• 19 اپریل, 2021

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ناموس رسالتؐ کی خاطر مختلف موقعوں پر عملی غیرت کا اظہار کس طرح فرمایا

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے لئے کیا جذبات رکھتے تھے، اس کا اندازہ ان اقتباسات سے ہو سکتا ہے جو مَیں پیش کرنے لگا ہوں۔ آپ فرماتے ہیں کہ:
’’جو لوگ ناحق خدا سے بے خوف ہو کر ہمارے بزرگ نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو بُرے الفاظ سے یاد کرتے اور آنجنابؐ پر ناپاک تہمتیں لگاتے اور بد زبانی سے باز نہیں آتے ہیں، اُن سے ہم کیونکر صلح کریں۔ مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ ہم شورہ زمین کے سانپوں اور بیابانوں کے بھیڑیوں سے صلح کر سکتے ہیں لیکن ان لوگوں سے ہم صلح نہیں کر سکتے جو ہمارے پیارے نبیؐ پر جو ہمیں اپنی جان اور ماں باپ سے بھی پیارا ہے، ناپاک حملے کرتے ہیں۔ خدا ہمیں اسلام پر موت دے۔ ہم ایسا کام کرنا نہیں چاہتے جس میں ایمان جاتا رہے‘‘۔

(پیغام صلح۔ روحانی خزائن۔ جلد23۔ صفحہ459)

پھر مخالفین کے الزامات کا ایک جگہ ذکر کرتے ہوئے اور غیرت کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’میرے دل کو کسی چیز نے کبھی اتنا دکھ نہیں پہنچایا جتنا کہ ان لوگوں کے اس ہنسی ٹھٹھے نے پہنچایا ہے جو وہ ہمارے رسولِ پاکؐ کی شان میں کرتے رہتے ہیں۔ اُن کے دل آزار طعن و تشنیع نے جو وہ حضرت خیر البشر کی ذات و الا صفات کے خلاف کرتے ہیں میرے دل کو سخت زخمی کر رکھا ہے۔ خدا کی قسم اگر میری ساری اولاد اور اولاد کی اولاد اور میرے سارے دوست اور میرے سارے معاون و مددگار میری آنکھوں کے سامنے قتل کر دئیے جائیں اور خود میرے اپنے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دئیے جائیں اور میری آنکھ کی پتلی نکال پھینکی جائے اور مَیں اپنی تمام مرادوں سے محروم کر دیا جاؤں اور اپنی تمام خوشیوں اور تمام آسائشوں کو کھو بیٹھوں تو ان ساری باتوں کے مقابل پر بھی میرے لئے یہ صدمہ زیادہ بھاری ہے کہ رسولِ اکرمؐ پر ایسے ناپاک حملے کئے جائیں۔ پس اے میرے آسمانی آقا! تُو ہم پر اپنی رحمت اور نصرت کی نظر فرما اور ہمیں اس ابتلا سے نجات بخش‘‘۔

(ترجمہ عربی عبارت آئینہ کمالات اسلام۔ روحانی خزائن۔ جلد5۔ صفحہ15 از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے از سیرت طیبہ صفحہ 41-42)

آج بھی بعض اسلام مخالف جوعیسائی پادری ہیں وہ اسلام پر گندے الزامات لگانے سے بعض نہیں آتے۔ گزشتہ دنوں امریکہ کے جس پادری نے قرآنِ کریم جلانے کا اعلان کیا تھا آج بھی وہ وہی خیالات رکھتا ہے، خیالات اس کے ختم نہیں ہو گئے۔ اس کے یہاں انگلستان میں آنے کا پروگرام تھا۔ گزشتہ دنوں اس کا اعلان بھی ہوا تھا۔ کسی گروپ نے یا شایدپارلیمنٹ نے اس کو بلوایا تھا۔ بہر حال کل کی خبر تھی کہ برطانیہ کی حکومت نے اس بات پر پابندی لگا دی ہے کہ ہمارے ہاں مختلف مذاہب کے لوگ ہیں اور ہم کسی قسم کا فساد ملک میں نہیں چاہتے۔ اور یہ ہم برداشت بھی نہیں کر سکتے، اس لئے تمہیں یہاں آنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ حکومتِ برطانیہ کا بڑا مستحسن قدم ہے۔ خدا تعالیٰ آئندہ بھی ان کو انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور باقی دنیا کی حکومتیں بھی اس سے سبق سیکھیں تا کہ دنیا میں فتنہ و فساد ختم ہو۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کئی مختلف موقعوں پر عملی غیرت کا اظہارکس طرح فرمایا۔ اس کے ایک دو واقعات پیش کرتا ہوں۔ لیکھرام کا واقعہ تو ہر ایک کے علم میں ہے کہ کس طرح آپ نے اس میں غیرت کا مظاہرہ فرمایا۔ سٹیشن پر آپ وضو فرما رہے تھے تو وہ آیا اور اس نے سلام کیا۔ آپ نے توجہ نہ دی اور وضو کرتے رہے۔ وہ سمجھا کہ شاید سلام سنا نہیں۔ دوسری طرف سے آیا اور سلام کیا۔ پھر بھی آپ نے جواب نہیں دیا اور چلا گیا۔ وضو کرنے کے بعد کسی نے کہا کہ لیکھرام آیا تھا اور سلام عرض کرتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ ہمارے آقا کو گالیاں دیتا ہے اور ہمیں سلام کرتا ہے؟

