• 19 جون, 2021

ادرک

ادرک
خوش ذائقہ غذا۔مفید دواء

یہ ایک جڑ ہے جو زمین کے اندر ہوتی ہے ۔ترو تازہ کو ادرک، خشک کو سونٹھ، عربی میں زنجبیل اور انگریزی میں جنجر Ginger کہتے ہیں ۔ اس کی تاثیر گرم و خشک ہے۔

خواص

زنجبیل کے خواص کے بارہ میں حضرت مسیح مو عود ؑ کے کلمات طیبات پیش کرتے ہیں آپؑ فرماتے ہیں:
اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ علم طب کی رو سے زنجبیل وہ دوا جس کو ہندی میں سونٹھ کہتے ہیں وہ حرارت عزیزی کو بہت قوت دیتی ہے اور دستوں کو بند کرتی ہے اور اس کا زنجبیل اسی واسطے نام رکھا گیا ہے کہ گویا کمزور کو ایسا قوی کرتی ہے او ر ایسی گرمی پہنچاتی ہے جس سے وہ پہاڑ وں پر چڑھ سکے۔

(اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ85)

تفصیلی خواص

ادرک ہاضمہ کو طاقت دیتی ہے، ریاح کو خارج کرتی ہے، بھوک پیدا کرتی ہے، بلغم اور معدہ کی فاسد رطوبتوں کو خارج کرتی ہے نیز ان کی پیدائش کو روکتی ہے، اجابت و پیشاب کھلا لاتی ہے، معدے کو طاقت دے کر اس کی استعداد کا ر کو بڑھاتی ہے، جسم میں حرارت عزیزی پیدا کرتی ہے۔ ایسے لوگ جن کا جسم سرد رہتا اور بلڈ پریشر کم رہتا ہو، جسم میں ضعف و نقاہت کی شکایت رہتی ہو، اعصاب سست اور تھکے تھکے رہتے ہوں، ذہن و حافظہ کمزور ہو، طبیعت پژمردہ رہتی ہو تو ان سب علامات و عوارض کے ازالہ کے لئے یہ مفید ہے۔

یوں تو ادرک ایسے عوارض کے لیے جو ریح اور سردی کے سبب وجود میں آتے ہیں (ہر عمر)میں مفید ہے تاہم چالیس سال کی عمر کے بعد پیدا ہونے والے اکثرو بیشتر عوارض میں حد درجہ مفید ہے۔ سرد مزاجوں اور عمر رسیدہ لوگوں کے لیے اس کادائمی استعمال نہ صرف مذکورہ بالا امراض کا ازالہ کرتا ہے بلکہ تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔ ویسے تو یہ (حسب مزاج و طبیعت) ہر عمر اور موسم میں استعمال کی جاسکتی ہے تاہم اس کے استعمال کا بہترین زمانہ موسم سرما ہے۔سرما میں گرم مزاج لوگ بھی (بلحاظ طبیعت و ضرورت) استعمال کرسکتے ہیں جبکہ سرد مزاج ہر موسم میں بلا تردد اس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ریح اور بادی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والی بیماریوں مثلاًجوڑوں کا درد، لنگڑی کا درد (Sciatica)، دردنقرس (Gout)، فالج، لقوہ، جوڑوں کے درد، اعصابی درد اور جوڑوں کی سختی میں خوردنی اور مقامی طور پر (بطور مالش) مفید ہے۔

استعمال کے مختلف طریقے

ادرک کسی بھی سالن میں ملا کر استعمال کی جاسکتی ہے۔ادرک کو چھیل کر یا کوٹ کر گھی میں بھون کر ہلکا نمک مرچ ملا کر بطور سالن کے استعمال ہو سکتی ہے۔نمک مرچ کی بجائے شہد یا چینی بھی ملائی جا سکتی ہے۔جوسر(Juicer)کی مدد سے اس کا رس نکال کر تین گنا چینی ملا کر آگ پر قوام کر کے رکھ لیتے ہیں اور اسے دن میں کئی مرتبہ چاٹتے ہیں یہ چٹنی خوش ذائقہ ہونے کے علاوہ سردی کے نزلہ، زکام ،کھانسی، دمہ، گلے کی خرابی ،آواز کی خرابی، جوڑوں کے درد اور دیگر امراض سب میں مفید ہے، ادرک کا جوس اور لیموں کا جوس ہم وزن ملا کر چاٹنے سے ہاضمہ قوی ہو جاتا ہے اور بھوک خوب لگتی ہے یہ طریق گرم مزاجوں کے لیے زیادہ مناسب ہے۔ ادرک کو اچار و مربہ کی صورت میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، چھیل کر دھو کر باریک کاشیں کاٹ کا کھانا کھاتے وقت سالن میں ڈال کر استعمال کر سکتے ہیں، بعض لوگ چھوٹے ٹکڑے کرکے پانی کیساتھ نگل لیتے ہیں، بعض لوگ سبز الائچی، دارچین اور دیگرلوازمات ملا کر ادرک کا قہوہ تیار کر کے پیتے ہیں جو چائے،کافی کی بجائےبہت مفید متبادل ہے۔ اس میں چائے کافی کے بر عکس فوائد ہی فوائد ہیں۔ ایسی سب صورتوں میں استعمال کم سے شروع کرنا چاہیے اور پھر مقدارِ خوراک بڑھا سکتے ہیں۔بہرحال مقدار خوراک میں اعتدال برتنا چاہیے۔

