• 6 مئی, 2021

نشانات کس سے صادر ہوتے ہیں؟

’’نشانات کس سے صادر ہوتے ہیں۔ جس کے اعمال بجائے خود خوارق کے درجہ تک پہنچ جائیں۔ مثلاً ایک شخص خداتعالیٰ کے ساتھ وفاداری کرتاہے۔ وہ ایسی وفاداری کرے کہ اُس کی وفا خارق عادت ہوجاوے۔ اُس کی محبت اُس کی عبادت خارق عادت ہو۔ ہر شخص ایثار کرسکتاہے اور کرتابھی ہے، لیکن اس کا ایثار خارق عادت ہو۔ غرض اس کے اخلاق، عبادات اور سب تعلقات جو خداتعالیٰ کے ساتھ رکھتاہے اپنے اندر ایک خارق عادت نمونہ پیداکریں۔ تو چونکہ خارق عادت کا جواب خارق عادت ہوتاہے اس لیے اللہ تعالیٰ اس کے ہاتھ پر نشانات ظاہر کرنے لگتاہے۔ پس جو چاہتا ہے کہ اس سے نشانات کاصدور ہو تو اس کو چاہیے کہ اپنے اعمال کو اس درجہ تک پہنچائے کہ ان میں خارق عادت نتائج کے جذب کی قوت پیداہونے لگے۔

انبیاء علیہم السلام میں یہی ایک نرالی بات ہوتی ہے کہ ان کا تعلق اندرونی اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایسا شدید ہوتاہے کہ کسی دوسرے کاہرگز نہیں ہوتا۔ ان کی عبودیت ایسا رشتہ دکھاتی ہے کہ کسی اَور کی عبودیت نہیں دکھا سکتی۔ پس اس کے مقابلہ میں ربوبیت اپنی تجلّی اور اظہار بھی اسی حیثیت اور رنگ کاکرتی ہے۔ عبودیت کی مثال عورت کی سی ہوتی ہے کہ جیسے وہ حیا اور شرم کے ساتھ رہتی ہے اور جب مرد بیاہنے جاتاہے تو وہ علانیہ جاتاہے۔ اسی طرح پرعبودیت پردۂ خفاء میں ہوتی ہے۔ لیکن اُلوہیت جب اپنی تجلّی کرتی ہے تو پھر وہ ایک بیّن امر ہو جاتا ہے۔ اور ان تعلقات کاجو ایک سچے مومن اور عبد اور اس کے ربّ میں ہوتے ہیں خارق عادت نشانات کے ذریعہ ظہور ہوتاہے۔ انبیاء علیہم السلام کے معجزات کا یہی راز ہے اور چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تعلقات اللہ تعالیٰ کے ساتھ کُل انبیا ء علیہم السلام سے بڑھے ہوئے تھے۔ اس لیے آپؐ کے معجزات ہی سب سے بڑھے ہوئے ہیں۔

(ملفوظات جلد3 صفحہ211۔ ایڈیشن 1984ء)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اپریل 2021