• 20 جون, 2021

اے شمع رُخ! اپنا مجھے پروانہ بنا دے

کہا جاتا ہے کہ ایک کیڑے نے دعوی کیا کہ میں پروانہ ہوں ۔ اس سے کہا گیا کہ فلاں جگہ پر کچھ شمعیں روشن ہیں وہاں سے ہو کر آو۔اس کےبعد ہم تمہیں پروانہ تسلیم کریں گے۔ وہ اڑتا ہوا گیا اور تھوڑی دیر بعد یہ خیال لیے واپس آیا کہ اب میں اصلی پروانہ کہلانے کا مستحق ہوں۔ جب وہ اصلی حالت میں واپس آیا تو اسے کہا گیا تم اصلی پروانہ نہیں ہو نقلی ہو ۔ اگر اصلی ہوتے تو شمع دیکھ کر واپس نہ آتے وہیں مر جاتے۔ پروانے شمع دیکھ کر واپس نہیں آیا کرتے۔ ایک شاعر نے اس مضمون کو یوں بیان کیا ہے۔

شمع تک تو ہم نے دیکھا تھا کہ پروانہ گیا

پروانہ شمع کی طرف جاتا تو دیکھا جاتا ہے۔ اس کی واپسی نظرنہیں آتی۔ گویا شمع اور پروانے کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔ مادی دنیا میں جہاں پروانہ شمع پر اپنی جان نچھاور کر دیتا ہے وہاں شمع بھی جلتی جلتی اپنا وجود کھو دیتی ہے لیکن روحانی دنیا میں روحانی پروانے، روحانی پتنگے جوں جوں روحانی شمع کے اردگرد جمع ہو کر اپنی جان، مال، وقت، عزت اوراپنے جذبات قربان کرنے کا دعویٰ کر تے ہیں توں توں روحانی شمع (آج کے دور میں خلافت احمدیہ) مزید روشن سے روشن تر ہوتی چلی جاتی ہے اور ہو تی جا رہی ہے اور ان شاء اللہ تا قیامت روحانی پروانوں کی وفا، اخلاص اور محبت بڑھتے چلے جانے کے ساتھ ساتھ روحانی شمع یعنی خلافت احمدیہ مضبوط اور تیز روشنیوں کے ساتھ چمک سے چمک دار ہوتی جائے گی اور اسے تقویت ملتی رہے گی ۔ کسی شاعر نے کہا ہے کہ

؎دونوں طرف ہے آ گ برابر لگی ہوئی

شاعر نے کیا خوب کہا ہے۔

؎خود بھی جلتی ہے اگر اس کو جلاتی ہے یہ
کم کسی طرح نہیں، شمع بھی پروانے سے

شمع اور پروانے کا مضمون بہت دلچسپ اور ایمان افروز ہے۔ ایک طرف ہم، خلیفۃ المسیح کے پروانے ہیں وہاں خلفاء کرام بھی شمع ہوتے ہوئے اپنے سے عظیم روحانی ہستی کے پروانے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ حضرت مصلح موعود ؓ نے فرمایا

؎اے حسن کے جادو! مجھے دیوانہ بنا دے
اے شمع رُخ! اپنا مجھے پروانہ بنا دے
جو ختم نہ ہو ایسا دکھا جلوہ تاباں
جو مر نہ سکے مجھ کو وہ پروانہ بنا دے

یہی وہ مضمون ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آنحضور ﷺ کو سورج، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو چاند اور صحابہ ؓ کو ستارے قرار دے کر بیان فرمایاہےکہ وہ اپنے سے بڑے وجود سے روشنی لے کر روشن ہوتے ہیں۔ مادی اور روحانی شمع کےپروانوں میں مماثلتوں اور فرق کی بات ہو رہی ہے توایک فرق یہ ہے کہ شمع جب رات کو جلتی ہے تو پروانے اس کے اردگرد جمع ہو کر اپنی جان دیتے ہیں جبکہ روحانی شمع تو 24گھنٹے ہی نہیں بلکہ مسلسل جلتی اور اپنے فیض سے مستفیض کرتی رہتی ہے۔ اور روحانی پروانے دن کو بھی اور رات کو بھی روحانی شمع کے اردگرد جمع رہ کر اپنے آپ کو جلا بخشتے ہیں۔

