• 20 جون, 2021

ہمارے لیے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا، خدا کا خلیفہ

جب کبھی لندن سے باہر رہنے والے افراد سے رابطہ ہو توعاشقان خلافت احمدیہ کی طرف سے ایک سوال عمومًا لندن کے باسیوں سے بشمول خاکسار اکثر کیا جا تا ہے کہ وہاں ہمارے حضور رہتے ہیں، آپ بھی چونکہ وہاں رہتے ہیں یا وہاں سے آئے ہیں تو ہمیں بتائیں حضور کیسے ہیں؟ ان کا قرب کتنا عطا ہوتاہے اور اس بابرکت وجود کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا کتنا موقع ملتا ہے۔ ان کی امامت میں نمازیں کیسے ادا کرتے ہیں۔ کب اور کیسے ان کی دید کا نظارہ ہوتا ہےگویا اس قسم کے بیسیوں سوال ملنے والوں کی زبان پر آتے ہیں جو کسی بھی عاشق کا اپنے محبوب آقا سے متعلق ایک فطرتی تقاضا ہےمگر جب جواب دینے کی باری آتی ہے تو خاکسار کا سر شرم سے جھک جاتا ہے کہ کیسے اس کم تر گناہگارکی باتوں سے حضور کے ان غلاموں اور عاشقوں کو تسکین ملے گی ۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ۔ خاکسار تو خود محض اللہ کے خاص فضل سے اس قرب کو آئی سی یو وارڈ کی مانند سمجھتا ہے جہاں انتہائی نگہداشت میں خاکسار جیسے مریض رکھے جاتے ہیں تا طبیب کی خاص نگرانی میں رہ کرشفا پاویں۔

چند سال قبل خاکسار یورپ کے ایک ملک کے جماعتی دورہ پر تھا تو انہی ایام میں نئے سال کا آغاز بھی ہوا۔ اس دن واقفین نو بچوں کی ایک مجلس میں بیٹھے ایک واقف نو نے اس ناچیز سے یہ سوال کردیا کہ آپ کے لئے گزرا ہوا سال کیسا رہا تو یک لخت زبان پر یہی آیا کہ یہ خاکسار کی زندگی کا سب سے بہترین، بابرکت سال گزرا ہے کیونکہ اس سال کے دوران اب تک کی زندگی میں شمار کروں تو محض خدا کے فضل سےسب سے زیادہ لمحات حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بروح القدس کے قرب اور مجلس میں حاضر خدمت رہنے کی توفیق ملی۔ الحمدللہ علیٰ ذالک

پھر ان کی محبت اور دیوانگی کو دیکھ کر اس بات کی فکر ہونے لگتی ہے کہ کیسے ان کو بتایا جائے کہ ان کا محبوب آقا ان سے بھی بڑھ کر انہیں پیار کرتا ہے اورخیر خواہ ہے ۔وہ دن رات اپنے ان چاہنے والوں کے لئے اپنے خدا کے حضور جھکتے ہوئے اپنے تو اپنے سب غیروں کا بھی بھلا چاہتا ہے۔سب احباب جماعت دن رات اس پیارے وجود کی دعاؤں میں ہیں ۔کیسے کیسے قبولیت دعا کے معجزات ہیں جوہر روز رونما ہوتے ہیں اور ہمارے لئے ایمان کی ترقی کا باعث بنتے ہیں۔

