• 2 جون, 2020

اکنافِ عالم میں بسنے والے احمدی طلباء کے لئے حضرت مصلح مو عودؓ کا پیغام

(تعلیم الاسلام کالج کا پہلا جلسہ تقسیمِ اسناد)

تعلیم الاسلام کالج کی پہلی کانووکیشن منعقدہ 2 اپریل 1950ء، زیرِ صدارت حضرت خلیفہ المسیح الثانی ؓ، حضور نے اپنی صدارتی تقریر میں نئے فارغ التحصیل ہو نے والے طلباء کو درجِ ذیل زرّیں نصائع سے نوازا۔

٭ یہ نہ سمجھو کہ اب تعلیم مکمل ہو گئی ہے، بلکہ اپنے علم کو باقاعدہ مطالعہ سے بڑھاتے رہو۔خدا تعالیٰ کے قانون کے مطابق سکون حاصل کرنے کی بالکل کوشش نہ کرو، بلکہ ایک نہ ختم ہونے والی جدوجہد کے لئے تیار ہو جاؤ اور قرآنی منشا کے مطابق اپنا قدم آگے بڑھانے کی کوشش کرتے رہو۔

٭ اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے رہو کہ وہ آپکو صحیح کام کرنے، اور صحیح وقت پر کام کرنے اور صحیح ذرائع کو استعمال کر نے کی توفیق عطا فرمائے اور پھر اس کام کے صحیح اور اعلیٰ سے اعلیٰ نتائج پیدا کرے۔

٭ یاد رکھو کہ تم پر صرف تمہارے نفس ہی کی ذمہ داری نہیں۔ تم پر اس ادارے کی بھی ذمہ داری ہے جس نے تعلیم دی ہے اور اُس خاندان کی بھی ذمہ داری ہے جس نے تمہاری تعلیم پر خرچ کیا۔خواہ بالواسطہ یا بلاواسطہ ، اور اس ملک کی بھی ذمہ داری ہے کہ جس نے تمہاری تعلیم کا انتظام کیا اور پھر تمہارے مذہب کی بھی ذمہ داری ہے۔

٭ تمہارے تعلیمی ادارے کی جو تم پر ذمہ داری ہے وہ چاہتی ہے کہ تم اپنے علم کو زیادہ سے زیادہ اور اچھے سے اچھے طور پر استعمال کرو۔ یونیورسٹی کی تعلیم مقصود نہیں ہے وہ منزلِ مقصود کو طے کر نے کے لئے پہلا قدم ہے۔یونیورسٹی تم کو جو ڈگریاں دیتی ہےوہ اپنی ذات میں کوئی قیمت نہیں رکھتیں بلکہ ان ڈگریوں کو تم اپنے آئندہ اپنے عمل سے قیمت بخشتے رہو۔

٭ ڈگری صرف تعلیم کا ایک تخمینی وزن ہے۔ایک تخمینی وزن ٹھیک بھی ہوسکتا ہے اور غلط بھی ہوسکتا ہے۔محض کسی یونیورسٹی کے فرض کرلینے سے کہ تم کو علم کا ایک تخمینی وزن حاصل ہو گیا ہے تم کو علم کا وہ فرضی درجہ نصیب نہیں ہو سکتا جس کے اظہار کی یونیورسٹی ڈگری کےساتھ کوشش ہوتی ہے۔ اگر ایک یونیورسٹی سے نکلنے والے طالب علم اپنی آئندہ زندگی میں یہ ثابت کریں کہ جو تخمینی وزن ان کی تعلیم کا یونیورسٹی نے لگایا تھا ان کے پاس اس سے بھی زیادہ وزن کا علم موجود ہے۔تو دنیا میں اس یونیورسٹی کی عزت اور قدر قا ئم ہو جا ئے گی۔لیکن ڈگریاں حاصل کرنے والے طالب علم اپنی بعد کی زندگی میں یہ ثابت کر دیں کہ تعلیم کا جو تخمینی وزن ان کے دماغوںمیں فرض کیا گیا تھا ان میں اس سے بہت کم درجے کی تعلیم پائی جاتی ہے۔تو یقیناً لوگ نتیجہ نکا لیں گے کہ یونیورسٹی نے علم کی پیمائش کرنے میں غلطی سے کام لیا ہے۔