(ماخوذ از سیرت المہدی جلد1حصہ اول صفحہ254 روایت نمبر 281 جدید ایڈیشن مطبوعہ ربوہ)

یہ تھی غیرت جوآپ نے دکھائی اور یہ غیرت کا مظاہرہ ہے جو ہر مسلمان کو کرنا چاہئے۔

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ ایک واقعہ لکھتے ہیں۔ کہتے ہیں ڈاکٹر پادری وائٹ بریخٹ کو 1925ء میں لندن میں ملا (جو آج کل یعنی اُن دنوں میں ڈاکٹر سٹانسٹن کہلاتے تھے۔ یہ لفظ اُردو میں انہوں نے لکھا ہے اس لئے ہو سکتا ہے غلطی ہو۔ بہر حال) پادری صاحب بٹالہ میں مشنری رہے ہیں اور حضرت صاحب سے بھی ان کی ملاقات ہوئی۔ کہتے ہیں پادری فتح مسیح صاحب سے بٹالہ میں ایک مباحثہ الہام کے متعلق تھا اُس میں بھی ان انگریز پادری صاحب کادخل تھا۔ غرض سلسلے کی تاریخ میں ان کا کچھ تعلق ہے اور اس وجہ سے مجھے شوق پیدا ہوا کہ مَیں اس پادری کو ملوں۔ اس انگریز کو پھر مَیں لندن میں جا کے ملا۔ تو کہتے ہیں کہ گفتگو کے دوران حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرت کے بارہ میں سوالات کے جواب میں بعض واقعات بیان ہو رہے تھے وہ سن کر ایک موقع پر وہ پادری صاحب کہنے لگے کہ مَیں نے ایک بات مرزا صاحب میں یہ دیکھی جو مجھے پسندنہیں تھی کہ وہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کیا جاتا تو ناراض ہو جاتے تھے اور ان کا چہرہ متغیر ہو جاتا تھا۔ یعنی ایسا اعتراض جو نازیبا الفاظ میں کیا جاتا ہو۔ باقی اعتراض تو کرتے ہی ہیں جب بحث ہو رہی ہوتی ہے۔ جہاں کوئی حدّ ادب سے باہر نکلتے تھے تو آپؑ فوراً غصہ میں آتے اور چہرہ متغیر ہو جاتا۔ تو عرفانی صاحب کہتے ہیں، مَیں نے پادری صاحب کو کہا کہ جو بات آپ کو ناپسند ہے اُسی پر مَیں قربان ہوں۔ کیونکہ اس سے حضرت مرزا صاحب کی زندگی کے ایک پہلو پر ایسی روشنی پڑتی ہے کہ وہ آپ کی ایمانی غیرت اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور عشق اور فدائیت کو نمایاں کر دیتی ہے۔ آپ کے نزدیک شاید یہ عیب ہو مگر مَیں تو اسے اعلیٰ درجہ کا اخلاق یقین کرتا ہوں اور آپ کے منہ سے سن کر حضرت مرزا صاحب کی محبت اور آپ کے ساتھ عقیدت میں مجھے اور بھی ترقی ہوئی ہے۔

غرض آپؑ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بے انتہا عشق تھا اور برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ کوئی شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بے ادبی کرے۔

(ماخوذ از حیاتِ احمد از حضرت یعقوب علی عرفانی صاحبؓ۔ جلد اول صفحہ 265-266 جدید ایڈیشن)

تو یہ ہے غیرتِ رسول کا ایسا اظہار کہ جس سے دوسرے کو خود ہی احساس ہو جائے کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارہ میں حدّ ادب کے اندر رہتے ہوئے بات کرنی ہے۔

(خطبہ جمعہ 21؍جنوری 2011ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 فروری 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 فروری 2021