• 5 دسمبر, 2021

چندو لال فىصلہ سنانے سے پہلے مر جائے گا

حضرت خلىفۃ المسىح الخامس اىدہ اللہ تعالىٰ بنصرہ العزىز مزىدفرماتے ہىں:۔
حضرت حافظ غلام رسول صاحبؓ وزىر آبادى بىان کرتے ہىں کہ مجھے مسلسل اور منظم طور پر ىادنہىں، متفرق طور پر ىہ بات ىاد آئى ہے کہ گزشتہ مذکور مباحثے کے بعد اىک اشتہار حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام کى طرف سے نکلا، ىہ جلسہ مہوتسو کے متعلق تھا، اُس مىں اسلامى اصول کى فلاسفى کے بارے مىں حضرت صاحب کا ىہ الہام درج تھا کہ ’’مىرا مضمون بالا رہا‘‘۔ کہتے ہىں اس وقت کسى وجہ سے مَىں کچھ بىمار تھا۔ اور بىمارى بھى اىسى تھى کہ بہت زىادہ کمزورى تھى۔ دعوىٰ حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام کا بڑا بھارى تھا کہ ’’مىرا مضمون سب پر بالا رہے گا‘‘۔ بجز تائىد الٰہى ىہ بات کون کہہ سکتا ہے۔ کہتے ہىں کہ مَىں اىک اپنے اہلحدىث مولوى کو جو لاہور مىں تھا، افتاں و خىزاں (بڑى مشکل سے گرتے پڑتے) اُس کو ساتھ لے کر جلسہ گاہ مىں پہنچا۔ مولوى ثناء اللہ اور مولوى محمد حسىن بٹالوى وغىرہ کے لىکچر بھى سنے مگر سب پھىکے اور بے اثر۔ لىکن جب حضرت مرزا صاحب کا مضمون شروع ہوا تو تِل رکھنے کى جگہ نہ تھى اور سامعىن پر اىسا سکوت تھا کہ ذرا بھنک نہىں آتى تھى۔ ىہاں تک کہ بعض اور لوگوں نے بھى اپنے اوقات حضرت مرزا صاحب کا مضمون سننے کے لئے وقف کر دئىے۔ اور دو دن اىامِ مقررہ سے زائد کئے گئے۔ جب ىہ مضمون آخر مىں پہنچا تو مىں نے اُسى وقت اسى جگہ ہاتھ اُٹھا کر جنابِ الٰہى مىں دعا کى (ىہ دىکھىں اللہ تعالىٰ پھر سعىد فطرت لوگوں کى رہنمائى کس طرح فرماتا ہے) کہ ىا اللہ! اگر ىہ تىرا وہى بندہ ہے جس کى نسبت تىرے پىارے رسول صلى اللہ علىہ وسلم نے پىشگوئى فرمائى ہے تو اُس کى برکت سے مجھے اس بىمارى سے شفا بخش دے۔ الغرض جلسہ ختم ہونے کے بعد جب مَىں جلسہ گاہ کے بڑے دروازے سے باہر نکلا تو اللہ کى قسم! مجھے اىسا معلوم ہوا کہ مجھے کوئى بىمارى نہ تھى۔ اُس دن سے آج تک پھر اس بىمارى نے عَودنہىں کىا۔ (دوبارہ نہىں آئى)۔ اور چنانچہ ىہ احمدى بھى ہوئے۔

(ماخوذ از رجسٹر رواىات صحابہ غىر مطبوعہ رجسٹر نمبر11صفحہ نمبر247-248رواىت حضرت مىر مہدى حسىن صاحبؓ)