جیسے بھی حالات ہوں دنیا بھر سے روزانہ سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں محبان خلافت اس یقین اور ایمان کے ساتھ کہ خدا اپنے خلیفہ کی دعائیں نہ صرف سنتا ہے بلکہ فوری بپایہ قبولیت بخشتا ہے، اس امام کی دعا سے فیض یاب ہونے کے لئے اپنے دکھ درد، اپنے مرض ،اپنے غم، اپنی تکلیفیں اوراپنی خوشیاں، اپنی کامیابیاں تحریر کرکے گویا اپنا دل نکال کر کاغذ پر رکھ کر آقا کو بھجوا دیتے ہیں اور پھران میں سے ہر کوئی جواب کا منتظر رہتاہے کہ کب شفیق و مہربان، ہمدردآقا کی طرف سے تسلی اوردعا سے بھرا جواب ملے گا جس سے ان کے زخموں کا مرہم ہوگا، جوابی خط کی تحریر اور اس پر دست مبارک سے کندہ دستخط ان کے دکھوں کا مداوا بنیں گے۔ اس برکت سےانکے سب غم چھٹ جائیں گے ۔اب ان کی تکلیفیں دور ہوجائیں گی اور بیمار بھی شفائے کاملہ و عاجلہ پائیں گے بلکہ بعیدنہیں کہ شافی مطلق کا دست شفا دوا اور نسخہ بھی عطا کر دے۔ اس دعا کے فیض اب کامیابیاں ان کے قدم چومیں گی اور وہ ترقی کی نئی منازل کی طرف گامزن ہونگے۔
حضرت مصلح موعود ؓ نے ایک جگہ ارشاد فرمایا کہ
’’اللہ تعالیٰ جب کسی کو منصب خلافت پر سرفراز کرتا ہے تو اس کی دعاؤں کی قبولیت بڑھا دیتا ہے کیونکہ اگر اس کی دعائیں قبول نہ ہوں تو پھر اس کے اپنے انتخاب کی ہتک ہوتی ہے‘‘۔

(منصب خلافت ص32)

پھر ایک اور جگہ اس نعمت سے محروموں کے مقابلہ میں اس کی اہمیت یوں بیان فرمائی:
’’تمہارے لئے ایک شخص تمہارا درد رکھنے والا، تمہاری محبت رکھنے والا، تمہارے دکھ کو اپنا دکھ سمجھنے والا، تمہاری تکلیف کو اپنی تکلیف جاننے والا، تمہارے لئے خدا کے حضور دعائیں کرنے والا ہے مگر ان کے لئے نہیں ہے۔‘‘

(برکات خلافت، انوارالعلوم جلد2، ص158)

اس ضمن میں مزید خلیفۃ المسیح الخامس حضرت مرزا مسرور احمد ایدہ اللہ بروح القدس کے ہی الفاظ پیش ہیں جو اس نعمت عظمٰی کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ’’حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی وفات کے بعد پھر اندرونی اور بیرونی دشمن تیز ہوا۔ لیکن کیا ہوا ؟ کیا جماعت میں کوئی کمی ہوئی؟ نہیں، بلکہ خداتعالیٰ نے اپنے وعدوں کے مطابق پہلے سے بڑھ کر ترقیات کے دروازے کھولے۔ مشنوں میں مزید توسیع ہوئی۔ افریقہ میں بھی، یورپ میں بھی اور پھر افریقہ کے دورے کے دوران حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے نصرت جہاں سکیم کا اجراء فرمایا۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق، ایک رؤیا کے مطابق۔ ہسپتال کھولے گئے۔ سکول کھولے گئے، ہسپتالوں میں اب تک اللہ تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں مریض شفا پا چکے ہیں۔ گورنمنٹ کے بڑے بڑے ہسپتالوں کو چھوڑ کر ہمارے چھوٹے چھوٹے دو ر دراز کے دیہاتی ہسپتالوں میں لوگ اپنا علاج کرانے آتے ہیں۔ بلکہ سرکاری افسران بھی اس طرف آتے ہیں۔ کیوں؟ اس لئے کہ ہمارے ہسپتالوں میں جو واقفین زندگی ڈاکٹرز کام کر رہے ہیں وہ ایک جذبے کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ ا ور ان کے پیچھے خلیفہ وقت کی دعاؤں کا بھی حصہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اپنے خلیفہ کی لاج رکھنے کے لئے ان دعاؤں کو سنتا ہے اور جہاں بھی کوئی کارکن اس جذبے سے کام کر رہا ہو کہ میں دین کی خدمت کر رہا ہوں اور میرے پیچھے خلیفہ وقت کی دعائیں ہیں تو اللہ تعالیٰ بھی اس میں بے انتہا برکت ڈالتا ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ 21؍ مئی 2004ء)

