• بدھ 1 اپریل 2020   (8 شعبان 1441)

حضرت مسیح موعودؑ کی صداقت اور آپؑ کے ساتھ خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت

قسط نمبر 1

غیب کی خبروں کا اظہار

حضرت مسیح موعودؑ پر اللہ تعالیٰ نے بے شمار غیب کی خبروں کو ظاہر فرمایا ۔ان پیشگوئیوں میں سے بعض کو آپ نے براہینِ احمدیہ حصہ سوم و چہارم میں درج فرمایا ۔ بعد میں ان کی اشاعت ساتھ ساتھ ہوتی رہی۔ ان میں سے وقتِ تحریر پوری ہو جانے والی بعض پیشگوئیوں کا آپ اپنی کتابوں میں ذکر بھی فرماتے رہے۔پوری ہونے والی ان سینکڑوں پیشگوئیوں پر مستزاد بہت سی ایسی پیش گوئیاں بھی ہیں جو بار بار پوری ہوئیں۔ ایسی ہی ایک پیشگوئی کا آپ نے یوں ذکر فرمایا۔

’’براہینِ احمدیہ کی یہ پیشگوئی کہ“ یَأْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ۔ یَأْ تُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ”جس پر 26 برس گزر چکے ہیں ایسے کھلے کھلے طور پر پوری ہوئی ہے کہ نہ ایک دفعہ بلکہ لاکھوں دفعہ اس نے اپنی سچائی ثابت کر دی ہے جس میں تائید اور نصرت الہٰی بھری ہوئی ہے ۔ پس ایسی پیشگوئی بجز خدا کے کسی خاص برگزیدہ کے دوسروں سے ہرگز ظہور میں نہیں آ سکتی۔ اگر آسکتی ہے تو کوئی اس کی نظیر پیش کرے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22صفحہ606حاشیہ)

حضرت مسیح موعودؑ نے پوری ہونے والی پیشگوئیوں کو ایک محتاط اندازہ کے مطابق دس لاکھ شمار کیا ہے جیسا کہ 1905ء میں براہین احمدیہ حصہ پنجم میں چند ابتدائی عربی الہامات دہرانے اور ان کا ترجمہ تحریر کرنے کے بعد آپؑ نےفرمایا۔

’’ان چند سطروں میں جو پیشگوئیاں ہیں ۔وہ اس قدر نشانوں پر مشتمل ہیں جو دس لاکھ سے زیادہ ہوں گے اور نشان بھی ایسے کھلے کھلے جو اوّل درجہ پر خارق عادت ہیں‘‘

(براہینِ احمدیہ حصہ پنجم،روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 72)

ان بار بار اور مسلسل پوری ہونے والی پیشگوئیوں میں شہرت، تائید اور رجوع خلائق ہونے، جماعت کی ترقی ہونے، بکثرت لوگوں کے آنے، لاکھوں کے دلوں میں محبت پیدا ہونے، خدا کے ہمیشہ ساتھ رہنے، اپنے اور ساتھی درویشوں کے لئے روٹی عطا ہونے، دشمنوں کے شر اور حملوں سے حفاظت اور ذلت کا ارادہ کرنے والوں کی ذلت کی خبریں شامل ہیں۔ ان پیش خبریوں کے پورا ہونے کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور ہر دَور کے اور ہر ملک کے احمدی ان کے پورا ہونے پر گواہ ہیں۔

غیب کی یہ خبریں ہمہ جہت تھیں۔ اس حوالے سے حضرت مسیح موعودؑ نے ان کی 6 صورتیں بیان فرمائی ہیں۔ 1۔ اپنی ذات 2۔ اپنی بیوی 3۔ اپنی اولاد 4۔ اپنے دوستوں 5۔ اپنے دشمنوں 6۔ دنیا کی کسی اور چیز یا انسان کے متعلق۔

(تریاق القلوب، روحانی خزائن جلد 15 صفحہ نمبر 151)

ان میں سے ہر صورت میں آپؑ پر اظہار ِ غیب ہوا۔جن کے صرف چند عناوین درج ذیل ہیں۔ آپ کی تائید و نصرت، شہرت و ترقی، بکثرت رجوع، بار بارمالی مدد، کامیابیاں، قبولیت دعا، عطائے علم و عرفان، عطائے عربی فصاحت، عطائے معارفِ قرآن، مقدماتِ کرم دین، مارٹن کلارک، ٹیکس، ڈاک، دیوار میں کامیابی، درازیٔ عمر، اپنے تین اعضاء پر رحمت، آپ کی دعوت کی مقبولیت، پھیلاؤ اور غلبہ، سادات میں شادی، مبشر اولاد، آپ کے دوستوں پر افضالِ الہٰی کا نزول، اپنے بعض احباب کی بیماری سے صحت، قادیان آمد ان کے اہل خانہ کی بیماری اور وفات، امتحان میں کامیابی، بعض کاموں کا ہونا یا نہ ہونا، کابل کی شہادتیں، مخالفین کی ناکامی و نامرادی، ان کے شر سے حفاظت، مخالفین مولوی بٹالوی کی ذلت، مجسٹریٹ چند ولال کی تنزلی، مخالف سعداللہ لدھیانوی کاابتر رہنا، مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین پر 31 ماہ میں مصیبت آنا، آتھم، ڈوئی، چراغ دین، مرزا احمد بیگ، محمد حسن بھیں، لیکھرام، سہج رام سررشتہ دار، مولوی رُسل بابا، بابوالہٰی بخش اکاؤنٹنٹ، اخبار شبھ چنتک کے سومراج، اچھر چند اور بھگت رام کی ہلاکت، آسمانی آفات از قسم طاعون، وبائی ہیضہ، سخت بارشیں، زلزلے اور عالمگیر جنگیں۔