مادی شمع کے بارے میں ایک شاعر نے کہا ہے کہ

؎ شمع رو دے گی مگر نہ لے گی پروانے کا نام

جبکہ روحانی دنیا میں خلافت پر جان ’نثار کرنے والوں کا ذکرخیر خلافت کے دربار سے اکثر ہوتا رہتا ہے۔ اور خلفاء قریباً ہر خطبہ میں مرحومین کا ذکر خیر کرتے رہے ہیں اور ہمارے پیارے امام ایدہ اللہ تعالیٰ نے بھی اس مبارک طریق کو جاری رکھا ہوا ہے۔ یہ طریق او ر ذکر خیر مرحومین اور شہداء کے عزیز و اقارب کے لئے حوصلہ بلند کرنے کا موجب ہوتاہے اور جس روز کسی خاندان کے مرحوم بھائی یا بہن کا ذکر ہو وہ باوجود غمزدہ ہونے کے اس بات پر پھولے نہیں سماتے کہ ہمارے پیارے خلیفہ نے ہمارے عزیز از جان کا ذکر کیا ہے اور احباب بھی وارثین کو مبارکباد دیتے نظر آتے ہیں۔

آج 27مئی کے خلافت نمبر کو ’’خفاء سے وابستہ یادیں‘‘ کا عنوان بھی اسی لئے دیا گیا ہے کہ ہم میں سے بعض پروانے (مضمون نگار) دنیا بھر کے پروانوں (احمدیوں) کی نمائندگی میں اپنے یا اپنے بزرگوں اور عزیز و اقارب کے خلفاء کے ساتھ بیتے ہوئے واقعات بیان کریں تا ایمان کی دیا سلائی سے دیا سلائی روشن ہو کر احمدیوں کے ایمان میں اضافہ کا موجب ہو۔

مادی اور روحانی شمع اور پروانوں میں ایک نمایاں فرق یہ بھی ہے کہ مادی شمع کے اردگرد محدود علاقہ کے پتنگے جمع ہو کر جان دیتے ہیں جبکہ روحانی شمع یعنی دربار خلافت سے دنیا بھر کے 212 سے زائد ممالک میں پھیلے پروانے ایم ٹی اے کے ذریعہ فیض یاب ہوتے ہیں۔ کبھی خطبات جمعہ کے ذریعہ، کبھی درس القرآن کے ذریعہ، کبھی مجالس عرفان، مجالس سوال وجواب کے ذریعہ اور کبھی آج کل کورونا کے حالات میں ورچوئیل ملاقاتوں کے ذریعہ اپنی بھوک ختم کرتے اور ایمانوں کا جلا دلواتے ہیں۔

آج کل حضور پر نور ایدہ اللہ تعالیٰ مسجد مبارک اسلام آباد ٹلفورڈ یوکے میں خطبہ ارشاد فرماتے ہیں۔ اورکورونا کی پابندیوں کے باعث چند خوش نصیب خلیفہ المسیح کے سامنے بیٹھ کر خطبہ سنتے اور حضور کی امامت میں نماز جمعہ ادا کرتے ہیں۔ لیکن ایم ٹی اے کے مبارک نظام سے دنیا بھر کے لاکھوں احمدی حضو رایدہ اللہ تعالیٰ کا خطبہ براہ راست سنتے اوراس سے فیض پاتے ہیں۔ اور یہ شعر گو جلسہ سالانہ پر آنے والے پروانوں کے لئے حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تھا مگر اس کا اطلاق خطبہ جمعہ براہ راست سننے والوں پر بھی برابر ہوتا ہے۔

