• 23 جنوری, 2021

عشق و محبت کی تعلیم اور مثالیں

عشق و محبت کی جو تعلیم اور جو مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام قائم کر گئے ہیں ان کا کوئی مقابلہ کر ہی نہیں سکتا

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
اس وقت جو واقعہ مَیں بتا رہا ہوں یہ 1927ء میں ایک رسالہ ’ورتمان‘ نے ایک مضمون لکھا تھا جس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور ازواج مطہرات کے متعلق بڑی بیہودہ گوئیاں کی تھیں۔ فضول باتیں گندی غلیظ قسم کی۔ تو اس وقت مسلمانوں میں جوش اور غیض غضب بھی تھا لیکن اس کوصحیح راستے پر چلانے والا کوئی نہیں تھا۔ اس وقت تمام مسلمانوں کو توجہ دلانے اور مسلمان لیڈروں کو اکٹھا کرکے اس سلسلہ میں کوشش کرنے کے لئے حضرت مصلح موعود ؓ نے انتھک محنت کی، اور مشورے دئیے۔ مسلمانوں کو بتایا کہ جلسہ سے یا تقریروں سے یا بائیکاٹوں سے یا جلوسوں سے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ عملی ٹھوس قدم اٹھانے ہوں گے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ تبلیغ کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ بہرحال یہ ایک لمبی تفصیل ہے۔ آپ کی کوششوں سے بہت سے عملی اقدامات ہوئے۔ عدالت میں پیش ہونے کے لئے عدالت میں یہ کیس بھی چلا اور پیش ہونے کے لئے چوٹی کے مسلمان وکلاء کی جو کمیٹی تھی انہوں نے یہ فیصلہ کیا کہ اس معاملے کو اگر کوئی احسن طریق پر اچھے رنگ میں عدالت میں پیش کر سکتا ہے تووہ چوہدری محمد ظفراللہ خان صاحب ہی ہیں۔ چنانچہ وہ پیش ہوئے اور ان کی کوششوں کو بڑا سراہا گیا اخباروں میں بھی۔ اور اخباروں نے اس کا اظہار بھی کیا۔ تو اس ساری کوشش کا ذکر اس وقت 23؍ستمبر 1927ء کی مشرق اخبار نے اس طرح لکھا کہ:
’’یہ واقعہ ہے اس پر کوئی پردہ نہیں ڈال سکتا کہ مسلمانوں کے تمام فرقوں میں سے صرف احمدی جماعت ہی اس بات کا دعویٰ کر سکتی ہے کہ اس نے فتنہ ارتداد کا مقابلہ بر حیثیت اچھا کیا اور خوب کیا اور اس سے زیادہ بہتر اور صحیح طریق پر ناموس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کے لئے جہاد اکبر بھی کسی دوسری جماعت نے نہیں کیا۔ فرداً من الافراد کا ذکر نہیں۔ کیونکہ حضرت خواجہ حسن نظامی اپنی ذات خاص سے کیا کچھ نہیں کرتے ہیں‘‘۔ ان کا ذکر چھوڑو، چند ایک نے اگر کیا تو۔ کہتا ہے کہ ’’یورپ اور افریقہ اور امریکہ میں جو خدمات اسلام یہ جماعتیں کر رہی ہیں ان کا ذکر بے سود ہے۔ ہندوستان میں بھی جو کام ہو رہا ہے اور جیسا ایثار اور ہمت بلکہ اولوالعزمی یہ لوگ دکھا رہے ہیں باعث صد ہزار ممنونیت قوم مسلمہ ہے۔ حال میں صوبہ متوسط کے دارالصدر ناگپور میں اس جماعت کے ایک فرد واحد نے جو ثبوت اپنی ہمت و ایثار کا دیا ہے اس کی مفصّل کیفیت الفضل قادیان نے 17؍ اگست کو لکھی ہے۔ ایک صاحب ایثار کی کوششیں اور ہمت کا یہ نتیجہ نکلا کہ جلسہ ہوا اور بارش بہت زور شور سے ہوتی رہی۔ پانی میں سب بھیگتے رہے۔ جن کے پاس چھتریاں تھیں چھتریاں اتار دیں اور ریزولیوشن پیش کئے، پاس کئے، تقریریں کیں اور ثابت کر دیا کہ مسلمان اپنے پیشوا اور اپنے امام جماعت کے حکم کی تعمیل میں سب کچھ کر سکتا ہے۔ اور اس موقعہ پر قابل تحسین تمام فرقوں کے مسلمان ہیں جنہوں نے اختلاف کو چھوڑ کر خدا کے حکم پر تمسک کیا‘‘، یعنی اکھٹے ہو گئے ’’اور رہنمائے اسلام امین کامل صادق پاکباز حضرت محمد رسول اللہﷺ کے ناموس کی حفاظت کے لئے ایک مرکز پر جمع ہو گئے اور یہی خدا کاحکم ہے۔ قرآن پاک میں برابر اس کی تاکید مسلمانوں کو ہے کہ تفرقہ نہ پیدا کرو۔ فرقہ بندی کو چھوڑ دو اور سب ایک ہو جاؤ گے تو غیر مسلم فرقے تم کو نقصان نہیں پہنچا سکتے‘‘۔ لیکن آج کل اس کے بالکل الٹ کرتے ہیں سارے۔

