• 6 مئی, 2021

خوش قسمت ہے وہ انسان جو متقی ہے

ہماری جماعت کو یہ نصیحت ہمیشہ یاد رکھنی چاہیے کہ وہ اس امر کو مدِّ نظر رکھیں جو میں بیان کرتا ہوں۔ مجھے ہمیشہ اگر کوئی خیال آتا ہے تو یہی آتا ہے کہ دنیا میں تو رشتے ناطے ہوتے ہیں۔ بعض ان میں سے خوبصورتی کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔ بعض خاندان یا دولت کے لحاظ سے اور بعض طاقت کے لحاظ سے۔ لیکن جنابِ الٰہی کو ان امور کی پرواہ نہیں۔ اُس نے تو صاف طور پر فرمادیا کہ

اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ

(الحجرات: 14)

یعنی اﷲ تعالیٰ کے نزدیک وہی معزز و مکرم ہے جو متقی ہے۔ اب جو جماعت اتقیاء ہے خدا اس کو ہی رکھے گا اور دوسری کو ہلاک کرے گا۔ یہ نازک مقام ہے اور اس جگہ پر دو کھڑے نہیں ہوسکتے کہ متقی بھی وہیں رہے اور شریر اور ناپاک بھی وہیں۔ ضرور ہے کہ متقی کھڑا ہو اور خبیث ہلاک کیا جاوے اور چونکہ اس کا علم خدا کو ہے کہ کون اُس کے نزدیک متقی ہے۔ پس یہ بڑے خوف کامقام ہے۔ خوش قسمت ہے وہ انسان جو متقی ہے اور بدبخت ہے وہ جو لعنت کے نیچے آیا ہے۔

(ملفوظات جلد3 صفحہ238تا239۔ ایڈیشن 1984ء)

مامور من اللہ کی سچی ہمدردی

مامورمن اللہ جب آتا ہے تو اس کی فطرت میں سچی ہمدردی رکھی جاتی ہے اور یہ ہمدردی عوام سے بھی ہوتی ہے اور جماعت سے بھی۔ اس ہمدردی میں ہمارے نبی کر یم صلی اللہ علیہ وسلم سب سے بڑھے ہوئے تھے۔ اس لیے کہ آپؐ کُل دنیا کے لیے مامور ہو کر آئے تھے اور آپؐ سے پہلے جس قدر نبی آئے وہ مختص القوم اور مختص الزمان کے طور پرتھے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کل دنیا اور ہمیشہ کے لیے نبی تھے۔ اس لیے آپ کی ہمدردی بھی کامل ہمدردی تھی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَّفْسَكَ اَلَّا يَكُوْنُوْا مُؤْمِنِيْنَ( الشعرآء: 4)۔

اس کے ایک تویہ معنے ہیں کہ کیا تو ان کے مومن نہ ہونے کی فکر میں اپنی جان دے دے گا۔ اس آیت سے اس درد اور فکر کا پتہ لگ سکتا ہے جو آپؐ کو دنیاکی تباہ حالت دیکھ کر ہوتا تھا کہ وہ مومن بن جاوے۔ یہ تو آپؐ کی عام ہمدردی کے لیے ہے۔ اور یہ معنے بھی اس آیت کے ہیں کہ مومن کو مومن بنانے کی فکر میں تو اپنی جان دے دےگا یعنی ایمان کو کامل بنانے میں۔ اسی لیے دوسری جگہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ (النساء : 137)

بظاہر تو یہ تحصیل حاصل معلوم ہوتی ہوگی لیکن جب حقیقتِ حال پر غور کی جاوے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ کئی مراتب ہوتے ہیں اس لیے اﷲ تعالیٰ تکمیل چاہتا ہے۔ غرض مامور کی ہمدردی مخلوق کے ساتھ اس درجہ کی ہوتی ہے کہ وہ بہت جلد اُس سے متأثر ہوتا ہے۔

(ملفوظات جلد3 صفحہ221تا222۔ ایڈیشن 1984ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 اپریل 2021