؎ہوتی نہ اگر روشن وہ شمع رُخ انور
کیوں جمع یہاں ہوتے سب دنیا کے پروانے

روحانی پروانوں کی ایک ادا یہ ہوتی ہے کہ وہ پروانہ وار خلافت کے دربار میں حاضر ہو تے اور سجی محفل میں خلیفۃ المسیح کے قریب سے قریب تر بیٹھ کر فیض پانے کی لگن رکھتے ہیں۔

مؤرخہ 25نومبر 1902ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام مجلس عرفان کے لئے حاضر ہوئے۔ اس موقع پر احباب جماعت حضورؑ کے قریب قریب ہو کر بیٹھنے کی کوشش میں تھے۔ جس کا نقشہ ایڈیٹر البدر نے یوں کھینچا ہے۔ لکھتے ہیں۔

بعد ادائے نماز مغرب لوگوں کا دستور ہے کہ وہ پروانہ وار ایک دوسرے پر گرتے ہیں اور ہر ایک کی کوشش ہو تی ہے کہ ایک قدم آگے ہو جاؤں تاکہ دہن مبارک سے جو کلمات طیبات نکلتے ہیں۔ ان کے الفاظ کان تک پہنچیں۔ اس لئے احباب میں بیٹھنے کی کشمکش دیکھ کر فرمایا کہ
’’آپس میں مل جل کر بیٹھ جاؤ جس قدر تم آپس میں محبت کرو گے اسی قدر اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا۔‘‘

(ملفوظات جلد3 ص400)

دوسری طرف روحانی رہنماؤں کی یہ کیفیت ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماننے والے پیاروں سے حد درجہ پیار کرتے اور ان کی آسودگی اور آرام کا خیال رکھتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پاس جب کچھ دیہاتی خواتین دوا لینے آئیں جب کہ آپ ایک علمی کام میں مشغول تھے۔ تو آپ ماتھے پر شکن لائے بغیر فوراً اُٹھ کر دوا تیار کرنے اندر تشریف لے گئے جس پر حضرت مولوی عبد الکریم ؓ نے حضور ؑ سے عرض کی کہ آپ اتنی تکلیف نہ کیا کریں۔ یہ لوگ تو روز روز آپ کے لئے تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ جس پر آپ ؑ نے فرمایا۔

یہ بھی ایک قسم کا دین کا کا م اور خدمت خلق ہے۔ میں ان کے لئے ہر قسم کی دوائی منگوا کر اپنے پاس رکھتا ہوں تا کہ جب وہ آئیں تو ان کو تکلیف نہ ہو۔

آپ ؑ اپنے ان پروانوں کی خاطر کبھی دودھ لے کر دیر رات حاضر ہوتے ہیںاور کبھی پان لے کر،کبھی شدید سردی میں اپنا بستر دے کر خود ساری رات بیٹھ کر گزار دیتے اور کبھی تانگہ میں مہمان بٹھا کر خود میلوں میل پیدل تانگہ کے ساتھ چلتے نظر آتے ہیں۔