پھر آگے لکھتاہے کہ ’’ہم جماعت احمدیہ کو مبارک باد دیتے ہیں کہ وہ سچا کام خدمت اسلام کا انجام دے رہی ہے اور اس وقت ہندوستان میں کوئی جماعت اتنا اچھا اور ٹھوس کام نہیں کرتی کہ وہ ہر موقع پر مسلمانوں کو حفاظت اسلام اور بقائے اسلام کے لئے توجہ دلاتی رہتی ہو۔ باوجود اختلافِ عقائد کے ہمارے دل پر اس جماعت کی خدمات کا گہرا اثر ہے۔ اور آج سے نہیں جناب مرزا غلام احمد صاحب مرحوم کے زمانہ سے اِس وقت تک ہم نے کبھی اس کے خلاف کوئی حرف زبان اور قلم سے نہیں نکالا۔‘‘

(اخبار مشرق یکم ستمبر 1927ء بحوالہ جماعت احمدیہ کی اسلامی خدمات صفحہ 58-57 بحوالہ تاریخ احمدیت جلد 4صفحہ 608)

تو یہ تھی ان لوگوں کی شرافت لیکن آج کل کی شرافت گونگی ہے۔ گھروں میں بیٹھ کے بات کر لیں گے باہر نکل کے نہیں کر سکتے۔ تو یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق اور آپ کے لئے غیرت کی ایک مثال ہے جو اسی تعلیم کا نتیجہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں دی ہے جو غیروں کو بھی نظر آ رہی ہے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ صرف بات یہ ہے کہ اب اکثر سے شرافت اٹھ گئی ہے۔ اگر شرافت ہو تو آج بھی جو خدماتِ اسلام اور جو کوشش آنحضرتﷺ کی محبت دلوں میں پیدا کرنے کے لئے جماعت احمدیہ کررہی ہے اس کو سمجھتے ہوئے جماعت احمدیہ کی مخالفت کرنے کی بجائے، احمدی پر ہتک رسول کا الزام لگانے کی بجائے، ان خدمات کو سراہیں۔ ان کی تعریف کریں۔ بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اور فرمانبرداری کی وہ مثال قائم کریں جس کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ جب مسیح و مہدی کی آمد کی خبر سنو تو اس کو میرا سلام پہنچاؤ۔ اللہ تعالیٰ ان کی آنکھیں کھولے اور اس قوم کو مولویوں کے چنگل سے نکالے جن کا کام ہی صرف فساد ہے اور خدا کرے کہ حقیقت کو سمجھنے والے بنیں اور حقیقت کے اظہار کی جرأت ان میں پیدا ہو۔ لیکن احمدی کا بھی یہ کام ہے کہ پہلے سے بڑھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کی مثالیں قائم کرے اور آپ پر درود بھیجے۔ عشق و محبت کی جو تعلیم اور جو مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام قائم کر گئے ہیں ان کا کوئی مقابلہ کر ہی نہیں سکتا۔ اور نہ ہی احمدی کے علاوہ اس کا کوئی اظہار کر سکتا ہے۔

