• بدھ 1 اپریل 2020   (8 شعبان 1441)

دانتوں اور منہ کی صفائی

یہ کوئی اتفاقی حادثہ نہ تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بوقتِ رحلت جو آخری عمل اپنے مبارک ہاتھ سے کیا وہ “مسواک” یعنی دانتوں اور منہ کی صفائی کا عمل تھا۔ ہمیں نبی کریم ﷺ کی وہ شان ہمیشہ مدنظر رکھنی چاہئے جس کی گواہی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میںان الفاظ میں دی ہے قُلْ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (الانعام:163) یعنی تو بےشک یہ اعلان کر دے کہ میری نماز، میری عبادت، میری حیات اور میری موت سب اللہ رب العالمین کے لئے وقف ہیں۔ لفظ ’’مماتی‘‘ یعنی میری موت سے مراد صرف لمحۂ موت نہیں۔ موت کے ساتھ ملحقہ کئی کیفیات ہوتی ہیں۔ آپؐ کی وہ تمام کیفیات ’’مماتی‘‘ کے دائرہ میں داخل ہیں اور تمام ہی لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن تھیں۔ آپؐ کا آخری قول ’’فِی الرَّفِیْقِ الْاَعْلٰی‘‘ بھی مماتی کے دائرے میں داخل ہے اور آپؐ کا آخری فعل یعنی دانتوں اور منہ کی صفائی بھی مماتی کے دائرے میں داخل ہے۔ گویا رحلت سے وابستہ آپؐ کی تمام کیفیات محض توجہ اللہ تھیں۔ اور ان کیفیات میں سے کوئی ایک بھی اتفاقی حادثہ نہ تھا۔

اگر منہ کی صفائی کا تعلق صرف جسم سے ہوتا اور اگر اس کی اہمیت محض ظاہری ہوتی تو شاید اس عمل کو اللہ کے اذن سے یہ شرف نہ ملتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا آخری فعل ٹھہرے۔ آپؐ کا ایک ارشادِ مبارک اسی طرف اشارہ کرتا ہے: تَسوَّ کُوافَاِنَّ السِّواک مطہرۃٌ لِلفَم ومرضاۃٌ لِلرّبّ (ابن ماجہ کتاب الطہارۃ باب السواک حدیث نمبر 285) یعنی مسواک کیا کرو۔ یقیناً مسواک کا عمل منہ کی صفائی اور ربّ کی رضا کا ذریعہ ہے۔ پس منہ کی صفائی کی ظاہری اہمیت تو ہے ہی لیکن چونکہ اس کے ساتھ رب کی رضا بھی وابستہ ہے۔ اس لئے اس کا تعلق لازماً باطن سے بھی ہے۔ اور اس کی روحانی اہمیت اتنی ہی مسلّم ہے جتنی کہ اس کی جسمانی اہمیت ہے۔ الغرض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کی روشنی میں ’’السِّواک‘‘ کے دو فضائل ہیں:

مَطْھَرۃٌ لِلفَم یعنی منہ کی صفائی
مَرَضاۃٌ لِلرّبّ یعنی رب کی خوشنودی

’’السِّواک‘‘ جو کہ ایک عربی اصطلاح ہے، سے مراد عملِ مسواک بھی ہے اور آلۂ مسواک بھی۔ مسواک بنیادی طور پر ایک ریشہ دار آلہ ہے جو کسی درخت کی شاخ یا جڑ سے حاصل کیا جا تا ہے اور جس کے ذریعہ منہ اور دانتوں کی صفائی کی جاتی ہے۔ دورِ حاضر کی ایجادات کے حوالہ سے دیکھا جائے تو Toothbrush بھی ایک قسم کی مسواک ہی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اللہ میاں کی بنائی ہوئی مسواک بہرحال بہتر ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ السّواک یا مسواک یا Toothbrush کے ذریعہ کس طرح مطہرۃٌ لِلْفَم یعنی منہ کی صفائی اور مرضاۃ للربّ یعنی خدا کی خوشنودی کے انعام حاصل کئے جا سکتے ہیں۔ اب آئیے ان دونوں کا علیحدہ علیحدہ جائزہ لیتے ہیں۔