جماعتی اہم خبریں

مستقبل میں جماعت کی حیرت انگیز ترقی کے بارے میں آپؑ کو اللہ تعالیٰ نے بہت سی خبریں دیں جیسے اپنے بعد قدرتِ ثانیہ (خلافت) کا ظہور، آپؑ کی ذریت و نسل میں بیسیوں اعلیٰ نشانوں والے مصلح موعود کاظہور، آپؑ کی تبلیغ کا زمین کے کناروں تک پھیلنا، جماعت کو MTA کا ملنا، بادشاہوں کا آپؑ کی بیعت میں آنا اور آپؑ کے کپڑوں سے برکت ڈھونڈنا، آپ ؑکے ماننے والوں کا علم و معرفت میں کمال حاصل کرنا اور سب سے آگے بڑھ جانا، آپؑ کی نسل و ذریت کا پھیلنا اور مخالف جدی رشتہ داروں کی نسل کا منقطع ہو جانا، قادیان کی ترقی، ہجرت کا ہونا، حضرت عیسیٰؑ کا مخالفین کی کئی نسلوں تک آسمان سے نہ اُترنا، تین سو سال میں جماعت کا عالمگیر غلبہ اور دیگر ۔

معروف لوگ

اس کے علاوہ آپؑ کو اپنے زمانہ کے معروف افراد جیسے سرسید احمد خان ، بابا گرو نانک ، نواب صدیق حسن خان، دلیپ سنگھ ، پنڈت اگنی ہوتری، خلیفہ سید محمد حسن وزیر ریاست پٹیالہ ہوشیارپور، شیخ مہر علی رئیس اور دیگر کے بارے میں بھی مختلف خبریں دی گئیں۔

عالمگیر تبدیلیاں

دینی مہمات کے ساتھ ان پیشگوئیوں میں عالمگیر تبدیلیوں کی خبریں بھی تھیں۔ جیسے تقسیم بنگال اور اس کے نتائج۔ ایک مشرقی طاقت کے عروج اور کوریا کا متاثرہونا ، خلافتِعثمانیہ کے مشکل حالات ، افغانستان کی بدحالی اور اس پر بیرونی طاقتوں کی یلغار،ملکِ شام میں آپؑ پر ایمان لانے والے ابدال کا ظہور، عظیم جنگیں، زارِ روس کی حکومت کا خاتمہ، اپنے بعد سات آٹھ سالوں میں حکومتِ برطانیہ کا زوال، آریہ سماج کا زوال وغیرہ جیسی اہم خبروں پر مشتمل تھیں جنہوں نے اپنے اپنے وقت پر پورا ہو کر عالمی سیاست پر نمایاں اثر ڈالا ۔

اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعودؑ کو غیب کی جو خبریں بتائیں ان میں سے بیشتر آپؑ کی حیات میں پوری ہوئیں اور مخالفین اور ایک زمانہ ان پر گواہ ہوا۔ بعض آپؑ کے بعد اپنے اپنے وقت پرپوری ہوئیں اورکئی ہر روز پوری ہوتی ہیں۔

بے مثل

اظہارِ غیب کی یہ کثرت بے مثل تھی ۔اس حقیقت کا آپؑ نے بار بار اظہار فرمایا اور مقابلہ کی دعوت بھی دی لیکن آپؑ کے درج ذیل یہ چیلنج کوئی قبول نہ کر سکا۔

’’میں غیبی اخبار کا نشان دیا گیا ہوں ۔ کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے‘‘

(ضرورۃ الامام،روحانی خزائن جلد13صفحہ497)

’’اگر غیب کی پوشیدہ باتیں اور اسرار جو خدا کی اقتداری قوت کے ساتھ پیش از وقت مجھ سے ظاہر ہوتے ہیں ان میں کوئی میری برابری کر سکے تو میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں۔‘‘

(اربعین نمبر1، روحانی خزائن جلد 17صفحہ 346)

’’اگر میرے مقابل پر تمام دنیا کی قومیں جمع ہو جائیں اور اس بات کا بالمقابل امتحان ہو کہ کس کو خدا غیب کی خبریں دیتا ہے ………تو میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مَیں ہی غالب رہوں گا۔ کیا کوئی ہے ؟ !! کہ اس امتحان میں میرے مقابل پر آوے۔‘‘

(حقیقۃ الوحی،روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 181)

قبولیت دعا

اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعودؑ کی دعائیں بکثرت قبول فرماتا تھا ۔ جیسا کہ آپؑ نے فرمایا۔

’’میں کثرتِ قبولیتِ دعا کا نشان دیا گیا ہوں ۔ کوئی نہیں جو اس کا مقابلہ کر سکے ۔ میں حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میری دعائیں 20 ہزار کے قریب قبول ہو چکی ہیں اور ان کا میرے پاس ثبوت ہے۔‘‘

(ضرورۃ الامام، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 497)

آپؑ کی پایہ قبولیت کو پہنچنے والی دُعاؤں کی کل تعداد جو 1897ء میں ہی 20 ہزار ہو چکی تھی، اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ ان میں سے اپنے، اپنے اہل و عیال اور قریبی دوستوں یا مخالفین سے متعلق بعض دعاؤں کا حضرت مسیح موعودؑنے اپنی کتب میں ذکر بھی فرمایا ہے۔ لیکن قبولیتِ دعا کے یہ ان گنت واقعات ان تمام رفقاء کی زندگیوں میں بکھرے ہوئے ہیں جن کا یہ ہر روز کا معمول تھا کہ وہ اپنے ہر قسم کے چھوٹے بڑے معاملات کے لئے حضرت مسیح موعودؑسے دعا کے درخواست گزار ہوتے اور پھر ان دعاؤں کی قبولیت کے گواہ بنتے ۔

چند مقبول دعائیں

ذکر کی جانے والی ان مقبول دعاؤں میں سے بہت سی ایسی بھی تھیں جن کی قبولیت کی اللہ نے حضرت مسیح موعودؑ کو قبل از وقت خبر بھی دی اور یوں یہ دعائیں قبولیت کا اور ان کی قبولیت کی پیشگوئی کا بھی نشان ہوئیں۔ کتاب حقیقۃالوحی میں مذکور ایسی 10 دُعائیں یہ ہیں۔

1۔ حضرت مولانا نور الدین ؓ کے موجود اکلوتے بیٹے کے فوت ہو جانے پر ان کے لئے دُعا کی اور یہ اطلاع ملی کہ ’’تمہاری دعا سے ایک لڑکا پیدا ہو گا‘‘ اور اس کا یہ نشان بتایا گیا کہ اس کے بدن پر بہت پھوڑے نکلیں گے پھر حضرت مولوی صاحب کے ہاں بیٹا عبدالحئی پیدا ہوا اور اس کے پھوڑے نکلے۔

(صفحہ نمبر 230)

