• 6 اگست, 2021

ڈیزاسٹر مینجمنٹ (Disaster Management)

ڈیزاسٹر مینجمنٹ (Disaster Management)
کا مختصر تعارف

زمین پر حادثات کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی خود تاریخ انسانی، اور جیسے جیسے انسان نے ان حادثات سے نمٹنا سیکھا۔تو علم کی نئی جدتوں اور پرتوں سے روشناس ہوتا چلا گیا اور سائنس کی ایک نئی سے نئی شاخ جنم لیتی چلی گئی۔ تو کیا یہ کہنا غلط ہو گا اگر ہم ڈیزاسٹر مینجمنٹ (Disaster Management) کو تمام سائنسی علوم کی ماں کہیں ؟

اب خاکسار ڈیزاسٹر مینجمنٹ (Disaster Management) کی چند اصلاحات کی وضاحت آسان پیرایہ میں کرنے کی کوشش کرے گا۔

1۔ خطرہ/آفت (Hazard)

کوئی بھی ایسی ممکنہ صورتحال جس میں لوگوں کو، ان کی املاک کو، ان کے زیر استعمال بنیادی ضروریات ِ زندگی (پانی، خوراک، نقل و حمل کے ذرائع، رابطہ سڑکیں اور پل وغیرہ )اور قدرتی ماحول کے نظام میں خلل ڈالنے یا مکمل طور پر تباہ کرنے کی ممکنہ استعداد یا قوت موجود ہوکو خطرہ /آفت (Hazard) کہتے ہیں۔

قدرتی خطرات کی اقسام (Classification of Natural Hazards)

ہمارے ارد گرد موجود قدرتی آفات Natural Hazards کے بارے جتنا زیادہ علم ہمیں ہو گا اتنا ہی بہتر انداز میں ہم اس سے نمٹنے کی صلاحیت حاصل کر سکیں گےاور مطلوبہ تیاری مکمل کر سکیں گے۔ اب ہم مختصراً قدرتی آفات یا خطرات کی اقسام پر نظر ڈالیں گے۔

A۔ (زمین کی فضا میں پیش آنے والی قدرتی آفات) Terrestrial Hazards
B.۔ (خلا میں پیش آنے والی قدرتی آفات) Extra Terrestrial Hazards

A۔ (زمین کی فضا میں پیش آنے والی قدرتی آفات) Terrestrial Hazards
ہماری گفتگو کا موضوع زیادہ تر Terrestrial Hazards پر ہو گا جو کہ اس زمین کی فضا کے متعلق ہیں۔ ان کو مزید تین اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

1۔ انڈوجینک ہیزرڈز (Endogenic Hazards)
2۔ ایغزوجینک ہیزرڈز (Exogenic Hazards)
3۔ بائیوٹک ہیزرڈز (Biotic Hazards)

1۔ انڈوجینک ہیزرڈز (Endogenic Hazards)
زمین کی سطح کے اندر وقوع پذیر ہونے والے واقعات جیسا کہ زلزلہ (زمین کی ارتعاش) اور لاوا کا نکلنا (زمین کی سطح کے اندر سے گرم ثقیل مادہ کا نکلنا ) کو انڈوجینک ہیزرڈز (Endogenic Hazards) کہتے ہیں۔

2۔ ایغزوجینک ہیزرڈز (Exogenic Hazards)
ایسی قدرتی آفات جو زمین کی سطح کے اوپر پیش آتی ہیں یا ان کے وقوع پذیر ہونے کا امکان ہوتا ہے ان کو ( Exogenic Hazards) ایغزوجینک ہیزرڈزکہتے ہیں۔

ایغزوجینک ہیزرڈز (Exogenic Hazards) مزید تین اقسام میں منقسم ہیں۔
I۔ہائیڈرو سفیرک ہیزرڈز (Hazards Hydrospheric)
II۔آٹموسفیرک ہیزرڈز (Atmospheric Hazards)
III۔ لیتھو سفیرک ہیزرڈز ( Lithospheric Hazards)

I۔ہائیڈرو سفیرک ہیزرڈز (Hazards Hydrospheric)
زمینی سطح کے قریب پانی کی وجہ سے پیش آنے والی قدرتی آفات کو ہائیڈرو سفیرک ہیزرڈز (Hazards Hydrospheric) کہتے ہیں جیسا کہ سیلاب (Floods)، سونامی (Tsunami), ٹورینٹس (Torrents)، ویوز (Waves)۔

