• بدھ 8 اپریل 2020   (15 شعبان 1441)

کرونا وائرس سے بچنے کے لئے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی تحریک

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے خطبہ جمعہ مورخہ6مارچ 2020ء میں فرمایا۔(حضورانورکےارشادکاخلاصہ پیش ہے)

آج کل جو وباء پھیلی ہوئی ہے کرونا وائرس کی اس کے بارے میں بھی احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ جیسا کہ حکومتوں اور محکموں کی طرف سے اعلان ہو رہے ہیں،احتیاطی تدابیر پر ہم سب کو عمل کرنا چاہئے۔ بعض ہومیو پیتھی دوائیاں بہت شروع میں میں نے ہومیوپیتھ سے مشورہ کر کے بتائی تھیں جو حفظ ماتقدم کے طور پر بھی ہیں اور بعض علاج کے طور پر بھی۔ ان کو استعمال کرنا چاہئے، یہ ایک ممکنہ علاج ہے یہ نہیں ہم کہہ سکتے کہ سو فیصد علاج ہے ۔ یہ ایسی وائرس ہے جس کا کوئی علم نہیں لیکن اس کا قریب ترین جو ممکنہ علاج ہو سکتا تھا اس قسم کی بیماری کا اس کے مطابق یہ دوائیاں تجویز کی گئی ہیں اللہ تعالیٰ ان میں شفاء بھی رکھے اس لئے استعمال بھی کرنا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ہی احتیاطی تدابیر بھی ضروری ہیں ۔ مجمع سے بچیں، مسجد میں آنے والوں کو بھی احتیاط کرنا چاہئے، اگر ہلکا سا بھی بخار ہے جسم ٹوٹ رہا ہے یا چھینکیں نزلہ وغیرہ ہے تو مسجد میں نہیں آنا چاہئے پھر۔ مسجد کے بھی حقوق ہیں کچھ اور یہ مسجد کا حق ہے کہ وہاں کوئی ایسا شخص نہ آئے جس سے دوسرے متاثر ہو سکتے ہوں۔ کسی بھی لگنے والی بیماری کا مریض جو ہے اس کو مسجد میں آنے سے بہت احتیاط کرنی چاہئے۔ پھر آج کل خاص طور پہ چھینک لیتے وقت بھی ویسے عمومی طور پر بھی ہر ایک کو چاہئے کہ چھینک لیتے وقت منہ پر ہاتھ رکھے یا رومال رکھنا چاہئے منہ پر۔آج کل جو ڈاکٹر احتیاط بتاتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہاتھ اور چہرہ صاف رکھیں۔ ہاتھ اگر گندے ہیں تو چہرے پر ہاتھ نہ لگائیں اور ہاتھوں پر سینیٹائزر لگا کر رکھیں یا دھوتے رہیں لیکن مسلمانوں کے لئے ہمارے لئے اگر پانچ وقت کا نمازی ہے کوئی اور پانچ وقت باقاعدہ وضو بھی کر رہے ہیں ناک میں پانی بھی چڑھا رہے ہیں اس سے ناک صاف ہو رہا ہے اور صحیح طرح وضو کیا جا رہا ہے تو یہ صفائی کا ایک ایسا اعلیٰ معیار ہے جو سینیٹائزر کی کمی کو پورا کر دیتا ہے۔ بہرحال جو وضو ہے اور صحیح طرح اگر وضو کیا جائے تو ظاہری صفائی بھی ہے اور وضو جو کرے گا انسان پھر نماز بھی پڑھے گا تو یہ ایک روحانی صفائی کا بھی ذریعہ بن جاتا ہے اور پھر آج کل تو خاص طور پر دعاؤں کی بھی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اس لئے اس طرف ہمیں خاص توجہ دینی چاہئے۔

پھر یہ ہے مصافحوں سے آج کل کہا جا رہا ہے پرہیز کرو یہ بھی بڑا ضروری ہے کوئی پتا نہیں کس کے ہاتھ کس قسم کے ہیں۔ تو اس لحاظ سے گو مصافحوں سے تعلق بڑھتا ہے محبت بڑھتی ہے لیکن آج کل اس بیماری کی وجہ سے پرہیز کرنا ہی بہتر ہوتا ہے۔

فرمایا: اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اس وباء نے اور کتنا پھیلنا ہے اور کس حد تک جانا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی کیا تقدیر ہے لیکن اگر یہ بیماری خدا تعالیٰ کی ناراضگی کی وجہ سے ظاہر ہو رہی ہے تو اللہ تعالیٰ کی تقدیر کے بداثرات سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے اور ہر احمدی کو ان دنوں میں خاص طور پر دعاؤں کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے اور اپنی روحانی حالت کو بھی بہتر کرنے کی طرف توجہ دینی چاہئے اور دنیاکے لئے بھی دعا کرنی چاہئے اللہ تعالیٰ ان کو بھی ہدایت دے اللہ تعالیٰ دنیا کو توفیق دے کہ وہ بجائے دنیاداری میں زیادہ پڑنے کے اور خدا تعالیٰ کو بھولنے کے اپنے پیدا کرنے والے خدا کو پہچاننے والے بھی ہوں۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