2۔ قادیان کے آریہ شرمپت داس اپنے بھائی بشمبر داس کی سزا ئے قید پر دُعا کا درخواست گزار ہوا۔حضرت مسیح موعودؑ نے دُعا کی اور کشف میں دیکھا کہ اس کی سزا نصف ہو گئی ہے اور پھر اپیل میں ایسا ہی ہوگیا۔

(صفحہ نمبر 232)

3۔ 15 ۔اگست1906 ءکو یکدم آپ کا نصف حصہ اسفل بدن کا بے حس ہو گیا ۔ شماتتِ اعداء کے خیال کے ساتھ دعا کی اور الہام ہوا کہ ’’خدا مومنوں کو رسوا نہیں کیا کرتا‘‘ اور پھر اس کے آدھے گھنٹے کے بعد مرض کا نام و نشان نہ رہا۔

(صفحہ نمبر 245)

4۔ آپ کو الہاماً دہلی میں شادی کی خبرملی تو شادی کے اخراجات کی فکر ہوئی اور جنابِ الہٰی میں دعا کی کہ ان اخراجات کی مجھ میں طاقت نہیں تب یہ الہام ہوا ’’ہرچہ باید نوعروسی را ہمہ سامان کنم و آنچہ درکارِ شمار با شدعطا ئے آں کنم‘‘ یعنی جو کچھ تمہیں شادی کے لئے درکار ہو گا تمام سامان اس کا میں آپ کروں گا اور جو کچھ تمہیں وقتاً فوقتاً حاجت ہوتی رہے گی ۔ آپ دیتا رہوں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ظہور میں آیا۔ جیسا کہ فرمایا۔

’’یا وہ زمانہ تھا کہ بباعثِ تفرقہ وجوہ معاش پانچ سات آدمی کا خرچ بھی میرے پرایک بوجھ تھا اور یا اب وہ وقت آگیا کہ بحساب اوسط تین سو آدمی ہر روز مع عیال و اطفال اور ساتھ اس کے کئی غربا اور درویش اس لنگر میں روٹی کھاتےہیں۔‘‘

(صفحہ نمبر 247)

5۔ ’’نواب علی محمد خان مرحوم رئیس لودھیانہ نے میری طرف خط لکھا کہ میرے بعض امورِ معاش بند ہو گئے ہیں آپ دعا کریں کہ تا وہ کھل جائیں ۔ جب میں نے دعا کی تو مجھے الہام ہوا کہ کھل جائیں گے ۔ مَیں نے بذریعہ خط ان کو اطلاع دے دی اورپھر صرف دو چار دن کے بعد وہ وجوہ معاش کھلگئے۔‘‘

(صفحہ 257)

6۔ “سیٹھ عبدالرحمن صاحب تاجر مدراس……کی تجارت کے امور میں کوئی تفرقہ اور پریشانی واقع ہو گئی تھی۔ انہوں نے دعاکے لئے درخواست کی تب یہ الہام ہوا۔

’’قادر ہے وہ بارگہ ٹوٹا کام بنا وے
بنا بنایا توڑ دے کوئی اس کا بھید نہ پاوے‘‘

تھوڑے دن ہی گزرے تھے کہ خدا تعالیٰ نے ان کے تجارتی امور میں رونق پیدا کر دی اور ایسے اسباب غیب سے پیدا ہوئے کہ فتوحاتِ مالی شروع ہو گئیں اور پھر کچھ عرصہ کے بعد بنا بنایا کام ٹوٹ گیا۔‘‘

(صفحہ 259۔ 260)

7۔ آپ کے بڑے بھائی مرزا غلام قادر صاحب ایک دفعہ سخت بیمار ہو گئے ۔ صرف استخوان باقی رہ گیا اور یہ خیال کیا گیا کہ صرف چند روز کی بات ہے۔ تب آپؑ نے ان کی صحت کے لئے دعا کی جس سے تغیر پیدا ہو گیا اسی اثناء میں خواب میں انہیں قدموں چلتے دیکھا۔ پندرہ دن میں صحت کے آثار ظاہر ہو گئے اور آہستہ آہستہ پورے تندرست ہو گئے اور پندرہ سال زندہ رہے۔

(صفحہ 265)

8۔ایک دفعہ آریہ ملاوامل مرضِ دق میں مبتلا ہو گیا اور آثار نومیدی ظاہر ہو گئے۔ دعا کا درخواست گزار ہوا۔ آپ نے اس کے حق میں دعا کی تو جواب آیا : قُلْنَا یَا نَارُ کُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلَامًا یعنی ہم نے تپ کی آگ کو کہا کہ سرد اور سلامتی ہوجا۔ چنانچہ بعد اس کے وہ ایک ہفتہ میں اچھا ہو گیا اور اب تک وہ زندہ موجود ہے۔

(صفحہ 277)

9۔ 1905ء میں قیامِ باغ کے دوران حضرت اماں جان سخت بیمار ہو گئیں۔ علاج سے فائدہ نہ ہو رہا تھا۔ حتّٰی کہ نشست وبرخواست سے عاری ہو گئیں تو آپؑ نے توجہ سے دعا کی تب الہام ہوا : اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَھْدِیْنِ یعنی میرا ربّ میرے ساتھ ہے۔

اس الہام سے چند منٹ بعد آپ کے دل میں ڈالا گیا کہ مرض اور اس کا علاج کیا ہے ۔ پھر چنددن بعد خواب دیکھا کہ ایک شخص کہتا ہے بخار ٹوٹ گیا دوسری طرف نبض دیکھی تو بخار کا نام و نشان نہ تھا۔ پھر یہ الہام ہوا۔ ؎

’’تو در منزل ما چو بار بار آئی
خدا ابرِ رحمت ببارید یانے‘‘

(صفحہ 290)

الہام کا ترجمہ: اے میرے بندے چونکہ تو میری فرود گاہ میں بار بار آتاہے اس لئے اب تو خود دیکھ لے کہ تیرے پر رحمت کی بارش ہوئی یا نہ۔

(صفحہ 108)

