• 6 جولائی, 2020

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ الله تعالىٰ کے کورونا وائرس کے بارہ میں تازہ ترین ارشادات

احمدیوں کو چاہئے کہ اس وقت بجائے نشان تلاش کرنے کے اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کیلئے اور مسجدوں میں جو احتیاطی تدابیر بتائی گئی ہیں، ان پر عمل کریں

اللہ تعالیٰ کوخوش کرنے کیلئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی مخلوق کا خیال کیا جائے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے لئے اور انسانیت کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں اور رحم مانگیں

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے 20 مارچ 2020ء کو جو خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا، اس کے آخر میں کوروناوائرس کے حوالہ سے ہدایات ارشاد فرمائیں۔ مورخہ 21 مارچ 2020ء کو خاکسار ملاقات کے لئے حاضر ہوا تو حضور انور نے اس حوالہ سے دنیا کی صورتحال، ماہرین کے تبصرے اور عوام الناس کے احساسات کے حوالہ سے نہایت بصیرت افروز گفتگو فرمائی۔

احمدیوں کے تبصروں کا ذکر تھا۔ فرمایا:
’’بعض احمدیوں نے اس بیماری کو طاعون قرار دیا ہے، بعض کہتے ہیں کہ یہ بھی طاعون کی طرح ایک نشان ہے۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ جس زمانہ میں طاعون کی وبا پھوٹی، اس سے قبل الله تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس کی خبر دی۔ یوں وہ طاعون کی وبا ایک نشان بن گئی۔ پھر اسی وبا کے پھوٹنےسے قبل اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ خبر بھی دی کہ حضور علیہ السلام پر ایمان لانے والے محفوظ رکھے جائیں گے۔ یوں بھی وہ طاعون کی وبا ایک نشان بن گئی۔ گو اس وقت بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ کوئی ایک آدھ آدمی قادیان میں بھی بیمار پڑجائے۔ کچھ اس سے بیمار ہوئے بھی، مگر طاعون کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے خود خبر دی تھی کہ کس وقت پھیلے گی اور کیسے پھیلے گی، اس لئے اس کا پھیلنا تو ایک نشان تھا۔ اس کے باوجود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس وقت عمومی طور پر دنیا کے اس عذاب سے بچنے کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے تھے اور اس کی رحمت کے طلبگار تھے۔

’’کورونا وائرس کے لئے نہ تو کوئی ایسی خبر ہے، نہ کہیں میں نے یہ تاثر دیا ہے کہ یہ کوئی نشان ہے جو ظاہر ہو گیا۔‘‘

اس کے بعد کچھ دیر کا توقف تھا۔ خاکسار اگلی بات عرض کرنے ہی والا تھا کہ حضور نے فرمایا:

’’اب دیکھو یہ 1918ء یا 1919ء میں جو انفلوائنزا پھیلا تھا، وہ قادیان تک بھی پہنچا۔ بے شمار لوگ جاں بحق ہوئے۔ احتیاطی تدابیر جو حضرت مصلح موعود ؓنے فرمائیں وہ بھی ملتی ہیں، جس طرح دار چینی والے پانی کا استعمال وغیرہ۔ بلکہ خود حضرت مصلح موعودؓ کو انفلونزا کا حملہ ہوا۔ بلکہ بہت شدید ہواتھا۔‘‘

اس کے بعد حضور انور اپنے پاس رکھے کتابوں کے شیلف تک تشریف لے گئے اور تاریخ احمدیت کی چوتھی جلد نکالی۔ ایک لمحے ہی میں حضور کو مطلوبہ مقام مل گیا۔ فرمایا:

’’حضرت مصلح موعودؓنے تو وصیت تک تحریر فرمادی تھی کہ اگر فلو کے اس حملہ میں کچھ ہو جاتا تو کیا کرنا ہے۔‘‘

اس کے بعد حضور نے اس دور کے حوالہ سے وہ تین صفحات پڑھ کر سنائے۔ ان کا متن ذیل میں درج کیا جاتا ہے:

