• 5 اگست, 2020

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ کو حروف مقطعات کا علم دیئے جانے کی دلچسپ اور ایمان افروز روئیداد

فہم قرآن میں بیّن ترقی

لکھا ہے:
’’ایک شخص نے حضرت حکیم الامت سے سوال کیا کہ آپ نے حضرت مرزا صاحب کی بیعت کرکے کیا فائدہ حاصل کیا؟ جواب میں فرمایا۔دنیا سے سرد مہری،رضا بالقضاء کا ابتداء،اخلاص، فہم قرآن میں بیّن ترقی طول امل سے تنفرّ اور المنکر سے بحمداللہ حفاظت تامہ کبر، کسل، کذب، عجز، کفر، جبن سے امن تامہ‘‘

(ارشادات نور جلد اول صفحہ 342)

حضرت خلیفۃ المسیح الاولؓ کا ایک رویٔا

’’کشمیر میں ایک مولوی عبد القدوس صاحب رہتے تھے وہ بڑے بزرگ آدمی تھے اور میرے پیر بھائی تھے کیونکہ وہ بھی شاہ جی عبدالغنی صاحب کے مرید تھے اور میں بھی شاہ صاحب کا مرید تھا ان کو مجھ سے خاص محبت تھی اور باوجود ضعف پیری کے میرے مکان پر ترمذی کا سبق پڑھنے آتے تھے میں نے ایک رؤیا دیکھا کہ کہ ان کی گود میں کئی چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ میں نے ایک جھپٹا مارا اور سب بچے اپنی گود میں لے کر وہاں سے چل دیا۔ رستہ میں ان بچوں سے پوچھا کہ تم کون ہو؟
تو انہوں نے جواب دیا کہ ہمارا نام کھیعص ہے میں اپنے اس رؤیا کو بہت ہی تعجب سے دیکھتا تھا۔ جب میں حضرت مرزا صاحب کا مرید ہوا تو میں نے ان سے اس خواب کا ذکر کیا مرزا صاحب نے فرمایا کہ: آپ کو اس کا علم دیا جائے گا اور وہ لڑکے فرشتے تھے۔‘‘

(مرقاۃ الیقین فی حیاۃ نور الدین صفحہ 172)

دھرم پال کی کتاب ترک اسلام اور رسالہ نور الدین کی تصنیف

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ ریاست کشمیر و جموں کی یادداشتوں کے تسلسل میں فرماتے ہیں۔
’’دھرم پال نے جب ’’ترک اسلام‘‘ کتاب لکھی تو اس سے بہت پہلے مجھے ایک خواب نظر آیا تھا کہ اللہ تعالیٰ مولیٰ مجھ سے فرماتا ہے کہ ‘‘اگر کوئی شخص قرآن شریف کی کوئی آیت تجھ سے پوچھے اور وہ تجھ کو نہ آتی ہو اور پوچھنے والا منکر قرآن ہو تو ہم خود تم کو اس آیت کے متعلق علم دیں گے’’ جب دھرم پال کی کتاب آئی اور خدا تعالیٰ نے مجھ کو اس کے جواب کی توفیق دی۔ حروف مقطعات کے متعلق اعتراض تک پہنچ کر ایک روز مغرب کی نماز میں دو سجدوں کے درمیان میں نے صرف اتنا ہی خیال کیا کہ مولا !یہ منکر قرآن تو ہے۔ گومیرے سامنے نہیں۔ یہ مقطعات پر سوال کرتا ہے ۔اسی وقت یعنی دو سجدوں کے درمیان قلیل عرصہ میں مجھ کو مقطعات کا وسیع علم دیا گیا۔ جس کا ایک شمہ میں نے رسالہ نور الدین میں مقطعات کے جواب میں لکھا ہے اور اس کو لکھ کر میں خود بھی حیران ہو گیا۔

(مرقاۃ الیقین فی حیات نور الدین صفحہ 172 ،173)