پس یہ آج احمدی کا ہی کام ہے کہ اس کا اظہار کریں اور بتائیں دنیا کو۔ افریقہ کے دورے کے دوران ایک ملک میں ایک ایرانی ایمبیسی کے افسر آئے ہوئے تھے بہت شریف النفس انسان تھے بعد میں ایئر پورٹ بھی مجھے چھوڑنے آئے۔ اور کافی دیر بیٹھے رہے۔ باتیں ہوتی رہیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق پر بھی بات ہوئی۔ تو اس حوالہ سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا شعر فارسی کا انہیں سنایا کہ :

جان و دلم فدائے جمال محمدؐ است
خاکم نثار کوچہٴ آل محمدؐ است

تو فوراً بڑی دیر تک اس کو دہراتے رہے وہ کہ ایسا شعر تو مَیں نے کبھی سنا ہی نہیں۔ پھرمیں نے کہا۔ اس کے باوجود الزام یہی ہے کہ عشق رسول نہیں۔ تومیں نے کہا ایک شعر اور بھی سن لیں۔ آپ نے فرمایا۔

بعد از خدا بعشق محمدؐ مخمرم
گر کفر ایں بود بخدا سخت کافرم

یہ شعر بھی ان کو بڑا پسند آیا۔

پہلے شعر کا مطلب یہ ہے کہ میری جان و د ل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن پر فدا ہیں۔ اور میری تو خاک بھی آپ کی آل کے کوچہ پر نثار ہے۔ اور دوسرا یہ کہ اللہ تعالیٰ کے عشق کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا عشق ہی ہے۔ اگر یہ عشق کرناکفر ہے تو میں سب سے بڑا کافر ہوں۔ تو مولوی کو کیا پتہ ان عشق کی باتوں کا۔ بہرحال وہ شریف النفس تھے۔ انہوں نے کہا یہ شعرکہاں ہیں مجھے کتاب دی جائے۔ فارسی کی درثمین ان کو پہنچا دی تھی۔ توبہرحال شرفاء ہیں لیکن اگر عقل نہیں آتی سمجھ نہیں آتی تو مولوی کو نہیں آئے گی۔ خدا کرے کہ قوم کے لوگوں کو بھی سمجھ آجائے کہ مولوی نے سوائے فتنہ و فساد کے اور کچھ نہیں پیدا کرنا۔ آج بھی، مَیں پھرکہتاہوں کہ ہر احمدی کا یہی جواب ہے کہ جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا‘ گر کفرایں بود بخدا سخت کافرم’۔ کہ اگر تم اس کو کفر سمجھتے ہو تو پھر ٹھیک ہے ہم کافر ہی ہیں۔ بے شک تم ہتک رسول میں اپنی مرضی سے اسے اندر کردو۔ لیکن خدا کو پتہ ہے کہ اصل میں یہ ہتک رسول میں سلاخوں کے پیچھے نہیں بلکہ عشقِ رسول میں سلاخوں کے پیچھے ہیں۔ لیکن تم لوگ مسیح موعود کو نہ مان کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی سے باہر نکل رہے ہو اور ہتک رسول کے اصل میں مر تکب تم لوگ ہو رہے ہو۔ مَیں پھر کہتا ہوں کہ خدا کا خوف کرو۔ اللہ تعالیٰ کی لاٹھی سے ڈرو جو بے آواز ہے۔ جب اللہ تعالیٰ بدلے لینے پہ آتا ہے پھر بہت خطرناک حالات ہوتے ہیں۔ پھر یہ نہیں دیکھا جائے گا کہ کون بچ گیا اور کون مر گیا۔ بہرحال ان لوگوں کے شر سے اللہ تعالیٰ ہر ملک میں ہر احمدی کو ہر لحاظ سے محفوظ رکھے۔ لیکن جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا کہ ہر احمدی کا بھی یہ فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرے اور پہلے سے بڑھ کر کرنے کی کوشش کرے اور آپ پر درود و سلام بھیجے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دے۔

(خطبہ جمعہ 10؍ دسمبر 2004ء)

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 دسمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 دسمبر 2020