یہی کیفیت بعد میں خلفاء کرام میں نظر آتی رہی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الاول ؓ سے کسی نے اپنی اہلیہ کے لئے(جو زچگی کی حالت میں تھی) دُعا کی درخواست کی۔ آپؓ نے کھجور دے کر فرمایا کہ بیوی کو دے دیں۔ اللہ فضل فرمائے گا۔ جب آدھی رات کوڈلیوری ہوگئی تو اس بزرگ نے یہ سمجھتے ہوئے کہ اب حضورؓ سو رہے ہوں گے میں نے اس وقت اطلاع دی تو تکلیف ہو گی۔ صبح نماز فجر پر اطلاع دی۔ ساری کیفیت سن کرآپؓ نے فرمایا کہ اگر رات کومجھے بھی آکر بتا دیتے تو میں بھی کچھ آرام کر لیتا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الثالثؒ کے ساتھ اس طرح کے بے شمار واقعات مروی ہیں کہ آپ نے کسی کو کسی کام پر بھیجا اس ہدایت کے ساتھ کہ جب بھی واپس آئیں تو اطلاع دیں۔ایک دوست بیان کرتے ہیں کہ میں جب نصف رات حاضر ہوا تو حضو ر ٹہل رہے تھے اور میرا انتظار کر رہے تھے۔ اور ایک دوست نے رات کا تصّور کرکے اطلاع نہ دی تو صبح اسی طرح کے ملتے جلتے الفاظ فرمائے کہ میں ساری رات آپ کا انتظار کر تا اور دُعا کرتا رہا۔ راتوں کو جاگنے اور دعائیں کرنے والے مبارک وجودوں کا ذکر تو خلفاء اپنی زبانی کرتے چلے آئے ہیں۔ ہمارے موجودہ امام حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک دفعہ فرمایا تھا کہ کوئی ایسی رات نہیں گزرتی جس میں بستر پر جانے سے پہلے میں چشم تصور میں دنیا بھر کے ہر احمدی کو لا کر ان کے لئے دُعا نہیں کر لیتا۔ اسی طرح پاکستان کے حالات کے پیش نظر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک پیغام میں فرمایا کہ جب تک پاکستان سے تمام جگہوں سے جمعہ کی نماز خیریت سے گزر جانے کی اطلاع نہیں مل جاتی مجھے فکر لاحق رہتی ہے۔

الغرض دنیوی اور روحانی سلسلوں سے وابستہ شعرا ء نے اپنے اپنے زعم، ذوق اور خیال کے مطابق شمع اور پر وانہ کے مضمون کو اپنے منظوم کلام میں باندھا ہے۔ بلکہ داغ دہلوی نے تو کسی کے ساتھ وابستگی کو مثالی بنانے اور اس پر عاشق ہونے، فریفتہ ہونے کے لئے پروانہ کے لفظ کو یوں استعمال فرمایا ہے۔

؎مجھ سے وہ کہتے ہیں پروانے کو دیکھا تو نے؟
دیکھ ! یوں جلتے ہیں، اس طرح سے دم دیتے ہیں

اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو حقیقی معنوں میں روحانی پروانہ بنائے اور ہم شمع اسلام، شمع محمدؐ، شمع قرآن اور آج کے دور میں شمع خلافت کے لئے اپنی جان، مال، وقت، عزت اور جذبات کی قربانی کرنے والے ہوں۔ ہم اپنے اند ر صحابہؓ (جو حقیقی معنوں میں شمع محمدؐ کے پروانے تھے) جیسا رنگ پیدا کریں اور ہم میں ہر ایک پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے یہ اشعار صادق آ رہے ہوں۔

؎مبارک وہ جو اب ایمان لایا
صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا
وہی مے ان کو ساقی نے پلادی
فَسُبحَانَ الَّذِی اَخزَی الاَعَادِی

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔
’’قدرت ثانیہ خدا کی طرف سے ایک بڑا انعام ہے جس کا مقصد قوم کو متحد کرنا اور تفرقہ سے محفوظ رکھنا ہے۔ یہ وہ لڑی ہے جس میں جماعت موتیوں کی مانند پروئی ہوئی ہے …… ایک لڑی میں پروئے ہوئے مو تی ہی خوبصورت اور محفوظ ہوتے ہیں اگر قدرت ثانیہ نہ ہو تو دین حق کبھی ترقی نہیں کر سکتا۔ پس اس قدرت کے ساتھ کامل اخلاص اور محبت اور وفا اور عقیدت کا تعلق رکھیں اور خلافت کی اطاعت کے جذبہ کو دائمی بنائیں اور اس کے ساتھ محبت کے جذبہ کو اس قدر بڑھائیں کہ اس محبت کے بالمقابل دوسرے تمام رشتے کمتر نظر آئیں۔ امام سے وابستگی میں ہی سب برکتیں ہیں۔‘‘

(الفضل انٹرنیشنل 23مئی 2003 صفحہ1)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 مئی 2021