10۔ ایک دفعہ مارچ 1905ء میں لنگرخانہ میں کثرت سے مہمانوں کی آمد تھی اور اس کے مقابل میں روپیہ کی آمدنی کم ۔ اس کے لئے دعا کی گئی خواب میں دیکھا کہ ایک شخص نے جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا بہت سا روپیہ آپ کے دامن میں ڈال دیا ۔ پوچھنے میں اپنا نام ٹیچی بتایا جو پنجابی میں وقتِ مقررہ کو کہتے ہیں یعنی عین ضرورت کے وقت آنے والا۔ اس کے بعد بہت مالی فتوحات ہوئیں اور کئی ہزار روپیہ آ گیا۔

(صفحہ 345)

قبول نہ کئے جانے کی خبر

کتاب نزول المسیح میں درج ذیل دو واقعات ایسے بھی مذکور ہوئے ہیں جن میں دعا کی گئی اور جواب میں قبول نہ کئے جانے کی خبر ملی اور پھر وہ کام نہ ہوئے۔

1۔ ’’جب کتاب براہینِ احمدیہ کے بعض حصے تیار ہوگئے تو مجھے خیال آیا کہ ان کو چھاپ دیا جاوے مگر میرے پاس کچھ سرمایہ نہیں تھا ۔ تب میں نے جنابِ الہٰی میں دُعا کہ لوگ مدد کی طرف متوجہ ہوں ۔ اسی وقت تھوڑی سی غنودگی ہوکر جواب ملا “بالفعل نہیں” تب باوجود کوشش کے کسی نے ایک پیسہ بھی نہیں بھیجا‘‘۔

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18صفحہ 538)

2۔ میاں عبداللہ سنوریؓ نے ایک کام کے لئے ہر طرح کوشش کی اور کام ہونے کی امید بھی ہو گئی پھر آپ سے دعا کی درخواست کی۔ فرمایا : ’’ہم نے جب دعا کی توبلا توقف الہام ہوا ’’اے بسا آرزو کہ خاک شدہ‘‘ تب میں نے ان کو کہہ دیا کہ یہ کام ہرگز نہیں ہو گا اور وہ الہام سنا دیا اور آخر ایسا ہی ظہور میں آیا‘‘۔

(نزول المسیح ، روحانی خزائن جلد 18صفحہ 612)

دُعا کے نتیجہ میں خبر کا ملنا بھی ایک رنگ میں قبولیتِ دعا ہی ہے۔

مقابلہ کی دعوت:آپ نے سب مخالفین کو اس بارے میں کئی بار مقابلہ کی دعوت دی اور یہ تحدی فرمائی کہ کوئی بھی قبولیتِ دعا کے اس انعام میں آپ کا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ ایسے چند جملے درج ذیل ہیں۔

’’میں خدا تعالیٰ کی طرف سے علم پا کر اس بات کو جانتا ہوں کہ جو دنیا کی مشکلات کے لئے میری دعائیں قبول ہو سکتی ہیں دوسروں کی ہرگز نہیں ہو سکتیں‘‘۔

(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14صفحہ 407)

’’اگر دُعاؤں کے قبول ہونے میں کوئی میرے برابر اتر سکے تو میں جھوٹا ہوں‘‘۔

(اربعین، روحانی خزائن جلد 17صفحہ 346)

’’اگر کوئی سچ کا طالب ہے خواہ وہ ہندو ہے یا عیسائی یا آریہ یا یہودی یا برہمو یا کوئی اور ہے اس کے لئے یہ خوب موقعہ ہے جومیرے مقابل کھڑا ہو جائے اگر وہ امورِ غیبیہ کے ظاہر ہونے اور دعاؤں کے قبول ہونے میں میرا مقابلہ کر سکا تومَیں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اپنی تمام جائیداد غیر منقولہ جو دس ہزار روپے کے قریب ہو گی اس کے حوالے کر دوں گا۔‘‘

(آئینہ کمالاتِ اسلام، روحانی خزائن جلد 5 صفحہ 276)

’’وہ مقابلہ کر کے آزما سکتے ہیں کہ جو کچھ اس عاجز کو رویاء صالحہ اور مکاشفہ اور استجابتِ دعا اور الہامات صحیحہ صادقہ سے حصہ وافرہ نبیوں کے قریب قریب دیا گیا ہے وہ دوسروں کو تمام حال کے مسلمانوں میں سے ہرگز نہیں دیا گیا ہے۔‘‘

(ازالۂ اوہام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 478)

غرضیکہ حضرت مسیح موعودؑ کو قبولیتِ دُعا کی وہ نعمت عطا ہوئی جس کی فی زمانہ کوئی اور مثال نہیں اور ایسا ہونا اللہ تعالیٰ کی اس سنت کے عین مطابق تھا جو اس حوالے سے اللہ تعالیٰ کے انبیاء کے ساتھ رہی ہے۔

علم و حکمت کا عطا ہونا

حضرت مسیح موعودؑ کو اللہ تعالیٰ نے بے مثل علم و حکمت، قرآنِ کریم کے معارف و حقائق، احکامِ دین کی فلاسفی، اسلام پر اعتراضات کے ردّ، مخالف مذاہب کے ابطال، عربی کی فصاحت و بلاغت، اور تحریر میں غیر معمولی جذب و اثر عطا فرمایا اور آپ کو یہ نام دیئے ۔

’’اللہ تعالیٰ نے اس عاجز کا نام سلطان القلم اور میرے قلم کو ذوالفقارِ علی فرمایا‘‘

(الحکم 17 جون 1901ء ۔بحوالہ تذکرہ صفحہ 58 حاشیہ)

خزائن کی تقسیم:علم و حکمت کے یہ خزائن آپ نے خوب لٹائے۔ آپ کی کتب، اشتہارات، مکتوبات اور ملفوظات اس کے مخزن ٹھہرے۔ آپ نے اردو کے علاوہ عربی اور فارسی کو بھی ذریعہ اظہار بنایا۔ سب اپنی مثال آپ ہیں۔ آپ کی قوتِ تحریرکا ایک مخالف نے یوں اعتراف کیا ۔

’’کسی بڑے سے بڑے آریہ اور بڑے سے بڑے پادری کو یہ مجال نہ تھی کہ وہ مرحوم کے مقابلہ میں زبان کھول سکتا ………اگرچہ مرحوم پنجابی تھا مگر اس کے قلم سے اس قدر قوت تھی کہ آج سارے پنجاب بلکہ بلندی ٔ ہند میں بھی اس قوت کا کوئی لکھنے والا نہیں ………اس کا پرزور لٹریچر اپنی شان میں بالکل نرالا ہے اور واقعی اس کی بعض عبارتیں پڑھنے سے ایک وجدکی سی کیفیت طاری ہو جاتی ہے‘‘۔