ہمارا خاندان بھی کئی بار قبولیت دعا کے ایسے معجزے دیکھ چکا ہے کہ کیسے خدا نے اپنے خلیفہ کی دعا کو سنتے ہوئے ہم دکھیوں کے علاج کا مداوا کیا اور ہم و غم دور کئے۔ اور جن مسائل سے دوچار تھے دور ہوگئے اور کامیابیاں ملیں۔

فی الوقت ایک واقعہ پیش ہے۔ ہمارے چھوٹے خالو محترم مبارک احمد باجوہ صاحب اپنے گاؤںسے اغواء ہو کر غائب ہوگئے اور دوتین سال تک کوئی خبر نہ ملی۔ ان کی خبر لگانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی گئی۔ ہر ذریعہ اختیار کیا گیا۔ کبھی کسی کے کہنے پرتاوان کی رقم ادا کرنے کے لئے بڑے خالو جان محترم عزیز احمد باجوہ صاحب کو بارڈر پار تک کا سفر کرنا پڑا۔ مگر کوئی کامیابی نہ ہوئی۔ یہاں تک کہ 2014ء میں پہلی بار جب جلسہ سالانہ یوکے میں شمولیت کے لئے لندن آئے تو حضور انور کی خدمت اقدس میں بغرض ملاقات حاضر ہوئے۔ خاکسار بھی اس وقت انکے ہمراہ حاضر خدمت تھا۔ دروازہ سے اندر داخل ہوتے ہی بھرے ہوئے لہجہ اور نم آنکھوں سے کہنے لگے کہ حضور میں تو صرف اس لئے حاضر ہوا ہوں کہ اپنے گم شدہ بھائی کی خبر لگنے کے لئے دعا کی درخواست پیش کرسکوں۔ خدا کی شان کہ اس وقت حضور انور کی زبان مبارک سے جو الفاظ تحریک بن کر نکلے تو لازمًا فرشتے اسی وقت تائید میں لگ گئے ہونگے۔ حضور نے فرمایا بیٹھیں تو سہی باجوہ صاحب، ان کا بھی پتہ لگ جائے گا۔ ان شاء اللہ۔

خالوجان جب اس سفر سے واپس پاکستان پہنچے تو کچھ روز بعد ہی پولیس والوں نے ان کو بلایا اور کہا کہ ضلع گجرات کی پولیس نے کچھ دہشت گرد اغوا کار اور سہولت کار گرفتار کئے ہیں۔ تفتیش میں سامنے آیا ہے کہ آپ کے بھائی کو بھی ان لوگوں نے اغوا کیا تھا۔یہ شناخت کے لئے فورًا وہاں پہنچے اور گرفتار مجرموں میں سے ایک سہولت کار کو پہچان لیاجو ان کے گھر میں ایک عیسائی نوکر کے طور پر پلا بڑھا اور جوان ہوا تھا مگر بعد میں نام نہاد مولویوں کے ہتھے چڑھ کر اسلام قبول کرچکا تھا اور اب ایک مجاہد بن کر اس رنگ میں اسلام کی خدمت کر رہا تھا۔اور بقول اس کے اسے سکھایا گیا تھا کہ مسلمانوں پر قادیانیوں کی جان لینا اور ان کامال کھانا جائز ہے۔ اغوا کاروں نے چھوٹے خالوکے اغوا کرنے کے بعد تیز دھار آلہ سے ان کا سر تن سے جدا کرکے نعش کے ٹکڑے کرکے نہر میں بہانے کی سفاک خبر سنا کر اعتراف جرم بھی کرلیا۔ بعد ازاں یہ مجرم ایک پولیس مقابلہ میں کیفرکردار تک پہنچ گئے۔