II۔آٹموسفیرک ہیزرڈز (Atmospheric Hazards)
زمین کے آٹموسفیر (Atmosphere) کی حدود میں پیش آنے والی قدرتی آفات کو آٹموسفیرک ہیزرڈز (Atmospheric Hazards)کہتے ہیں جیسا کہ خشک سالی (Drought)، بارش (Rainfall)، برف باری (Snowfall)، ژالہ باری (Hailstorm)، آسمانی بجلی کا گرنا(Lighting)، شدید تیز ہوائیں (Winds)

III۔ لیتھو سفیرک ہیزرڈز (Lithospheric Hazards)
زمین کی بیرونی تہہ پر وقوع پذیر ہونےوالےحادثاتی واقعات کو لیتھو سفیرک ہیزرڈز (Lithospheric Hazards) جیسا کہ لینڈ سلائیڈنگ (Land sliding)، برفانی تودہ کا گرنا (Avalanche)، کٹاؤ (Erosion)

3۔ بائیوٹک ہیزرڈز (Biotic Hazards)

ماحولیاتی نظام کے جاندار جز سے جڑے حادثات کو بائیوٹک ہیزرڈز (Biotic Hazards) کہتے ہیں۔جیسا کہ جانور اور پودے۔ان کی مزید درج ذیل تین شاخیں ہیں۔

پودے (Floral/ Plants)
جانور (Faunal/ Animal)

انسانی عمل دخل (Anthropogenic/ Human (Induced

اینتھروپوجینک ہیزرڈز کی تین مزید شاخیں ہیں۔

فزیکل ہیزرڈز (Physical Hazards) انسانی عمل دخل کی وجہ سے زلزلہ کا آنا (Human Induced Earthquake)، لینڈ سلائیڈنگ کا ہونا (Human Induced Landsliding) اور مٹی کے کٹاؤ (Erosion) کا وقوع پذیر ہونا۔

کیمیکل ہیزرڈز (Chemical Hazards) زہریلی گیسوں اور زہریلے مادوں کے اخراج (Release of Toxic Chemicals) کی وجہ سے پھیلنے والی تباہی کو کیمیکل ہیزرڈز کہتے ہیں۔ نیوکلئیر دھماکے (Nuclear Explosions ) بھی اس زمرے میں آتے ہیں۔

بائیو لوجیکل ہیزرڈز (Biological Hazards) اس کو مزید 2 شاخوں میں تقسیم کیا گیا ہےیوٹریفیکشن (Eutrophication) اور آبادی میں اضافہ (Population Explosion)

یوٹریفیکشن (Eutrophication) ماحولیاتی نظام میں فاسفورس، نائٹروجن اور پودوں کے دیگر غذائی اجناس وغیرہ کا آہستہ آہستہ اضافہ ہونا جیسا کہ جھیل وغیرہ۔

آبادی میں اضافہ (Population Explosion) کسی بھی جاندار کی آبادی،خاص طور پر نوع انسانی کی آبادی کے تناسب میں وسائل کو مدِنظر رکھے بغیر اضافہ کو بھی اسی شاخ میں رکھا جائے گا۔

ڈیزاسٹر(Disaster)

جیسا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ خطرات یا ممکنہ حادثات کی کونسی اقسام ہیں۔ اب ہم آسان پیرایہ میں سیکھنے کی کوشش کریں گےکہ ڈیزاسٹر( Disaster)کسے کہتے ہیں۔

ڈیزاسٹر(Disaster): کسی بھی قسم کے شدید نوعیت کے واقعہ کا پیش آنا جو کہ اس معاشرہ، اس علاقہ اور اس کے ارد گرد موجود کمیونٹی کے بڑے پیمانے پر نقصان کا پیش خیمہ ہو، جیسا کہ انسانی زندگی، املاک، مالی اور ماحولیاتی وسائل کا ضائع ہونا اور (سب سے اہم ) یہ اس سو سائٹی کے پاس اس واقعہ کے مضر اثرات سے نکلنے کے لیے موجودہ سہولیات ناکافی ہوں اور انہیں بیرونی امداد کی ضرورت پڑے۔

