• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

عذابِ الہٰی سےبچنے کے طریقے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:
’’اس لئے اس پیشتر کے عذاب الہٰی آکر توبہ کا دروازہ بندکردے، توبہ کرو۔ جب کہ دُنیا کے قانون سے اس قدر ڈر پیدا ہوتا ہے ، تو کیا وجہ ہے کہ خداتعالیٰ کے قانون سے نہ ڈریں۔جب بلا سر پر آپڑے تو اس کا مزا چکھنا ہی پڑتا ہے۔چاہیے کہ ہر شخص تہجد میں اٹھنے کی کوشش کرے اور پانچ وقت کی نمازوں میں بھی قنوت ملاویں۔ ہر ایک خدا کو ناراض کرنے والی باتوں سے توبہ کرے۔توبہ سے یہ مراد ہے کہ ان تمام بدکاریوں اور خدا کی نارضامندی کے باعثوں کو چھوڑ کر ایک سچی تبدیلی پیدا کریںاور آگے قدم رکھیں اور تقویٰ اختیار کریں۔اس میں بھی خدا کا رحم ہوتا ہے۔عادات انسانی کو شائستہ کریں۔ غضب نہ ہو۔تواضع اور انکساری اس کی جگہ لے ۔اخلاق کی درستی کے ساتھ اپنے مقدور کے موافق صدقات کا دینا بھی اختیار کرو۔ یُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلٰی حُبِّہٖ مِسْکِیْنًا وَّ یَتِیْمًا وَّاَسِیْرًا (الدھر:9) یعنی خدا کی رضا کے لئے مسکینوں اور یتیموں اور اسیروں کو کھانا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ خاص اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے ہم دیتے ہیں اور اس دن سے ہم ڈرتے ہیں جو نہایت ہی ہولناک ہے۔ قصہ مختصر دعا سے ،توبہ سے کام لو اور صدقات دیتے رہو۔ تا کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم کے ساتھ تم سے معاملہ کرے۔‘‘

(ملفوظات جلداوّل صفحہ193)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