(تحریر مرزا حیرت دہلوی اخبار کرزن گزٹ دہلی یکم جون 1908ء ۔بحوالہ سلسلہ احمدیہ از صاحبزادہ مرزا بشیر احمدؓ جلد اوّل صفحہ 182)

دعوتِ مقابلہ: آپؑ نے مباحثوں اور مناظروں میں اپنے مؤقف کا درست ہونا ثابت کیا اور خداداد علم و حکمت سے پُر اپنی ان تحریروں، دلائل اور تفسیرِ قرآن کو بار بار مقابلہ کے لئے پیش کیا ۔ بیش قیمت انعامات بھی رکھے۔ لیکن ان کی عظمت کے آگے کسی کو سر اٹھانے کی تاب نہ ہوئی ۔ آپؑ کی ایک ابتدائی تحریر میں یہ چیلنج آج تک جواب طلب ہے ۔ ’’آپ سب صاحبوں کو قسم ہے کہ ہمارے مقابلہ پر ذرا توقف نہ کریں ۔ افلاطون بن جاویں، بیکن کا اوتار دھاریں، ارسطو کی نظر اور فکر لاویں ، اپنے مصنوعی خداؤں کے آگے استمداد کے لئے ہاتھ جوڑیں پھر دیکھیں جو ہمارا خدا غالب آتا ہے یا آپ لوگوں کے اِلٰہِ باطلہ‘‘۔

(براہینِ احمدیہ حصہ دوم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 56)

قرآنی معارف

قرآن کریم کے حقائق و معارف کے بیان میں اس چیلنج کو آپ نے کئی بار دہرایا کہ ’’میں قرآن شریف کے معجزہ کے ظل پر عربی بلاغت فصاحت کا نشان دیا گیا ہوں کوئی نہیں کہ جو اس کا مقابلہ کر سکے ۔میں قرآن شریف کے حقائق معارف بیان کرنے کا نشان دیا گیا ہوں کوئی نہیں کہ جو اس کا مقابلہ کر سکے۔‘‘

(ضرورۃ الامام، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 496)

’’جو دینی اور قرآنی معارف، حقائق و اسرار مع لوازم بلاغت اور فصاحت کے مَیں لکھ سکتا ہوں دوسرا ہرگز نہیں لکھ سکتا ۔ اگر ایک دنیا جمع ہو کر میرے اس امتحان کے لئے آوے تو مجھے غالب پائے گی‘‘

(ایام الصلح، روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 407)

’’اگر قرآن کے نکات اور معارف بیان کرنے میں کوئی میرا ہم پلہ ٹھہر سکے تو میں جھوٹا ہوں۔‘‘

(اربعین، روحانی خزائن جلد 17 صفحہ نمبر 346)

عام اعتراف

آپ کے علم و فضل کا بار بار اعتراف کیا گیا۔ ایسی چند تحریریں درج ذیل ہیں۔

براہینِ احمدیہ کے بارے میں: ’’ہماری رائے میں یہ کتاب (براہینِ احمدیہ) اس زمانہ میں اور موجودہ حالات کی نظر سے ایسی کتاب ہے جس کی نظیر آج تک اسلام میں تالیف نہیں ہوئی۔‘‘

(تاریخِ احمدیت از جلد1 صفحہ 173)

“سبحان اللہ کیا تصنیفِ منیف ہے کہ جس سے دینِ حق کا لفظ لفظ سے ثبوت ہو رہا ہے ۔ ہر ہر لفظ سے حقیقتِ قرآنو نبوت ظاہر ہو رہی ہے ۔ مخالفوں کو کیسے آب و تاب سے دلائل قطعیہ سنائے گئے ہیں۔ دعویٰ ہی مدلل و براہین ساطعہ ثبوت ہے ۔ مثبت بہ دلائل قاطعہ تاب دم زدنی نہیں۔ اقبال کے سوا چارہ نہیں ۔ ہاں انصاف شرط ہے ورنہ کچھ بھی نہیں………

کتاب براہینِ احمدیہ ثبوتِ قرآنی و نبوت میں ایک ایسی بےنظیر کتاب ہے کہ جس کا ثانی نہیں ۔ مصنف نے اسلام کو ایسی کوششوں اور دلیلوں سے ثابت کیا ہے کہ ہر منصف مزاج یہی سمجھے گا کہ قرآن کتاب اللہ اور نبوت پیغمبر آخر الزماں حق ہے ۔ دینِ اسلام منجانب اللہ اور اس کا پیرو حق آگاہ ہے۔ عقلی دلیلوں کا انبار ہے۔ خصم کو جو نہ جائے گریز اور نہ طاقتِ انکار ہے۔ جو دلیل ہے بیّن ہے جو برہان ہے روشن ہے ۔ آئینہ ایمان ہے ۔ لب لباب قرآن ہے ۔‘‘

(تاریخ احمدیت حصہ اوّل صفحہ 176)

’’اس کتاب (براہینِ احمدیہ) کی زیادہ تعریف کرنی ہماری حدِ امکان سے باہر ہے اور حقیقت یہ ہے کہ جس تحقیق و تدقیق سے اس کتاب میں مخالفینِ اسلام پر حجتِ اسلام قائم کی گئی ہے وہ کسی تعریف و توصیف کی محتاج نہیں ہے۔ ؎

’’حاجت مشاطہ نیست روئے دلارام را‘‘

(تاریخ احمدیت حصہ اوّل صفحہ 177)

سرمہ چشم آریہ کے بارے میں: ’’آریہ سماجی لیڈر ماسٹر مرلی دھر سے حضرت مسیح موعودؑ کا مباحثہ سرمہ چشم آریہ کے نام سے شائع ہوا ۔ اس کتاب کو مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے لاجواب کہا اور اس خواہش کا اظہار کیا کہ حمیت و حمایتِ اسلام تو اس میں ہے کہ ایک ایک مسلمان دس دس بیس بیس نسخہ خرید کر ہندومسلمانوں میں تقسیم کرے ۔ اس سے ایک فائدہ تو یہ ہے کہ اصولِ اسلام کی خوبی اور اصول مذہب آریہ کی برائی زیادہ شیوع پائے گی اور اس سے آریہسماج کی ان مخالفانہ کارروائیوں کو جو اسلام کے مقابلہ میں وہ کرتے ہیں روک ہو گی ۔‘‘

