• 6 مئی, 2021

تقویٰ و طہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
روزوں میں بہت ساروں کے ذکر الٰہی میں اضافہ ہوا ہے تو اس اضافے کے ساتھ غیر ضروری باتوں میں بھی کمی ہونی چاہئے اور اس کے لئے کوشش کرنی چاہئے تا کہ روزوں کا اور تقویٰ کا مقصد پورا ہو۔

پھر آپ فرماتے ہیں کہ: ’’ہمیشہ دیکھنا چاہئے کہ ہم نے تقویٰ و طہارت میں کہاں تک ترقی کی ہے۔ اس کا معیار قرآن ہے۔ اللہ تعالیٰ نے متقی کے نشانوں میں ایک یہ بھی نشان رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو مکروہات دنیا سے آزا د کر کے اس کے کاموں کا خود متکفّل ہو جاتا ہے۔ جیسے کہ فرمایا وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہ یَجْعَلْ لَہُ مَخْرَجًا وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لَا یَحْتَسِبُ۔ (الطلاق: 3-4) جو شخص خدا تعالیٰ سے ڈرتا ہے اللہ تعالیٰ ہر ایک مصیبت میں اس کے لئے راستہ مخلصی کا نکال دیتا ہے اور اس کے لئے ایسے روزی کے سامان پیدا کر دیتا ہے کہ اس کے علم و گمان میں نہ ہوں۔ یعنی یہ بھی ایک علامت متقی کی ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو نابکار ضرورتوں کا محتاج نہیں کرتا۔‘‘ یعنی سامان کر دیتا ہے اور ایسی بے مقصد جو ضرورتیں ہیں یا بے مقصد خواہشات ہیں وہ دل میں پیدا نہیں ہوتیں یا ان کا محتاج نہیں کرتا اس کا خیال بھی نہیں آتا۔ یہ بھی تقویٰ کی نشانی ہے اور اللہ تعالیٰ کی متقی کے ساتھ ایک سلوک کی نشانی ہے۔ فرمایا ’’مثلاً ایک دوکاندار یہ خیال کرتا ہے کہ دروغگوئی کے سوا اس کا کام ہی نہیں چل سکتا اس لئے وہ دروغگوئی سے باز نہیں آتا اور جھوٹ بولنے کے لئے وہ مجبوری ظاہر کرتا ہے لیکن یہ امر ہرگز سچ نہیں۔ خدا تعالیٰ متقی کا خود محافظ ہو جاتا ہے اور اُسے ایسے موقع سے بچا لیتا ہے جو خلاف حق پر مجبور کرنے و الے ہوں۔‘‘ یعنی ایسا موقع ہی نہیں آتا کہ وہ جھوٹ بولے۔ ’’یاد رکھو جب اللہ تعالیٰ کو کسی نے چھوڑا تو خدا نے اسے چھوڑ دیا۔ جب رحمان نے چھوڑ دیا تو ضرور شیطان اپنا رشتہ جوڑے گا۔‘‘ پھر آپ فرماتے ہیں کہ ’’یہ نہ سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کمزور ہے۔ وہ بڑی طاقت والا ہے۔ جب اس پر کسی امر میں بھروسہ کرو گے وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا۔ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَھُوَ حَسْبُہُ۔‘‘ (اور جو کوئی اللہ تعالیٰ پر توکّل کرتا ہے تو وہ اس کے لئے کافی ہو جاتا ہے۔) ’’لیکن جو لوگ ان آیات کے پہلے مخاطب تھے وہ اہل دین تھے۔ ان کی ساری فکریں محض دینی امور کے لئے تھیں اور دنیاوی امور حوالہ بخدا تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کو تسلی دی کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ غرض برکاتِ تقویٰ میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ متقی کو ان مصائب سے مخلصی بخشتا ہے جو دینی امور کے حارج ہوں۔‘‘

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 12-13۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)

یعنی اگر تقویٰ صحیح ہے تو دنیاوی پریشانیاں جو ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ اس لئے دُور کر دیتا ہے کہ دینی کاموں میں روک پیدا نہ ہو۔ پس اس لحاظ سے بھی جہاں لوگ کہتے ہیں کہ ہمارے دنیاوی مسائل ایسے ہیں کہ دینی کام میں ہم حصہ نہیں لے سکتے۔ اگر صحیح تقویٰ ہے تو اللہ تعالیٰ دنیاوی مسائل خود بخود حل کر دیتا ہے اور پھر دین کی خدمت کی توفیق ملتی ہے۔

(خطبہ جمعہ 18؍ مئی 2018ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 24 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 اپریل 2021