• 6 اگست, 2021

جلسہ یومِ خلافت یونان

اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے جماعت احمدیہ یونان کو مؤرخہ 29؍مئی 2021ء بروز ہفتہ بذریعہ سکائپ شام 7:00 تا 9:00 بجے ’’جلسہ یومِ خلاف‘‘ منعقد کرنے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ۔

جلسہ کو کامیاب بنانے کے لئے دو ہفتے قبل تیاری شروع کر دی گئی تھی۔ ذیلی تنظیموں کے صدران کے ذریعہ سب احباب کو یاد دہانی کروائی گئی۔ اس کے علاوہ واٹس ایپ گروپس میں بھی تنظیموں کے صدران کی طرف سے جلسہ کے حوالہ سے اعلان ہوتا رہا۔ اس کے علاوہ احباب جماعت کے ذاتی نمبروں پر رابطہ کر کے اطلاع کی گئی۔ پروگرام کی تیاری میں خاکسار کو خدمت کی توفیق ملی۔

جلسہ کی صدارت مکرم و محترم عطاء النصیر صاحب مربی سلسلسہ و نیشنل صدر جماعت احمدیہ یونان نے کی۔ حسب روایت جلسہ کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہواجو کہ مکرم عقیل احمد بھٹی صاحب نے کی۔ انہوں نے سورۃ النور کی آیات 55 تا 58 پیش کیں جس کا ترجمہ بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الرابع ؒ، مکرم اسرار احمد صاحب نے پڑھ کر سنایا۔ احادیث نبوی ﷺ مکرم ادریس احمد کاہلوں صاحب نے پیش کیں۔ اقتباس از تحریرات حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مکرم محمد احمد صاحب نے پڑھا۔ جلسہ یوم خلافت کی پہلی نظم مکرم عمران احمد گجر صاحب نے نہایت خوش الحانی کے ساتھ پڑھ کر سنائی ۔پہلی تقریر مکرم مبارک احمد بشیر صاحب نے ’’خلافت علی منہاج نبوۃ‘‘ کے عنوان پر قرآنی آیات اور احادیث کے حوالہ سے پیش فرمائی۔ دوسری نظم مکرم میا ں عمران مجید صاحب نے بہت اچھے انداز میں پڑھی جس کے بعددوسری تقریر مکرم چوہدری مشتاق احمد صاحب نے ’’برکات خلافت‘‘ کے موضوع پر بہت خوبصورت انداز میں خلفاء حضرت مسیح موعودؑ کے مختلف ادوار میں خلافت کی برکات کو اجاگر کرتے ہوئے کی۔ تیسری نظم ایک افغانی نومبائع فیملی کے طفل عزیزم نوید احمد نے حضرت مسیح موعودؑ کا فارسی منظوم کلام ’’جان و دلم فدائے جمال محمد است، خاکم نثار کوچہ آل محمد است‘‘ ترنم سے پڑھ کر سنایا۔ ان اشعار کے متعلق ان کے والد مکرم حمید سخی زادہ صاحب نے شہادت دی کہ ان کے شیعہ عالم والد یہ اشعار شیعہ محفلوں میں پڑھ کر سنایا کرتے تھے اور اسی طرح اس طفل نوید احمد نے بھی اس کی تصدیق کی کہ انہوں نے بھی اپنے دادا کی زبان سے یہ اشعار سنے ہیں۔ آخری تقریر مکرم محترم جناب ڈاکٹر محمد اطہر زبیر صاحب چیئرمین ہیومنٹی فرسٹ جرمنی نے کی جن کی منظوری حضورِ اقدس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس جلسہ کے لئے ازراہِ شفقت عنایت فرمائی تھی۔ محترم ڈاکٹر صاحب نے ایک گھنٹے کی تقریر میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز کے قبولیت دعا کے متعلق اپنے ذاتی مشاہدات کی روشنی میں مختلف واقعات پیش فرمائے۔ اسی طرح عائلی زندگی کو بہتر بنانے کے متعلق حضور انور کے ارشادات اور ذاتی کردار کے حوالہ سے واقعات کی روشنی میں احباب جماعت کو نصائح کیں۔

الحمد للہ احباب جماعت کے لئے حضور انور کے واقعات سننے بہت مفید ثابت ہوئے اور بعض نے اپنے تاثرات بھی بھجوائے کہ کس طرح ان واقعات کو سن کر انہوں نے اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کا عہد کیا ہے۔ ایک دوست نے لکھا کہ ’’میں اپنی بیگم کے ساتھ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہوجاتا تھا لیکن ڈاکٹر صاحب کی تقریر سن کر خود ہی شرمندہ ہوتا رہا اور اب عہد کیا ہے کہ آج کے بعد کبھی ناراض نہیں ہونگا بلکہ اپنی بیگم کا خیال رکھوں گا۔ اس سے پہلے اس قسم کی باتیں نہیں سنیں۔‘‘ اسی طرح بعض دوستوں نے حضور انور کے واقعات سے متاثر ہو کر اس تقریر کی آڈیو کی درخواست کی اور مزید لوگوں کو سننے کے لئے بھجوائی۔ الحمد للہ علی ذلک۔

دعا کے ساتھ اس جلسہ کا اختتام ہوا جو کہ محترم مربی صاحب کی درخواست پر مہمان خصوصی مکرم ڈاکٹر صاحب نے کروائی۔ جلسہ کی کل حاضری53رہی جس میں11 انصار، 28 خدام، 7 لجنہ اماء اللہ، 4 ناصرات اور 3 اطفال شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ توفیق دے کہ ہم سب نظام خلافت اور اس کے استحکام کے لئے آخری دم تک جدوجہد کرتے رہیں اور اپنی اولادوں کو ہمیشہ خلافت کے ساتھ وابستہ رہنے اور اس کی برکات سے مستفیض ہونے کی توفیق عطاء فرمائے تا کہ قیامت تک خلافت احمدیہ محفوظ چلی جائے اور قیامت تک سلسلہ احمدیہ کے ذریعہ اشاعت اسلام ہوتی رہے اور آنحضرت ﷺ کا جھنڈا دنیا کے تمام جھنڈوں سے اونچا لہراتا رہے۔ آمین۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو حضور انور کی دعاوں کا وارث بنائے۔ آمین

(رپورٹ: ارشد محمود)

پچھلا پڑھیں

حضور ایدہ اللہ کا لائیو خطاب

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 جون 2021