یہ محض خدا تعالیٰ کا احسان اور حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بروح القدس کی دعا ہی تھی کہ دوتین سالوں سے لاپتہ خالو کے ساتھ کیا گزری، اس بات کی خبر دنوں میں لگ گئی اور تمام حقیقت حال سامنے آگئی۔ خاندان اندرونی خلفشار سے بھی بچ گیااور سب سے بڑھ کر یہ تسلی ملی کہ ان کا خون رائیگاں نہیں گیا۔ خدا تعالیٰ نے ان کا خون ناحق نہیں جانے دیا بلکہ اس کے دین کی راہ میں بہا اور انہوں نے شہادت کا عظیم رتبہ پایا ہے۔

بے شک یہ واقعہ ہمارے تمام خاندان کے ازدیاد ایمان اور خلافت احمدیہ پر مزید یقین کامل کا باعث بنا۔

حضرت خلیفۃ المسیح الخامس نے ازراہ شفقت ہمارے ان شہید خالو کا خطبہ جمعہ میں ذکرخیر کرنے کے بعد نمازہ جنازہ غائب بھی پڑھایا۔پھر حضور انور کی خاص دعاؤں ، ہدایات اورجماعتی کوششوں کی بدولت ایک شہید کی فیملی ہونے کے سب ہماری خالہ اور ان کاایک بیٹا کینیڈا شفٹ ہوچکے ہیں۔

حضور انور نے اپنےاس خطبہ کے اخیر میں بھی وہی الفاظ ارشاد فرمائے جو دوران ملاقات تسلی دیتے ہوئے فرمائے کہ
’’اللہ تعالیٰ مرحوم شہید کے درجات بلند فرمائے اور ان کے بچوں کو صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔ بہرحال پتا تو لگ گیا پہلے صرف اغوا کی خبر تھی۔‘‘

(خطبہ جمعہ 19؍ دسمبر 2014ء)

اقبال جیسا شاعر ایک مصرع تو کہہ گیا تھا کہ نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں۔ مگریقینًا وہ اس کے مطلب سے بے بہرہ اور بے فیض ہی رہا۔ لیکن خلافت احمدیہ کے یہ ادنیٰ چاکر اور غلام تو حقیقتًا اپنی زندگیوں میں آئے روز یہ ہوتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ کیسے خدا کے اس نمائندہ اور خلیفۃ الرسول کی نگاہ سےتقدیریں بدلتی ہیں اور گواہی دیتے ہیں کہ اس وقت روئے زمین پر اگر کوئی مرد مومن ہے تو وہ صرف اور صرف وہی ہے جس کو خدا نے اپنا خلیفہ بنایا ہے۔وہ ہی کل عالم میں ایک خلیفۃ الرسول ہے جو اس دور میں اس کے بندوں کاامام اور ڈھال ہے۔

گزشتہ ایک سال سے دنیا جس کٹھن اور مشکل دور سے گزر رہی ہے ہر طرف موتا موتی اور کرونا وائرس کی وجہ سے بیماری کا خوف اور معیشت کی بدحالی کا منظر ہے ۔اس کی وجہ سے اپنے بھی دور ہوکر رہ گئے ہیں۔ مگرجماعت گواہ ہے کہ ابتلاء کے اس دور میں بھی مومنین کی جماعت اور ان کےامام کو خدا تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے قرب میں اور بھی بڑھادیا ہے۔ایسے وقت میں بھی ان کا آقا ان کے لئے تسلی اور ڈھارس بنا ہوا ہے۔آن لائن ورچوئل ملاقاتیں اور کلاسزاس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔دنیا کے مختلف اور دوردراز کناروں میں آباد ایسے احمدی احباب و خواتین جو عمومی حالات میں اس خوش بختی کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے جو ان ایام میں ان ملاقاتوں میں شامل ہوکر اپنی اس خوش قسمتی پر نازاں ہوتے ہیں کہ حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بروح القدس براہ راست ان سے ہمکلام ہیں اور ان کا نام لے کر ان کو پکار رہے ہیں ۔اپنے آقا کی اس شفقت اور محبت پر وہ سب بطور شکرانہ خدا کے حضور سجدہ ریز ہیں۔

