• 23 جنوری, 2021

ہمارے جلسہ ہائے سالانہ

دینی و روحانی جماعتوں میں بعض دن اور بعض مہینے تاریخی اعتبار سے بہت اہمیت اختیار کر جاتے ہیں ۔جن میں وہ اپنی تاریخ دہرانے کے لئے اور اپنے ایمانوں کو جلا بخشنے کے لئے کسی ایک مقام پر اکٹھے ہو تےہیں ۔

جماعت احمدیہ میں ماہ دسمبر ہماری سانسوں کو مہکانے اور روحوں کو گرمانے کا مہینہ ہے۔ آج سے 129سال قبل 1891ء میں حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہودؑ نے جلسہ سالانہ کی بنیاد رکھی جو ایک دوسال کے تعطل کے ساتھ باقاعدگی سے مرکز احمدیت قادیان میں منعقد ہو رہا ہے۔

1947ء میں پاکستان ہجرت کر جانے کے بعد پہلے لاہور اور پھر مرکز ربوہ میں یہ جلسہ منعقد ہونے لگا۔ 1984ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے بندش کی وجہ سے 1983ء تک ربوہ میں جلسہ سالانہ منعقد ہوتا رہا۔ چونکہ اس کی بنیادی اینٹ خود اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی تھی اور اس کے پھیلاؤ اور وسعتیں دینے کا وعدہ خود خدا نے دے رکھا تھا اس لئے حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب خلیفۃ المسیح الرابعؒ کے لندن ہجرت کرنے کے بعد یہ سلسلہ بڑی تیزی سے آگے بڑھنے لگا اور اب خلافت خامسہ کے دور میں بفضل اللہ تعالیٰ دنیا بھر کی 100 کے قریب بڑی بڑی جماعتیں اپنے ممالک میں بڑی شان اور آن بان سےجلسے منعقد کرتی ہیں ۔جہاں حضرت مسیح موعودؑ کے قائم شدہ لنگر کا ایک حصہ کھلتا ہے۔اب یہ جلسے وہ عالمی حیثیت اختیار کرچکے ہیں کہ

1۔بعض جلسوں میں خلیفۃ المسیح خود بنفس نفیس رونق افروز ہوکر برکت بخشتے ہیں۔

2۔بعض جلسوں پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ یو۔کے میں موجود رہ کر MTAکے ذریعہ جلسہ میں شرکت فرماتے اور اپنے خطاب سے نوازتے ہیں۔ جیسے قادیان کے جلسہ سالانہ میں شرکت کرنے والوں کو یو۔کے سے براہ راست خطاب ہوتا ہے ۔اور یوں قادیان والے یو۔کے کے باسیوں کو ایم۔ٹی ۔اے کے ذریعہ دیکھتے اور یو۔کے میں موجود دوست قادیان کے جلسہ کے نظارے کر رہے ہوتے ہیں ۔اور یوں آنحضورﷺکی وہ پیشگوئی پوری ہورہی ہوتی ہے کہ ایک ایسا زمانہ آئے گا جب مشرق کے لوگ مغرب والوں کو اور مغرب کے لوگ مشرق والوں کو براہ راست دیکھ سکیں گے۔

ایم۔ٹی ۔اے کے ذریعہ دنیا کے کونے کونے میں احمدی احباب اپنے اپنے گھروں میں ہی اپنے کمرہ استراحت سے ٹی وی لاؤنج تک سفر اختیار کر کے ان دعاؤں کے وارث بنتے ہیں جو حضرت مسیح موعود ؑنے ان جلسوں میں شریک ہونے والوں کے لئے کر رکھی ہیں ۔آپؑ خدا کے حضور عرض کرتے ہیں:
’’میں دعا کرتا ہوں کہ ہر ایک صاحب جو اس للّٰہی جلسہ کے لئے سفر اختیار کریں خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کو اجر عظیم بخشے اور ان پر رحم کرے اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات ان پر آسان کردے اور ان کے ہم و غم دور فرمائے اور ان کو ہر ایک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے اور ان کی مرادات کی راہ ان پر کھول دے اور روز آخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اٹھاوے جن پر اس کا فضل اور رحم ہے اور تا اختتام سفر ان کے بعد ان کا خلیفہ ہو۔اے ذوالمجد والعطاء اور رحیم اور مشکل کشا یہ تمام دعائیں قبول کر اور ہمیں ہمارے مخالفوں پر روشن نشانوں کے ساتھ غلبہ عطافرما کہ ہر ایک قوت وطاقت تجھ ہی کو ہے۔آمین ثم آمین‘‘۔

(اشتہار 7دسمبر 1892ء)

قرآنی پیشگوئیوں کے مطابق پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اس حد تک تیز ہو چکے ہیں کہ ہم دنیا کی ہر قسم کی خبر کو لمحوں میں سن اور دیکھ پاتے ہیں۔ دنیا بھر میں بعض جگہوں پر ایسے جلسے بھی ہورہے ہوتے ہیں جن میں درج بالادونوں امور نہیں ہوتے مگر ہم الیکٹرانک میڈیا یا پرنٹ میڈیا کے ذریعہ اس کی جھلکیوں سے مستفید ہوپاتے ہیں۔ جیسے ایم ۔ٹی۔اے کی عالمی خبروں کے ذریعہ یا دوسرے عالمی ذرائع کے ذریعہ ۔