(1) مطہرۃٌ لِلْفَم

منہ کی جامع صفائی کے چند منٹ بعد ہی دانتوں کی سطح پر ایک باریک سی جھلی قائم ہو جاتی ہے جومنہ کے لعاب میں پائی جانے والی لحمیات سے بنتی ہے۔ اس جھلی کو Acquired Pellicle کہتے ہیں۔ یہ جھلی اگرچہ بذاتِ خود بے ضرر ہوتی ہے لیکن یہ ایک اور بہت ہی مضر جھلی کا پیش خیمہ ہوتی ہے جسے Plaque کہتے ہیں۔ سائنسی تحقیق سے یہ بات ثابت ہے کہ منہ کو صاف کرنے کے صرف ایک گھنٹہ بعد دانتوں کی سطح پر فی مربع ملی میٹر اندازاً دس لاکھ جراثیم ظاہر ہو جاتے ہیں۔ ان جراثیم کی خاندانی منصوبہ بندی تو فی الحال ممکن نہیں۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ دانتوں کی سطح پراُس Plaque کو جمنے ہی نہ دیا جائے جو اِن جراثیم کے قیام وطعام کا ضامن ہے۔

اگر دو دن تک اِس Plaque کو مسواک یا برش کے ذریعہ دور نہ کیا جائے تو یہ اتنی موٹی تہہ میں تبدیل ہو جاتا ہے جسے پھر عام کلی سے دور نہیں کیا جا سکتا۔ اور اگر یہ Plaque دو دن تک قائم رہے۔ تو اس میں ایک خاص قسم کے جراثیم پنپنے لگتے ہیں جن کا نام Streptococcus Mutans ہے۔ دانت میں کیڑے کے ذمہدار یہی جراثیم ہوتے ہیں۔

’’دانت کا کیڑا‘‘ ایک ایسی اصطلاح ہے جو عام فہم ہوگئی ہے۔ لیکن بدقسمتی سے غلط العام بھی ہے اور غلط الفہم بھی۔ ظاہر ہے کہ دیمک یاٹڈی کی قسم کی کوئی مخلوق دانتوں میں آباد نہیں ہوتی۔ ہوتا دراصل یہ ہے کہ Streptococcus نسل کے جراثیم Acid یعنی تیزاب پیدا کرتے ہیں۔ اس تیزاب کے اثر کے تحت دانت Calcium اور Phosphate کے ذخائر کھونے لگتا ہے ۔ گویا دانت گھلنے لگتا ہے۔ اس تحلیل کے عمل کو Caries کہتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں جو دانت کی سطح پربدنما سوارخ نمودار ہوتا ہے وہ Cavity کہلاتا ہے۔
اگر بہت استقامت کے ساتھ دانتوں کی صفائی سے پرہیز کیا جائے تو قریباً ایک ہفتہ کے عرصہ میں جراثیم کا ایک اور قبیلہ منہ میں ظاہر ہو جاتا ہے جو Anaerobes کہلاتے ہیں۔ یہ جراثیم مسوڑھوں پر حملہ آور ہوتے ہیں اور مسوڑھوں کی سوزش جسے Gingivitis کہتے ہیں پیدا کرتے ہیں۔ اس مرض کا علاج اگر وقت پر نہ ہو تو یہ بڑھ کر دانتوں کی جڑوں تک جا پہنچتا ہے اور ایک نئے مرض کی بنیاد پڑتی ہے جسے Periodontitis کہتے ہیں۔ بیماریوں کے یہ نام جس قدر زبان پر بھاری ہیں، اُس سے کہیں زیادہ بھاری وہ علامات ہیں جو اِن بیماریوں کے ہمراہ آتی ہیں۔ اور قصور ہمارا ہی ہوتا ہے۔

منہ اور دانتوں کی صفائی میںجو قصور ہم سے واقع ہوتا ہے وہ دو طرح کا ہے:

