• 27 اکتوبر, 2020

کہیں وہ آفتاب ہو، کہیں وہ ماہ تاب ہو

جہاں میں ہم کہیں رہیں ہماری آب و تاب ہو
چمن میں گل ہوں ہر طرف وہیں پہ وہ گلاب ہو
محبّتوں کی سرزمیں ہے ہر جگہ کہیں کہیں
کہیں وہ آفتاب ہو، کہیں وہ ماہ تاب ہو
ملی ہمیں رفاقتیں ہیں شفقتیں عنایتیں
سوال اس سے کیا کریں، جو خود ہی لا جواب ہو
کہانیاں سنی تھیں ہم نے عشق کی وصال کی
یہاں تو راستہ وصال کا ہی انتخاب ہو
ہیں آشیاں اجڑ گئے، ہے پنچھیوں نے راہ لی
مرے وطن کی ہر گلی میں یوں لگے عذاب ہو
ستم رسیدہ سب ہوئے ہیں کام کیا کرے کوئی
کہ پیر کیا کرے وہاں، جو تھک گیا شباب ہو
پڑھا تھا تم نے جو سبق محبّتوں کا عشق کا
کہیں اسے بھلا کے ہی نہ زندگی خراب ہو
خدا کرے کہ پھر سے تم کو راحتیں نصیب ہوں
تمہیں ہدایتیں ملیں، جو رہنما کتاب ہو
طبیب وہ ملے تمہیں جو درد کی دوا کرے
وہ زخم مندمل کرے، تمہارا ہم رکاب ہو
چلے بھی آؤ میکدے، تمہارے غم بھی دور ہوں
کھڑا جو حوض پر ملے، پلا رہا شراب ہو
ہے طارق اب تو خوش ہوا پڑا ہے سجدے میں گرا
ہے جب سے اُس نے کہہ دیا تمہارا کیا حساب ہو

(ڈاکٹر طارق انور باجوہ ۔ لندن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 ستمبر 2020