٭ یا درکھنا چاہئے کی یونیورسٹیاں اتنا طالب علم کو نہیں بناتیں جتنا کہ طالب علم یونیورسٹیوں کو بناتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لو کہ ڈگری سے طالب علم کی عزت نہیں ہوتی ہے۔پس اپنے پیمانہء علم کو درست رکھنے بلکہ اس کو بڑھانے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے اور اپنے کالج کے زمانہ کی تعلیم کو اپنی عمر کا پھل نہیں سمجھنا چاہئے، بلکہ اپنے علم کوکھیتی کا بیج تصور کرنا چاہئے اور تمام ذرائع سے کام لے کر اس بیج کو زیادہ سے زیادہ بارآور کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے تاکہ اس کوشش کے نتیجے میں اُن ڈگریوں کی عزت بڑھے جو تم آج حاصل کر رہے ہو…اور تمہاری قوم تم پر فخر کرنے کے قا بل ہو۔

٭ تم ایک نئے ملک کے شہری ہو ۔دُنیا کی بڑی مملکتوں میں سے بظاہر ایک چھوٹی سی مملکت کے شہری ہو۔تمہارا ملک مالدار ملک نہیں ہے ، ایک غریب ملک ہے۔دیر تک ایک غیر حکومت کی حفاظت میں امن اور سکون سے رہنے کے عادی ہوچکے ہو۔سو اخلاق اور کردار بدلنے ہوں گے۔ اپنے ملک کی عزت اور ساکھ دنیا میں قا ئم کرنی ہوگی۔

٭ اپنے ملک کو دُنیا میں رو شناس کرانا ہوگا، ملکوں کی عزت کو قائم رکھنا بھی ایک بڑا دشوار کام ہے۔ لیکن ان کی عزت کو بنانا اس سے بھی دشوار کام ہے اور یہی دشوار کام تمہارے ذمے ڈالا گیا ہے۔

٭ تم ایک نئے ملک کی نئی پود ہو۔تمہاری ذمہ داریاں پُرانے ملکوں کی نئی نسلوں سے بہت زیادہ ہیں۔انہیں ایک بنی ہو ئی چیز ملتی ہے۔ انہیں آباء و اجداد کی سنتیں یا روایتیں وراثت میں ملتی ہیں۔ مگر تمہارا یہ حال نہیں ہے۔ تم نے ملک بھی بنانا ہے اور تم نے نئی روایتیں بھی قا ئم کر نی ہیں۔ ایسی روائتیں جن پر عزّت اور کامیابی کے ساتھ آنے والی بہت سی نسلیں کام کرتی چلی جائیں اور ان روایتوں کی راہنمائی میں اپنے مستقبل کو شاندار بنا تی چلی جائیں۔

٭ دوسرے ملکوں کے لوگ ایک اولاد ہیں مگر تم اسکے مقابلے پر ایک باپ کی حیثّیت رکھتے ہو، وہ اپنے کا موں میں اپنے باپ دادوں کو دیکھتے ہیں۔تم نے اپنے کا موں میں آئندہ نسلوں کو مدّنظر رکھنا ہے۔

٭ بے شک یہ کام مشکل ہے لیکن اتنا شاندار بھی ہے۔اگر تم اپنے نفسوں کو قربان کرکے پاکستان کی عمارت کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دو گے تو تمہارا نام اس محبت اور عزت سے لیا جا ئے گا جس کی مثال آئندہ آنے والوں میں نہیں پائی جائے گی۔

٭ پس میں تم سے کہتا ہوں کہ اپنی نئی منزل پر عزم، استقلال اور علّو ِحوصلہ سے قدم مارو۔ قدم مارتے چلے جاؤ اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہو ئے قدم بڑھاتے چلے جاؤ کی عالی ہمت نوجوانوں کی منزِل اوّل بھی ہوتی ہے اور منزلِ دوم بھی ہوتی ہے، منزل ِ سوم بھی ہوتی ہے لیکن آخری منزل کوئی نہیں ہوا کرتی…اُن کی منزل کا پہلا دور اسی وقت ختم ہو تا ہے جبکہ وہ کامیاب اور کامران ہوکر اپنے پیدا کر نے والے کے سامنے حاضر ہوتے ہیں اور اپنی خدمت کی داد اس سے حاصل کر تے ہیں، جو ایک ہی ہستی ہے جو کسی کی خدمت کی صحیح داد دے سکتی ہے۔

٭ پس اے خدائے واحد کے منتخب کردہ نو جوانوں! اسلام کے بہادر سپاہیو! ملک کی اُمید کے مرکزو ! قوم کے سپوتو ! آ گے بڑھو کہ تمہارا خدا، تمہارا دین ، تمہارا ملک اور تمہاری قوم محبت اور امید کے مخلوط جذبات سے تمہارے مستقبل کو دیکھ رہے ہیں۔

(الفضل 3۔ اپریل 1950ء)


پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 فروری 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 فروری 2020