(1) کم بار صفائی کرنا ۔
(2) غلط طریق پر صفائی کرنا۔

صفائی کتنی بار کی جائے؟ گویا پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دن میںکتنی بار صفائی کرنی چاہئے؟ عام طور پر دینٹل سرجن اس سوال کا یہ جواب دیتے ہیں کہ صبح ناشتہ کے بعد اور رات سونے سے قبل۔ ڈاکٹر یہ نسخہ ا س لئے تجویز نہیں کرتے کہ اُن کے نزدیک یہ آئیڈیل نسخہ ہوتا ہے بلکہ اس وجہ سے کہ وہ اپنے تجربہ سے سیکھ چکے ہوتے ہیں کہ یہ سب سے قابلِ عمل نسخہ ہے اور یہ کہ ایک اوسط درجہ کا مریض اس سے زیادہ زحمت گوارا نہیں کرے گا۔ آنحضرت ﷺ اس انسانی غفلت سے خوب آگاہ تھے۔ آپؐ فرماتے ہیں: لَولَا اَن اشُقّ عَلٰی اُمَّتِی لَاَ مَرْتُھُم بِالسِّواکِ عِنْدَ کُلِّ وُضُؤٍ (صحیح بخاری کتاب الصوم باب سواک الرطب) یعنی اگر یہ میری امت کے لئے گراں بار نہ ہوتا تو میں انہیں حکم دیتا کہ ہر وضو کے ساتھ مسواک کریں۔ یہ حدیث حسنِ نصیحت اور چشم پوشی کا بے نظیر مجموعہ ہے۔ اپنی منشاء بھی ظاہر فرما دی اور اپنی امت کی غفلت کو مشقت کا نام دے کر ان کی شرم بھی رکھ لی۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی مستعدی کے بارہ میں یوں گواہی دیتی ہیں: کَانَ اِذَا دَخَلَ بَیْتَہٗ بَدء بِالسَّوَاکِ (صحیح مسلم کتاب الطہارۃ باب السواک حدیث نمبر 372) یعنی جب بھی آپؐ باہر سے آ کر گھر میں داخل ہوتے تو سب سے پہلے مسواک فرماتے۔ حضورؐ کا یہ عمل جہاں حضورؐ کی نفاستِ طبع کا عکاس ہے وہاں منہ اور دانتوں کی صفائی کی طرف حضورؐ کی خاص توجہ کا بھی پتہ چلتا ہے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ بھی ارشاد ملتا ہے کہ دودھ پینے کے بعد منہ صاف کر لیا جائے کیونکہ دودھ میںچکنائی ہوتی ہے۔ اب اگر ہماری روزمرّہ کی غذا کا تجزیہ کیا جائے تو دودھ کی چکنائی سے کہیں زیادہ چکنائی تیل اور گھی کی صورت میںہم ہر کھانے میں استعمال کرتے ہیں۔لیکن کھانے کے بعد دانت صاف کرنا اکثر چھوٹ جاتا ہے۔ اگر کسی کو مع کل وضوء یعنی نماز سے قبل مسواک یا برش کی توفیق ملتی ہے تو زہے نصیب ورنہ کم از کم یہ تو ضرور کرے کہ ہر کھانے کے بعد دانت صاف کر لے۔ بنیادی کلیہ یہ ہے کہ دانتوں پر Plaque کو جمنے کے لئے مہلت نہ دی جائے۔ پلیک ہو گا تو جراثیم کی افزائش ہو گی۔جراثیم کی افزائش ہو گی تو مرض ہو ں گے۔

صفائی کا درست طریق کیا ہے؟ دوسرا اہم سوال یہ ہے کہ دانتوں کی صفائی کا درست طریق کیا ہے؟ اس کا اصولی جواب تو یہی ہے کہ صفائی اس طرح کی جائے کہ ہر دانت کی ہر سطح صاف ہو جائے۔ اور کوئی سطح صاف ہونے سے رہ نہ جائے۔

انسان کے منہ کا ایک طُول ہے اور ایک عرض ہے۔ منہ کا طُول ہونٹوں کی باچھوں کا درمیانی فاصلہ ہے۔ منہ کا عرض دونوں لبوں کے درمیان کا فاصلہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے: اِذا استکتم فاستاکُوا عرضاً (کنز العمال) یعنی جب تم مسواک کرو تو منہ کے عرض کی جہت میں کرو۔ یعنی نیچے سے اوپر کی طرف اور اوپر سے نیچے کی جانب اب ملاحظہ کیجئے کہ ہردو دانتوں کے درمیان جو دانتوں کی سطحیں ہوتی ہیں وہ اکثر صاف ہونے سے رہ جاتی ہیں۔ خوراک کے پھنسے ہوئے ذرات کے سبب ان سطحوں پر اکثر Plaque جم جاتا ہے۔ منہ کے طُول کے رُخ یعنی دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں دانت صاف کرنے سے یہ سطحیں جو کہ Proximal Surfaces کہلاتی ہیں، صفائی سے بالکل محروم رہ جاتی ہیں۔