(تاریخِ احمدیت جلد 1 صفحہ 300)

’’مرزا صاحب نے اپنی اس کتاب (سرمہ چشمہ آریہ) میں نہ صرف اس معجزہ (شق القمر) بلکہ معجزاتِ انبیاء کی پُرزور و مدلل وکالت کی ہے ۔ انہوں نے ثابت کیا کہ معجزات و خوارق کا وقوع عقلاً ممکن ہے۔‘‘

(تاریخِ احمدیت جلد اوّل صفحہ 301)

آئینہ کمالاتِ اسلام کے بارے میں : 1893ء میں حضرت مسیح موعودؑنے آنحضرت ﷺ کی شانِ اقدس میں ایک عربی قصیدہ رقم فرمایا۔ جو کتاب آئینہ کمالاتِ اسلام کے عربی حصے التبلیغ کے آخر میں درج ہے۔ اس کے بارے میں مولانا نیاز فتح پوری نے لکھا:

’’مرزا صاحب کا یہ مشہور قصیدہ 69 اشعار پر مشتمل ہے۔ اپنے تمام لسانی محاسن کے لحاظ سے ایسی عجیب و غریب چیز ہے کہ سمجھ میں نہیں آ تا ایک ایسا شخص جس نے کسی مدرسہ میں زانوئے ادب تہہ نہ کیا تھا کیونکر ایسا فصیح و بلیغ قصیدہ لکھنے پر قادرہو گیا‘‘

کتاب آئینہ کمالاتِ اسلام میں حضرت مسیح موعودؑ نے ایک فارسی نعت بھی رقم فرمائی جس کے ایک شعر کے بارے میں ایک مخالف اخبار یہ لکھنے پر مجبور ہوا کہ

’’آنحضرت ﷺ کی تعریف و توصیف میں گزشتہ انبیاء و مرسلین سے لے کر صلحائے امت نے بھی بہت کچھ کہا ہے مگر حقیقی تعریف اس شعر میں بیان کی گئی ہے ؎

اگر خواہی دلیلے عاشقش باش
محمد ہست برہان محمد

(تاریخِ احمدیت جلد 1 صفحہ 475)

اسلامی اصول کی فلاسفی کے بارے میں : ’’ان لیکچروں میں سب سے عمدہ اور بہترین لیکچر جو جلسہ کی روحِ رواں تھا مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا لیکچر تھا………فقرہ فقرہ پر صدائے آفرین و تحسین بلند تھی اور بسا اوقات ایک ایک فقرہ کو دوبارہ پڑھنے کے لئے حاضرین کی طرف سے فرمائش کی جاتی تھی ۔ عمر بھر کانوں نے ایسا خوش آئند لیکچر نہیں سنا……… مرزا صاحب نے کل سوالوں کے جواب………قرآن شریف سے دیئے اور عام بڑے بڑے اصول و فروعِ اسلام کودلائل عقلیہ اور براہینِ فلسفہ کے ساتھ مبرہن اور مزین کیا۔ پہلے عقلی دلائل سے الہٰیات کے ایک مسئلہ کو ثابت کرنا اور اس کے بعد کلامِ الہٰی کو بطور حوالہ پڑھنا ایک عجیب شان رکھتا تھا۔

مرزا صاحب نے نہ صرف مسائل قرآن کی فلاسفی بیان کی بلکہ الفاظِ قرآن کی فلالوجی اور فلاسفی بھی ساتھ ساتھ بیان کر دی غرضیکہ مرزا صاحب کا لیکچر بہ ہیئت مجموعی ایک مکمل اور حاوی لیکچر تھا جس میں بے شمار معارف و حقائق و حکم و اسرار کے موتی چمک رہے تھے اور فلسفہ الہٰیہ کو ایسے ڈھنگ سے بیان کیا گیا تھا کہ تمام اہل مذاہب ششدر رہ گئے‘‘۔

(تاریخ ِ احمدیت جلد 1 صفحہ 567۔ 568)

’’اگر اس جلسے میں حضرت مرزا صاحب کا مضمون نہ ہوتا تو اسلامیوں پر غیر مذاہب والوں کے روبرو ذلت و ندامت کا قشقہ لگتا ۔ مگر خدا کے زبردست ہاتھ نے مقدس اسلام کو گرنے سے بچا لیا۔ بلکہ اس کو اس مضمون کی بدولت ایسی فتح نصیب فرمائی کہ موافقین تو موافقین، مخالفین بھی سچی فطرتی جوش سے کہہ اٹھے کہ یہ مضمون سب پر بالا ہے ۔بالا ہے‘‘

(تاریخ احمدیت صفحہ 572)

’’یہ کتاب (اسلامی اصول کی فلاسفی) بہت دلچسپ اور مسرت بخش ہے۔ اس کے خیالات روشن، جامع اور پُراز حکمت ہیں۔ پڑھنے والے کے منہ سے بے اختیار اس کی تعریف نکلتی ہے‘‘

(انڈین ریویو بحوالہ مسیح موعود اور جماعت احمدیہ صفحہ 189)

اعجاز المسیح کے بارے میں: کتاب اعجاز المسیح عربی میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر ہے۔ اس کے بارے میں مصر کے ایک اخبار نے لکھا۔

’’بلاشبہ اس کتاب کی فصاحت و بلاغت معجزے کی حد تک پہنچ گئی ہے۔‘‘

(تاریخِ احمدیت جلد 2 صفحہ 171)

پیغامِ صلح کے بارے میں: ’’وہ عظیم الشان طاقت اور اعلیٰ درجہ کی ہمدردی جو قادیان کے بزرگ کے اس آخری پیغام صلح سے ظاہر ہوتی ہے وہ یقیناً ایک خاص امتیاز کے ساتھ اسے ایک عظیم الشان انسان ثابت کرتی ہے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلد دوم صفحہ 536)

آپؑ کے صاحبِ علم و حکمت ہونے کا عام اعتراف

مولوی ارشاد علی ناگپوری نے جو مسلمان سے عیسائی اور پھر عیسائیت سے توبہ کر کے دوبارہ اسلام میں داخل ہوئے پادری صفدر علی کے ایک خط کے جواب میں لکھا۔

