• 20 ستمبر, 2020

کووڈ19 میں اپنے آپ کو مصروف رکھنے کے لئے گھریلو باغبانی (Home Gardening)

جماعت احمدیہ پر اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں خلافت جیسی عظیم نعمت سے نوازا ہوا ہے اور حضرت خلیفۃ المسیح ہر اہم موڑ پر جماعت کو تعلیمی، تربیتی اور اللہ کی حفاظت میں رہنے کے اہم گر اور Tips گاہے بگاہے دیتے رہتے ہیں۔ ابھی Covid 19 کے آغاز پر پیارے حضور نےخطبات اور پیغامات میں جماعت کے لئے رہنما اصول وضع فرمائے۔ جن پر تعمیل سے ہم احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے الا ماشاءاللہ محفوظ و مامون ہیں۔اللہ تعالیٰ دنیا بھر میں پھیلے احمدیوں کو ہرآن اپنی حفاظت میں رکھے۔ آمین

پیارے حضور کے ان رہنما اصولوں کی روشنی میں Covid 19 کے حوالہ سے 5-6 آرٹیکلز لکھ چکا ہوں۔ ان میں سے ایک گھروں میں اپنی کیاریوں کی درستگی اور پھل و سبزیاں لگانا واگا نا تھا۔ میرے اس آرٹیکل پر امریکہ سے محترمہ امتہ الباری ناصر نے مجھےیہ میسج بھیجا کہ آج تو آرٹیکل میں آپ نے میرا اور میرے گھر کا نقشہ کھینچ دیا ہے۔ اخبار الفضل کے بہت سے قارئین کا مطالبہ تھا کہ گھریلو باغبانی کی کچھ Tips بھی تو بتائیں تا کہ ہم Covid 19 میں نہ صرف اپنے آپ کو مصروف رکھ سکیں بلکہ اپنے گھروں کو سرسبز و شاداب بنالیں۔

اس سلسلہ میں مَیں سوچتا رہا کہ میں کوئی باغبان تو نہیں کہ میں ان کی رہنمائی کر سکوں۔ لیکن اردگرد نرسریوں سے معلومات بھی لیتا رہا۔ کچھ کتب کا بھی مطالعہ کیا مگر حوصلہ کا فقدان رہا۔ ابھی دو تین روز قبل میرے ایک دوست اور کلاس فیلو مکرم منیر احمد چوہدری نے امریکہ سے اپنے گھر کی سبزیوں کی تصاویر بھجوا کر لکھا کہ ’’گھر کی سبزیاں۔ Thanks to crona virus‘‘۔ تب مجھے حوصلہ ملا کہ اپنی معلومات کو قارئین کرام سے share کروں۔

خاکسار نے اس موضوع کو نہایت اختصار کے ساتھ اپنی ایک تصنیف ’’مشترکہ خاندانی نظام اور اس کا تجزیاتی مطالعہ‘‘ میں ذکر کیا ہے کہ کس طرح گھروں میں پودا پروان چڑھتا ہے اور نو بیاہتی دلہن کو بھیTransplant کے ذریعہ دوسرے گھر میں منتقل کیا جاتا ہے پھر اس کی اسی طرح دیکھ بھال کرنی ہوتی ہے جس طرح ایک عام پودے کی۔

پودوں اور سبزیوں سے جہاں گھر خوبصورت لگتے ہیں وہاں یہ سرسبزی خودباغبان پراوراس گھرمیں بسنے والوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔ کہتے ہیں کہ آنکھوں کو اگر تروتازہ رکھنا چاہتے ہو تو چند منٹ سبزے کی طرف دیکھ لیا کرو۔میں نے بارہا یہ تجربہ کیا ہےکہ لکھنے پڑھنے سے ذرا آنکھیں بوجھل ہوتی ہیں تو چند منٹ سبزے کو دیکھ کر ازسر نو تازگی نصیب ہوتی ہے اور کام دوبارہ کرنے کو جی چاہتا ہے۔ اسی طرح کہتے ہیں کہ باغبانی کا شوق رکھنے والے انسان کا دل اول تو نرم ہوتا ہے اور دوسروں کا زیادہ خیال رکھتا ہے اور دوم اکتاہٹ کا شکار کم ہوتااور پریشان نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ گھریلو باغبانی نہ صرف صحت کے لئے مفید ہے بلکہ اس سے ورزش بھی ہوجاتی ہے۔

