• 6 اگست, 2021

عجب ہے کیا کہ مجھے وہ نظر نہیں آتا

عجب ہے کیا کہ مجھے وہ نظر نہیں آتا
مجھے ہی دیکھنا ، اُس کو اگر نہیں آتا
کنارے بیٹھ کے سیکھا نہ کوئی تیراکی
ندی میں تیرنا ، تو بے خطر نہیں آتا
ہے موسموں کی عنایت کہ آتے رہتے ہیں
مگر یہ وقت ہے ، جو لوٹ کر نہیں آتا
جُدا ہوں اُس سے تو مشکل سے دن گزرتا ہے
سُکون اُس کو بھی تو رات بھر نہیں آتا
یہ اور بات ہے منزل ہمیں ملے نہ ملے
کوئی بھی کہہ نہیں سکتا سفر نہیں آتا
جو لوگ ہوتے ہیں باعث عذاب کا، اکثر
شروع شروع میں عذاب ان کے گھر نہیں آتا
محبّتوں کا تعلّق بڑا ضروری ہے
ہوں پیڑ تنہا ، تو اُن پر ثمر نہیں آتا
یہ ماہتاب، تلاطم بپا کرے ورنہ
سمندروں میں بھی مدّ و جزر نہیں آتا
جو بیٹھے نوح کی کشتی میں ان کو کیا ڈر ہے
ڈبونے ان کو کوئی بھی بھنور نہیں آتا
عجیب کیا نہیں طارق ، کہ ہر طرف ہیں مریض
مگر زمیں پہ مسیحا اُتر نہیں آتا

(ڈاکٹر طارق انور باجوہ۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

حضور ایدہ اللہ کا لائیو خطاب

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 جون 2021