تا ہم اگر نچلے دانت نیچے سے اوپر اور اوپر والے دانت اوپر سے نیچے کی جانب یعنی عرضاً صاف کئے جائیں تو یہ Proximal Surfaces بھی صاف ہو جاتی ہے۔ چودہ صدیاں قبل کے اس ارشادنبویؐ ’’فَاسْتَا کُوْاعَرْضاً‘‘ کی صداقت کو صحیح طور پر آج سمجھا گیا ہے۔ آج کے ڈاکٹروں نے جس سائنسی حقیقت کو صدیوں کی تحقیق اور جستجو سے جانا ہے، اس کا انکشاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر آج سے چودہ سو سال قبل ہوا تھا۔ پس سائنس خواہ کتنی ہی جدید کیوں نہ ہو، رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آسمانی علم کے مقابل پر ہمیشہ قدیم ثابت ہوتی ہے۔

صفائی کے درست طریق کے بارہ میں جو دوسرا اصول ہمیں سنتِ رسولؐ سے ملتا ہے وہ یہ ہے کہ آپؐ مسواک کرتے ہوئے صرف دانتوں کی صفائی پر توجہ نہ رکھتے بلکہ بالعموم منہ کی مکمل صفائی فرماتے۔ یعنی دائرہ کی صورت میں مسواک کو منہ میںاس طرح گھماتے کہ ہونٹوں کے پیچھے اور گالوں کے اندر والی جگہ بھی صاف ہو جاتی۔ چنانچہ راوی بیان کرتا ہے: اِذَا قَامَ مِنَ اللَّیْلِ یَشُوْصُ فَاہُ بِالسَّوَاکِ (صحیح بخاری کتاب الوضوء باب السواک حدیث نمبر 238) یعنی جب آپؐ رات کو بیدار ہوتے تو منہ میں مسواک کو گھمانے کے انداز میں پھیرتے۔ ہم میںسے جو لوگ برش کااستعمال کرتے ہیں، ان کو اس حدیث کی رُو سے برش کے ذریعہ دانتوں کے علاوہ منہ کے Soft Tissues کو بھی صاف کرنا چاہئے یعنی مسوڑھوں، زبان اور ہونٹوں اور گالوں کے اندرونی حصوں کو۔ اس کے دو فوائد ہیں۔ پہلا یہ کہ منہ کی عمومی صفائی بھی ہو جاتی ہے۔ دوسرا یہ کہ Soft Tissues کا دورانِ خون بھی بہتر ہو جاتا ہے۔

اب آئیے یہ جائزہ لیں کہ مسواک یا Tooth brushing کس طرح مرضاۃ للرب یعنی خدا کی خوشنودی کا سبب ہے۔

(2)مرضاۃ لِلرَّبّ

اس ضمن میں جس بنیادی بات کا سمجھنا ضروری ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صفائی کو پسند فرماتا ہے اور صفائی اختیار کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے: وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ (توبہ:108) کہ اللہ صاف لوگوں کو پسند فرماتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ: یُحِبُّ المُتَطَھِّرِینَ (البقرہ:223) یعنی اللہ تعالیٰ صفائی پسندوں کو پسند فرماتا ہے۔ گویا اللہ تعالیٰ نے خود ہی اپنے مزاج کا تعارف ہم سے کرا دیا ہے۔ اب یہ جان لینے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کو صفائی اور صفائی اختیار کرنے والوں سے پیار ہے۔ یہ مان لینے میںکوئی حرج نہیں کہ منہ اور دانتوں کی صفائی کرنے والے بھی اپنی اپنی سعی کی نسبت سے ضرور اللہ تعالیٰ کے پیار سے حصہ پاتے ہیں۔

