• 28 اکتوبر, 2020

ہم لاعلاج قوم ہیں

یوٹیوب پر سماء ٹی وی کے 24 جون 2020ء کو نشر ہونے والے پروگرام کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اس پروگرام میں ٹک ٹاک(TIKTOK) اور پب جی (PUBG) کے مہلک اثرات کا ذکر ہورہا تھا۔ جس کی وجہ سے ہلاکتیں اور خودکشیاں ہورہی ہیں اور پاکستان میں ہفتہ عشرہ میں 2نوجوانوں نے خودکشی کرکے موت کو گلے لگا لیا۔

اس پروگرام میں اینکر پرسن نے دو ماہر نفسیات کو مدعو کررکھا تھا۔ ان میں ایک ڈاکٹر معیز تھے۔ انہوں نے اپنی باری پر قوم کی ناگفتہ بد حالی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں کن کن باتوں سے روکا جاتا ہے، سمجھایا جاتا ہے۔ ابھی کرونا میں باوجود سماجی فاصلہ سمجھانے کے، لاک ڈاؤن کو اپنانے کی تلقین کرنے کے قوم نے جو اپناپن ظاہر کیا ہے وہ ہمارے سامنے ہے۔ ’’ہم لاعلاج قوم ہیں‘‘ یعنی ہم ایک ایسے مقام پر پہنچ چکے ہیں کہ ہمارا کوئی علاج نہیں۔ ہم Incurable اور Irremediable ہیں جن پر کوئی Remedy اور Medicine اثر نہیں کرسکتی۔

خاکسار پروگرام سنتا سنتا جب ڈاکٹر معیز کے اس فقرہ پر پہنچا کہ ’’ہم لاعلاج قوم ہیں‘‘ تو میرے دماغ کو مختلف خیالات، تفکرات اور توہمات نے جھگڑلیا اور سوچتے سوچتے میں کہیں کا کہیں پہنچ گیا اور اس قوم کی ایک ایک حرکت آنکھوں کے سامنے آنے لگی جو اسلامی اور قرآنی تعلیم کے منافی ہے اور سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ ایسی قوموں کو بہکتے ہوئے چھوڑ دیتا ہے۔ ان تمام حرکات کے ذکر کا اس وقت نہ تو میرا کالم متحمل ہوسکتا ہے اور نہ میرے قویٰ شاید ساتھ دے سکیں کیونکہ جس قوم میں سے بعض نے اللہ تعالیٰ کے گھروں یعنی احمدی مساجد کو توڑا ہو، نقصان پہنچایا ہو۔ ان کی پیشانی پر لکھے کلمہ طیبہ کو کھرچ کر یا ہتھوڑوں سے توڑ کر نیچے بہتی گندی نالیوں میں بہایا ہو اور مساجد میں پڑی الہٰی کتاب قرآن کریم کو جلایا ہو۔ اس کا انجام خود سوچیں کیا ہوگا یا کیا ہونا چاہیے؟

بات پھر طول پکڑ رہی ہے اصل نکتہ تو حضرت امام مہدی اور مسیح موعود کو نہ ماننے کا ہے جو محض اور محض اس زمانہ میں خالق حقیقی اللہ تعالیٰ کا نمائندہ ہے۔ جوسب سے پیارے رسول سیدنا و امامنا و مولانا خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی تعلیمات کی تجدید کررہا ہے۔ جس کا درجہ محض ایک غلام کا ہے یعنی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے غلام ہونے کا دعویدار ہے۔ اس قوم نے اس کا انکار کردیا۔ اس کی توہین کی۔ اس کے ساتھ تضحیک سے پیش آئی۔ اس کو اور اس کے ماننے والوں کو گالیاں دی گئیں۔ تو کیا اس خدا کی غیرت جوش میں نہیں آتی جس نے اس بندے کو بھیجا اور اپنی تائیدات سے اسے نوازا اور آج اسی اللہ کے فضل اور تائیدات ربانی سے ساری دنیا میں اپنے نام سے جانا پہچانا جانے لگا۔

آگے بڑھنے سے قبل ’’لاعلاج‘‘ لفظ کو سمجھنا ضروری ہے۔ یہ اصطلاح آج کل ڈاکٹروں میں عام استعمال ہوتی ہے۔ بعض اوقات اس اصطلاح کو بیماری یا مرض کی طرف منسوب کرتے ہیں جیسے یہ مرض تو لاعلاج ہے جیسے کینسر وغیرہ اور بسا اوقات یہ اصطلاح مریض کی طرف منسوب کرکے ڈاکٹرز کہہ دیتے ہیں کہ اب یہ مریض لاعلاج ہے۔ زندگی کے دن پورے کرچکا ہے۔ اسے گھر لے جائیں اور دعائیں کریں۔

