• 6 مئی, 2021

عاشق تو وہ ہے جوکہ کہے اور سنے تری

عاشق تو وہ ہے جوکہ کہے اور سنے تری
دنیا سے آنکھ پھیر کے مرضی کرے تری

جو کام تجھ سے لینا تھا وہ کام لے چکے
پرواہ رہ گئی ہے یہاں اب کسے تری

امیدِ کامیابی وشغلِ سرود و رقص
یہ بیل چڑھ سکے گی نہ ہرگز منڈھے تری

ہو روحِ عشق تیری مرے دل میں جاگزیں
تصویر میری آنکھ میں آکر بسے تری

مٹ جائے میرا نام تو اس میں حرج نہیں
قائم جہاں میں عزت و شوکت رہے تری

میداں میں شیرِنر کی طرح لڑ کے جان دے
گردن کبھی نہ غیر کے آگے جھکے تری

دل مانگ ،جان مانگ کسے عذر ہے یہاں
منظور ہے ہمیشہ سے خاطر مجھے تری

نکلے گی وصل کی کوئی صورت کبھی ضرور
چاہت تجھے مری ہے تو چاہت مجھے تری

یکتا ہے تُو، تو میں بھی ہوں اک منفرد وجود
میرے سوا ہے آج محبت کسے تری

(کلام محمود صفحہ202)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 اپریل 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 اپریل 2021