جہاں تک گھریلو باغبانی کا تعلق ہے۔ اس کے لیے مناسب زمین کا چناؤ بہت ضروری ہے۔ ویسے تو دنیا بھر میں ہر گھر میں کچھ نہ کچھ زمین باغبانی کے لیے میسر ہو ہی جاتی ہے۔ لیکن جس تیزی کے ساتھ دنیا میں آبادی پھیل رہی ہے اور مکانیت سکڑ رہی ہے وہاں لوگوں نے چھتوں پر باغبانی شروع کر دی ہے۔ بڑے بڑے گملوں میں باغبانی کا آغاز کر دیا ہے۔ کیونکہ صحت کے حوالے سے کھاد اور فیکٹریوں کے زہریلے پانی سے بڑھنے والی سبزیوں سے لوگ نجات چاہتے ہیں۔ سب سے پہلے زمین کو نرم اور ہموار کریں۔ یہاں یورپ میں تو نرسریوں اور بڑے بڑے سپراسٹورز سے نرم مٹی یعنی بھل اور کھاد وغیرہ باآسانی میسر ہوتی ہے اور یہاں کی حکومتیں بھی باغبانی کے لئے encourage کرتی ہیں اور قریباً ہر شہر کے نواح میں یابڑے شہروں کے اندر خالی جگہوں کی پلاٹ بندی کر کے سال بھر کے لیے معمولی کرایہ پر جگہ مہیا کر دیتی ہیں تاکہ آپ اپنا وقت بھی مصروف رکھیں اور گھر کی سبزیوں سے بھی Enjoy کریں۔

موسم کے مطابق بیج خرید کر Garden کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا جائے اور ہر سبزی کو الگ سے لگایا جائے کیونکہ بعض سبزیاں یا پودے زیادہ پانی لیتے ہیں اور بعض کم لہذا اسی مناسبت سے کیاریاں بنائی جائیں۔ مناسب پانی دیا جائے۔ گوڈی وقت پر کی جائے۔ 15-20 دن کے بعد گوڈی کر دی جائے تو بہت بہتر رہتا ہے۔گوڈی کے بعد دو روز تک پانی نہ دیا جائےتا پودے کی جڑیں بھی آکسیجن اور دوسری گیسز حاصل کر سکیں۔ گوڈی کے لئے گورَمبا بھی بہتر رہے گا لیکن کوئی نوکیلی چیز جیسے چھری وغیرہ بہت بہتر ہے۔ پاکستان میں توگھریلو باغبانی کے لئے درانتی بھی استعمال کی جاتی ہے۔

پانی مناسب ہو۔ نہ زیادہ اور نہ کم۔ جس طرح انسان اپنے پیٹ کی مناسبت سے کھانا کھاتا ہے۔ زیادہ کھا لے تو نقصان پہنچاتا ہے اور کم بھی۔ اسی طرح پودے کی غذا پانی میں ہے جو وقت پر مناسب مقدار میں دیا جائے۔

کھاد کا استعمال

ویسے تو سبزیاں اُگانے سے قبل زمین میں کھاد کو ملا کر پانی دے دینا چاہیے۔ گوبر کی کھاد بہت عمدہ ہے اور گھریلو باغبانی کے لئے اس سے بڑھ کر اچھی کوئی کھاد نہیں۔ سوکھے پتوں، سبزی اور پھلوں کے چھلکوں سے تیار شدہ کمپوسٹ کھاد پودوں کے لئے مفید ثابت ہوتی ہے۔کھادکو پانی کے ساتھ استعمال کرنا چاہیے کیونکہ یہ گرم ہوتی ہے اس لیے کھاد دے کر ساتھ ہی پانی دیا جائے۔ اگر کھاد گوڈی کر کے دی جائے تو نہلے پہ دہلے کا کام کرتی ہے۔ کیمیائی کھادوں سے اجتناب برتا جائے۔ اگر بوقت ضرورت دینی ہی پڑے تو بہت معمولی مقدار میں دینی چاہیے۔

سبزیوں اور پودوں کو مناسب دھوپ اور روشنی کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لیے زمین کا چناؤ کرتے وقت یہ اہم پہلو مدنظر رہے۔ پھل کے لئے دھوپ کا ہونا ضروری ہے۔ دنیا بھر کے اکثر ممالک اور علاقوں میں پھل اور سبزیاں گرمی کے موسم میں ہوتے ہیں۔ پاکستان کا جائزہ لیں تو موسم گرما میں آنے والے پھلوں اور سبزیوں کی تعداد موسم سرما کی سبزیوں اور پھلوں کی تعداد سے زیادہ ہوتی ہے۔ گوآج کل مصنوعی طریق پر بے وقت اور بے موسم کے پھل اور سبزیاں دستیاب ہوتی ہیں مگر ذائقہ صرف ان پھلوں اور سبزیوں کا درست ہوتا ہے جو موسم کی ہوں۔ کہتے ہیں: ’’پھل موسم دا تے گل ویلے دی ای چنگی ہوندی اے‘‘

الغرض بات ہو رہی تھی موسم کی شدت وحدت سے سبزیوں اور پھلوں کو بچایا جائے۔ موسم سرما میں آج کل پولیتھن کا استعمال مناسب رہتا ہے۔ پھر پودوں کی کٹائی، چھڈ وائی (Pruning) بھی بہت ضروری ہے۔خشک ٹہنیاں کاٹتے رہیں۔ سوکھے پتے الگ کرتے رہیں اور زائد پانی کا اخراج جس کو Drainage System کہتے ہیں اس کا بھی خیال رہے۔

آخری بات جو خاکسار نے اپنی کتاب ’’مشترکہ خاندانی نظام اور اس کا تجزیاتی مطالعہ‘‘ میں بھی درج کی ہے اور اب یہ بات تحقیق سے بھی ثابت ہے کہ پودے باتیں کرتے ہیں اور آپ کی باتوں کا جواب دیتے ہیں۔ ان کو بے جان نہ سمجھیں بلکہ ان کی بڑھوتی اور خوبصورت ہونے پر ان کی تعریف کریں۔ ان کے قریب کھڑے ہو کر یا بیٹھ کر ان کو کچھ وقت دے کر باتیں کریں۔ وہ خوش ہوں گے۔ گوڈی کرتے وقت، جڑی بوٹیاں کاٹتے وقت باتیں کریں اور سب سے بڑی اور بہت ہی اچھی بات یہ ہے کہ ان پودوں پر پھل اللہ تعالیٰ سے مانگیں۔ پودوں کے قریب جا کر اللہ تعالیٰ سے دعا ئیں کریں۔ اصل ’’دیالو‘‘ تو خدا ہے جو ہماری کوششوں، محنتوں اور کاوشوں کا پھل دیتا ہے۔

مادی پھلوں، پودوں اور سبزیوں کی بات اگر ہوئی ہے تو یہاں یہ بتادینا بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ میں کشف میں ایک باغ لگا رہا ہوں اور میں اس باغ کا مالی مقرر ہوا ہوں (تذکرہ صفحہ 674)۔ ایک اور کشف میں پیغمبر خداﷺ نے آپؑ کو مخاطب ہوکر فرمایا کہ ’’یہ باغِ اسلام ہم تم کو دیتے ہیں‘‘

پھر الہام ہوا :
’’شُد تُرا ایں برگ و بار و شیخ و شاب‘‘
کہ یہ پھل، پھول اور بوڑھے اور جوان سب آپ کے ہی ہیں۔

(تذکرہ ایڈیشن چہارم صفحہ 653)

گویا جماعت احمدیہ ایک باغ کی طرح ہے اور احباب جماعت اس کے رنگ برنگے خوشنما، مختلف ذائقوں والے پھل ہیں۔ جس سے عالمگیر جماعت نہ صرف محظوظ ہو رہی ہے بلکہ یہ پھل جماعت کو تقویت پہنچا رہے ہیں اور خلیفۃ المسیح، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اقتداء میں اس باغ کے باغبان ہیں جو گاہے بگاہے مختلف اصطلاحات، ارشادات کے ذریعہ اس باغ کی گوڈی کرتے اور مناسب پانی دیتے ہیں اور امراء، سیکرٹریان اور واقفین زندگی کی صورت میں جماعت کو مالی میسر ہیں جو جماعت کے باغیچے کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 اگست 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 اگست 2020