انسان کا آلۂ کلام بھی اس کا منہ ہی ہے۔ الفاظ اور کلمات ادا کرنے کے لئے انسان زبان، ہونٹ، دانت وغیرہ غرضیکہ اپنے منہ ہی کا استعمال کرتا ہے۔ انسان کے منہ کے رستہ طیّب سے طیّب کلمات بھی جاری ہوتے ہیں اور بدنصیبی سے بدزبانی بھی اسی رستہ سے ہوتی ہے۔ خوش نصیبی تو بہرحال پاکیزہ کلام ہی میں ہے۔ جو پاک ترین کلام انسان کے منہ سے ادا ہو سکتاہے وہ کلام اللہ ہے۔ اور کلام اللہ کے ادب کے بعض تقاضے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جن پر یہ کلام نازل ہوا اور جو سب سے بڑھ کر اس کے ادب سے واقف تھے فرماتے ہیں: اَفْوَاھُکُمْ طُرُقٌ لِلْقُرْآنِ فَطَیِّبُوْھَا بِالسَّوَاکِ (سنن ابن ماجہ کتاب الطہارۃ باب السواک حدیث نمبر 287) یعنی تمہارے منہ تلاوت قرآن کے لئے گویا رستے ہیں۔ پس تم اپنے مونہوں کو مسواک کے ذریعہ طیّب رکھا کرو۔ اس حدیث مبارکہ میں منہ اور دانتوں کی صفائی کے حق میںایک ایسی دلیل بھی دی گئی ہے جس کا تعلق جسم سے بڑھ کر روح سے ہے۔ جس کا تعلق صحتِ دنداں سے بڑھ کر آدابِ قرآن سے ہے۔یعنی قرآن کے ادب کا حق ادا کرنے کے لئے منہ صاف رکھو۔ اور یہ حق ادا ہو گا تو وہ کہ جس کا یہ کلام ہے راضی ہو گا۔ اس حوالہ سے مدلل طور پر Oral Hygiene یعنی منہ کی صفائی کو اللہ کی رضا کے ساتھ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باندھ دیا ہے۔

دانتوں کی صفائی کی فضیلت بیان فرماتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے یہ بھی فرمایا ہے: اَلسَّوَاکُ نِصْفُ الْوُضُوْء وَالْوَضُوْءُ نِصْفُ الْاِیْمَانِ (کنزالعمال) یعنی دانتوں کی صفائی آدھا وضو ہے اور وضو آدھا ایمان ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ کوئی ریاضی کا سوال نہیں۔ مراد صرف اتنی ہے کہ ایمان کے نصف تقاضے نماز سے وابستہ ہیں جس کے آغاز پر وضو ہے اور وضو کے مقاصد کا نصف حصہ گویا دانتوں کی صفائی سے وابستہ ہے۔ اور ہر وہ بات جس سے ایمان کے تقاضے پورے ہوتے ہوں یا جس سے ایمان کو تقویت ملتی ہو، لازماً خدا کی رضا کا موجب ہو گی۔اس حدیث کے مطالعہ سے بھی ہمیں یہی پتہ چلتا ہے کہ منہ کی صفائی رضائے الٰہی کا ایک یقینی ذریعہ ہے۔

ایک اور موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: رَکْعَتَانِ بِالسَّوَاکِ اَفْضَلٌ مِنْ سَبْعَیْنَ رَکْعَۃً بِغَیْرِا لسَّوَاکِ (الکافی)۔ یعنی ’’نماز کی دو رکعتیں جو دانت صاف کر کے ادا جائیں ایسی ستر رکعتوں سے بہتر ہیں جو دانت صاف کئے بغیر ادا ہوں‘‘۔ یہاں بھی ترغیب اسی طرف دلائی گئی ہے کہ بندہ کو چاہئے کہ اپنے رب کی صفائی پسندی کا لحاظ رکھے اور اس کی درگاہ میں حاضر ہوتے ہوئے پاکیزہ دہن ہوکر حاضر ہو۔

منہ اور دانتوں کی صفائی کو مطہرۃ للفم اور مرضاۃ للرب قرار دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی نظافت کے اس شعبہ کو ایک عظیم رفعت بخشی ہے۔ اس شعبہ پر متعدد ڈاکٹروں اور سائنسدانوں نے متعدد کتب تحریرکی ہیں۔ مضامین لکھے اور مقالے پڑھے گئے ہیں۔ ان سب کویکجا بھی کر دیا جائے تو اس شعبہ کی وہ وجاہت قائم نہیں ہو سکتی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث کی وجہ سے اسے حاصل ہے۔ دنیا کے تمام ڈینٹل سرجن مل کر بھی اس شعبہ اور اس مضمون کو وہ مقام نہیں دلا سکتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری عمل کی وجہ سے اسے دائماً حاصل ہو گیا ہے۔ اللّٰھمّ صلّ علیٰ محمدٍ و علیٰ اٰل محمدٍ وبارک وسلِّم۔

(سید حمید اللہ نصرت پاشا ڈینٹل سرجن)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 مارچ 2020

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 مارچ 2020