انفلوئنزا کی عالمگیر وبا میں جماعت کی بےلوث خدمت

1918ء میں جنگ عظیم کا ایک نتیجہ انفلوئنزا کی صورت میں ظاہر ہوا۔ اس وبا نے گویا ساری دنیا میں اس تباہی سے زیادہ تباہی پھیلا دی جو میدان جنگ میں پھیلائی تھی۔ ہندوستان پر بھی اس مرض کا سخت حملہ ہوا۔ اگر چہ شروع میں اموات کی شرح کم تھی۔لیکن تھوڑے ہی دنوں میں بہت بڑھ گئی اور ہرطرف ایک تہلکہ عظیم برپا ہو گیا۔ ان ایام میں حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ کی ہدایت کے ماتحت جماعت احمدیہ نے شاندار خدمات انجام دیں۔ اور مذہب و ملت کی تمیز کے بغیر ہر قوم اور ہر طبقہ کے لوگوں کی تیمارداری اور علاج معالجہ میں نمایاں حصہ لیا۔ احمدی ڈاکٹروں اور احمدی طبیبوں نے اپنی آنریری خدمات پیش کر کے نہ صرف قادیان میں مخلوق خدا کی خدمت کا حق ادا کیا بلکہ شہر بہ شہر اور گاؤں بہ گاؤں پھر کر طبی امداد بہم پہنچائی ۔ اور عام رضاکاروں نے نرسنگ وغیرہ کی خدمت انجام دی اور غرباء کی امدادکے لئے جماعت کی طرف سے روپیہ اور خوردونوش کا سامان بھی تقسیم کیا گیا… ان ایام میں احمدی والنٹیر (جن میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمدؓ بھی شامل تھے) صعوبتیں اور تکلیفیں برداشت کر کے دن رات مریضوں کی خدمت میں مصروف تھے اور بعض صورتوں میں جب کام کرنے والے خود بھی بیمار ہو گئے اور نئے کام کرنے والے میسر نہیں آئے بیمارضا کار ہی دوسرے بیماروں کی خدمت انجام دیتے رہے اور جب تک یہ رضا کار بالکل نڈھال ہو کر صاحب فراش نہ ہو گئے۔ انہوں نے اپنے آرام اور اپنے علاج پر دوسروں کے آرام اور دوسروں کے علاج کو مقدم کیا۔ یہ ایسا کام تھا کہ دوست دشمن سب نے جماعت احمدیہ کی بےلوث خدمت کا اقرار کیا۔ اور تقریر و تحریر دونوں میں تسلیم کیا کہ اس موقع پر جماعت احمدیہ نے بڑی تندہی و جانفشانی سے کام کر کے بہت اچھا نمونہ قائم کر دیا ہے۔

(از تاریخ احمدیت، جلد چہارم، صفحہ 209-208)


اس کے بعد حضور نے فرمایا:
’’یہ وبائیں تو آنی ہیں۔ اب ہر وبا کو نشان قرار دے دینا اور یہ قیاس آرائی شروع کر دینا کہ احمدیوں کو کچھ نہیں ہو گا، یا یہ جو بعض لوگ کہہ رہے ہیں کہ مخلص احمدیوں کو کچھ نہیں ہو گا، بالکل غلط بات ہے۔ ان وباؤں کو کسی کے ایمان کا پیمانہ نہیں بنایا جاسکتا۔ اور جو وصیت حضرت مصلح موعودؓنے تحریر فرمائی اس کا آغاز یوں فرمایا کہ ’میں، مرزا بشیر الدین محمود احمد ولد حضرت مسیح موعود علیہ السلام۔۔۔‘

تو حضرت مصلح موعودؓ وصیت تحریر کر رہے ہیں اور ولدیت بھی تحریر کررہے ہیں یعنی مسیح موعود علیہ السلام کے بیٹے بھی ہیں۔ اس کے باوجود بیماری کا حملہ ہوا اور بڑا شدید ہوا۔ تو بیماری کا حملہ ہو جانا کسی بھی طرح کسی کے ایمان کا پیمانہ نہیں۔‘‘

اس کے بعد پھر کچھ توقف تھا۔ مگر محسوس ہوتا تھا کہ حضور ابھی اس بات کو جاری رکھیں گے۔ ایک ثانیہ کے وقفے کے بعد حضور نے فرمایا:

’’یہ حوالہ نکال کر الحکم میں چھاپ دو تا کہ سب پڑھ لیں اور سب کی غلط فہمیاں دور ہو جائیں۔ اگر یہ نشان ہوتا تو سب سے پہلے میں اعلان کرتا کہ یہ ایک نشان ہے۔ میں نے تو بہت شروع سے احتیاطی تدابیر اور حفاظتی دوائیاں بتانا شروع کر دی تھیں۔ اس وقت سے بتانا شروع کر دی تھیں جب ابھی اس بیماری نےچین سے باہر زور بھی نہیں پکڑا تھا۔ اگر میں اسے کسی قسم کا نشان سمجھتاتو احتیاطی تدبیر سے روکتا۔

’’میں نے تو پہلے بھی کہا ہے اور اب بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ جو ماہرین کی طرف سے حکومتی سطح پر احتیاطی تدابیر بتائی جارہی ہیں، لوگ ان پر عمل کریں۔‘‘

’’میں نے یہاں امیر صاحب کو بھی کہہ دیا ہے۔ صدر خدام الاحمدیہ کو بھی کہہ دیا ہے۔ ہیومینٹی فرسٹ کو بھی کہہ دیا ہے کہ ان دنوں میں لوگوں کی امداد اور فلاح و بہبود کے لئے جو ممکن ہو سکتا ہے کریں۔

تاریخ احمدیت سے یہ حوالہ چھاپ دوگے تو باقی ملکوں میں بھی پتہ چل جائے گا اور وہاں کے امرا اورصدران وغیرہ بھی اس کے مطابق امدادی کاموں کا منصوبہ بنالیں گے۔‘‘ اس گفتگو کا اختتام ان الفاظ پر ہوا:

’’احمدیوں کو چاہئےکہ اس وقت بجائے نشان تلاش کرنے کے اپنے لئے اور اپنے گھر والوں کے لئے اور مسجدوں میں جو احتیاطی تدابیر بتائی گئی ہیں، ان پر عمل کریں۔ اور اپنے اردگرد اگر ان احتیاطوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے جس کسی کی مدد کر سکتے ہیں کریں۔ اللہ تعالیٰ کو خوش کرنے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس کی مخلوق کا خیال کیا جائے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اپنے لئے اور انسانیت کے لئے الله تعالیٰ کے حضور جھکیں اور اس کار حم مانگیں۔‘‘

(آصف محمود باسط)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