• 21 مئی, 2022

یا ربّ کسی معشوق سے عاشِق نہ جُدا ہو

یا ربّ کسی معشوق سے عاشِق نہ جُدا ہو
(کلام حضرت میر محمد اسماعیل ؓ)

کُشتوں پہ اگر آن کے تُو اپنے کھڑا ہو
اک شورِ قیامت تیری آمد سے بَپا ہو

معشوق کا برتاؤ ہو عاشِق سے تو کیا ہو؟
گہ لُطف ہو، گہ ناز ہو، گہ جَور و جفا ہو

کیا جانیئے قسمت میں یہ کیا پھیر ہے اپنی
ہم جس کےلئے جان دیں وہ ہم سے خفا ہو

کیا تاب زباں کی کہ کرے ہِجر کا مذکور
یا ربّ کسی معشوق سے عاشِق نہ جُدا ہو

اے ابروؤ مِژگانِ صنم! یہ تو بتاؤ؟
گر تُم نہیں جلّاد زمانے کے تو کیا ہو؟

گر قہر پہ ہو جائے کمر بستہ وہ جاناں
غوغائے ستم شورش محشر سے سوا ہو

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 اپریل 2022

اگلا پڑھیں

ارشاد باری تعالیٰ