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ نے ایک موقع پر فرمایا تھا جو آج حقیقت ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
’’امید ہے کہ چند سال کے اندر اندر ایک قادیان کا جلسہ اپنے ہم شکل جلسے پیدا کردے گا کہ سو ممالک سے زائد ویسے ہی جلسے ہواکریں گے اور ہر ملک میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کا لنگر جاری ہوگا۔‘‘

(20جولائی 1990ء)

ان تمام عالمی جلسوں میں قادیان دارالامان کے جلسہ کو ایک خاص حیثیت حاصل ہے ۔جہاں عجیب پر کیف روحانی مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں اور جس میں نہ صرف شاملین براہ راست علماء سلسلہ کی تقاریر، دینی و روحانی ماحول سے مستفیض ہو رہے ہوتے ہیں بلکہ ان مبارک و مقدس مقامات کی زیارت بھی کر کے اپنے آپ کو گرما رہے ہوتے ہیں ۔راتوں کو بیت الدعا میں حاضر ہو کر دعا کرتےہیں۔ آتے جاتے بہشتی مقبرہ میں مزار مبارک حضرت مسیح موعود پر حاضری دیتے اور دعا کرتےہیں نماز تہجد دیگر نمازوں کی ادائیگی کے لئے مسجد مبارک،مسجد اقصیٰ کی طرف تیز قدم کے ساتھ آگے بڑھتے اور دیگر مقدس مقامات جیسے بیت الفکر، بیت الرضاعت،کمرہ پیدائش حضرت مسیح موعودؑ،کمرہ سرخ چھینٹوں والا اور منارۃ المسیح کی زیارت اور دعا کے لئے حاضر ہوتے ہیں اور قادیان کی مبارک بستی کی گلی کوچوں کو حضرت مسیح موعودؑ کے قدموں نے جو برکت بخشی ہے وہ باغ اور راستے بھی انتہائی بابرکت ہیں جہاں کی خاک نے وہ مقدس پاؤں چومے تھے جو حضرت مسیح موعودؑکے چلنے پھرنے اور گھومنے سے بابرکت ہوئے ۔اور ان کی فضائیں حضرت اقدسؑ کی مقدس سانسوں کی مہک سے رچ بس گئیں ۔جلسہ سالانہ پر حاضر ہوکر ان گلی کوچوں میں گھوم کر قدم قدم برکت محسوس کرتے ہیں اور ان کی روحیں یہ پکار رہی ہوتی ہیں ۔

ہر راہ کو دیکھا ہے محبت کی نظر سے
شاید کہ وہ گزرے ہوں اس راہ گزر سے

الغرض جو قافلہ 129سال قبل 75افرد سے شروع ہوا تھا اب وہ قافلہ 75 سے زائد ممالک میں پھیل چکا ہے۔ جو بیج 130سال قبل بویا گیا تھا اب وہ تناور درخت بن چکا ہے۔ بارش کا ایک قطرہ باران رحمت میں تبدیل ہوچکا ہے اور جو پھوار 129سال قبل 75افرد نے محسوس کی تھی اب وہ موسلا دھار بارش میں بدل چکی ہے اور دنیا بھر کے احمدی اس سے سیرابی حاصل کر رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ کی اس رحمت اور فضل کے شکر کا اب ایک ہی ذریعہ ہے کہ ہم ان بابرکت دنوں کوایم ۔ٹی ۔اے کے ساتھ باندھ دیں اور ہزاروں میل دور رہ کر بھی جسمانی اور مادی طور پر نہیں تو روحانی طور پر اس میں شامل ہوں اور اس کی برکات اور دعاؤں سے مستفیض ہوں۔

ایک دفعہ حضرت مصلح موعودؓ ربوہ میں موٹر پر جلسہ کے لئے تشریف لے جارہے تھے کہ موٹر کی آواز سن کر جلسہ گاہ کی طرف جانے والے دوستوں کے قدموں میں تیزی آگئی اور بعض دوڑنے بھی لگے تا جلسہ گاہ جلد پہنچ جائیں ۔جب یہ روحانی نظارہ حضرت مصلح موعودؓ نے دیکھا تو۔آپ نے یوں دعا کی کہ
’’خدایا !جس طرح یہ (جلسہ گاہ) کی طرف برکتیں لینے کے لئے دوڑ رہے ہیں۔ اسی طرح تیرا فضل بھی ان کی طرف دوڑ کر آئے‘‘

(مصباح جنوری 1996ء)