مثال کے طور پر : زلزلہ یا سیلاب وغیرہ بذاتِ خود ڈیزاسٹر(Disaster) نہیں ہیں،تب تک ان واقعات کو ڈیزاسٹر(Disaster) کا نام نہیں دے سکتے جب تک وہ انسانی آبادی اور باقاعدہ روزمرہ زندگی سے جڑی ضروریاتِ زندگی کو مکمل طور پر متاثر نہ کرے۔کو ئی بھی ڈیزاسٹر(Disaster) ناگہانی آفت یا حادثہ اس وقت ڈیزاسٹر( Disaster) کہلا سکتا ہے جب تک درج ذیل اثراندازنہ ہوں۔

1۔ ڈیزاسٹر کی شدت (Intensity of Disaster )

کسی بھی ناگہانی آفت کی شدت کو اگر ماپنا ہے تو ہم یہ دیکھیں گے کہ مجموعی طور پر ایک معاشرہ سے جڑے اجزا کتنا متاثر ہوئے ہیں۔

2۔ آبادی کے وسائل کا متاثر ہونا

نوع انسانی کس حد تک متاثر ہو ئے ہیں؟

جیسا کہ ابھی اوپر ذکر ہوا ہے کہ ڈیزاسٹر( Disaster) کی تعریف پر پورا اترنے کے لیے Vulnerable Human Population کا بھی ہونا ضروری ہے۔

اس سیکشن میں ہم( Disaster)سے جڑی چند اصلاحات کو سمجھنے کی کوشش کریں گے۔

1۔(Vulnerability)
ایسی منفی کیفیت جس کی وجہ سے کسی بھی خطرہ (Hazard) سے نمٹنے کی ممکنہ صلاحیت کم ہو یا نا ہو اسے (Vulnerability) کہتے ہیں۔مثال کے طور پر سیلابی خطرہ سے دوچار علاقہ میں رہائش پذیر افراد کو سیلاب کاخطرہ رہے گا یا پھر فالٹ لائن پربنے رہائشی مکانات زلزلہ سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

2۔ صلاحیت/ قابلیت (Capacity)
ان مثبت خصوصیات کو جو کہ کسی بھی خطرہ سے نمٹنے کے لیے بنیادی کردار اداکرتی ہیں ان کو ہمیشہ مثبت پیرایہ میں جانچا جاتا ہےتاکہ اس کمیونٹی کی صلاحیت کا اندازہ ہو سکے۔

3۔ ردِعمل (Response)
کسی بھی حادثہ کے وقوع پذیر ہونے پر وہاں کی متاثرہ آبادی کو ابتدائی طور پر بنیادی ضروریات زندگی پہنچانے اور ان کو اس صورت حال سے نمٹنے میں مدد فراہم کرنے کو ردِعمل (Response) کہتے ہیں۔

4۔ بحالی (Recovery)
وہ عوامل، طریقہ کار یا لائحہ عمل جس پر عملدرآمد کرتے ہوئے کسی بھی حادثہ یا قدرتی آفت سے متاثرہ کمیونٹی کو ڈیزاسٹر سے پہلے والی حالت میں مکمل طور پر لے کر جانے کو بحالی (Recovery) کہتے ہیں۔ Rehabilitation , Reconstruction and Development اس سے بعد کے مراحل ہیں جو کہ ڈیزاسٹر کی شدت پر منحصر ہوتے ہیں۔

5۔ روک تھام/بچاو (Prevention)
ایسے اقدامات جن کے کرنے کی وجہ سے کسی بھی آفت سے مکمل طور پر بچا جا سکے اور اس آفت سے ممکنہ متاثرہ آبادی کو بروقت کلیتاًمحفوظ کیا جا سکے۔

6۔ تخفیف / کمی (Mitigation)
آفت کے وقوع پذیر ہونے پر ایسے عوامل جن کی بناپر فوری طور پر اس آفت کے ممکنہ اثرات کی شدت کو کسی حد تک کم کیا جاسکے کو تخفیف / کمی (Mitigation) کہتے ہیں۔ جیسا کے سیلابی علاقوں میں بند کا بنانا وغیرہ۔

7۔ تیاری (Preparedness)
کسی بھی متوقع آفت سے بچاؤ کے لیے کیے گئےمناسب اور موثر اقدامات جن کومستقل بنیادوں پر کیا جاسکے اور جو کہ طویل مدتی منصوبہ بندی کی بنیاد پر مبنی ہو۔مثال کے طور پر آفت کی صورت میں Evacuation کے لیے ابتدائی اعلانات و انتظامات وغیرہ۔

(شہزاد احمد اختر)

پچھلا پڑھیں

حضور ایدہ اللہ کا لائیو خطاب

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 جون 2021