حروف مقطعات کی وضاحت

حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓفرماتے ہیں ۔
’’مقطعات کی نسبت اس زمانہ میں اعتراض ممکن تھا کیونکہ آزادی حد سے بڑھی ہوئی ہے مگر اللہ تعالیٰ نے تمام متمدن قوموں.. میں اس کا رواج دے کر انہیں ملزم کر دیا ۔عرب میں ان مقطعات کا رواج تھا۔ دراصل یہ مختصر نویسی کا ایک طریق ہے انگریزی زبان میں بھی اس کی نظیریں موجود ہیں جیسے ایم اے اور بی اے اور ایم ڈی وغیرہ ایک الہام حضرت مسیح موعودؑ کو ہوا تھاکہ ’’یلاش‘‘ جس کے معنے ہیں یا من لا شریک لہ غرض ان مقطعات میں باریک اشارات ہوتے ہیں۔
ان مقطقات کو صحابہ کرامؓ نے اسماء الہیہ کا جزو مانا ہے اور بعض نے ان پر اسماء الہیہ کا اطلاق کیا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس سے قسم لی گئی ہے ان کو اسماء السور، اسماء القرآن، مفتاح القرآن بھی کہتے ہیں۔

(حقائق الفرقان جلد اول صفحہ 23 تا 25)

دراصل قرآن کریم کی 114 سورتوں میں سے 29 سورتوں کے آغاز پر حروف مقطعات آئے ہیں۔ مثلاً الم، المص، الر، المر، کھیعص، طہ، طسم، طس، یس، ص، حم، حم عسق، ق، ن

حروف مقطعات کے اصولی معنوں کی ایک اہم مثال

ارشادات نور جلد اول کے مندرجہ ذیل حوالہ سے حروف مقطعات کے جو اصولی معنے حضرت خلیفۃ المسیح الاوّلؓ نے فرمائے ہیں وہ یہ ہیں۔

حروف مقطعات حم اور عسق کے معانی:
حم، عسق کے معنی حکیم الامت نے یوں فرمائے ہیں
ح ۔ اللہ کے وہ اسماء جو ’’ح‘‘ سےشروع ہوتے ہیں
م ۔ اللہ کے وہ اسماءجو ’’م‘‘ سے شروع ہوتے ہیں
ع ۔ اللہ کے وہ اسماء جو عین سے شروع ہوتے ہیں
س ۔ اللہ کے وہ اسماء جو ’’سین‘‘ سے شروع ہوتے ہیں
ق ۔ اللہ کے وہ اسماء جو ’’قاف‘‘ سے شروع ہوتے ہیں
ح ۔ جیسے حکیم، حمید، حلیم، حفیظ
م ، الملک، المؤمن، المھیمن، متکبر، مذل، معز، مجید، محی، ممیت، مقیت، ماجد، مجیب
ع ۔علیم، عالمالغیب، العلی، عظیم، عزیز۔ س ۔سلام
ق ۔ قاھر، قھار، قابض، قادر، قریر، قیوم

(ارشادات نور جلد اول صفحہ 141،142)

چند مزید مثالیں

الم : انا اللّٰہ اعلم
المص : انا اللّٰہ اعلم صادق القول صدق الوعد
الر : اناللّٰہ اری (میں اللہ دیکھتا ہوں) المرا : انا اللّٰہ اعلم واری
کھیعص : میں اسماء الہی کی طرف اشارہ ہے کبیر، المتعال، کافی، ھادی، یجیر ولا یجار علیہ، عالم عزیز، صادق
… اسمائے الہی کریم، ہادی، یجیرولا یجار علیہ
(عالم، عزیز عادل) کی طرف ان حروف میں اشارہ ہے
صادق الوعد (مریم:55)
طسم : ط سے طاہر، س سے سمیع، م سے علیم یا محی
طسم یا ط سے طامع، س سے سید، م محمد، اے محمد ولد آدم تو نیکی کا حریص ہے۔
طسم : لطیف، سمیع، مجید خدا۔۔قیطس : لطیف و سمیع
یس : اے انسان کامل، اے سردار
ص : اللہ کا نام ہے۔ صادق ۔حم : حمید، مجید، حی و مالک
ق : قیامت ہے اور اس کا شاہد قرآن مجید ہے کہ تم بعد الموت مبعوث ہوگے۔۔ن : دوات
حم عسق : حمید، مجید، علی وعظیم، سمیع و قادر


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 فروری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 فروری 2020