسن الجزاء

قادیان ٹھہر کر کیا کیا؟

مئی، جون 1947ء سے اپنے محلہ کے انتظام کے ماتحت مختلف ڈیوٹیوں پر کام کرتا رہا۔ 22 گھنٹے مسجد میں رہنا شروع کر دیا تاکہ ضرورت کے وقت غیرحاضر نہ ہوں۔ پھر اس اثنا میں بجلی بند ہوگئی تو گیس لیمپ جلانے کا کام کرتا۔ فساد زدہ علاقوں سے پناہ گزین آتے اُن کو منزل پر پہنچاتا۔ کھانے اور رہائش کا خیال رکھا۔ خاص گروپ کو اپنے چارج میں جہاں بھیجتے لے کر جاتا رہا۔ کرفیو کے دوران بعض ظلم و تشدد کو اپنے سر لے کر روکنے کی کوشش کرتا رہا۔ جو اچانک گھر جاتے اُنہیں پرائیویٹ راستوں سے منزل مقصود پر جانے میں مدد کرتا۔ پھر باہر سے آنے والے بے حساب لوگوں سے حُسنِ سلوک کرتا۔ کسی کو روٹی پکا کر دیتا۔ کسی کو دوائی وغیرہ کا بندوبست کر دیتا۔میرا مکان چوک پر دن رات خدمتِ خلق اور نظامِ سلسلہ کی پابندی کرتا رہا۔ اس دوران میں میری اپنی جان خطرے اور موت کے منہ سے خدا نے بچائی۔ پھر حملے کے دن ہر قسم کے اسلحے اور حکومت کے آدمیوں کا سامنا کرتے ہوئے مسجد مبارک میں آ گیا۔

حملے کے بعد دو تین دن مسجد مبارک میں سویا پھر دکان پر بندوبست کیا۔ حضرت میاں ناصر احمدکے کہنے پر کئی من مٹھائی تیار کی اور نمکین دال بنائی۔ اس اثناء میں اپنے گزارے کی صورت یہ کی کہ گندم بھگو دیتا اور نشاستہ بنا کر گڑ ملا کرمٹھائی بناتا۔ پھر مجھ سے پوچھا گیا کہ آپ قادیان ٹھہریں گے یا پاکستان جائیں گے۔ میں نے قادیان ٹھہرنے کا فیصلہ کیا۔

خدا کا شکر ہے کہ میرا نام قادیان رہنے والوں میں آ گیا۔ پھر لوگوں کے تالوں کی چابیاں بنا دیتا۔ کتابوں کی جلدیں بناتا۔ پھر ہندوؤں کے محلوں سے کتابیں خرید کر فروخت کرتا۔ ایک وقت سب کام بند ہو گئے۔ تو سَودا ڈالنے کے لفافے بنائے۔ نگران درویشاں محترم مرزا محمد حیات صاحب کے فرمان کے مطابق پہرے کی ڈیوٹی دیتا۔ دیوار بناتا۔ مکان تعمیر کرتا، ٹِیپ کرتا، کوئی دروازہ لگاتا۔ بازار اور پرائیویٹ احاطوں کی صفائی کرتا۔ پودوں کو بالٹیوں سے لا کر پانی ڈالتا۔ لنگر کے چولہے اور تنور بھی لگائے۔ شکستہ مکانوں کی مرمت چھت وغیرہ ٹھیک کرتا لوگوں کے گھروں سے سامان لا کر سٹور میں جمع کرواتا۔ صدر انجمن کے سٹور میں صابن برائے فروخت دکان صدر انجمن بنائی۔ غرض جہاں حکم ہوا اور جس کام کا حکم ہوا اس کے علاوہ خود نیک نیتی سے سوچ کر کام کرتا۔ زائرین کو دعوت الی اللہ کرتا۔

قادیان میں کیوں ٹھہرے؟

رضائے الٰہی اور مقاماتِ مقدسہ سے افادہ کرنا، خدا تعالیٰ سے دعا کرنا کہ قادیان کو پھر ویسے ہی آباد کر دے اور پھر یہاں سے ساری دنیا میں دعوت الی اللہ ہو اور شعائراللہ سے برکت حاصل کرنا اور ان کو آباد رکھنے کی ہر ممکن قربانی سے کوشش کرنا اور اپنی ہر حقیر قربانی پیش کر کے اس کی رحمت اور عنایت کو قریب سے قریب تر لانے کی اُمید پر جینے کے لئے ٹھہرا۔

قادیان میں ٹھہر کر کیا پایا؟

خدا کے فضل سے درجہ رفقاء کرام پا لیا۔ ہاں ہم نے وہ زندگی حاصل کی جس پر اب بڑے بڑے بزرگ، ہاں ہاں ہمارے واجب الادب و احترام خلیفہ رشک کے الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ مگر ذاتی طاقت، حوصلے اور وسائل سے نہیں اللہ تعالیٰ کے فضل رحم کرم سے مُوتُوا قبل اَنْ تَمُوْتُوا کے مصداق بن گئے۔ مگر اُسی کی ذرہ نوازی سے فالحمدللّٰہ علیٰ ذالک۔ اطاعت امیر کا احساس، بھائی بندی کا سلوک،ایک دوسرے کے غم میں حقیقی شرکت، وقت کی پابندی، نمازوں میں لطف و سرور، دعاؤں کے مواقع، تیمارداری کا پاک جذبہ پیدا ہؤا۔ رضائے الٰہی کی خاطر اپنے پیاروں سے پیاروں کی جدائی کی گھڑیاں صبر اور دعا سے برداشت کیں۔ اپنی مشکلات کو اپنے تک ہی محدود رکھتا اور صرف خدا تعالیٰ کا دروازہ کھٹکھٹاتا۔ اخوت، ہمدردی اور رواداری کا سلوک سیکھا گرمی ترشی برداشت کی۔

غرض قادیان میں ٹھہر کر جو ملا اس کو میری طاقت بیان نہیں کر سکتی اور خدا سے دعا ہے جو بھی وہ اپنے بندے کو دینا چاہتا ہے۔ اپنے فضل سے عنایت کر دے۔ ہم تو مانگنا بھی نہیں جانتے۔ آمین اللّٰھم آمین

عبدالرحیم درویش نمبر 72

(امۃ الباری ناصر۔ امریکہ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 جنوری 2023

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالی