• 23 ستمبر, 2021

مسلمان بہت سے احکامات بھلا بیٹھے ہیں

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
لیکن افسوس ہے کہ آج مسلمان بہت سے احکامات کی طرح اس حکم کو بھی بھلا بیٹھے ہیں اور یہی سمجھتے ہیں کہ جو کچھ وہ کہہ رہے ہیں یا کر رہے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ باخبر نہیں۔ ایسے لوگوں کے نزدیک صرف ان کی مرضی کی تفسیر اور ان کی مرضی کے احکامات ہی احکامات کا درجہ رکھتے ہیں۔ حضور رحمہ اللہ کی وفات پر پاکستان میں بعض اخبارات نے جس گندہ دہنی اور ضلالت کی مثال قائم کی ہے اس پر سوائے اِنَّا لِلّٰہ پڑھنے کے اور کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بہرحال پیشگوئیوں کے مطابق یہ ہونا تھا اور ہمارے ایمانوں کو مزید تقویت ملتی ہے کہ خبیر خدا نے ان حالات کے بارے میں پہلے ہی آنحضرت ﷺ کو اس کی خبر دے دی تھی۔ اور آج ہم اپنی آنکھوں کے سامنے انہیں پورا ہوتے دیکھتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے اس زمانہ میں مسلمانوں کے تغیر کے بارہ میں جو پیش خبریاں فرمائی تھیں اس میں سے ایک کا مختصر ذکر حضرت مصلح موعودؓ کے الفاظ میں یہاں بیان کرتا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ ایک تغیر مسلمانوں میں آپ ﷺ نے یہ بیان فرمایا کہ لوگ زکوٰۃ کو تاوان سمجھیں گے۔ یہ بھی حضرت علی ؓ سے البزار نے نقل کیا ہے۔ چنانچہ اس وقت جب کہ مسلمانوں پر چاروں طرف سے آفات نازل ہو رہی ہیں اور زکوٰۃ کے علاوہ بھی جس قدر صدقات و خیرات وہ دیں کم ہیں۔ اکثر مسلمان زکوٰۃ کی ادائیگی سے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے فرض ہے جی چراتے ہیں اور جہاں اسلامی احکام کے ماتحت زکوٰۃ لی جاتی ہے وہاں تو بادل نا خواستہ کچھ ادا بھی کر دیتے ہیں مگر جہاں یہ انتظام نہیں وہاں سوائے شاذونادر کے بہت لوگ زکوٰۃ نہیں دیتے اور جو اقوام زکوٰۃ دیتی بھی ہیں وہ اسے نمود کا ذریعہ بنا لیتی ہیں اور اس رنگ میں دیتی ہیں کہ دوسرا اسے زکوٰۃ نہیں خیال کرتا بلکہ قومی کاموں کے لئے چندہ سمجھتا ہے۔

(خطبہ جمعہ 9؍ مئی 2003ء بحوالہ الاسلام ویب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 اگست 2021

اگلا پڑھیں

کونوا مع الصادقین