وباء کے ابتدائی ایام میں جب یوکےمیں حضرت خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ بروح القدس سے ذاتی اور دفتری ملاقاتیں بند ہوگئیں اور آپ کی اقتداء میں نمازوں میں حاضر ہونے سے روک دیا گیا تو شمع خلافت کے پروانوں کے لئے باقی لاک ڈاؤن کوئی مشکل کام نہیں تھا مگر اس بندش نے تو جیسے ان کے پر ہی کاٹ دیئے ہوں، حوصلے ٹوٹ گئے ہوں اور ان سے جینے کا حق چھینا گیا ہو۔ ان کی سانسیں تو اس بندش کی خبر سے ہی گھٹنے لگی تھیں کہ جن کاکوئی دن ایسانہ گزرا تھا جب ظاہری آنکھ نے اس محبوب کے دیدار سے تر ہوکر خدا کا شکر نہ ادا کیا ہو اور اپنے محسن نبی ﷺ پر درود نہ بھیجا ہو۔ اس بندش سے تو گویا ان کی بینائی ہی چلی گئی ہو۔ قصر خلافت کے قرب وجوار میں رہنے والا احمدی بھی تب سےصرف ایم ٹی اے کی آنکھ سے یا کسی کی طرف سےسوشل میڈیا پر شئیر کی ہوئی تصویر یا ویڈیو سے اس بابرکت وجود کا دیدار کرکے اس گھٹن میں آکسیجن کاکام لیتا ہے۔ بےشک ایسے پریشان کن دور میں جماعت احمدیہ سے تعلق رکھنے والے ہر طبقہ کے لئے صرف ایک وہی وجود حضرت مسرورہیں جو مسرور کن ہیں اور اپنے حسین چہرے سے مسکراہٹوں کے مسحور کن پھول بکھیر کرذکر الٰہی کی طرف توجہ دلانے کا سبب اور اطمینان قلب کا ذریعہ ہیں۔ خداتعالیٰ ہمیشہ ان کے ساتھ ہو، روح القدس کے ذریعہ ان کی تائید کرتا رہے ۔ان کی عمر اور صحت میں برکت عطا فرمائے۔ آمین

اپنی گزارشات کا اختتام ایک شعر پر کرتا ہوں جو خاکسار کے بہت ہی محترم اور مکرم استاد میر محمود احمد صاحب نے کہا تھا

؎مجھ کو بس ہے میرا مولیٰ، میرا مولیٰ مجھ کو بس
’کیا خدا کافی نہیں ہے‘ کی شہادت دیکھ لی

خدا تعالیٰ انہیں جزا ئے خیر دے اور صحت سے رکھے جنہوں نے جامعہ کی تدریس کے دوران ہمیں خلافت احمدیہ کے مقام اور حضرت خلیفۃ المسیح کی ذات بابرکات سے سچی اطاعت کے تعلق، اس کےحقیقی ادراک، نیز خلیفہ وقت کی دعاؤں سے فیضیاب ہونے کے طریق کو اپنے قول و فعل سے ہم پر اجاگر کرنے کی ہر ممکن کوشش کی اور عملی نمونہ سے ثابت کیا کہ کیسے خلافت کے حقیقی جانثاروں میں شامل ہو کر ہر آواز پر لبیک کہتے ہوئے ہمیشہ اس کے سلطان نصیر بننے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہی ایک واقف زندگی کا مطمح نظر ہونا چاہیئے۔ ہمیشہ ان کی دعائیں ملتی رہیں۔ اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ آمین

(لقمان احمد کشور۔لندن ،یوکے)

پچھلا پڑھیں

الفضل آن لائن 26 مئی 2021

اگلا پڑھیں

الفضل آن لائن 27 مئی 2021