مگر اللہ تعالیٰ کے دربار میں کوئی چیز لاعلاج نہیں۔ اللہ سے امید رکھنا۔ اس پر توکل کرنا اور دعاؤں کے ساتھ اس مضمون کو باندھ دیا گیا ہے۔ تقدیر آنے سے قبل تدبیر کرنا نہیں بھولنا۔ یہی اللہ پر بھروسا اور امید ہے۔ مریض کو ادویات دے کر اللہ پر بھروسہ رکھنا ضروری ہے۔ جیسے کلونجی کے متعلق آنحضورﷺ نے فرمایا کہ اس میں موت کے سوا ہر بیماری کا علاج ہے۔ شہد کے متعلق قرآن کریم میں آتا ہے کہ فِیۡہِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ (النحل:70) کہ اس میں لوگوں کے لئے شفاء ہے۔ ایک دفعہ حضرت ابوہریرہ ؓ کے بھائی کو پیٹ کی تکلیف ہوئی۔ آپ، آنحضورﷺ کے پاس حاضر ہوئے اورعلاج دریافت فرمایا۔ آنحضورﷺ نے شہد تجویز فرمایا۔ کچھ دیر بعد وہ دوبارہ حاضر ہوئے اور عرض کی کہ حضورؐ! شہد دینے سے پیٹ کا درد مزید بڑھ گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا۔ شہد دو انہوں نے واپس جاکر اپنے بھائی کو مزید شہد دیا تو دیکھتے دیکھتے پیٹ پھولنے لگا۔ حضرت ابوہریرہ ؓ بھاگے بھاگے دربار نبوت میں حاضر ہوئے اور تکلیف کی کیفیت بیان فرمائی۔ آپؐ نے فرمایا۔ مزید شہد دو اور اس کے بعد مریض صحت یاب ہوگیا۔

روحانی دنیا میں اگر اس لفظ کے استعمال کو دیکھیں تو اس سے دائمی مریض مراد نہیں ہوتا۔ بلکہ کچھ علاج کے بعد جب گناہ گار صحت یاب ہوجاتا ہے تو اللہ کی صفت رحیم جلوہ گر ہوتی ہے اوراُسے معاف کردیا جاتا ہے۔ مفسرین قرآن نے قرآن کریم کے الفاظ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ (البقرہ:40) کے ترجمہ و تشریح میں یہ بارہا لکھا ہے کہ کفار اور گناہ گار جہنم میں دائمی نہیں ہوں گے۔ یہ ہسپتال کی مانند ہے جوں جوں ایک مریض کا علاج مکمل ہوگا اسے جنت میں منتقل کردیا جائے گا۔

لیکن جہنم میں بھجوائے جانے سے قبل علاج ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ تعلیمات پرعمل کرنے کی تلقین کرتا ہے۔ عمل کرنے والوں کو نویدیں دیتا ہے اور عمل نہ کرنے والوں اور انکار کرنے والوں کو مسلسل تنبیہ کرتا چلا جاتا ہے اور جب کیفیت خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ وَ عَلٰی سَمۡعِہِمۡ ؕ وَ عَلٰۤی اَبۡصَارِہِمۡ غِشَاوَۃٌ ۫ وَّ لَہُمۡ عَذَابٌ عَظِیۡمٌ (البقرہ:8) کی ہوجاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ عذاب کی تقدیر نازل کرتا ہے۔

ڈاکٹر معیز کے تبصرہ ’’ہم لاعلاج قوم ہیں‘‘ کو احادیث و اقوال رسول ﷺ کے تناظر میں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ اے مسلمانو! جب تم میں مسیح موعود ظاہر ہو اور تم اس کو دیکھ لو تو تمہارا فرض ہے کہ تم اس تک پہنچو اور بیعت کرو خواہ تمہیں اس تک پہنچنے کے لئے برف کے یخ بستہ تودوں پر سے گھٹنوں کے بل ہی کیوں نہ جانا پڑے۔ وہ خلیفۃ اللہ المہدی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ خلیفہ اوراس کی طرف سے ہدایت یافتہ ہے۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ 30)

پھر ایک موقع پر اسے آنحضورﷺ نے اپنا سلام پہنچانے کی ہدایت بھی فرمائی۔

(درمنثور جلد2 صفحہ 445 از امام جلال الدین السیوطی)

بلکہ اس کی اطاعت اپنی اطاعت اوراس کی نافرمانی اپنی نافرمانی قرار دی۔

(بحارالانوار جلد 13 صفحہ 17 از علامہ باقر مجلسی)

ینابیع المودّہ میں لکھا ہےکہ جس نے مہدی کے ظہور کا انکار کیا اس نے گویا محمدؐ پر نازل شدہ باتوں کا انکار کیا۔

(الباب الثامن و السبعون صفحہ 447 از علامہ شیخ سمان)

نواب محمد صدیق حسن خان صاحب نے بھی یہی لکھا ہے کہ جس نے مہدی کو جھٹلایا اُس نے کفر کیا۔

(حجج الکرامہ صفحہ 351)

اس ناطے مسیح ومہدی اس زمانہ کے روحانی طبیب ہیں۔ وہ قرآن و حدیث اور آنحضورﷺ کی تعلیمات کے مطابق علاج تجویزکرتے رہےاور آج ان کی نمائندگی میں خلیفۃ المسیح مناسب رہنمائی فرماتے ہیں۔ ہم سب کو اللہ کی طرف جھکنا، اس سے مدد مانگنا ضروری ہے تا ہماری کمزوریوں، کوتاہیوں اور گناہوں کا علاج ہوتا رہے۔

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 ستمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 ستمبر 2020