پس یہ صحبت صالحین کا بھی ذریعہ ہے جس کی ہر مومن کو زندگی کے ہر حصہ پر ضرورت رہتی ہے۔ آنحضرت ﷺنے فرمایا تھا کہ ذکر کی مجالس جنت کے باغ ہیں۔جن میں پھرنے کا ہر مومن کو سبق ملتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گلاب کی پتیاں اپنی اس زمین کو بھی خوشبودار کر دیتی ہیں جہاں وہ پودے سے گرتی ہیں۔ اس جلسہ میں بھی علماء کرام کی تقاریر، مجالس عرفان اور درسوں میں گلاب کی پتیاں ہی گرتی دکھائی دیتی ہیں۔جس سے یہ ماحول خوشبودار ہو چکا ہے ۔ان پتیوں کی مہک سے ہر فرد کو خواہ وہ بنفس نفیس حاضر ہو یا ایم ٹی اے کے ذریعہ حاضری دے، حصہ پانا چاہئے۔

حدیث میں آتا ہے کہ قیامت کے روز ایک ایسے شخص سے جس کے اعمال نامے میں زیادہ اچھے عمل نہ ہوں گے اللہ تعالیٰ پوچھے گا کہ کیا تم فلاں شخص کی ملاقات کے لئے گئے تھے وہ کہے گا کہ ارادہ تو نہیں تھاہاں راستہ میں مل گیا تھا اور ملاقات ہو گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’جا بہشت میں داخل ہوجا میں نے اس ملاقات کے صلہ میں تجھے بخش دیا۔‘‘

سو اس جلسہ میں شمولیت نجانے کتنے لوگوں کی بخشش کا باعث بن جاتی ہے۔ جہاں آج کے دور کے نمائندہ رسول خلیفۃ المسیح کی صحبت نصیب ہوتی ہے۔ اور سب سے بڑھ کر اللہ اور اس کے رسول کی باتیں ہوتی ہیں۔جو ذکر کی مجالس اور جنت کے باغات ہیں ۔اگر ہم گھروں میں بھی ٹی وی لاؤنج تک قدم اٹھا کر جاتے ہیں تو یہ سفر بھی بابرکت ہوتا ہے۔ مجھے کسی نے بتایا تھا کہ ہم ٹی وی لاؤنج میں ساری فیملی والے اکٹھے ہو کر جلسہ کا سماں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔اس موقع پر مالٹے، مونگ پھلی، ریوڑیاں اور چلغوزے تک مہیا کر کے ربوہ جلسہ والا ماحول پیدا کرتے ہیں بلکہ انہوں نے مجھے یہ خوشی کی خبر دی کہ جیسے پہلے جلسہ میں 75افراد شامل تھے اب ہمارے گھر میں ہی 75نفوس کے قریب اکٹھے ہوجاتے ہیں ۔

پس آئیں اور ان قوموں میں شامل ہوکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ان الفاظ کو پورا کرنے میں حصہ دار بنتے رہیں۔ جس میں آپؑ فرماتے ہیں کہ اللہ نے مجھے بتایا ہے۔

میں ا س روحانی اجتماع میں بڑی بڑی برکتیں ڈالوں گا اور اس میں شامل ہونے والوں کی تعداد بڑھاتا چلا جاؤں گا۔

پھر فرمایا۔
’’اس جلسہ کو معمولی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں ،یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائید حق اور اعلائے کلمہ اسلام پر بنیاد ہے۔اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اور اس کے لئے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی‘‘

جلسہ میں شمولیت کے حوالہ سے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام فرماتے ہیں ۔
’’آج کے دن کے بعد جو 30دسمبر 1891ء ہے آئندہ اگر ہماری زندگی میں 27دسمبر کی تاریخ آجاوے تو حتی الوسع تمام دوستوں کو محض للہ ربانی باتوں کے سننے کے لئے اور دعا میں شریک ہونے کے لئے اس تاریخ پر آجانا چاہئے‘‘

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس اید ہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہر سال دنیا کی جماعتیں اپنے اپنے ملک کا جلسہ سالانہ منعقد کرتی ہیں۔ کیوں؟اس لئے کہ حضرت مسیح موعودؑ نے اللہ تعالیٰ سے اذن پاکر اس کا اجراء فرمایا تھا۔ اور فرمایا کہ سال میں تین دن قادیان میں جمع ہوں ۔اس لئے نہ جمع ہوں کہ ہم نے کوئی میلہ کرنا ہے، کوئی لہوو لعب کرنا ہے، کھیل کود کرنا ہے، دنیاوی مقاصد کو حاصل کرنا ہے ۔نہیں ،بلکہ اس لئے جمع ہوں کہ دینی علم میں اضافہ ہو اور معلومات وسیع ہوں۔اس لئے جمع ہوں کہ معرفت ترقی پذیر ہو۔

چلو کہ راہ جنوں پھر بلا رہی ہے یہیں
چلو کہ قدموں کو اپنے لہو کریں پھر سے
چلو کہ بستی قادیاں پکارتی ہے ہمیں
چلو ثبوت رمق زندگی میں دیں پھر سے

آج کل Covid 19 کی وجہ سے اتنی بڑی تعداد میں gathering نہیں ہوسکتی۔ اللہ تعالیٰ جلد اس بیماری کو دور کرے تا ہمارے جلسے اسی شان کے ساتھ منعقد ہوسکیں۔

٭…٭…٭

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 25 دسمبر 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 دسمبر 2020