’’میں پادری صفدر علی سے پوچھ سکتا ہوں کہ اگر ان کو اپنے دلائل اور عیسائیت کی صداقت پر پورا اعتماد ہے تو پھر وہ اس وقت کہاں تھے جبکہ مولوی غلام احمد صاحب قادیانی نے میدانِ مناظرہ میں کھڑے ہو کر بہادر شیر کی طرح ان کو للکارا ۔ اس چیلنج کا آپ لوگوں پر اس قدر اثر تھا کہ کسی پادری کو یہ جرأت نہیں ہوئی کہ آپ کے مقابل پر آتا۔‘‘

(مسیح موعود اور جماعت احمدیہ صفحہ 200)

مولانا ابوالکلام آزاد: ’’ان کی یہ خصوصیات کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جاوے تا کہ وہ مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پست اور پامال بنائے رکھا۔ آئندہ بھی جاری رہے۔

مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کر چکا ہے اور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں ۔ اس لٹریچر کی قدرو عظمت آج جب کہ وہ اپنا کام پورا کر چکا ہے دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے ……… غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنے والی نسلوں کو گرانبار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرضِ مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یادگار چھوڑا جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایتِ اسلام کا جذبہ ان شعارِ قوی کا عنوان نظر آئے ۔ قائم رہے گا ۔ اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں مرزا صاحب نے اسلام کی بہت خاص خدمت انجام دی ہے ……… آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ کسی درجہ تک وسیع ہو جائے ۔ ناممکن ہے کہ یہ تحریریں نظر انداز کی جا سکیں ۔‘‘

(تاریخِ احمدیت جلد 2 صفحہ 563)

’’مرزا صاحب اپنی پر زور تقریروں اور شاندار تصانیف سے مخالفین اسلام کو ان کے لچراعتراضات کے دندان شکن جواب دے کر ہمیشہ کے لئے ساکت کر دیاہے اور کر دکھایا ہے کہ حق، حق ہی ہے اور واقعی مرزا صاحب نے حق حمایت اسلام کا کما حقہ ادا کر کے خدمتِ دینِ اسلام میں کوئی دقیقہ فرو گزاشت نہیں کیا‘‘

(مسیح موعود اور جماعت احمدیہ صفحہ 209)

علامہ اقبال: ’’مرزا غلام احمد قادیانی……اغلباً جدید ہندی مسلمانوں میں سب سے بڑے دینی مفکر ہیں۔‘‘

(تحریر علامہ اقبال رسالہ انڈین اینٹی کویری جلد 29 صفحہ 237۔ 246)

مولانا سید حبیب: ’’مجھے یہ کہنے میں ذرا باک نہیں کہ مرزا صاحب نے اس فرض کو نہایت خوش اسلوبی سے ادا کیا اور مخالفینِ اسلام کے دانت کھٹے کر دیئے ۔ اسلام کے متعلق ان کے بعض مضامین لاجواب ہیں ……عیسائیوں اور آریوں کے مقابلہ میں مرزا صاحب کی خدمات کی وجہ سے مسلمانوں نے انہیں سر پر بٹھایا اور دلوں میں جگہ دی ۔ مولانا محمد حسین بٹالوی مرحوم اور مولاناثناء اللہ امرتسری جیسے بزرگ ان کے حامی اور معترف تھے اور انہی کے نام کا ڈنکہ بجاتے تھے۔‘‘

(مسیح موعود اور جماعت احمدیہ مارچ 1968 ءصفحہ نمبر 161)

مولاناسید حبیب: ’’مرزا صاحب اپنی کامیابی سے متاثر ہو کر نبوت کا دعویٰ نہ کرتے تو ہم انہیں زمانۂ حال میں مسلمانوں کا سب سے بڑا خادم مانتے ۔‘‘

(مسیح موعود اور جماعت احمدیہ مارچ 1968ءصفحہ نمبر 161)

پاکیزہ اور بے عیب زندگی

حضرت مسیح موعودؑنے ایک پاکیزہ اور بے عیب زندگی گزاری۔ آپؑ کی پاکیزگی پر گو آپؑ کے آبائی وطن قادیان کے رہنے والے اور دعویٰ سے قبل وہاں آکر آپؑ سے راہ و رسم رکھنے والے سب گواہ موجود تھے ۔ اس طرح بٹالہ میں آپؑ کے ہم مکتب اور دوست بھی تھے۔لیکن ایک عجیب الہٰی تصرف تھا کہ اپنی مرضی کے خلاف محض اپنے والد کے حکم کی اطاعت میں آپ کو عین جوانی میں ایک دوسرے شہر اور اجنبی ماحول میں یکّا و تنہا کئی سال گزارنے کا موقع ملا اور یہاں وہ لوگ آپؑ سے متعارف ہوئے جنہوں نے بعد میں برصغیر میں اپنی ذاتی حیثیت یا اپنی اولاد کی شہرت کے سبب ایک نمایاں مقام پایا اور پھر ان سب نے علیحدہ علیحدہ اپنے اپنے رنگ میں آپؑ کے بارے میں حسن ِ ظن کااظہار کیا اور بالاتفاق گواہی دی کہ آپؑ کی زندگی پاکیزہ اور بے عیب تھی۔ ایسی چند گواہیاں درج ذیل ہیں۔

حضرت صوفی احمد جانؓ : ’’سن شریف حضرت کا تقریباً چالیس یا پینتالیس ہو گا۔ اصل وطن اجداد کا قدیم ملک فارس معلوم ہوتا ہے۔ نہایت خلیق۔صاحبِ مروّت و حیاء۔ جوان رعنا۔ چہرہ سے محبتِ الہٰی ٹپکتی ہے۔‘‘

(تاریخِ احمدیت جلد اوّل صفحہ 175)

مولوی محمد حسین بٹالوی لیڈر اہل حدیث کی گواہی:

’’مؤلف براہینِ احمدیہ مخالف و موافق کے تجربے اور مشاہدے کی رو سے (واللّٰہ حسیبہ) شریعتِ محمدیہ پر قائم و پرہیز گار و صداقت شعار ہیں‘‘

(رسالہ اشاعت السنہ جلد 7 نمبر 6 صفحہ 248)

شمس العلماء سید میرحسن صاحب استاد علامہ اقبال کی آپ کے قیامِ سیالکوٹ کے زمانہ کے بارے میں گواہی۔