ادرک کا اچار

ادرک کو اچھی طرح دھو کر صاف کر لیں اور مناسب ٹکڑے اور کاشیں کاٹ لیں ایک کلو کاشوں کے لیے درج ذیل اشیاء درکار ہوں گی۔

پسا ہوا نمک 120گرام، پسی ہوئی میتھی 30گرام، کلونجی 30گرام، گودہ املی 30گرام، پسی ہوئی سیاہ مرچ 30گرام، پسی ہوئی سونف 30گرام کاشوں میں نمک ڈال کر ان کو کسی صاف مرتبان میں رکھ لیں اور چار پانچ دن تک دھوپ میں رہنے دیں یہاں تک کہ کاشیں پیلی ہو جائیں اس کے بعد اوپر لکھے ہوئے اجزاء کو مرتبان میں تھوڑے سے سرسوں کے تیل (بہتر ہو گا کہ زیتون کے تیل) کے ساتھ ملا کر ڈال دیا جائے اور ہلکے ہلکے ہلا دیا جائے اس کے بعد پھر اس مرتبان میں مزید سرسوں کا تیل ڈال دیا جائے تاکہ سب اجزاء تیل میں بخوبی ڈوب جائیں۔ ڈھکنا بند کر کے مرتبان کو دو تین دن دھوپ میں رکھا رہنے دیا جائے۔اگر ادرک کے اچار میں ایک ساتھ لہسن کا اچار بھی تیار کر لیا جائے تو اس کی افادیت میں اور بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔

ادرک کا مربّہ

ادرک کو دھو کر صاف کریں اور چھلکا اتار لیں اور پانی میں جوش دیں۔ اس کے بعد تھوڑا سا نمک ملا کر خوب جوش دیں۔ جب نرم ہو جائے تو نکال لیں اور چینی کا قوام (چاشنی)بنا کر ملا لیں۔ دوسرے روز اگر قوام پتلا ہو جائے تو مع ادرک قوام کو دوبارہ صحیح کر لیں مقدار خوراک دس گرام سے بیس گرام۔

اگر ادرک میسر نہ آسکے تو سونٹھ کو کسی برتن میں رکھ کر نمدار ریت میں دبائیں اور روزانہ پانی چھڑکتے رہیں۔ اکیس روز کے بعد نکال کر چھری یا چاقو کی مدد سے چھیل کر چھلکا اتار لیں اور مذکورہ طریق پر مربہ تیار کریں۔ مربہ ادرک گرم مزاجوں کے بھی موافق آجاتا ہے کیو ں کہ اس میں گرمی کی تاثیر نسبتاًکم ہوتی ہے۔ مربہ کا شیرہ موسم گرما میں ٹھنڈے پانی میں ملا کر بطور خوش ذائقہ مشروب استعمال کیا جاسکتا ہے۔

ادرک کا مقامی استعمال

روغن ادرک:

جوسر کی مدد سے ادرک کا رس 2/1لیٹر نکالیں اور تیل سرسوں خالص 4/1 لیٹر میں ملا کر دیگچی میں ڈالیں اور آگ پر خوب پکائیں جب پانی جل جائے اور صرف تیل رہ جائے تو اتار لیں۔

فوائد:

ریاحی درد، جوڑوں کا درد، جوڑوں کی سختی، فالج، لقوہ نیز بال چر میں اس کا مقامی استعمال بطور مالش مفید ہے۔

٭…٭…٭

(نذیر احمد مظہر (ڈاکٹر آلٹر نیٹو میڈیسن) کینیڈا)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 مئی 2021