حضرت اللہ بخش صاحبؓ بىان کرتے ہىں کہ کرم دىن کے مقدمے مىں پہلے چندُو لال آرىہ منصف تھا۔ کہتے ہىں مىرا اىک آرىہ دوست تھا، گردھارى لال، اکاؤنٹنٹ تھا، اُس نے آ کر مجھے ىہ خبر دى کہ ہمارى کمىٹى مىں فىصلہ ہو چکا ہے کہ مرزا صاحب کو سخت سزا دى جائے۔ مىں نے خبر سن کر حضرت صاحب کى خدمت مىں بىان کى۔ آپ نے فرماىا کہ دعا کرو۔ (کہتے ہىں ) خىر مَىں واپس آ گىا۔ جب امرتسر گىا تو صبح کى نماز کا وقت تھا۔ مَىں مسجد گىا اور مسجد کى ڈاٹ مىں بىٹھا ہوا تھا اور غالباً درود شرىف پڑھ رہا تھا کہ مىرے دائىں کان مىں جو قرىباً بند ہے، (ان کا داىاں کان بند تھا اور کہتے ہىں) اُس وقت بھى بند تھا زور سے آواز آئى کہ چندو لال فىصلہ سنانے سے پہلے مر جائے گا۔ پھر مَىں حضرت صاحب کى خدمت مىں آىا اور عرض کى کہ حضرت! ىہ آواز مجھے اس کان مىں بہت زور سے پڑى ہے کہ چندو لال فىصلہ سنانے سے پہلے مارا جائے گا۔ آپ نے فرماىا کہ ىہ مبشر خواب ہے اور دعا کرو…۔ اس کے بعد مَىں نے رؤىا مىں دىکھا کہ اىک مسلمان مجسٹرىٹ ہے جس نے آتما رام کو سفىد گلاس مىں پانى پلاىا ہے۔ جو شکل مجھے آتما رام کى خواب مىں دکھائى گئى اُس مىں وہ ٹانگ سے کچھ معذور تھا۔ اس کے بعد مقدمے کى تارىخ جب آئى تو مىں گورداسپور مىں تھا۔ کوئى شخص رخصت پر جا رہا تھا ىا تبدىل ہو کر جا رہا تھا، اُس کو گاڑى پر سوار کرنے کے لئے چند اور لوگوں کے ساتھ آتما رام بھى آىا ہوا تھا۔ مَىں نے اس خواب والے حلىہ کے مطابق اُس کو دىکھا اور پھرمَىں وہاں گىا جہاں حضرت صاحب تشرىف رکھتے تھے۔ درى بچھى ہوئى تھى اور احباب بىٹھے تھے۔ مَىں بھى بىٹھ گىا۔ اس وقت پھر آتما رام سٹىشن سے واپس عدالت مىں آىا تو جہاں ہم بىٹھے تھے، عدالت کے کمرے کا وہى راستہ تھا۔ مَىں نے کسى دوست سے پوچھا کہ ىہ شخص کون ہے۔ اُس نے کہا کہ اس کے پاس حضرت صاحب کا مقدمہ ہے۔ مَىں نے کہا مجھ کو اس کى شکل پہلے ہى دکھائى گئى ہے۔

(ماخوذ از رجسٹر رواىات صحابہ غىر مطبوعہ رجسٹر نمبر11صفحہ نمبر145تا147رواىت حضرت اللہ بخش صاحبؓ)

اور چندو لال کے بارے مىں ىہ بھى بتا دوں کہ خود حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام نے بھى اللہ تعالىٰ سے اطلاع پائى تھى۔ اىک دفعہ جب کسى نے کہا کہ چندو لال مجسٹرىٹ کا ارادہ ہے کہ آپ کو قىد کر دے تو آپ درى پر لىٹے تھے، اُٹھ بىٹھے اور فرماىا کہ مىں چندو لال کو عدالت کى کرسى پر نہىں دىکھتا۔ چنانچہ آخر اس عہدہ سے اُس کى تنزلى ہو گئى (نىچے چلا گىا) اور ملتان مىں اُس کى تبدىلى ہو گئى۔ پھر پنشن پا کے لدھىانہ آ گىا اور آخر انجام بھى اُس کا بڑا بھىانک ہوا کہ پھر پاگل ہو کر وہ مرا۔

(ماخوذ از تارىخ احمدىت جلد 2صفحہ 286)

حضرت مسىح موعود علىہ الصلوٰۃ والسلام پر جب اىسے موقع آتے تھے خود بھى دعا کرتے تھے، اللہ تعالىٰ کى طرف سے تسلى بھى ہوتى تھى، لىکن پھر بھى اپنے صحابہ کو ىہ کہا کرتے تھے کہ دعا کرو اور پھر اگر کوئى خواب وغىرہ آئے تو وہ سن کے اُس پر اپنا اظہار بھى فرماىا کرتے تھے۔

(خطبہ جمعہ 15؍ جون 2012ء بحوالہ الاسلام وىب سائٹ)

پچھلا پڑھیں

فیسپاکو، بر کینا فاسو میں تبلیغی اسٹال

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 نومبر 2021