’’حضرت مرزا صاحب ……عزلت پسند اور پارسا اور فضول و لغو سے مجتنب اور محترز تھے۔‘‘

(حیاتِ احمدجلد اوّل (ہر سہ حصص ) صفحہ 92)

منشی سراج الدین صاحب والد مولوی ظفر علی خاں بانی اخبار زمیندار لاہور کی آپ کے زمانہ قیام سیالکوٹ کے بارے میں گواہی ۔

’’ہم چشم دید شہادت سے کہہ سکتے ہیں کہ جوانی میں بھی نہایت صالح اور متقی بزرگ تھے‘‘

(حیاتِ احمد از شیخ یعقوب علی عرفانی جلد اوّل صفحہ 374)

مولانا ابو الکلام آزاد کی گواہی: ’’کیریکٹر کے لحاظ سے ہمیں مرزا صاحب کے دامن پر سیاہی کا چھوٹے سے چھوٹاسا دھبہ بھی نظر نہیں آتا۔ وہ ایک پاکباز کا جینا جیا اور اس نے ایک متقی کی زندگی بسر کی۔ غرضیکہ مرزا صاحب کی ابتدائی زندگی کے پچاس سالوں نے بلحاظ اخلاق و عادات اورپسندیدہ اطوار۔ کیا بلحاظ خدمات و حمایت دین مسلمانان ہند میں ان کو ممتاز و برگزیدہ اور قابل رشک مرتبہ پر پہنچا دیا‘‘

(تاریخِ احمدیت جلد 2 صفحہ 560)

شمس العلماء سید ممتاز علی صاحب کی گواہی:

’’مرزا صاحب مرحوم نہایت مقدس اور برگزیدہ بزرگ تھے اور نیکی کی ایسی قوت رکھتے تھے جو سخت سے سخت دلوں کو تسخیر کر لیتی تھی ۔ وہ نہایت باخبر عالم ، بلند ہمت مصلح اور پاک زندگی کا نمونہ تھے‘‘

(رسالہ تہذیب النسواں لاہور 1908ء سلسلہ احمدیہ جلد اوّل صفحہ 184)

ایک عیسائی محقق کی گواہی: ’’صرف ایک مقناطیسی جذب اور دلکش اخلاق رکھنے والا شخص ہی ایسے لوگوں کی دوستی اور وفا داری حاصل کر سکتا ہے جن میں سے کم از کم دو نے افغانستان میں اپنے عقائد کیلئے جان دے دی مگر مرزا صاحب کا دامن نہ چھوڑا۔ میں نے بعض پرانے احمدیوں سے ان کے احمدی ہونے کی وجہ دریافت کی تو اکثر نے سب سے بڑی وجہ مرزا صاحب کے ذاتی اثر اور جذب اور مقناطیسی شخصیت کو پیش کیا۔‘‘

(سلسلہ احمدیہ حصہ اوّل از حضرت مرزا بشیر احمدؓ صفحہ 186)

حضرت مسیح موعودؑ کا چیلنج : اس بارے میں خود حضرت مسیح موعودؑ کا یہ چیلنج حرفِ آخر ہے اور آج تک قائم ہے :

’’تم کوئی عیب ، افتراء یا جھوٹ یا دغا کا میری پہلی زندگی پر نہیں لگا سکتے ۔ تا تم یہ خیال کرو کہ جو شخص پہلے سے جھوٹ اور افتراء کا عادی ہے یہ بھی اس نے جھوٹ بولا ہوگا۔ کون تم میں ہے جو میری سوانح زندگی میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا ہے۔ پس یہ خدا کا فضل ہے کہ جو اس نے ابتداء سے مجھے تقویٰ پر قائم رکھا اورسوچنے والوں کے لئے یہ ایک دلیل ہے‘‘۔

(تذکرۃ الشہادتین، روحانی خزائن جلد20 صفحہ 62)

طویل مہلت ملنا

آغاز شرفِ مکالمہ و مخاطبہ: گو بعض رؤیا حضرت مسیح موعودؑ کو زمانہ ٔ طالبِ علمی میں بھی ہوئے۔لیکن ان کی کثرت بعد کی ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں: ’’ٹھیک بارہ سو نوے 1290 ہجری میں خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرفِ مکالمہ و مخاطبہ پا چکا تھا‘‘

( حقیقۃ الوحی،روحانی خزائن جلد 22صفحہ 208)

عیسوی کیلنڈر کے مطابق اس سال کا دورانیہ یکم مارچ 1873ء تا 18فروری 1874ء تھا۔ ابتداً یہ مکالمہ بکثرت رویائے صادقہ کا ہونا تھا۔ جسے قرآنِ کریم نے مِنْ وَّرَآءِ حِجَابٍ

(شوریٰ: 52)

ترجمہ: پردے کے پیچھے، فرمایا ہے۔ اس لحاظ سے آغازِ مکالمہ مخاطبہ کے بعد آپ نے 26مئی 1908ء کو اپنی وفات تک 35سال کا عرصہ پایا۔

سلسلۂ الہام: تاہم الہامِ الہٰی کا سلسلہ کچھ عرصہ بعد کا ہے۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا:

’’جس روز ان (والد صاحب) کی وفات مقدر تھی دوپہر کے وقت مجھے الہام ہوا وَالسَّمَاءِ وَ الطَّارِقِ اور ساتھ ہی دل میں ڈالا گیا کہ یہ ان کی وفات کی طرف اشارہ ہے۔ بعد اس کے عین اس وقت جب کہ آفتاب غروب ہوا وہ اس جہاںِ فانی سے انتقال کر گئے ۔ اِنّا لِلّٰہ وَ اِنَّا اِلَیہ راجعون اور یہ سب الہاموں سے پہلا الہام اور پہلی پیش گوئی تھی جو خدا نے مجھ پر ظاہر کی‘‘

(حقیقۃ الوحی ،روحانی خزائن جلد 22 صفحہ نمبر 218۔ 219 )

حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کی تاریخِ وفات 2 جون 1876ء تھی ۔

(تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 137)

یوں وحی و الہام کے آغاز کے بعد وفات تک آپ نے 32 سال کا عرصہ پایا ۔

(جمیل احمد بٹ)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 مارچ 2020

مقبول ترین